نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اگست ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ عابدہ پروین صاحبہ اہلیہ مکرم محمد عظیم صاحب ( جماعت Solihull برمنگھم۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ عابدہ پروین صاحبہ اہلیہ مکرم محمد عظیم صاحب (جماعت Solihull برمنگھم۔ یوکے)
۲۴؍جولائی کو ۴۹سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ کا تعلق نارووال کے گاؤں لَدھڑ کرم سنگھ سے تھا۔ آپ جنوری ۲۰۰۷ء میں یوکے آئیں۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ کچھ عرصہ مقامی لجنہ میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے میاں مکرم محمد عظیم صاحب جماعت یوکے کے شعبہ جائیداد کی کنسٹرکشن ٹیم کے ممبر ہیں اورجلسہ سالانہ یو کے پربطور ناظم Washrooms Cubical Installation بھی خدمت بجالاتے ہیں۔اسی طرح آپ کے ایک بھتیجے مکرم حافظ طٰہٰ احمد صاحب بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم منصور احمد چٹھہ صاحب ابن مکرم مسعود احمد چٹھہ صاحب مرحوم (ریٹائرڈ مربی سلسلہ ربوہ )
۲۰؍جون ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے جامعہ احمدیہ ربوہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۳۲ سال مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ ۱۹۹۲ء میں چونترہ ضلع راولپنڈی سے خدمت کا آغاز کیا اور اس کے بعدپاکستان کے مختلف اضلاع میں خدمت بجالانے کے بعد۲۰۲۰ء میں دفتر اصلاح و ارشاد مرکز یہ ربوہ میں آپ کا تقرر ہوا جہاں سے ۳۱ اگست ۲۰۲۰ء کو ریٹائر ہوئے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، دعا گو، خوش مزاج اورملنسار شخصیت کے حامل ایک غریب پرور انسان تھے۔ خلافت سے بہت گہرا تعلق تھا اور خلیفہ وقت کی ہر بات کو حکم سمجھ کر قبول کرتے تھے۔ خدا سے زندہ تعلق کی کوشش میں ہمیشہ لگے رہتے اور عبادت میں کبھی سستی نہ کرتے۔ زندگی کے آخری سالوں میں تو عبادت اور تہجد کا خاص اہتمام کرتے رہے۔جماعتی عہدیداروں کا بہت احترام کرتے تھے۔ آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔اگر کبھی کوئی اپنی مشکل لے کر آپ کے پاس آتا تو اس کی مشکل حل کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے۔ جس سے ایک بار تعلق بناتے اسے ہمیشہ نبھاتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے، ایک بہن، ایک بھائی، ایک پوتی اور تین پوتے شامل ہیں۔
۲۔مکرم مشتاق احمد عاجز صاحب ابن مکرم صوفی بشیر احمد صاحب مرحوم (آف امیر پارک گوجر انوالہ)
۱۵؍جون ۲۰۲۶ء کو ۶۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت قاضی اکبر علی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے تھے جن کا تعلق چار کوٹ جموں کشمیر سے تھا اور جنہوں نے چاند سورج گرہن کا نشان دیکھ کر احمدیت قبول کی تھی۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجدگزار،بڑے سادہ لوح، چندوں میں باقاعدہ،ایک نیک،مخلص اور نافع الناس وجود تھے۔ جماعتی خدمت میں ہمیشہ آگے رہتے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم احمد رفیق صاحب (مربی سلسلہ) خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔آپ کے باقی بچوں کو بھی کسی نہ کسی ر نگ میں جماعتی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
۳۔ مکرم غلام رسول صاحب (کوٹ شیرا ضلع گوجرانوالہ)
۲۱؍جون ۲۰۲۶ء کو ۷۷سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا مکرم محمد دین صاحب کے ذریعہ ہوا۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، چندوں میں باقاعدہ اور دیگر مالی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، دوسروں کا خیال رکھنے والے، بڑے مہمان نواز، ایک سچے ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔ آپ کو لمبا عرصہ بطور صدر جماعت کوٹ شیر اضلع گوجرانوالہ خدمت کی توفیق ملی۔ ۱۹۷۴ء میں ہونے والے فسادات میں آپ کو کچھ عرصہ کے لیے اپنا علاقہ چھوڑ کر ڈسکہ جانا پڑا۔ ۲۰۲۳ء میں عیدالاضحی سے تین دن قبل آپ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ آپ نے چالیس سال تک محکمہ صحت میں کام کیا اور اس دوران تبلیغ بھی کرتے رہے۔خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور بچوں کو بھی ہمیشہ جماعت سے جڑے رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرمہ شریفہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر مبشر احمد مرزا صاحب (راولپنڈی کینٹ )
۱۲؍جون ۲۰۲۶ء کو ۸۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی پابند، تہجدگزار، چندوں میں باقاعدہ، بڑی خاموش طبع، صابر ہ و شاکرہ، منکسر المزاج اور دعا گو خاتون تھیں۔ ہمیشہ بڑی خاموشی سے سب کی خدمت کرتیں اور دعاؤں میں لگی رہتی تھیں۔ بیماری میں بھی قرآن کی تلاوت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ اور دعاؤں میں مشغول رہتیں۔ اپنے سب بچوں کی پرورش دینی لحاظ سے بہت اچھے رنگ میں کی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے سب بچے کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آپ کے بڑے بیٹے مکرم ڈاکٹر طاہر احمد مرزا صاحب چار سال تک لائبیریا میں بطور ڈاکٹر وقف کرنے کے بعد فضل عمر ہسپتال میں خدمت بجالاتے رہے اور پھر ۲۰۱۶ء میں وفات پاگئے۔ مرحومہ نے اپنے بیٹے کی جدائی کا صدمہ انتہائی صبر سے برداشت کیا اور کبھی کوئی بے صبری کا کلمہ منہ سے نہیں نکالا۔
۵۔مکرم عامر و دود محمودصا حب ابن مکرم بشیر احمد گوپیرا صاحب (آف بیت الفتوح۔یوکے)
۳؍جون۲۰۲۶ء کو ۵۶سال کی عمر میں ربوہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند ایک نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ نماز فجر با قاعدگی کے ساتھ مسجد بیت الفتوح میں ادا کرتے تھے۔ جلسہ سالانہ کے ایام میں شعبہ ضیافت بیت الفتوح میں اوراسی طرح انصار اللہ کے اجتماعات پر بھی مہمان نوازی کی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ مرحوم مو صی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۶۔مکرم محمد یعقوب بھٹی صاحب ابن مکرم نور محمد بھٹی صاحب(دار العلوم شرقی حلقہ ہادی ربوہ)
۳؍جون ۲۰۲۶ء کو۸۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو لمبا عرصہ بطور کار کن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ خدمت کی توفیق ملی۔ اپنے محلہ میں سیکرٹری مال اور انصار اللہ کے منتظم مال کے طورپر بھی خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم نماز اور روزہ کے پابند، بڑے شفیق، ملنسار، محنتی، دیانتدار، سادہ طبیعت کے حامل ایک منکسر المزاج انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم محمد جاوید صاحب کارکن ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭
