ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۸)(قسط ۱۵۳)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
کالی کارب
Kali carbonicum
اس میں کئی تضادات پائے جاتے ہیں۔ گرمی اور سردی دونوں کے لیے مریض زود حس ہو تا ہے۔ اس کا مزاج بہت الجھا ہوا ہوتا ہے۔ اگر دوا کی تشخیص صحیح بھی ہو لیکن مریض کا مزاج اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو فائدہ کی بجائے نقصان ہو تا ہے۔ عموماً اگر دوا غلط ہو تو نقصان پہنچاتی ہے لیکن کالی کا رب وہ دوا ہے جو صحیح بھی ہو تو نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جیسے سلیشیا اگر صحیح بھی ہو لیکن زیادہ اونچی طاقت میں دے دی جائے تو شدیدنقصان پہنچاتی ہے۔ (صفحہ۴۹۵)
یہ جریان خون کی بھی بہترین دوا ہےاور ہرقسم کے جریان خون میں مفید ہے۔اگر انتٹریوں میں زخموں کے داغ ہوں تو بعض اوقات ان کی وجہ سے اجابت کے ساتھ خون آنےلگتا ہے۔یہ علامت اینٹی مونیم کروڈ میں بھی پائی جاتی ہےلیکن فرق یہ ہےکہ اس میں کالی کارب کی طرح نرم اجابت نہیں بلکہ سخت اجابت ہوتی ہے۔بعض اوقات کالی کارب میں بھی سخت قبض کی علامت پائی جاتی ہے۔جس کے ساتھ خون کی آمیزیش بھی ہوتی ہےلیکن یہ عام دستور نہیں۔ (صفحہ۴۹۶)
کالی کارب میں ایک ہی مقام پر جامد اور کھڑے درد بھی پائے جاتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنے والے درد بھی۔ کمر کا درد عموماً ایک مقام پر ٹھہرا رہتا ہے لیکن وضع حمل کے دوران اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر رات کو لحاف اتر جائے اور سرد ہوا کے جھونکوں سے کمر میں درد ہونے لگے تو کالی کا رب بہت مفید ہے۔ میں نے اسے اپنے اوپر اور دوسروں پر بارہا آزمایا ہے۔ ایک دفعہ سفر کے دوران رات کو تین چار بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو کمر میں شدید درد تھا حالانکہ اللہ کے فضل سے مجھے عموماً کمردرد نہیں ہوتا۔ میں نے کالی کارب 30 کی ایک خوراک کھائی جس سے فوری فائدہ ہوا اور دوبارہ یہ تکلیف نہیں ہوئی۔ (صفحہ۴۹۸)
گو کالی کارب میں اکثر سردی سے تکلیف بڑھتی ہےمگر ماؤف مقام گرم محسوس ہوتے ہیں۔جن میں بیرونی سردی سے آرام نہیں ملتا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے بعض دفعہ اعصاب کے ریشوں میں آگ سی لگ جاتی ہے اور گرمی دانے نکل آتے ہیں۔یہ اس دوا کا طرفہ تماشا ہےکہ ٹھنڈی ہوا سے تمازت کا احساس کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتا ہےجسے گرمی سے آرام آتا ہے۔(صفحہ۴۹۸ )
کالی کارب کے مریضوں کا گلا اکثر خراب رہتا ہے۔ گلے کے گلینڈ ز سوج کر موٹے ہو جاتے ہیں۔ اگر کان کے پیچھے گلینڈ ز میں سوزش ہو جائے تو وہ اتنی خطرناک نہیں ہوتی لیکن اگر گلے کے دونوں طرف کی رگیں پھول جائیں تو یہ اچھی علامت نہیں۔ ورم بعض اوقات مستقل ٹھہر جاتی ہے۔ غدود پھول کر سخت ہو جاتے ہیں اور کچھ مادے ان میں جم جاتے ہیں جو غدودوں کو سکڑنے نہیں دیتے۔ اگر دیگر علامتیں بھی ہوں تو کالی کا رب اس مرض کا مؤثر علاج ہے۔ (صفحہ۴۹۹)
کالی کارب کی بیماریوں میں جسم میں جگہ جگہ ورم اور سوزش پائے جاتے ہیں خصوصاً آنکھوں کے اوپر پپوٹوں کی ورم بہت نمایاں ہوتی ہے۔ کالی کارب میں بعض اور دواؤں کی طرح یہ علامت بھی پائی جاتی ہے کہ انسان جس کروٹ پر لیٹے اسی کروٹ نبض کی دھڑکن محسوس ہونے لگتی ہے اور شدید گھبراہٹ ہوتی ہے ، نیند نہیں آتی۔ اگر یہ دھڑکن بہت شدید ہو اور دوران خون سر کی طرف نمایاں ہو تو کالی کا رب سے فائدہ نہ ہونے کی صورت میں بیلاڈونا اچھا کام دکھاتی ہے۔(صفحہ۴۹۹)
بڑھی ہوئی غدودوں خصوصاً رحم کی بڑھی ہوئی غدودوں سے کالی کا رب کا بھی تعلق ہے۔ اگر دیگر علامتیں بھی ملتی ہوں تو حمل کی قے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ وضع حمل کے وقت اگر بچے کی پیدائش میں روک پیدا ہو رہی ہو اور دردیں جس انداز میں اٹھنی چاہئیں ویسے انداز پر نہ اٹھ رہی ہوں ، کمر کے نچلے حصہ میں درد ہو اور درد کی لہریں ایک مقام پر نمایاں طور پر اکٹھی ہو کر دائیں اور بائیں رانوں میں پھیل جائیں تو کالی کارب دوا ہے۔ (صفحہ۵۰۰)
کالی کارب کے مریض میں عمومی کمزوری پائی جاتی ہے۔نبض مدہم ہوتی ہے۔اس کے اعصابی دردوں میں سوئی کی طرح چبھن اور جلن پائی جاتی ہے۔اندورنی نالیوں میں آگ سی جلنے کا احساس، رات دوبجے سے پانچ بجے تک بیماری کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بائیں کروٹ لیٹنےیا درد والی طرف لیٹنے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔گرم موسم میں تکلیفیں کم ہوجاتی ہیں۔کالی کارب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہےچھوٹے چھوٹے دائروں میں جن کو ایک انگلی یا انگوٹھے سے چھپایا جا سکتا ہےان میں بعض دفعہ شدید جلن کا احساس ہوتا ہے۔(صفحہ۵۰۱)
کالی فاسفوریکم
Kali phosphoricum
(Phosphate of potassium)
کالی فاس اعصاب کو تقویت دینے میں خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہ اینٹی سورک (Anti-Psoric) دوا ہے یعنی ان امراض کی دوا ہے جو جلد پر اثر رکھتی ہوں اور جبراً دبا دینے کے نتیجہ میں اندرونی جھلیوں یا اعصاب پر منفی اثر ڈالیں۔ کالی فاس کو ہو میو ڈاکٹر اینٹی سورک ہی بتاتے ہیں لیکن اس کا مرکزی تعلق اعصاب سے ہے۔ اعصاب کو تقویت دینا گویا اس کے مزاج کا حصہ ہے اور اسی بناء پر یہ اینٹی سورک کام بھی کرتی ہے۔ مثلاً اعصابی کمزوری کی وجہ سے اگر کوئی بیماری دبی رہے اور جسم میں طاقت نہ ہو کہ اسے باہر نکال سکے تو کالی فاس اسے اچھال کر جلد پر ظاہر کر دے گی۔ (صفحہ۵۰۵)
کالی فاس دماغ، اعصاب اور خون پر اثر کرتی ہے۔ اعصابی کمزوری اور ذہنی و جسمانی تھکاوٹ میں حیرت انگیز اثر دکھاتی ہے۔ فکر، پریشانی، کام کی زیادتی اور ہیجانی کیفیات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تکلیفوں میں مفید ہے۔ کالی فاس کا مریض سست اور خوفزدہ رہتا ہے ، لوگوں سے ملنے جلنے سے گھبراتا ہے ، یادداشت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور اپنے کام سے لا پرواہ ہو جاتا ہے۔ (صفحہ۵۰۵۔۵۰۶)
کالی فاس میں سرد اور مرطوب موسم میں آرام کرنےسے تکلیفوں میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ علامتیں رسٹاکس میں بھی پائی جاتی ہیں۔رسٹاکس میں مریض تکلیف بڑھنے کی وجہ سے کروٹ بدلتا رہتا ہے لیکن کالی فاس میں بیماری کی علامات رات بھر جسم میں اکٹھی ہوتی رہتی ہیں اور صبح اٹھنے پر گویا انسان کے ساتھ ہی بیدار ہوجاتی ہیں اور صبح کا وقت بہت تکلیف میں گزرتا ہےپھر آہستہ آہستہ افاقہ ہونے لگتا ہے۔کالی فاس کا یہ اہم نشان ہےکہ بیماریاں آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں۔رسٹاکس کا مریض جب چلتا ہے تو ابتدائی حرکت میں اس کی تکلیف بڑھ جاتی ہے لیکن کچھ چلنے کے بعد آرام محسوس ہوتا ہے۔کالی فاس کے مریض کو آہستہ حرکت سے آرام ملتا ہے۔رسٹاکس کی طرح کالی فاس میں بھی ہاتھ پاؤں کا سن ہونا اور عضلات کا بے حس ہونا پایا جاتا ہے۔(صفحہ۵۰۶)
اس کے تمام اخراجات بدبودار ہوتے ہیں۔رسٹاکس کے مریض کے اخراجات میں ایسی بو نہیں ہوتی البتہ رس گلابرا(Rhusglabra)کا بدبوسے گہرا تعلق ہے۔بغل گند قسم کی بیماریوں میں کئی اینٹی سورک دوائیں ہیں جن سے علاج کیا جاسکتا ہےلیکن رس گلابرا ۳ پوٹینسی یا 6xاور کالی فاس 6xسے ملا کر دی جائیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔کالی فاس کا بھی بدبو سے گہرا تعلق ہے۔(صفحہ۵۰۶ )
کالی فاس گینگرین کے لیے بھی بہت مفید دوا ہے۔ زخم گل سٹر کر ناسور بن جائیں اور گینگرین کی شکل اختیار کر لیں تو ایلوپیتھی میں عموماً ایسے اعضاء کو کاٹ دیا جا تا ہے اور احتیاطاً اس جگہ سے کاٹتے ہیں جو ماؤف جگہ سے اوپر کی طرف اور صحت مند ہو۔ میں نے بعض ایسے مریضوں پر کالی فاس اور سلیشیا کامیابی سے استعمال کی ہیں۔ اس کے بعد انہیں کسی آپریشن کی ضرورت نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف ایک دفاعی نظام پیدا کیا ہے۔ ان دفاعی خلیوں (Anti Bodies) کے بغیر شفا کا عمل ممکن نہیں ہے۔ اگر کسی بیماری کےغلبہ سے اعصاب اتنے کمزور ہو جائیں کہ رد عمل نہ دکھا سکیں تو خواہ کتنی ہی جراثیم کش ادویات استعمال کی جائیں وہ فائدہ نہیں پہنچائیں گی کیونکہ جسم رو عمل چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ گینگرین میں بھی جسم کا یہ طبعی رو عمل ختم ہو جاتا ہے لیکن کالی فاس اس کے رد عمل کو جگا دیتی ہے اور اعصاب کو مقابلہ کی طاقت بخشتی ہے جس کے نتیجہ میں جسم گینگرین کا مقابلہ شروع کر دیتا ہے۔ اعصاب مضبوط ہو جائیں تو سلیشیا بھی خوب اثر دکھاتی ہے۔ (صفحہ۵۰۶۔۵۰۷)
غدودوں کی سوزش میں بھی کالی فاس بہت مفید ہے۔ بسااوقات گردن کی دونوں اطراف میں غدود پھول جاتے ہیں، یہ تپ دق یا کینسر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے مریضوں کو براہ راست سلیشیا دیں تو بعض اوقات خطرناک نتائج نکلتے ہیں لیکن حسب حالات مریض کو سلیشیا دیتے وقت کئی دوسری دوائیں پہلے یا ساتھ ملا کر دینی پڑتی ہیں۔ انہی دواؤں میں سے ایک کالی فاس ہے جس سے سلیشیا کا رد عمل متوازن ہو جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترکیب اچھا اثر دکھانے والی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سلیشیا دینے سے پہلے کالی فاس دے کر مریض کو صحیح رد عمل کے لیے تیار کر لیا جائے۔ ایسی صورت میں بہتر ہے کہ کالی فاس کی ایک ہزار طاقت کی خوراک دے کر چند دن انتظار کر لیا جائے۔ بعض اوقات اسی سے حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں اور ایک ہی خوراک غدودوں کو چھوٹا کرنے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں سلیشیا دینے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ آٹھ دس دن کے بعد ایک خوراک اور دی جا سکتی ہے۔ جب تک غدود چھوٹے ہوتے جا رہے ہوں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ کالی فاس صرف بیرونی طور پر نظر آنے والے غدودوں میں ہی نہیں بلکہ اندرونی اعضاء اور رحم کے غدودوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر یہ شک ہو کہ یہ گومڑ کینسر کی شکل اختیار کر رہے ہیں تو کالی فاس کو لا ز ماً یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کینسر کے زخموں کو مندمل کرنے میں بھی مدد گار ہوتی ہے۔ (صفحہ۵۰۷)
اگر اعصابی تناؤ اور سخت تھکاوٹ ہو تو کالی فاس اس میں بہت مفید ہے۔ میرے والد مرحوم نے اعصابی کمزوری دور کرنے کے لیے ایک نسخہ بنایا ہوا تھا وہ یاد رکھنا چاہئے۔ کالی فاس 6x کلکیریا فاس ×6 میگ فاس 6x ملا کر دن میں دو تین دفعہ استعمال کریں۔ یہ ہر قسم کی اعصابی کمزوری کو دور کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔(صفحہ۵۰۸)
کالی فاس کے علاوہ چہرے کے اعصابی دردوں میں عموماً فاسفورس، سلیشیا سپائی جیلیا اور میگنیشیا فاس مفید ہوتی ہیں۔ میگ فاس بھی اعصاب سے گہرا تعلق رکھنے والی دوا ہے۔ اگر اعصاب میں بے چینی اور عضلات میں تشنج پیدا ہو جائے تو کالی فاس سے زیادہ میگنیشیا فاس کی طرف دھیان جانا چاہئے۔ لیکن کالی فاس بھی تشنج پیدا کرتی ہے اور ہو میو پیتھک یا بائیو کیمک صورت میں استعمال سے تشنج کو دور کرتی ہے۔ اس کا تشنج زیادہ تر دھڑ کے نچلے حصہ سے تعلق رکھتا ہے۔ عموماً رانوں پنڈلیوں یا پاؤں میں تشنجی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ میگ فاس کا تشنج جسم کے ہر حصہ سے تعلق رکھتا ہے اور بعض دفعہ انتڑیاں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ جراثیم کے ذریعہ پھیلنے والی گردوں کی بیماریوں پربھی کالی فاس اچھا اثر دکھاتی ہے۔ میگ فاس میں زودحسی کے علاوہ بعض اور بھی محرکات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے تشنج ہو سکتا ہے۔(صفحہ۵۰۹۔۵۱۰)
کالی فاس اور آرسنک ایسی دوائیں ہیں جن کے مریض صاف ستھرے اور صفائی پسند ہوتے ہیں لیکن جب بیماری سخت حملہ کرے یا بخار ہو جائے تو مریض کے اخراجات میں سخت بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ بدبو اور بھی بہت سی دواؤں کے مزاج میں ہے۔ اس لیے ہر مریض میں محض اس علامت پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ جو امراض چھوت اور جراثیم وغیرہ سے پیدا ہوتی ہیں ان کے مادے ہمیشہ بد بودار ہوتے ہیں۔ ایسے مریضوں کی شفا میں کالی فاس کو اونچا مقام حاصل ہے۔ 6x میں فیرم فاس اور کالی فاس ملا کر دن میں پانچ چھ دفعہ دی جائے اور اونچی طاقت میں پائیرو جینم 200 اور ٹائیفائیڈ نیم 200 ملا کر دی جائے تو ٹائیفائیڈ کے ہر ایسے مریض کو جس کا قبض کی طرف رجحان ہو یہ نسخہ غیر معمولی فائدہ دیتا ہے۔ کالی فاس کے مریض کو ٹھنڈے اور کھٹے مشروبات پسند ہوتے ہیں۔(صفحہ۵۱۰۔۵۱۱)
بعض دواؤں کی علامتوں میں تکلیف دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں حرکت کرتی ہے۔کالی فاس میں لیکیسس کی طرح بائیں سے دائیں حرکت کا رحجان ہوتا ہے۔کالی فاس میں بیماری بائیں سے دائیں جانب منتقل نہیں ہوتی محض درد کے کوندے بائیں سے دائیں لپکتے ہیں جبکہ لیکیسس میں خود بیماری کے بائیں سے دائیں طرف منتقل ہونے کا رحجان ملتا ہے۔(صفحہ۵۱۱)
دل کی تکلیف انجائنا میں بھی کالی فاس یاد رکھنے کے قابل دوا ہے۔ انجائنا میں اسے میگ فاس سے ملا کر دیا جائے تو بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۵۱۳)
اگر جلدی بیماریاں جسم کے اندر منتقل ہو جائیں تو بسااوقات وہ اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اس میں دفاع کی طاقت نہیں رہتی۔ کالی کارب اور سورائینم کا شمار ایسی دواؤں میں ہے جو ایسے مریض کے جسم کو فوراً گرم کر دیتی ہیں اور بیماری کو جلد پر اچھال دیتی ہیں۔ لیکن کالی فاس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب جسم کے اندر سے شروع ہونے والا مرض مثلاً خسرہ اور کاکڑا لا کڑا وغیرہ اعصابی کمزوری کی وجہ سے جلد پر ظاہر نہ ہو سکے۔ (صفحہ۵۱۳)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۷)(قسط ۱۵۲)




