نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۹؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ رشیدہ منظور صاحبہ اہلیہ مکرم منظور حسین شاہین صاحب (آف تھورنٹن ہیتھ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ رشیدہ منظور صاحبہ اہلیہ مکرم منظور حسین شاہین صاحب (آف تھورنٹن ہیتھ۔یوکے)
۲۰؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۶۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار،ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ مرحومہ نے بے شمار بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھایا۔ آن لائن قرآن کلاسز بھی لیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں شوہر کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم ابرار احمد صاحب جماعتی پروگراموںمیں فعال اور ہیومینٹی فرسٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم ملک شکیل احمد صاحب ابن مکرم عبد الغفور صاحب (کشمیری محلہ سید گلی ماتلی ضلع بدین)
یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو ۵۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ ۲۰ سال قبل بیعت کرکے احمدیت میں شامل ہوئے۔ بعد میں آپ کے بیوی بچے بھی احمدی ہو گئے۔آپ نے ۵ سال تک ضلعی سطح پر سیکر ٹری صنعت و تجارت اور انصاراللہ میں ناظم خدمت خلق اورناظم صحت جسمانی کے طور پرخدمت کی توفیق پائی۔ مخالفت کی وجہ سے آپ کے حالات بہت کشیدہ رہے۔ بیٹے کی وفات پر رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں نے زبر دستی اس کی تدفین اپنے قبرستان میں کروائی اور مرحوم کی وفات پر بھی انہوں نے ہنگامہ کیا اور ایک طرح سے گن پوائنٹ پر ان کی تدفین مسلمانوں کےقبرستان میں کی اور فیملی کو دھمکیاں دیں کہ اگر کوئی احمدی یہاں آیا تو ہم اسے مار دیں گے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔
۲۔مکرم محمد اکبر صاحب ابن مکرم محمد نواز صاحب (دار الفتوح غربی ربوه)
۴؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۷۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے اپنے دادا، دادی اور تایا کے ہمراہ ۱۹۷۵ء میں احمدیت قبول کی۔ مرحوم کو ۱۴ سال مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن لاہور میں بطورخادم مسجد اور پھر کار کن بہشتی مقبرہ دارالفضل ربوہ اور چوکیدار کوارٹرز تحریک جدید دارالانوار کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم اچھے اخلاق کے مالک ایک نیک اور مخلص انسان تھے اوراللہ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ امۃالسلام صاحبہ اہلیہ مکرم اظہار احمد قریشی صاحب مرحوم (نارتھ لندن۔یوکے)
۲۱؍مئی ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت نواب سید محمد رضوی صاحب رضی اللہ عنہ (آف حیدرآباد دکن) صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی اور مکرم بابو عبدالغفار صاحب شہید حیدرآباد کی بہو تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، جماعت کی فدائی اور خلافت سے گہراتعلق رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ نے بیوگی کاعرصہ تقویٰ اور پر ہیزگاری سے گزارا۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم سید عطاء الواحد رضوی صاحب (مربی سلسلہ رشین ڈیسک) کی پھوپھی تھیں۔
۴۔مکرم چودھری غلام محمد صاحب ابن مکرم چودھری محمد اسماعیل صاحب (احمد نگر ربوہ)
۱۷؍اپریل ۲۰۲۶ء کو۸۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا خاندان احمدنگر میں ایک بااثر خاندان ہے۔ آپ نے صدرانجمن میں تقریباً ۴۰ سال بطور کار کن خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم نماز با جماعت کے پابند،اچھے اخلاق کے مالک ایک مخلص انسان تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔
۵۔مکرم محمد رفیق صاحب ابن مکرم جلال الدین صاحب (داعیوالہ سیداں حلقہ بد و ملہی ضلع نارووال)
۶؍مئی ۲۰۲۶ء کو۷۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ اپنے علاقہ اور آبائی گاؤں میں اپنی سماجی اور فلاحی خدمات کی وجہ سے بہت معروف تھے۔ مرحوم سندھ رینجرز اورفیڈرل سیکیورٹی فورس میں حکومتی خدمات بجالاتے رہے۔ مرحوم کو متعدد جماعتی عہدوں پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ وفات کے وقت آپ مقامی جماعت میں بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ مرحوم عہد خلافت ثالثہ میں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے بعد ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران ڈیوٹی پر مامور تھے اور اس کارروائی کے چشم دید گواہ تھے۔ مرحوم نے اپنی ساری زندگی اخلاص کے ساتھ جماعتی خدمت میں گزاری۔ بڑے بہادر، منکسرالمزاج اور ضابطوں کے پابند انسان تھے۔ مہمان نوازی، جماعتی عہدیداران کے ساتھ مثالی تعلق اور خلافت سے گہری محبت و وابستگی ان کی شخصیت کے خاص پہلو تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ امۃ الحفیظ صاحبہ اہلیہ مکرم محمد اکرم صاحب مرحوم (جرمنی)
یکم اپریل ۲۰۲۶ء کو ۸۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ بڑی باقاعدگی سے جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتیں اور اپنے چندے بھی بر وقت اور باقاعدگی سے ادا کر تی تھیں۔ مرحومہ صوم صلوٰۃ کی پابند، بہت خوش اخلاق اور خدمت کے جذبے سے سرشارایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کی ایک بہو اپنی مجلس کی صدر لجنہ ہیں اور باقی بچے بھی کسی نہ کسی رنگ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




