اداریہ

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا(قسط دوم)

(’’اب اللہ تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک بنا دے‘‘)

(گذشتہ سے پیوستہ) انسان صرف برائی سے متاثر نہیں ہوتا، نیکی بھی اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایک شخص باقاعدگی سے نماز کے لیے مسجد جائے تو گھر کے دوسرے افراد پر اِس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ ایک شخص خدمتِ دین میں آگے بڑھے تو دوسروں میں بھی اِس کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ ایک مجلس میں کسی کی غیبت سن کر اگر کوئی حکمت کے ساتھ موضوع بدل دے تو ماحول بدل سکتا ہے۔ ایک نوجوان حیا، سچائی اور دیانت پر قائم رہے تو ممکن ہے اس کا کردار اس کے دوستوں کے لیے خاموش تبلیغ بن جائے۔ اگرچہ قطرہ دریا کے بہاؤ میں بہتا ہے لیکن قطرہ انفرادی طور پر اپنی کمیت و کیفیت کے مطابق دریا کی مجموعی حالت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اسلامی معاشرے میں فرد کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ کوئی یہ کہہ کر بری الذّمہ نہیں ہوسکتا کہ ماحول ہی ایسا تھا اس لیے میں بھی فلاں برائی میں مبتلا ہو گیا۔ ماحول آخر بناتا کون ہے؟ افراد کا مجموعہ۔قرآن کریم مومنوں کو اِخۡوَۃٌ یعنی بھائی قرار دے کر فرماتا ہے، مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الحجرات:۱۱) یہاں بھی فرد کو محض تماشائی بننے کی اجازت نہیں۔ دو انسانوں میں باہمی مسائل ہیں تو تیسرے کا کام آگ پر تیل ڈالنا نہیں، صلح کرانا ہے۔ گویا اچھا فرد صرف خود پُرسکون نہیں رہتا بلکہ اپنے اردگرد کے معاشرے کو بھی پُرامن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

صحت مند معاشرے میں ہر لحاظ سے کمزور لوگوں کو بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے چاہے کمزوری علمی ہو، مالی ہو یا اخلاقی۔ اگر ایک بھائی تیرنا جانتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ دوسرے کو نہ صرف ڈوبنے سے بچائے بلکہ اسے تیرنا بھی سکھا دے تاکہ وہ آئندہ مشکلات کا خود مقابلہ کر سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مومنوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جب آگے بڑھیں تو اپنے بھائیوں کو بھی بلائیں کہ آؤ اسے حاصل کرو۔ جو کمزور ہیں انہیں کھینچ کر اوپر لائیں۔ یہ کام کہ دوسروں کو کھینچ کر اوپر لانا یہ خود بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنائے گا۔‘‘(خطبہ جمعہ ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۵ء)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی اسی فلسفے کا عظیم عملی نمونہ ہے۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین اپنے گھر، کاروبار اور اموال پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ مدینہ کے انصار نے انہیں محض مہمان نہیں سمجھا بلکہ بھائی بنایا۔ اوس و خزرج کی پرانی دشمنیاں ختم ہوئیں۔ مہاجر اور انصار ایک اسلامی معاشرے کا حصہ بن گئے۔ لیکن اس نوآموز سوسائٹی میں کسی کی انفرادیت ختم نہیں ہوئی۔ آجر ہو یا تاجر، عالم ہو یا کسان سب ہی اپنے شعبہ ہائے زندگی سے وابستگی رکھنے کے ساتھ ساتھ بحیثیت مسلمان معاشرے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے۔

جہاں زیادہ لوگ ہوں گے وہاں اختلافات بھی ضرور پائے جائیں گے لیکن قرآن اجتماعیت پیدا کرنے کے سنہری اصول بیان کرتا ہے۔ ایک طرف مشورہ کرنے کی تلقین کرتا ہے: اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ (الشوریٰ:۳۹) ان کا امر باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے، تو دوسری طرف اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا ہے: اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ‘‘ (الانفال:۴۷) یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم بزدل بن جاؤگے اور تمہارا رعب جاتا رہے گا۔ وَتَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡکہہ کر بتا دیا کہ خواہ لوگوں میں انفرادی طور پر کتنی ہی صلاحیتیں پائی جاتی ہوں، تعداد میں کتنا ہی بڑا جتھہ ہو، کتنے ہی زیادہ وسائل موجود ہوں لیکن اگر اپنے لیڈر، اپنے امام کی ایک آواز پر لبیک کہنے کی عادت نہ ہو تو وہ لوگوں کا ہجوم ہو گا، جماعت نہیں اور رعب جماعت کا ہوتا ہے، ہجوم کا نہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جماعت اور خلیفہ ایک ہی وجود کے دو نام اور ایک ہی چیز کے دو مختلف زاویے ہیں۔(الفضل۱۷؍ اپریل ۱۹۷۶ء)خلافت جماعت احمدیہ کی روح و روؤاں ہے۔ خلافت وہ مرکز و محور ہے جس سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہر فردِ جماعت متوجہ رہتا ہے۔ خلافت ہی جماعت کا لائحہ عمل ترتیب دیتی اور خلافت ہی کی ہدایات جماعت کے رخ کا تعین کرتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء، ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لیے مَیں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔‘‘(الوصیت، روحانی خزائن جلد۲۰)آپؑ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اب اللہ تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک بنا دے۔‘‘ (چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد۲۳)

گویا آپؑ کا مشن پوری دنیا کو امتِ واحدہ بنانا تھا جو تکمیلِ اشاعتِ دین کے ساتھ مکمل ہو گا۔ آپؑ کے وصال کے بعد خلافت احمدیہ اس مشعل کو لے کر آگے بڑھی۔ اور اگر خلافت نے اس مشن میں کامیاب ہونا ہے اور یقیناً ہونا ہے تو جماعت کے ہر فرد کو اپنے آپ کو خلافت کا سچا اطاعت گزار بنانا ہو گا۔ خلافت سے وابستگی کا حسن صرف نعروں میں نہیں بلکہ خلیفۂ وقت کی ہدایات کو اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے میں ہے۔ خلیفۂ وقت اگر نمازوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو ہر احمدی کو دیکھنا ہوگا کہ میری نماز کیسی ہے۔ اگر قرآن پڑھنے کی طرف تلقین فرمائیں تو سوال محض یہ نہیں کہ جماعت مجموعی طور پر قرآن کی کتنی خدمت کرتی ہے یا کتنے تراجمِ قرآن کر چکی ہے، سوال یہ ہے کہ میں کتنا قرآن پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہوں۔ اگر حضور غیبت، جھوٹ، حسد، تکبر، دنیاپرستی یا جھگڑوں سے بچنے کی تلقین فرماتے ہیں تو اصلاح کا آغاز جماعت کے کسی دوسرے فرد سے نہیں، مجھ سے ہوگا۔ جماعت کی اصلاح کے منصوبے بناتے ہوئے ہمیں اپنی ذات کو نظروں سے اوجھل نہیں رکھنا۔

اگر ہر شخص سچ بولنے کا فیصلہ کرلے تو معاشرے سے جھوٹ ناپید ہو جائے گا۔ اگر ہر شخص دوسرے کی عزت کی حفاظت کرے گا تو غیبت ختم ہو جائے گی۔ اگر ہر مرد و زَن نظر کی آوارگی سے بچے گا تو بے حیائی دم توڑ دے گی۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت کسی کمزور کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دے گا تو معاشی استحصال کم ہوتا چلا جائے گا۔ اگر میاں بیوی اپنے حقوق سے پہلے فرائض کا خیال رکھیں، والدین اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اولاد ادب و تمیز کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں تو گھریلو ناچاقیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ اگر ہم خلیفۂ وقت کی نصائح سب سے پہلے اپنے اوپر لاگو کرنے کی نیت کر لیں تو معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں دنیا میں ایک امت اور ایک جماعت بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے مگر خدا کے سامنے ہمیں فرد کی حیثیت سے کھڑا کرتا ہے۔ شاید اسی میں صحت مند معاشرے کے قیام کا راز ہے کہ ہر مسلمان بحیثیت امت اپنے فرائض کا ذمہ دار جبکہ خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔

آج جماعت احمدیہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ قرآن کریم، اسوۂ رسول کریمﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات ہمارے پاس ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں خلافت کی صورت میں ہر وقت راہنمائی میسر ہے۔

ایک ساقی ہے کہ اُس کی آنکھ ہے میخانہ خیز

دم بہ دم اک تازہ دم الہام پیمانے کا نام

دنیا کے مختلف کناروں پر بسنے والے احمدی زبان، قوم، رنگ، لباس اور ثقافت میں مختلف ہوسکتے ہیں مگر ان کا مقصد ایک ہے۔ خلیفہ کسی ایک ملک، نسل یا طبقے کا نہیں بلکہ اس درختِ وجود کا مرکز ہے۔مگر خلافت کا حق بھی اسی وقت ادا ہوگا جب دریا کا ہر قطرہ مرکز سے آنے والی روشنی کو اپنے اندر جذب کرے۔ ہمارے لیے صرف یہ فخر کافی نہیں کہ خلیفۂ وقت کی جماعت ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم خلیفۂ وقت کی بات کتنی سنتے ہیں؟ کتنی سمجھتے ہیں؟ اور کس قدر اسے اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں؟

معاشرے کی اصلاح کا آغاز ’’لوگوں‘‘ سے نہیں، ’’مجھ‘‘ سے ہونا چاہیے۔ جماعت کی مضبوطی کا آغاز ’’دوسروں‘‘ کے اطاعت کرنے سے نہیں، ’’میرے‘‘ اطاعت کرنے سے ہونا چاہیے۔ خلافت سے محبت کا ثبوت کسی دوسرے کے رویّے میں نہیں، میرے اپنے کردار میں ظاہر ہونا چاہیے۔ اور دنیا کو خدا کی طرف بلانے سے پہلے اس خدا کی طرف میرے اپنے قدم بڑھنے چاہئیں۔تب قطرہ اگر دریا میں اترے گا تو گم نہیں ہوگا، بلکہ دریا میں ایک صحت مند اور عمدہ اضافہ ہوگا۔اس کی انفرادی توانائی ختم نہیں ہوگی بلکہ لاکھوں پاکیزہ قطروں کی قوت کے ساتھ مل کر نیکیوں کا سیلاب دنیا میں لے آئے گی۔

ایسے معاشرے میں فرد کو بھی صحت مند ماحول ملتا ہے اور جماعت بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے، نیکی محض انفرادی سطح تک نہیں رہتی بلکہ اجتماعی رنگ اختیار کر جاتی ہے۔ اور اگر ہر چڑھتے دن ہر فرد اپنا قدم بھلے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو عملی اصلاح کی طرف اٹھانا شروع کر دے تو یہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی انفرادی اصلاح کرتے ہوئے حقیقی اجتماعیت پیدا کرنے، حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنے، باہم محبت و اخوت میں بڑھنے اور خلافت سے کامل اطاعت و وفا کا تعلق قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم میں سے ہر فرد اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اس عظیم مقصد میں اپنا حصہ ڈال سکے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ’’دینِ واحد پر جمع‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ آمین۔

مزید پڑھیں: عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا(قسط اول)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button