نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۱؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم صفدر حسین عباسی صاحب ابن مکرم مظفر حسین عباسی صاحب مرحوم (کارکن رقیم پریس۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چار مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم صفدر حسین عباسی صاحب ابن مکرم مظفر حسین عباسی صاحب مرحوم (کارکن رقیم پریس۔یوکے)
۵؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۷۰؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ستمبر ۱۹۷۱ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہوئے اور مئی ۱۹۸۰ء میں شاہد کی ڈگری لے کر جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نظارت اصلاح و ارشاد کے تحت آپ کواپریل ۱۹۸۳ء تک کچھ عرصہ چکوال میں اور کچھ عرصہ دفتر میں خدمت کا موقعہ ملا۔ اسی عرصہ میں آپ نے اپریل تا جون ۱۹۸۱ء، ادارۃ المصنفین میں مکرم ابوالمنیر نورالحق صاحب کے ساتھ در ثمین فارسی نقل کرنے کا کام بھی کیا۔ اپریل تا نومبر۱۹۸۳ء، آپ کا تقرر عربی زبان سیکھنے کی غرض سے وکالت تبشیر میں ہوا۔ نومبر ۱۹۸۳ء میں آپ کا تقرر بطور استاد جامعہ احمدیہ ربوہ ہوا اور پھراکتوبر ۱۹۸۴ء میں آپ کا تقرر انگلستان میں ہوگیا۔جولائی ۱۹۸۷ء میں آپ ایڈیشنل وکیل التصنیف و اشاعت مقرر ہوئے۔ فروری ۱۹۹۲ء میں آپ ایڈیشنل وکیل الاشاعت برائے طباعت مقرر ہوئے۔ ۲۸؍جنوری ۱۹۹۵ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کا تقر رر قیم پریس یوکے میں فرمایا۔ مرحوم اسلام آباد میں آنےوالے ابتدائی ممبران میں سے تھے اور کچھ عرصہ اسلام آباد جماعت کے صدر بھی رہے۔مرحوم نماز اورروزہ کے پابند، تہجد گزار، دھیمے مزاج کے مالک، ا یک نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے عقیدت کا گہرا تعلق تھا اور بچوں کو بھی خلافت سے وابستہ رہنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی،چار بیٹے اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ذوالفقار عباسی صاحب (مربی سلسلہ ٹرانسلیشنMTA) اور مکرم سلمان عباسی صاحب (واقف زندگی پروڈکشن MTA) کے والد تھے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم پروفیسر راجا نصر اللہ خان صاحب ابن مکرم راجا فضل داد خان صاحب مرحوم (ربوہ )
۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۶؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد مکرم را جا فضل داد خان صاحب مرحوم کے ذریعہ آئی۔اپنے آبائی علاقہ ڈلوال ضلع چکوال میں صرف آپ کاخاندان ہی اکیلا احمدی تھا۔ مرحوم نےتعلیم الاسلام کا لج ربوہ سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر مختلف جگہوں سے مزید تعلیم کے بعد ڈگری کالج راولا کوٹ آزاد کشمیر میں لیکچر ار مقرر ہوئے۔ مارچ ۱۹۶۸ء میں ایک سال یوکے میں رہ کر سپوکن انگلش کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ ۱۹۶۹ء میں سعودی عرب میں بطور لیکچرار نوکری اختیار کی اور دو مختلف شہروں میں ۱۹۸۵ء تک ملازمت کی۔ دوران ملازمت آپ کو بہترین کار کردگی کے اعزازات بھی ملے۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران آپ نے ۶؍دفعہ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ پھرربوہ آکر آنریری استاد کے طور پر جامعہ احمدیہ میں دو سال انگلش پڑھاتے رہے۔ تدریس کے شعبہ کو آپ نے ذاتی شوق کی بنا پر اختیار کیا تھا اور ہمیشہ لگن اور محنت سے طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ اس دوران آپ ہیون ہاؤس پبلک سکول ربوہ کے پرنسپل بھی مقرر ہوئے۔ دو سال بعدجب اس سکول کی ملکیت آپ کے پاس آگئی تو بڑی لگن اور محنت سے سکول کے کاموں میں مشغول رہے۔ پڑھانے کے علاوہ آپ کو لکھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ چنانچہ آپ نے چند کتب تصنیف کیں اور ان کی اشاعت بھی کروائی۔ اسی طرح روزنامہ الفضل میں قیام پاکستان اور استحکام پاکستان میں احمدیوں کے کردار پر بہت سے مضامین لکھے۔ رسالہ ہفت روزہ لاہور اور مہارت میں بھی باقاعدہ مضامین لکھتے رہے۔ آپ کا ملک کے نامور ادیبوں اور دانشوروں سے مستقل رابطہ رہتا تھا۔ ربوہ قیام کے دوران آپ نے دفتر صدر عمومی میں بطور جنرل سیکرٹری اور صدر محلہ دارالصدر غربی قمر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار،غریبوں اور ضرورتمندوں کا خیال رکھنے والے، بڑے مہمان نواز، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ کی طبیعت میں نظم و ضبط، نفاست اور پابندی وقت کا خلق بہت نمایاں تھا۔خلافت سے گہر ا عشق اور محبت کا تعلق تھا۔ چندہ جات کی بروقت ادائیگی کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم ڈاکٹرمحمد فیصل راجا صاحب …خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۲۔مکرمہ سیدہ مبارکہ شاہدہ صاحبہ اہلیہ مکرم گلزار احمد طاہر ہاشمی صاحب (…)
۲۶؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۶۹؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا مکرم سید عنایت علی شاہ صاحب نے ۱۹۱۱ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سےقرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، غریبوں کی ہمدرد، ہمسایوں کے حقوق کا بےحد خیال رکھنے والی، مہمان نواز اور سب کا احترام کرنے والی ایک مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے گہری عقیدت رکھتی تھیں۔ ۲۰۲۵ء کے جلسہ سالانہ یوکےمیں شرکت اور حضور انور سے ملاقات کا ذکر اکثر شکرانے کے طور پر کیا کرتی تھیں۔ آپ کو لمبا عرصہ لجنہ اماءاللہ کے پروگراموں میں سیکیورٹی ڈیوٹی کرنے کی توفیق ملتی رہی۔ پروگراموں میں کچھ کھانا گھر سے پکا کر لے جاتیں اور رضا کاروں میں تقسیم کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم حافظ سید عبدالہادی صاحب (مربی سلسلہ یوکے) کی پھوپھی تھیں۔
۳۔مکرم منور احمد صاحب ابن مکرم چودھری حیات محمد صاحب (گراس گیراؤ۔ جرمنی)
۲۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۶۴؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کا نظام جماعت کے ساتھ مثالی تعلق تھا۔ آپ کی زندگی کا نمایاں پہلو عاجزی سے خدمتِ دین کرناتھا۔ آپ لمبا عرصہ مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ خدام الاحمدیہ کے نیشنل اجتماع میں ناظم اعلیٰ اور جماعت میں نائب افسر جلسہ سالانہ اور جلسہ گاہ کے علاوہ لوکل امیر کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ جماعتی اموال کی حفاظت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اجتماع اور جلسہ سالانہ کے وائنڈ اپ میں بھی آپ کا کردار مثالی رہا۔ آپ کی زندگی خدمت، وقار، صبر، توکل، امانت اور محبت کا ایک خوبصورت نمونہ تھی۔ آخری دو سال آپ نے شدید بیماری میں گزارے لیکن اس بیماری کو بڑے صبر و ہمت سے برداشت کیا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا، ایک بیٹی اور ایک پوتی شامل ہے۔
۴۔مکرم افتخار احمد صاحب ابن مکرم مختار احمد صاحب (فیصل آباد)
۱۸؍مارچ ۲۰۲۶ء کو۴۶؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کے خاندان میں احمدیت آپ کے پڑدادا مکرم محمد یوسف صاحب کے ذریعہ آئی جنہوں نے ۱۹۱۱ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں احمدیت قبول کی تھی۔ مرحوم نے پاکستان میں اپنی مجلس میں زعیم خدام الاحمدیہ، ناظم اطفال، ناظم مال، ناظم و قار عمل اور ملائیشیا میں سیکرٹری تجنید اور سیکرٹری تعلیم القرآن کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم نماز اور روزہ کے پابند، تہجد گزار، غریب پرور اور ہر کسی کا احساس کرنے والے ایک مخلص اورباوفا انسان تھے۔پسماندگان میں والدین، اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




