عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا(قسط اول)
(’’اب اللہ تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک بنا دے‘‘)
پانی کا قطرہ اپنی ذات میں اپنی شناخت رکھتا ہے۔ اس کی اپنی ہیئت، اپنی تاثیراور اپنی اہمیت ہے۔ یہی قطرہ تنہا ہو تو اس کی بقا پر سو سوال اٹھ سکتے ہیں، ذرا سی دھوپ اسے بخارات میں تبدیل کر سکتی ہے، تپتی زمین اس کی ہیئت بدل سکتی ہے، اور تو اور اگریہ بادل میں ہو تو ہوا اسے کہیں سے کہیں اڑا لے جاسکتی ہے۔ لیکن یہی قطرہ جب دریا میں شامل ہو جاتا ہے تو اگرچہ بظاہر اپنے الگ تشخص کو کھو دیتا ہے مگر ہست سے نیست نہیں ہوتا بلکہ ایک بڑے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کی نمی، اس کی توانائی اور اس کی تاثیر دریا میں شامل ہوجاتی ہے۔ اب وہ صرف ایک قطرے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دریا کی روانی اس کی طاقت کو سوچند کر دیتی ہے۔ غالب کے مصرع
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
سے ایک لطیف مفہوم یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف ایک بظاہر چھوٹے وجود کا کسی بڑے مقصد کے لیے فنا ہوجانا اس کی ہستی کا مقصد پورا کر دیتا ہے تو دوسری طرف ایک معمولی وجود جب کسی بڑے مقصد کا حصہ بن کر اجتماعی کام کا حصہ بن جائے تو اس کی حقیرانہ کاوش بھی کئی گنا زیادہ رنگ لے آتی ہے۔
لیکن یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ دریا آخر کیاہے؟ قطروں ہی کا مجموعہ۔ قطرے نکال دیجیے، دریا کا وجود کالعدم ہو جائے گا۔ یہی معاملہ انسان اور معاشرے کا ہے۔ انسان معاشرے کی اِکائی ہے اور معاشرہ انسانوں کا مجموعہ۔ فرد معاشرے سے کٹ جائے تو اس کی بہت سی صلاحیتیں بے مصرف ہوجاتی ہیں اور معاشرہ اپنے افراد کی اصلاح سے بے نیاز ہوجائے تو اس کا اجتماعی حسن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ گویا فرد کو جتھے کی ضرورت ہے اور جتھے کو فرد کی۔ John Donne نے کہا تھا کہ ’’No man is an island, entire of itself‘‘ کوئی انسان اپنے آپ میں مکمل جزیرہ نہیں۔ بقول اقبال؎
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
انسان کی زندگی پر غور کریں تو اجتماعیت اس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ انسان اپنی مرضی سے دنیا میں نہیں آتا، کسی گھر، کسی خاندان میں آنکھ کھولتا ہے۔ زبان، ادب آداب، علم، سلیقہ دوسروں سے سیکھتا ہے، معاش کے ذرائع میں دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، دکھ میں کسی کندھے کی تلاش میں ہوتا ہے اور خوشی کی خبر میں بھی کسی کو شامل نہ کر پائے تو خوشی پھیکی پڑ جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی شخص اپنے کھانے اور اپنی رہائش کا انتظام، اپنے لباس کی تیاری، اپنی بیماری کے علاج، علم و تجربے کے حصول وغیرہ زندگی کی تمام ضرورتیں تن تنہا پوری نہیں کرسکتا۔ قدرت نے گویا بشر کے مقدر میں یہ لکھ چھوڑا ہے کہ انسان مکمل ضرور ہوسکتا ہے لیکن اکیلا رہ نہیں سکتا کہ صفتِ احد صرف ایک ہی ذات کو زیبا ہے۔
اسلامی عبادات میں بھی اجتماعیت کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نماز ایک شخص اپنے گھر میں بھی پڑھ سکتا ہے مگر جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی فضیلت کہیں زیادہ ہے۔ جمعہ کے لیے محلے بھر سے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔ عیدین پر شہر بھر سے اور حج پر دنیا بھر سے جس میں رنگ، نسل، زبان اور قومی امتیازات سے بالا ہو کر لاکھوں انسان ایک ہی قسم کے لباس میں ایک ہی مرکز کے مطاف میں ایک ہی آواز پر لبیک کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ نماز کی صف میں امیر و غریب، عالم و اَن پڑھ، افسر و ماتحت کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ گویا اسلام انسان کو بار بار یہ سبق دیتا ہے کہ خدا سے تمہارا تعلق نہایت ذاتی ہے مگر خدا تک جانے والا راستہ تمہیں اجتماعیت سے گزار کر منزلِ مقصود پر پہنچائے گا۔
قرآن کریم نے اجتماعیت کا بنیادی اصول نہایت خوب صورتی سے بیان فرمایا:وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا (آل عمران:۱۰۴) یعنی اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔ پھر اسی آیت میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر خدا نے فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ یعنی تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔
یہاں ایک بات قابلِ غور ہے۔ قرآن نے محض مومنین کے ہاتھ جوڑنے کی بات نہیں کی، دل جوڑنے کی بات کی ہے۔ انسانوں کو ایک میدان میں جمع کردینا، ایک فہرست میں ان کے نام لکھ دینا آسان ہے، ایک نام کے نیچے ہزاروں انسانوں کو شمار کرلینا بھی مشکل نہیں لیکن حقیقی اجتماعیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ کا معجزہ رونما ہو اور سرخ، سفید، سیاہ، زرد اور گندمی، الغرض الگ الگ دل ایک ہی مقصد کے لیے دھڑکنے لگیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنین کی جماعت کی تالیف قلب کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا: ’’میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ اول خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔‘‘ پھر فرمایا کہ جب تک ہر شخص اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، جماعت پیدا نہیں ہوسکتی۔
یقیناً تالیفِ قلب ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ انسانوں کے مزاج الگ الگ، تربیت الگ الگ، پسند و ناپسند الگ الگ، مالی حالات الگ الگ، تعلیم الگ الگ، زبانیں الگ الگ، ثقافتیں الگ الگ اور بعض اوقات قومیں اور نسلیں تک الگ ہوتی ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی روحانی قوت انہیں اس طرح جوڑ دے کہ ایک کا درد دوسرے کو محسوس ہو، ایک کی خوشی دوسرے کو خوش کرے اور سب ایک مقصد کے لیے اپنی اپنی صلاحیتوں کو لاحاضر کریں تو یہ معمولی بات نہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرکے دکھائیں اور اس ایک اشارے میں اجتماعیت کا پورا فلسفہ سمٹ آیا۔ اینٹ جو عمارت کی اِکائی ہوتی ہے اینٹ ہی رہتی ہے لیکن جب وہ دیگر اینٹوں کے ساتھ مل کر اپنی جگہ پر چُنی جاتی ہے تو عمارت کی چھت کا وزن اٹھانے والی دیوار بن جاتی ہے۔ یہی تصور قرآن کریم بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ (الصف:۵) یعنی سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار کی صورت میں پیش کرتا ہے۔
ایک حدیث میں رسول کریمﷺ نے مومنوں کی جماعت کو ایک جسم کی مانند قرار دیا کہ اگر ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف میں شریک ہوجاتا ہے۔ یہاں اجتماعیت میں صرف طاقت ہی نہیں بلکہ دوسرے کی تکلیف کا احساس بھی شامل ہو گیا۔ ہاتھ پر زخم آجائے تو آنکھ یا جسم کا کوئی بھی عضو اس سے قطع تعلقی اختیار نہیں کرتا۔ سب ایک ٹیم کی طرح اس کی دادرسی کی کوشش کرتے ہیں۔ زخم میں سے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، جلد از جلد طبی امداد حاصل کرنے کے لیے ہسپتال پہنچا جاتا ہے الغرض ہر عضو ایک وجود کی بقا اور حفاظت کے لیے اپنا اپنا فرض نبھاتا ہے۔ سعدی نےکیا خوب کہا؎
بنی آدم اعضاءِ یک دیگرند
کہ در آفرینش ز یک گوہرند
اور پھر کہا کہ اگر ایک عضو کو زمانہ درد پہنچائے تو دوسرے اعضا بے قرار ہوجاتے ہیں۔لیکن اجتماعیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان دریا میں داخل ہو کر اپنی شخصیت، اپنی عقل،اپنے فہم، اپنی صلاحیتوں یا اپنی انفرادیت کو دریا برد کر دے۔ یہی قطرے اور دریا کے استعارے کا دوسرا اور شاید زیادہ اہم پہلو ہے۔ دریا قطرے سے یہ نہیں کہتا کہ اپنا تشخص کھو دو۔ دریا کو تو پانی کا قطرہ اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ درکار ہے۔ آلودہ قطرے شفاف دریا کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ زیادہ تعداد میں لوگوں کے کسی جگہ جمع ہو جانے سے ہجوم تو بن سکتا ہے، جماعت نہیں۔ ہجوم سے جتھے بن سکتے ہیں صحت مند معاشرہ نہیں کیونکہ صحت مند معاشرہ افراد کے بلند کردار کا متقاضی ہوتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ معاشرہ بہت خراب ہوگیا ہے۔ خود غرضی، حسد، بے حیائی، جھوٹ کی عادت، مادہ پرستی بہت بڑھ گئے ہیں، مذہب سے دوری پیدا ہوگئی ہے۔ مگر معاشرہ آخر کیا ہے؟ معاشرہ ہم ہیں، مَیں اور آپ۔ اگر دریا گدلا ہو رہا ہے تو کہیں نہ کہیں قطرے آلودگی کا شکار ہیں۔ اگر معاشرے میں بے ایمانی ہے تو بے ایمانی کرنے والے انسان ہی ہیں۔ اگر خاندانی اقدار میں کمزوری نظر آ رہی ہے تو کسی نہ کسی سطح پر والدین، اولاد، میاں یا بیوی اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
اسی لیے قرآن کریم یہ بھی فرماتا ہے:وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ(آل عمران:۱۰۵) یعنی اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
گویا قرآن ہر جتھے کو قابلِ تعریف قرار نہیں دیتا۔ لوگ برائی کے لیے بھی جمع ہوسکتے ہیں، ظلم و تعدّی اور فساد کے لیے بھی۔ اس لیے صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے سمت کا درست ہونا نہایت ضروری ہے۔ قرآن اسی لیے کہتا ہے: تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی، نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے سے تعاون کرو، وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ، اور گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔
اس قرآنی اصول پر عمل درآمد آج کی دنیا میں شاید پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ انسان اب صرف اپنے گھر، محلے یا دوستوں سے متأثر نہیں ہوتا۔ اس کی جیب میں موجود موبائل فون ہر وقت اسے ہزاروں انسانوں کے خیالات، خواہشات اور عادتوں سے جوڑے رکھتا ہے۔ ایک رِیل یا شارٹ بھلے وہ اچھی ہو یا بُری چند گھنٹوں میں وائرل ہو کر لاکھوں افراد تک پہنچ کر انہیں متأثر کر سکتی ہے۔(جاری ہے)
(بقیہ ملاحظہ فرمائیے منگل یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کے شمارے میں)
مزید پڑھیں: محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام عَلَیْکَ الصَّلوٰۃُ عَلَیْکَ السَّلَامُ



