خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍اگست 2026ء

’’انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔ ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’سب سے مقدّم اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی دی،صحت دی،تندرستی بخشی، امن دیا اور اشاعتِ دین کے لیے سامان مہیا کردیے اور حقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں توہرگز ممکن نہیں کہ اس خداکی مہربانیوں اور احسانوں کا شمار کرسکیں۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

کاش کہ حضرت مسیح موعودؑ کے مخالفین اور آپؑ کو نہ ماننے والے جو مسلمان ہیں وہ … اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مان لیں اور اپنے آپ کو وحدت کی لڑی میں پرو لیں تا کہ جن مشکلات میں سے آجکل مسلمان گزر رہے ہیں وہ اس سے بچ سکیں

ہمارے ہر تبلیغ کرنے والے کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے، بعض دفعہ ہم لوگ اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں پر اپنی طرف سے بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو معترض کو موقع دیتی ہیں کہ وہ یہ کہیں کہ یہ تم لوگوں کے اخلاق ہیں؟ ہمارے اخلاق تو بہت بلند ہونے چاہئیں۔ ہاں حقیقت ضرور بیان کریں لیکن اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی طرح وہ زبان استعمال نہیں کرنی

شکرگزاری کے حوالہ سے حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات اور عملی نمونہ

مکرم حافظ شہباز احمد صاحب مربی سلسلہ آئیوری کوسٹ، مکرم یلننگانہ مومنی صاحب آف برکینا فاسو، مکرم یحییٰ سو ماری صاحب آف مالی،
مکرم سراج الحق قریشی صاحب نائب افسر جلسہ سالانہ ربوہ، مکرم لاول طیب صاحب معلم سلسلہ نائیجیریا اور مکرم ماسٹر غفور احمد صاحب آف کینیڈا کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍اگست 2026ء بمطابق 14؍ظہور1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

شکر گزاری کے اظہار

کی جو تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور اس بارے میں اپنا جو اسوہ قائم فرمایا اس کا میں گذشتہ خطبات میں ذکر کرتا رہا ہوں۔

اس کے اعلیٰ معیار کو اس زمانے میں آپؐ کے غلام صادق نے کس طرح سمجھا اور مختلف موقعوں پر مختلف حوالوں سے کس طرح پیش فرمایا، آج اس کا کچھ ذکر مَیں کروں گا۔

اسی طرح آپؑ کے اپنے عمل کیا تھے۔ گھر میں بچوں کو کس طرح اس حوالے سے نصیحت فرمایا کرتے تھے، ایک احمدی سے آپؑ کیا توقع رکھتے تھے۔ یہ باتیں اس زمانے میں ہمارے لیے لائحہ عمل ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نعمتوں پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی اہمیت اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصہ میں بہت کچھ نیک کام کر سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ (ابراھیم : 8) اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے یعنی

انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کردے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 10 صفحہ200 ایڈیشن 2022ء)

ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

’’سب سے مقدّم اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی دی،صحت دی،تندرستی بخشی، امن دیا اور اشاعتِ دین کے لیے سامان مہیا کردیئے اورحقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں توہرگز ممکن نہیں کہ اس خداکی مہربانیوں اور احسانوں کا شمار کرسکیں۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 330۔331 ایڈیشن 2022ء)

پھر ایک موقع پر آپؑ فرماتے ہیں۔ ’’مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہئے جس نے ان کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہر ایک نوع کی قباحت سے پاک ہے۔اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اس کو معلوم ہو گا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمدو ثنا کا مستحق نہیں ہے۔ اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لیے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاءِ وجود اور حفظِ صحت اور قیامِ زندگی کے لیے کیاکیا اسباب ضروری ہیں۔ اُس نے وہ سب سامان مہیا کیے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اُس نے رحم کیا ہو اور اُس کو محفوظ رکھا ہوا ور یا اس وجہ سے مستحقِ تعریف ہو سکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے۔ اگرچہ بظاہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے۔ ‘‘

تو یہ باتیں ہیں،مختلف چیزیں ہیں کہ یہ چیزیں موجود نہ ہوں اور پھر ان کی مدد کرے تو تبھی اس کی تعریف ہو سکتی ہے۔ فرمایا کہ ’’یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحقِ حمدوثنا بنا سکتی ہیں۔ اب غور کرکے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔‘‘ یہ جو تین چار باتیں میں نے بیان کی ہیں، آپؑ نے فرمایا کہ ان کا مستحق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے ’’جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔‘‘(روئداد جلسہ دعا، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 597۔598)کوئی اَور شخص نہیں جس میں یہ صفات ہوں۔ نہ کوئی ایسی ہستی ہے جس میں یہ صفات ہوں۔

پھر اسلام کی نشاةِ ثانیہ اور سلسلہ احمدیہ کے قیام پر اللہ تعالیٰ کا شکر

ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اے دانشمندو !تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالیٰ نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی روشنی نازل کی اور ایک بندہ کو مصلحتِ عام کے لیے خاص کرکے بغرض اعلائے کلمۂ اسلام واشاعتِ نُور حضرتِ خیرالانام اور تائید مسلمانو ں کے لیے اور نیز اُن کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دنیا میں بھیجا۔ تعجب تو اس بات میں ہوتاکہ وہ خدا جو حامی دین اسلام ہے جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ تعلیم قرآنی کا نگہبان رہوں گا اور اسے سرد اور بے رونق اور بے نُور نہیں ہونے دُوں گا وہ اس تاریکی کو دیکھ کر اور اِن اندرونی اور بیرونی فسادوں پر نظر ڈال کر چُپ رہتا اور اپنے اُس وعدہ کو یاد نہ کرتا جس کو اپنے پاک کلام میں موکّد طور پربیان کر چکا تھا۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے جو انعام بھیجا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہے اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ تعجب تو اس صورت میں ہونا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ اس وعدے کو پورا نہ کرتا اور اسلام میں جو گراوٹ کا سلسلہ ہے وہ چلتا چلا جاتا۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’پھر میں کہتا ہوں کہ اگر تعجب کی جگہ تھی تو یہ تھی کہ اُس پاک رسول کی یہ صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی خطا جاتی جس میں فرمایا گیا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر خدا تعالیٰ ایک ایسے بندہ کو پیدا کرتا رہے گا کہ جو اسکے دین کی تجدید کریگا سو یہ تعجب کا مقام نہیں بلکہ ہزار در ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے۔‘‘اور اس طرح جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد تک ہر صدی پر مختلف قوموں میں مجدّد آتے رہے اور آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے پھر آخری ہزار سال کے لیے مجدد بنا کر، مسیح موعود اور مہدی معہود کا مقام دے کر بھیجا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے’’ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیشگوئی میں ایک منٹ کابھی فرق پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف اس پیشگوئی کو پوری کرکے دکھلایا بلکہ آئندہ کے لیے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا۔ ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے آنے سے اَور بھی بہت ساری پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائیں۔ فرماتے ہیں کہ

’’ اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزرگئے اور بیشمار روحیں اُس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پا لیا۔‘‘

مسیح موعود کے آنے کا انتظار پرانے مسلمان کرتے رہے، علماء کرتے رہے، بزرگ کرتے رہے لیکن نہیں پایا۔ آپؑ نے فرمایا تم خوش قسمت ہو کہ تم نے وہ زمانہ پا لیا۔اب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ ’’اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اِس کے اظہار سے مَیں رک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاحِ خلق کے لیے بھیجا گیا۔‘‘ وعدہ اللہ تعالیٰ نے میری صورت میں پورا کیا۔ ’’تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کردیا جائے۔‘‘

(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد 3ص6تا8)

کاش کہ آپؑ کے مخالفین اور آپؑ کو نہ ماننے والے جو مسلمان ہیں وہ اس بات کو سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مان لیں اور اپنے آپ کو وحدت کی لڑی میں پرو لیں تا کہ جن مشکلات میں سے آجکل مسلمان گزر رہے ہیں اس سے وہ بچ سکیں۔

حق کے ایک متلاشی کو حضرت اقدس علیہ السلام نے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’خدا کا شکر کرو کہ اس نے عین وقت پر دستگیری فرمائی ہے اور اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ اس لیے تم کو مناسب ہے کہ اس فضل کو جو تم کو دیا گیا ہے ضائع نہ کرو اور ادب کی نگاہ سے دیکھو اور اس مد د اور نصرت کی جو تمہیں دی گئی ہے قدر کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ خدا کی مدد بَدُوں اور اس کے بلائے بغیر کوئی شخص راستی سے اور پو ری قو ت سے ایک امر کو بیا ن نہیں کر سکتا۔ بغیر اس کے دلائل ملتے ہی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی مدد ہو تو تبھی دلائل ملتے ہیں ’’اور طرز بیا ن نہیں دیا جا تا اوریہ بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے کہ اس طرز بیان سے نیکی کی قوت رکھنے والے اُس شخص کو جو خداکی قوت اور طاقت پاکر روح القدس سے بھر کر بولتا ہے شناخت کر لیتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو لوگ شناخت کر لیتے ہیں۔ ’’پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کابہت بڑااحسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی ہے اور شناخت کی آنکھ دی‘‘ ہے۔حق کے متلاشی کو آپؑ نے فرمایا کہ تمہیں حق کی تلاش ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ عقل دی۔ بہت سارے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بڑے علماء سمجھتے ہیں لیکن عقل نہیںہے۔ مخالفت میں بڑھتے رہتے ہیں لیکن تم شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل دی۔ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے احسان ہیں۔ فرمایا کہ ’’اگر وہ یہ فضل نہ کرتا تو جیسے اور لوگ پردوں میں ہیں اور گالیاں دیتے ہیں تم بھی اُن میں ہی ہوتے۔‘‘ پس جنہوں نے قبول کیا وہ خوش قسمت ہیں۔ ’’جس چیز نے تم کوکھینچاہے وہ محض خدا تعالیٰ کافضل ہے۔‘‘ پھر آپؑ نے مثال دی ہے کہ ’’جیسے میاں عبدالحق ہی کو دیکھو کہ خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتاتو یہ کیونکر اس عیش کی جگہ سے نکل سکتے تھے۔ یہاں جو مثال آپؑ دے رہے ہیں میاں عبد الحق صاحب کی اس سے مراد منشی عبدالحق ہیں۔ قصور کے رہنے والے تھے۔ طالبعلم تھے۔ اس زمانے میں بی۔اے میںپڑھتے تھے۔ جو مسلمان ہونے کے باوجود تین سال پہلے جب آپؑ یہ بیان کر رہے ہیں عیسائی ہو گئے تھے اور الحکم اور حضرت اقدس علیہ السلام کی بعض تحریروں کو پڑھ کر انہوں نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو عملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے تواسلام میں کچھ نظر نہیں آیا تو میں عملی رنگ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کو لکھ بھیجا کہ وہ کم از کم دو مہینے تک یہاں قادیان میں آ کر رہیں۔ چنانچہ انہوں نے دارالامان کا قصد کیا وہاں آئے اور 1901ءکی بات ہے کہ یہ وہاں پہنچے اور پھر آپؑ کے پاس رہے خصوصاًا یسی حالت میں کہ ان کے پاس کئی ناصح بھی جمع ہوئے۔‘‘ ایسی حالت میں وہ پہنچے کہ جب انہوں نے وہاں آنے کا ارادہ کیا تو کئی لوگوں نے ان کو نصیحت کی کہ قادیان نہ جاؤ۔اور اُنہوں نے منع بھی کیا کہ قادیان مت جاؤ بلکہ ایک نے گالی بھی دی حالانکہ گالی دینا ان کے مذہب میں منع ہے اور عام طور پر تہذیب اور شائستگی کے بھی خلاف ہے لیکن ان تمام باتوں پر خداکا فضل غالب آگیا اور اُن کو کھینچ لایا۔ اُن کو بدی کے اسباب ہی میسر نہ آئے ورنہ اس وقت ان کی شادی نہیں تھی فرمایا کہ بعض دفعہ شادی کی وجہ سے بھی بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ’’اگر یہ بیوی کر لیتے تو پھر ابتلا پیش آجاتا مگرخدانے ہر طرح سے بچایا۔ خدا کا فضل ہےمُسْتَحْدَث نہیں ہوتا‘‘ یعنی نیا پیدا ہوا نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے ’’جس پر وہ اپنا کرم کرتاہے اُسے ہر طرح سے،‘‘ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جس پر اپنا کرم کرتا ہے اسے ہر طرح سے ’’بچا لیتا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر کرو اور شکر کرو اس کے اند ر فلاسفی ہے جو زبان سے کہہ دینے سے حاصل نہیں ہوتی۔(ماخوذ از ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 2 صفحہ 435-436 ایڈیشن 2022ء)(ماخوذ ازملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ 515-516 ایڈیشن 2022ء) (اردو لغت جلد 17 صفحہ 986)صرف مسلمان کہنے سے مسئلہ پورا نہیں ہوتا، جو باتیں ہیں، جو عمل ہیں، جو تعلیم ہے اس پر چلنا بھی ہو گا۔

سلسلہ احمدیہ کے لیے اخلاص اور محبت رکھنے والوں کا شکریہ

ادا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’اس جگہ میں اس بات کے اظہار اور اس شکر کے ادا کرنے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلقِ اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلے میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔ نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔‘‘ آپؑ مخلصین جو ہیں، جو احمدیت میں آئے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔’’ سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لیے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے۔ میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لیے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔‘‘ اب اتنا کچھ آپؓ اسلام کی خاطر کر رہے ہیں پھر بھی آپؑ فرما رہے ہیں کہ مجھے بڑی حسرت ہوتی ہے حضرت مولانا نور الدین صاحب کی قربانیاں کو دیکھ کر کہ کاش میں بھی اتنی مالی خدمتیں کر سکتا۔’’ ان کے دل میں جو تائیدِ دین کے لیے جوش بھرا ہے اس کے تصوّر سے قدرتِ الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسبابِ مَقْدَرَت کے ساتھ جو اُن کو میسر ہیں ہر وقت اللہ رسول کی اطاعت کے لیے مستعد کھڑے ہیں‘‘ یعنی حضرت خلیفہ اولؓ کے بارے میں فرما رہے ہیں ’’اور مَیں تجربہ سے نہ صرف حسنِ ظن سے یہ علم ِصحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔‘‘(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 35)مستقل میرے ساتھ رہتے۔ یہ 1890ءکے آخر کی بات ہے جب آپؑ نے یہ فتح اسلام جو آپؑ کی کتاب ہے اس میں تحریر فرمایاہے۔ بعد میں حضرت مولانا نور الدین صاحبؓ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپؑ کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے اور آپؑ کے ساتھ ہی رہے۔

اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے تحت جسمانی اور روحانی احسانات کا ذکر

کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہَیُولیٰ‘‘ یعنی ابتدائی خاکہ بنانے ’’کے اپنے ہی حکم سے اور اَمْر سے پیدا کر کے اپنی قدرتِ عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوسِ قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فُیوضِ قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا‘‘ یعنی ان انبیاء کو جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ان کو بھی اپنی طرف سے تعلیم بخشی، ان کی تربیت کی اور ان پراپنے احکامات اتارے۔ فرمایا کہ ’’سبحان اللہ کیا رحمان اور مَنَّان وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاق ہمارے کے‘‘ یعنی بغیر ہمارے کسی استحقاق کے’’سب کام ہم ضعیفوں کا آپ بنایا۔ ہمارے جسمی قیام کے لیے سورج اور چاند اور بادلوں اور ہواؤں کو کام میں لگایا اور ہمارے روحانی انتظام کے لیے توریت اور انجیل اور فرقان اور سب آسمانی کتابوں کو عین وقت پر پہنچایا۔‘‘ الٰہی! آگے آپؑ دعا کر رہے ہیں۔ ’’الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تُو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کرکے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفیٰؐ اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالَم گُم گَشْتَہ کو سیدھی راہ پر چلایا۔ وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کوپھر راہِ راست پر لایا۔ وہ مُحْسِن اور صاحبِ احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھوڑایا۔ وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا۔ وہ حکیم اور مُعَالَجِ زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا۔ وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مُردوں کو زندگی کا پانی پلایا ‘‘ یعنی جو روحانی لحاظ سے مُردہ لوگ تھے ’’ وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے امت کے لیے غم کھایا۔ اور درد اٹھایا۔ وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرما رہے ہیں، فرمایا کہ وہ پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا۔ وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سر جھکایا‘‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’اور اپنی ہستی کو خاک سے ملایا۔ وہ کامل مُوَحِّد اور بحرعرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا۔ وہ معجزہ ٔقدرتِ رحمان کہ جو اُمّی ہو کر سب پر علومِ حقانی میں غالب آیا اور ہر یک قوم کو غلطیوں اور خطاؤں کا ملزم ٹھہرایا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ اول روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 16۔17) (اردو لغت جلد22 صفحہ 498-499)

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے۔ پہلے تو آپؑ نے تورات اور انجیل سے مثال دی ہے لیکن ان قوموں کے لیے جن کو تورات اور انجیل کے ذریعہ سے صحیح راستہ نظر آیا لیکن اس کے بعد پھر دنیا میں جب بگاڑ پیدا ہوا اس کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور انہوں نے بندوں کو خدا سے ملایا۔

پھر حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں’’ اے رب العالَمین! تیرے احسانوں کا مَیں شکر نہیں کرسکتا۔ تُو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔ میرے گناہ بخش تا مَیں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تُو راضی ہو جائے۔ میں تیرے وَجْہِ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین۔‘‘

(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 1صفحہ 217، ایڈیشن 2022ء)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں ’’ہزار ہزار شکر اس خداوند کریم کا ہے جس نے ایسا مذہب ہمیں عطا فرمایا جو خدادانی اور خدا ترسی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی نظیر کبھی اور کسی زمانہ میں نہیں پائی گئی اور ہزارہا درود اس نبی معصوم پر جس کے وسیلہ سے ہم اس پاک مذہب میں داخل ہوئے اور ہزارہا رحمتیں نبی کریم کے اصحاب پر ہوں جنہوں نے اپنے خونوں سے اس باغ کی آب پاشی کی۔‘‘

(نُصرة الحق، براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 25)

پھر ایک جگہ فرمایا ’’جو اس کی نگاہ میں راست باز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں راستباز ہیں، صادق ہیں۔ حقیقی طور پر دین کے پابند ہیں، اللہ تعالیٰ سے وفا کرنے والے ہیں وہ جاہلوں کی زبانوں اور ہاتھوں سے تکلیف اٹھاتے ہیں جس طرح آجکل اس زمانے میں بعض جگہوں پہ احمدی بھی اٹھا رہے ہیں۔’’سوچونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لیے اگر ہم بھی خویش اور بیگانہ سے ‘‘اپنوں یا غیروں سے ’’کچھ آزار اٹھائیں تو ہمیں شکر بجا لانا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے کہ ہم اس محبوب ِحقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دئیے جائیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دکھ دیے جا رہے ہیں تو یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے اور ہمیں خوش ہونا چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ اللہ کی راہ میں دکھ وہی اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ’’اور ستائے جائیں۔ سو اس طرح پر دکھ اٹھانا تو ہماری عین سعادت ہے لیکن جب ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ بعض دشمنان دین اپنی افترا پردازی سے صرف ہماری ایذارسانی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ بے تمیز اور بے خبر لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں تو اس صورت میں ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ حتی الوسع ان ناواقف لوگوں کو فتنہ سے بچاویں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول ص 141-142) یعنی کہ ان کو بھی حقیقت بیان فرمائیں۔ لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کی جو برائیاں ہیں وہ ظاہر کریں۔ فتنہ سے بچانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان جیسی بیہودہ زبان استعمال کرنے لگ جائیں جو مخالفین کرتے ہیں اور بدتمیزی پر اتر آئیں بلکہ اسلامی تعلیم کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے غلط پروپیگنڈا اور الزام تراشی کا جواب دیں۔

ہمارے ہر تبلیغ کرنے والے کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ بعض دفعہ ہم لوگ اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں پر اپنی طرف سے بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو معترض کو موقع دیتی ہیں کہ وہ یہ کہیں کہ یہ تم لوگوں کے اخلاق ہیں! ہمارے اخلاق تو بہت بلند ہونے چاہئیں۔ ہاں حقیقت ضرور بیان کریں لیکن اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی طرح وہ زبان استعمال نہیں کرنی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا کہ اس تکفیر کے وقت میں کہ ہر ایک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آ رہی ہیں کہ لَسْتَ مُوْمِنًا۔‘‘ کہ تو مؤمن نہیں ہے۔’’ اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ ندا ہے کہ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘ کہہ دے کہ میں مأمور ہو کر آیا ہوں اور میں اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ہوں۔ ’’ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو اور ایک طرف الہام ہوتا ہے۔ یَتَرَبَّصُوْنَ عَلَیْکَ الدَّوَائِرَ عَلَیْھِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ۔‘‘ وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں بُری گردش انہی پر پڑے گی۔ آخر میں یہی نتیجہ نکلنا ہے۔ ان شاء اللہ ’’اور ایک طرف وہ کوشش کررہے ہیں کہ اس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کر رہا ہے کہ اِنِّیْ مُہِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔ اَللّٰہُ اَجْرُکَ۔ اَللّٰہُ یُعْطِیْکَ جَلَالَکَ۔‘‘ جو تیری ذلّت چاہتے ہیں مَیں اسے ذلیل کروں گا اللہ تیرا اجر ہے۔ اللہ تجھے تیرا جلال عطا کرے گا ’’اور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اور پیروی سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور ایک طرف خدا ئے تعالیٰ اپنے اس الہام پر بتواتر زور دے رہا ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰہُ ‘‘ تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا اور آپؐ کی پیروی میں آپؐ کے غلامِ صادق کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کیونکہ آپؑ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت ہے کیونکہ آپؑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل مطیع ہیں اور غلام ہیں۔’’ غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں۔ اب دیکھئے کہ فتح کس کی ہوتی ہے۔‘‘(نشان آسمانی روحانی خزائن جلد نمبر4 صفحہ 422-423)اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی جو ترقیات ہیں۔ آہستہ آہستہ جس طرح جماعت بڑھ رہی ہے وہ ان لوگوں کے لیے کافی جواب ہے اگر ان لوگوں میں کچھ نظر ہو دیکھنے کی اور حیا ہو۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’اس جگہ مَیں اس شکر کے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فرمایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو باوجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے ایک ذرہ عیب گیری کر سکو۔ پھر تم سوچوکہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اَطْہَر اور اَنْفَسْ خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے روبروئی گذری گواہی دے رہی ہے جو اِفترا اور دروغ بافی اس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جبکہ آسمانی نشان وہ دکھلا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں اس کے شاملِ حال ہو رہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعد تمہیں اس نبی کے صادق ہونے میں کون سا شک باقی ہے۔‘‘

اسلام کے مخالفین کو جواب دینے کی بات کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ حقیقی، وہ سچے نبی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور دنیا کو اللہ تعالیٰ سے ملانے کے سامان کیے۔ اور پھر اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکذبین کو ملزم کیا ہے‘‘ کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام صادق ہوں۔ میرے سے بھی اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے۔ ’’چنانچہ براہین احمدیہ…‘‘ کا حوالہ آپؑ نے دیا ہے کہ اس ’’میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گذر گئے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ یعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدر مدت دراز تک یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ برخلاف اپنی عادتِ قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنےلگا۔‘‘

(تریاق القلوب،روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 282-283)

آپؑ کی سیرت کے جو بہت سارے پہلو پہلے بیان کر چکا ہوں اس میں یہ واضح طور پر آگیا کہ مخالفین بھی آپؑ کی تعریف کیا کرتے تھے کہ کبھی آپؑ نے جھوٹ نہیں بولا۔ تو یہ شکرگزاری کی وہ باتیں ہیں جس میں آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شکر ادا کیا ہے اور اپنے معاونین اور مددگاروں کے لیے بھی شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

پھر ان باتوں کے علاوہ آپؑ

شکر گزاری کی اہمیت بچوں میں پیدا کرنے کی کوشش

فرماتے تھے۔ گھر میں آپؑ کا کس طرح طریق تھا، اس ضمن میں ایک روایت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ گھر میں بچوں کو کہانی سنائی جو حضرت مصلح موعود ؓنے الحکم اخبار کے لیے لکھوائی اور وہ یہ تھی کہ’’ ایک گنجہ اور ایک اندھا تھا۔ خدا کا فرشتہ متشکل ہو کر گنجہ کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تو کیا چاہتا ہے تو گنجے نے کہا میرے سر کے بال ہو جاویں اور مال دولت ہو جاوے۔ چنانچہ فرشتہ نے گنجے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو خدا کی قدرت سے اس کے سر پر بال بھی نکل آئے اور مال دولت نوکر چاکر بھی مل گئے۔ پھر اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تُو کیا چاہتا ہے؟ اندھے نے کہا کہ میری آنکھیں روشن ہو جاویں تو میں ٹکریں کھاتا نہ پھروں اور روپیہ پیسہ مل جاوے تو کسی کا محتاج نہ رہوں۔ فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ روشن ہو گئیں اور مال دولت بھی مل گیا۔ پھر وہی فرشتہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور گنجے کی آزمائش کو ایک فقیر کے بھیس میں آیا اور گنجے کے پاس جا کر سوال کیا۔ گنجے نے ترش رُوئی‘‘ سے بڑی بد مزاجی ’’سے جواب دیا اور جھڑک دیا اور کہا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔ فرشتہ نے اس کو سر پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر وہ گنجے کا گنجہ ہی ہو گیا اور سب مال و دولت جاتا رہا اور پھر ویسا ہی تنگ حال ہو گیا۔ پھر وہی فرشتہ فقیر کی شکل میں اندھے کے پاس آیا جو اب بڑا دولت مند اور بینا ہو گیا تھا اور سوال کیا۔ اس نے کہا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے دیا ہے اور اس کا مال ہے تم لے لو۔ اس پر پھر اللہ تعالیٰ نے اندھے کو اَور بھی مال دولت دیا۔‘‘

آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’پس اے عزیز بچو! تم بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو جھڑکی نہ دو۔ خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہئے۔ اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے۔‘‘

(الحکم 13 ستمبر 1898 ء جلد 2 نمبر 26-27 صفحہ 11)

گو یہ ایک لمبی حدیث بھی ہے جس میں تین قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے (صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث ابرص و اعمی و اقرع فی بنی اسرائیل، حدیث 3464) لیکن آپؑ نے بچوں کے لیے مختصر کر کے گھر میں یہ کہانی کی صورت میں بتائی۔

سردیوں میں رمضان آنے پر ایک لطیف رنگ میں شکر کے جذبات کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’مولوی شیر علی صاحب نے مجھے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسے زمانہ میں مبعوث فرمایا کہ رمضان کا مہینہ سردیوں میں آتا ہے اور روزے زیادہ جسمانی تکلیف کا موجب نہیں ہوتے اور ہم آسانی کے ساتھ رمضان میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ مولوی صاحب کہتے تھے کہ ان دنوں میں رمضان دسمبر میں آیا تھا ‘‘اور وہ کہتے ہیں کہ ’’ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس زمانہ کی جنتری کو دیکھا ہے۔‘‘ یہ میرا خیال ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓکہہ رہے ہیں کہ میں نے اس زمانے کی جنتری کو دیکھا ہے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ 1891ء میں فرمایا تھا اور 1891ء میں رمضان کا مہینہ 11 اپریل کو شروع ہوا تھا۔ گویا یہ رمضان کے مہینہ کے لیے موسم سرما میں داخل ہونے کی ابتدا تھی۔ چنانچہ 1892ء میں رمضان کے مہینہ کی ابتدا 31 مارچ کو ہوئی۔ 1893ء میں 20 مارچ کو ہوئی اور اس کے بعد رمضان کا مہینہ ہر سال زیادہ سردیوں کے دنوں میں آتا گیا اور جب 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو اس سال رمضان کے مہینہ کی ابتدا یکم اکتوبر کو ہوئی تھی۔ اس طرح گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا زمانہ تمام کا تمام ایسی حالت میں گزرا کہ رمضان کے روزے سردی کے موسم میں آتے رہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل تھا جو اس کی تقدیر عام کے ماتحت وقوع میں آیا اور جسے حضرت مسیح موعودؑکی نقطہ شناس طبیعت نے خدا کا ایک احسان سمجھ کر اپنے اندر شکرگزاری کے جذبات پیدا کیے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم روایت نمبر 419 صفحہ 372 – 373)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بات پر بھی شکرکرتے تھے کہ کسی شخص کے کام سے انسانیت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ چنانچہ بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی نیکیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ علاج معالجہ کے حوالے سے حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ ’’یہ‘‘ یعنی علاج معالجہ’’ بڑا فائدہ پہنچانے کی چیز ہے۔ حضرت مسیح موعودؑاس کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ایک دفعہ گھر میں حضرت مولوی صاحب کا ذکر آیا تو آپ ؑ ان کا نام لے کر دیر تک الحمدللہ الحمدللہ کرتے رہے اور فرمایا: مولوی صاحب‘‘ یعنی حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ ’’بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ ان کے ذریعے کئی غریبوں کا علاج ہو جاتا ہے۔ علاج تو دوسروں کا ہوتا تھا مگر شکر آپؑ کر رہے تھے‘‘ کہ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اور اس پر آپؑ شکر ادا کرتے تھے کہ ان سے انسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

(تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر1922ء۔ انوارالعلوم جلد7 صفحہ 35)

یہ تھا آپؑ کا انسانیت کے لیے بھی درد کہ ان کی تکلیف دور کرنے والے کا بھی آپؑ شکریہ ادا فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا کرتے تھے کہ اس نے ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کا انتظام فرمایا ہے۔

ان شاءاللہ اَور بھی باقی باتیں آئندہ بیان کروں گا۔ اس وقت میں

چند مرحومین کا ذکر

کرنا چاہتا ہوں اور نماز کے بعد ان کا جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ اس میں پہلا ذکر ہے

حافظ شہباز احمد صاحب مبلغ سلسلہ۔ آئیوری کوسٹ

میں تھے۔ جو 18؍جولائی کو حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے 31؍سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ 2008ء میں انہوں نے قرآن کریم حفظ کیا۔ 2019ء میں جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نمل (NUML) یونیورسٹی سے فرنچ زبان میں ایک سال کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ اس کے بعد فرنچ زبان میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تقرری اس کے بعد آئیوری کوسٹ میں ہوئی۔ مرحوم بہت ملنسار، مہمان نواز، ہنس مکھ طبیعت کے مالک، خلافت کے فدائی اور وقف کی ذمہ داریوں کو احسن طریق سے ادا کرنے والے ایک مخلص خادم سلسلہ تھے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے اردو اور فارسی زبان میں قرآن کریم ناظرہ مع قواعد آن لائن پڑھا رہے تھے۔ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ مرحوم کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی خودداری اور صبر تھا۔ کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنے۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔بعض اوقات اپنے گھر پر ہی تبلیغی نشست رکھ لیتے۔ شہر کے معززین اور انتظامیہ سے نہایت اچھے تعلقات تھے۔ اپنی جماعت کے لوگوں کی تربیت کرنے کے لیے مختلف ذرائع ڈھونڈتے رہتے تھے۔ کبھی بھی اپنے اور افریقن لوگوں کے درمیان فاصلہ پیدا نہیں ہونے دیا۔ اپنے ریجن میں بڑی دلجمعی اور محنت سے جماعتی تعمیرات بھی کروائیں اور اچھے کام کروائے۔ سستے رنگ میں مساجد بھی بنوائیں۔

آپ کی اہلیہ سبیکہ صاحبہ کہتی ہیں کہ اچھے، نیک اور بڑے ذمہ دار مبلغ، شوہر اور باپ تھے۔ ایک بات جو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میرے لیے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے جماعت کے لیے کوئی بہت بڑا کام کرنے کی توفیق دے۔ میں جماعت کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ بڑی تڑپ تھی ان میں۔ جماعتی اموال کی بہت قدر کرتے تھے۔ برداشت کا مادہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کوئی بھی پریشانی یا دکھ ہوتا تو کبھی اسے چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ غصے کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے۔ نرمی سے بات کرتے۔ پیار سے اپنی بات سمجھاتے۔

نعمان قدیر صاحب مبلغ ہیں، کہتے ہیں حافظ صاحب ایک معاملہ فہم شخصیت کے مالک تھے۔ جماعتی معاملہ میں جب بھی ان سے مشورہ لیا تو کمال ذہانت سے ایسا مشورہ دیتے تھے کہ معاملہ جو بظاہر مشکل دکھائی دیتا تھا وہ آسانی سے حل ہو جاتا تھا۔ جوانی میں ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی صلاحیت دی تھی۔ احتشام الحق صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ ان کا مربیان کے علاوہ لوکل معلمین کے ساتھ نیز اپنے ہمسایوں اور احباب جماعت کے ساتھ بھی بہت گہرا تعلق تھا جس کا اکثر افراد نے ملاقات کے دوران ذکر بھی کیا ہے۔ مشکلات میں دوسروں کی پوشیدہ مدد کیا کرتے تھے۔ رافع تبسم صاحب کہتے ہیں مرحوم جماعت کے ہر کام کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے اور کوئی کام سپرد کیا جاتا تو ایک فرض نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ وقت کی پابندی، منصوبہ بندی، ذمہ داری اور اخلاص آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ مرحوم کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ ہمیشہ جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے نئے نئے طریق سوچتے رہتے تھے۔ آپ نوجوانوں، بچوں اور بڑوں سب کی تربیت کی فکر رکھتے تھے اور یہ بہت ضروری اہم چیز ہے جو ایک مربی میں ہونی چاہیے۔ اسی طرح مرحوم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ میں اخلاص بہت تھا اور بے لوث ہو کر خدمت کرتے تھے۔کبھی اظہار نہیں کرتے تھے۔ شہرت کے طالب نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے۔ جہاں بھی لگایا ہمیشہ دین کی خدمت کے لیے مصروف رہے۔ بچوں کو قرآن کریم صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھاتے اور بڑی محبت سے پڑھاتے اور بہت سارے بچے ان کے شاگرد ہیں جو ان کو یاد کرتے ہیں۔

دوسرا ذکر ہے

ییلنگا مومنی (Yilyinga Moumini) صاحب۔

یہ برکینا فاسو کے ہیں۔ وہاں ایک جگہ کےزعیم انصاراللہ تھے۔ جولائی کے مہینے کی بات ہے، کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ اس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنا کر انہیں شہید کر دیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔ 1989ء میں انہوں نے بیعت کی تھی۔

ودود صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ شہید مرحوم جماعت اور خلافت سے گہری محبت رکھنے والے نہایت مخلص انسان تھے۔ ان میں قرآن کریم سے عشق، مسجد سے گہرا تعلق، عبادت، اطاعتِ خلافت اور جماعتی خدمت کا خاص جذبہ تھا۔ اسی طرح عبداللہ جنگانی صاحب معلم ہیں بیان کرتے ہیں کہ بہت بہادر، نڈر، مخلص، تقویٰ شعار، عبادت گزار، خوش اخلاق، ملنسار، کم گو اور خلافت سے محبت و اطاعت کرنے والے بہترین کارکن تھے۔ اکثر مسجد میں سب سے پہلے پہنچتے اور بیٹھ کے قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔

اسی طرح معلم صاحب بیان کرتے ہیں کہ فجر کے وقت ان کے گھر کے سامنے سے جب مَیں گزرتا تو ان کے گھر سے تلاوت کی آواز آتی تھی۔ عبدالرحمٰن صاحب جو اس جگہ کے ریجنل صدر ہیں وہ کہتے ہیں۔ جماعتی طور پر جب بھی وقار عمل ہوتا تو عمر میں بڑے ہونے کے باوجود جب بھی ان کو میں نے کہا تو خود بھی آتے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کے آتے اور ہر جلسے، اجتماع میں ضرور شامل ہوتے۔ طبیعت ناساز بھی ہوتی تب بھی جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتے۔

امین بلوچ صاحب کہتے ہیں کہ میں بھی اس علاقے میں رہا ہوں۔ چندے میں بڑے باقاعدہ تھے۔ اسی طرح مکرم بالبونے صاحب مقامی معلم ہیں وہ کہتے ہیں کہ شہادت سے ایک دن قبل بھی اپنے چندے کے متعلق رابطہ کیا اور اس کی ادائیگی کی فکر ظاہر کی اور وہ جماعت کی خدمت کے جذبے سے بھرپور تھے۔ اور یہی خصوصیات ہر لکھنے والے نے ان کے بارے میں لکھی ہیں۔

ان کے پسماندگان میں دو بیوائیں اور 13؍بیٹے بیٹیاں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

تیسرا ذکر ہے

مکرم یحییٰ سومارے (Soumare) صاحب۔

یہ مالی کے ہیں۔ یہ بھی گذشتہ دنوں 32؍سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔ یہ بھی شہید ہی ہیں۔ مالی میں دہشت گردی کے باعث کچھ عرصے سے حالات خراب ہیں۔ یحییٰ سومارے صاحب گاؤریجن کے علاقے اینی فیس (Anefis) میں فوجی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ یہ فوج میں تھے۔ اور 4؍ جولائی کو کہتے ہیں موسم خراب تھا، تیز ہوا چل رہی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے افسر اعلیٰ سے کہا کہ میں ذرا فوجی دستے جو ڈیوٹی پر ہیں ان کی خیریت معلوم کر آؤں اور دہشت گردوں کے خلاف جو دستے گشت پر مامور تھے ان کو دیکھنے کے لیے جب باہر نکلے تو اس دوران دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور جس کے دوران یحییٰ صاحب شہید ہوگئے۔ ان کے بارے میں اَور لکھا ہے کہ بائیس ستمبر کو مالی کے یوم آزادی کے دن فوج میں ان کے عہدے میں ترقی بھی ہونی تھی اور ان کو میڈل آف آنر بھی ملنا تھا۔فوج کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا تھا۔ اسی طرح ان کی تقرری بھی بڑے شہر میں ہونی تھی لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے جام شہادت نوش کر لیا۔

ان کے بھائی فودی سومارے کہتے ہیں کہ یحییٰ سومارے نے 2022ء میں جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ جلسے کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھتے ہی ان کے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوئی اور عجیب سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔ جلسے کے دوران تقاریر سننے اور جماعتی لٹریچر خصوصاً اسلامی اصول کی فلاسفی کے مقامی زبان میں ترجمے کے مطالعے سے ان کے یقین میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر جہاد سے متعلق جماعت احمدیہ کے عقلی اور اسلامی اصولوں کے مطابق موقف نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور اسی جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ایک مثالی شوہر، اپنے بچے کے لیے نہایت شفیق والد اور ہماری ضروریات کا خیال رکھنے والے تھے۔ ہر مشکل وقت میں ہمارے لیے مضبوط سہارا بنتے تھے۔ ان کے والدین کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انتہائی محبت اور احترام کا تعلق تھا۔ باقاعدگی سے فون کر کے ہماری خیریت دریافت کرتے تھے۔ ہماری ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور ہماری ہر تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بڑے فرمانبردار بیٹے تھے۔

مشنری انچارج صاحب مالی لکھتے ہیں ایک ہنس مکھ نوجوان اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔صوم و صلوٰة کے پابند، ضرورت مند افراد کا خیال رکھنے والے، اپنے اور غیر دونوں کے لیے ایک اچھا نمونہ اختیار کرنے والے، خاندانی رشتوں کو اچھی طرح نبھانے والے، نیک اور مخلص انسان تھے۔ نومبائع ہونے کے باوجود مرحوم کو جماعت احمدیہ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اور خلفائے کرام سے انتہائی فدائیت اور گہری وابستگی اور عقیدت اور حقیقی محبت کا تعلق تھا۔ آپ کے والد صاحب احمدی نہیں تھے لیکن بیٹے کی شہادت کے بعد انہوں نے دیکھا کہ جماعت کا جو حسنِ سلوک ہے اور جماعت نے جس طرح سارا کچھ سنبھالا ہے، یہ ہمدردی دیکھ کر وہ متاثر ہوئے اور دین کی تو پہلے ہی تحقیق کر رہے تھے۔ کہتے ہیں احمدیت کی سچائی اب مجھ پر عیاں ہو گئی ہے۔ اس لیے انہوں نے بیعت کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

اسی طرح اگلا ذکر

مکرم سراج الحق قریشی صاحب

کا ہے۔یہ نائب افسر جلسہ سالانہ ربوہ تھے۔ یہ بھی گذشتہ دنوں چھیاسی 86 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔

ان کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا حضرت میاں قطب الدین صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی۔ ان کو خواب آئی تھی کہ مسیح موعودؑ آچکے ہیں۔ چنانچہ یہ قادیان گئے اور حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کی دادی بھی صحابیہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دادا کو دو بیٹوں قریشی فضل حق اور قریشی عبدالغنی صاحب سے نوازا اور یہ دونوں بیٹے دین کی بڑی خدمت کرنے والے تھے اور باوجود کاروبار کرنے کے ہر وقت دین کی خدمت کے لیے تیار رہتے تھے اور ربوہ کی آباد کاری میں بھی ان کا بہت حصہ ہے خاص طور پر جب پانی تلاش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس وقت بھی نلکے وغیرہ لگانے کا کام ان کے سپرد تھا۔ قریشی سراج الحق صاحب کے نانا مولوی محمد عثمان صاحبؓ بھی صحابی تھے۔ آج کل یہ بطور نائب ناظر اور نائب افسر جلسہ سالانہ کے طور پر خدمت انجام دے رہے تھے۔ باقاعدہ جماعتی خدمت تو انہوں نے کچھ سال پہلے، تقریباً پندرہ بیس سال پہلے شروع کی ہے۔ اس سے پہلے آپ محکمہ تعلیم میں مختلف کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ ٹی آئی کالج ربوہ میں بھی انہوں نے پڑھایا۔

سید قاسم احمد صاحب کہتے ہیں کہ سراج الحق قریشی صاحب کی وفات سے دفتر جلسہ سالانہ کے تمام کارکنان ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے ان کا نہایت ہمدرد اور غمگسار ساتھی اور بزرگ جدا ہو گیا ہے۔ جب بھی ان کے سپرد کوئی کام کیا جاتا نہایت ذمہ داری سے انجام دیتے۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ ایک بیٹے قمر الحق قریشی صاحب مربی سلسلہ ہیں اور شعبہ تاریخ میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

اگلا ذکر ہے

مکرم لاول طیب (Lawal Toyeeb) صاحب معلم سلسلہ نائیجیریا۔

یہ بھی گذشتہ دنوں تیس سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ جلسہ سالانہ کے ایام میں براہ راست نشریات کی تیاری کے دوران آپ مسجد کی سیٹلائٹ کی ڈش مرمت کرتے ہوئے سیڑھی سے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ علاج کے باوجود جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی پر بہت شدید چوٹ آئی تھی۔ پسماندگان میں والدین اور اہلیہ کے علاوہ تقریباً 11؍ ماہ کی ایک بیٹی شامل ہے۔

2018ءمیں جامعة المبشرین نائیجیریا سے تعلیم مکمل کی اور معلم کی حیثیت سے ان کی تعیناتی ہوئی۔ نہایت منکسرالمزاج، فعّال اور مخلص معلم تھے۔ جماعت کی طرف سے عائد کی جانے والی ہر ذمہ داری اپنی استطاعت کے مطابق نہایت عمدگی، محنت اور اخلاص کے ساتھ بہترین انداز میں سرانجام دیتے تھے۔ ان کے والدین کہتے ہیں نہایت ذمہ دار، والدین کا بے حد خیال رکھنے والے اور خدمت گزار بیٹے تھے۔ محدود مالی وسائل کے باوجود ہمیشہ حتّی المقدور اپنے والدین کی مالی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں جماعتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور خلافت احمدیہ کی ہدایات پر عملی طور پر کاربند رہتے تھے۔ اپنے حُسن اخلاق، خلوص اور شفقت کی وجہ سے جماعتی افراد اور دیگر مسلمانوں اور غیر مسلموں سب میں یکساں طور پہ محبوب تھے۔

ایک معلم منور صاحب ہیں۔ وہ بھی یہی بتاتے ہیں کہ نہایت عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ بڑا صبر تھا اور حوصلہ تھا۔ دوسروں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور زمانہ طالب علمی سے ہی جماعت کی خدمت کا ان کو بہت شوق تھا۔بستر علالت پر بھی باوجود یہ کہ شدید بیمار تھے۔ چوٹ لگی ہوئی تھی اور تکلیف میں تھے لیکن جماعتی معاملات اور جماعت کے افراد کی تربیت کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کاسلوک فرمائے۔

اگلا جنازہ ہے

مکرم ریٹائرڈ ماسٹر غفور احمد صاحب

جو آج کل کینیڈا میں تھے۔ سانگلہ ہل کے ایک گاؤں میں یہ صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی بھی گذشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔ پنجوقتہ نمازی، تہجد گزار، خدا ترس، ملنسار اور خلافت کے شیدائی، ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت کی اطاعت کرنے والے وجود تھے۔ غیروں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے۔ بعض کی چُھپ کے مالی مدد کرتے۔ جماعتی چندوں اور دیگر مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے۔ باقاعدہ خطبات سنتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ جماعتی کارکنان، واقفینِ زندگی کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔اسی طرح نواسے نواسیاں پوتے پوتیاں ہیں۔ان کے ایک بیٹے نعیم اقبال صاحب فجی کے امیر و مشنری انچارج ہیں جو والد صاحب کی وفات کے وقت میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر وحوصلہ عطا فرمائے اور مرحوم سے مغفرت اور رحم کاسلوک فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button