صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۷)(قسط ۱۵۲)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

آئرس ٹینکس
Iris tenax

آئرس ٹینکس ایک پودے سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔ ۱۸۸۵ء میں ڈاکٹر جارج وگ نے اس دوا کی آزمائش کی اور اسے ایسے مریضوں پر استعمال کیا جنہیں آنتوں میں شدید درد اور سبز رنگ کی قے آنے کی شکایت تھی۔ آئرس ٹینکس آئرس ور سیکولر (Iris Versicolor) سے ملتی جلتی دوا ہے لیکن دونوں میں فرق بھی ہے اور دونوں کی اپنی اپنی الگ خصوصیات بھی ہیں۔ آئرس ور سیکولر معدے کی کھٹاس اور تیزابیت کی بہترین دوا ہے جبکہ آئرس ٹینکس میں معدے کی کھٹاس تو پائی جاتی ہے لیکن اس تکلیف کے ساتھ گلے اور منہ میں بھی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ آئرس ٹینکس اپنڈے سائٹس (Appendicitis ) کی بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔ لہذا اس کے فوائد کو محض اسی تکلیف تک محدود کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ روز مرہ کی عام تکلیفوں میں بھی ایک کار آمد دوا ہے۔ (صفحہ۴۷۹)

آئرس ٹینکس میں اسہال بھی ہوتے ہیں۔ پیٹ کے نچلے حصہ میں درد اور تشنج ہو تا ہے۔ چونکہ اس دوا کا دائیں طرف سے نسبتا زیادہ تعلق ہے اس لیے یہ اپنڈیکس کے لیے بھی بہترین دوا ہے۔(صفحہ۴۸۰)

آئرس ٹینکس میں دردیں دائیں طرف سے شروع ہو کر سارے پیٹ میں پھیل جاتی ہیں۔ شدید قے کی طرف رجحان ہو تا ہے۔(صفحہ۴۸۱)

آئرس ٹینکس کے مریض کو نیند نہیں آتی۔ صبح دردوں میں کمی کے باوجود کمزوری کی وجہ سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔(صفحہ۴۸۱)

آئرس ورسیکولر
Iris versicolor

اس کی تکلیفیں رات کو آرام کرتے ہوئے بڑھ جاتی ہیں۔حرکت کرنے سےکم ہوتی ہیں۔نکس وامیکا ا سکی مصلح دوا ہے۔(صفحہ۴۸۴ )

کالی بائیکروم
Kali bichromicum
(Bichromate of Potash)

کالی بائیکروم کا ہوا کی نالی اور ناک کی بلغمی جھلیوں سے گہرا تعلق ہے اس میں کالی کارب کالی آیو ڈائیڈ اور کالی سلف کے ساتھ یہ بات مشترک ہے کہ بیماری اور درد کا احساس جسم کے بعض حصوں میں محدود دائروں میں ملتا ہے۔ بعض دفعہ اتنی تھوڑی سی جگہ میں بیماری سمٹ جاتی ہے کہ وہ جگہ ایک انگوٹھے کے نیچے آ سکتی ہے۔ نزلہ بھی ناک کے اندر کسی معین جگہ درد کے احساس سے شروع ہوتا ہے۔ اور اس کا آغاز عموماً بائیں طرف سے ہوتا ہے۔ اس دوا کی یہ دونوں علامتیں قطعی طور پر مجرب اور بہت نمایاں ہیں۔ مجھے بھی کسی زمانہ میں سردرد کسی خاص جگہ مثلاً کنپٹی کے ایک نقطہ پر زیادہ شدت سے محسوس ہو تا تھا اور انگوٹھے سے دبانے سے آرام آتا تھا۔ اسی طرح نزلہ بھی بائیں نتھنے میں ایک چھوٹے سے مقام پر درد کے احساس سے شروع ہوتا تھا۔ ان دونوں تکلیفوں کو کالی بائیکروم کے استعمال سے آرام آگیا۔ (صفحہ۴۸۵)

کالی کا رب میں درد اور بیماری کے مقامات نسبتاً بڑے دائروں میں پائے جاتے ہیں۔ کالی بائیکروم میں دھڑکنیں بہت ہوتی ہیں۔ سر سے پاؤں تک ہر جگہ دھڑکنے کی علامت ملتی ہے۔ تکیہ پر جس کروٹ سر رکھیں وہیں دھڑکن محسوس ہوتی ہے اور نیند نہیں آتی۔ یہ پوٹاشیم کے نمکیات کی خاص نشانی ہے کہ سارے جسم میں دھڑکنیں پائی جاتی ہیں مگر کالی با ئیکروم کی یہ علامت بہت نمایاں ہے۔ ہڈیوں میں ایسے درد کا احساس ہونے لگتا ہے جیسے رگڑ لگ گئی ہو اور مارا پیٹا گیا ہو۔ یوپٹیوریم (Eupatorium) میں جسم کی ساری ہڈیاں اندر تک دکھتی ہیں مگر کالی بائیکروم میں ہڈیوں کی صرف سطح پر دکھن اور رگڑ کا احساس ہو تا ہے۔(صفحہ۴۸۵-۴۸۶)

کالی با ئیکروم میں نزلاتی تکلیفیں جوڑوں کی اعصابی تکالیف سے ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔ مگر بائی کے ان دردوں کا بہت احتیاط سے علاج کرنا چاہئے۔ اگر کسی تیز دوا سے ٹھیک کر دی جائیں تو فائدہ کی بجائے نقصان ہو جا تا ہے اور زیادہ خطرناک بیماری گھیر لیتی ہے۔ کالی بائیکر دم بھی بائی کی دردوں کی دوا ہے۔ یہ ان مریضوں پر استعمال کرنی چاہئے جن کے جسمانی درد ٹھیک ہوتے ہیں تو نزلاتی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں اور نزلے کو کسی وقتی اور فوری دوا سے آرام دیں جو مرض کی اصل دوا نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں بائی کی دردیں دوبارہ اٹھ کھڑی ہوں گی۔ جہاں بھی یہ ادل بدل پایا جائے وہاں کالی بائیکروم کو یاد رکھیں۔(صفحہ۴۸۶)

کالی بائیکروم خناق (Diphtheria- ڈ فتھریا) کی بھی اچھی دوا ہے مگر میور یٹک ایسڈ (Muriatic Acid) کا مقابلہ نہیں جو خناق کی اولین دوا ہے اور انتہائی کمزوری کو بھی دور کرتی ہے۔ عموماً پوٹاشیم کے سب نمکیات میں کمزوری کا بہت احساس پایا جا تا ہے مثلا ًکالی فاس اعصابی طاقت کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اسی طرح کالی کا رب کے بالمثل استعمال سے بدن اور عضلات میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔ ٹانگیں ہلکی ہو جاتی ہیں اور اٹھنے بیٹھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ کالی بائیکروم بھی یہی مزاج رکھتی ہے۔ اگر مریض کالی بائیکروم کا ہو تو دوا کھاتے ہی جسم ہلکا پھلکا ہو جائے گا۔(صفحہ۴۸۶)

پوٹاشیم کے تمام نمکیات عضلات اور اعصاب کے لیے مقوّی (Tonic) کے طور پر مفید ہیں۔ ان سب نمکیات میں زخم بننے کا رجحان پایا جا تا ہے۔ معدہ میں تیزابیت زیادہ ہو جائے تو زخم بننے لگتے ہیں۔ انتڑیوں میں یا کہیں اور زخم یا ناسور پائے جائیں تو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مریض کی علامات کسی پوٹاشیم کے نمک سے تو نہیں ملتیں۔ ایک مریض کے پاؤں پر بہت گہرا اور پرانا ناسور تھا۔ اسے میں نے کالی آیوڈ ئیڈ دی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ ناسور غائب ہو گیا۔ اس سے پہلے وہ بہترین فوجی ہسپتالوں میں داخل ہو کر علاج کروا چکا تھا۔ میں نے محض اس لیے یہ دوا تجویز کی تھی کہ اس کی باقی علامات پوٹاشیم سے ملتی تھیں۔(صفحہ۴۸۶)

کالی بائیکروم میں بیلا ڈونا سے مشابہ ایک خصوصیت پائی جاتی ہے۔وہ یہ کہ بیلا ڈونا میں بیماری کی علامتیں تیزی سے پیدا ہوتی ہیں اور تیزی سےختم ہوجاتی ہیں۔کالی بائیکروم کی بیماریوں میں بھی تیزی سے علامتیں پیدا ہوتی ہیں اور تیزی سے ہی ختم ہوجاتی ہیں۔(صفحہ۴۸۷ )

تعفن کے بخار میں بھی کالی بائیکروم کافی مفید دوا ہے۔ جسم ٹھنڈا ہونے سے کی وجہ سے مریض بستر میں لحاف اوڑھ کر لیٹنے سے آرام محسوس کرتا ہے۔رات کے پچھلے پہر مرض میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔جس وقت کوئی مرض بڑھے ،اگلے روز بھی اسی وقت اس میں جوش پیدا ہوگا۔(صفحہ۴۸۷)

کالی بائیکروم مرگی کے مرض کو دور کرنے میں بھی شہرت رکھتی ہے۔اگر مرگی کے مریض کے منہ سے دھاگے دار تھوک نکلےتو یہ کالی بائیکروم کی علامت ہے۔(صفحہ۴۸۷ )

کالی بائیکروم میں اکثر درد بائیں طرف ہوتے ہیں لیکن دائیں طرف بھی ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تر سردرد اور چہرے کا اعصابی درد بائیں طرف ہی رہتا ہے۔ سردرد کے ساتھ متلی بھی ہوتی ہے۔ چند دنوں کے وقفہ سے درد عود کر آتا ہے۔ یہ درد شقیقہ کے لیے بھی اچھی دوا ہے۔(صفحہ۴۸۸)

کالی بائیکر دم میں میزیریم کی ایک اور علامت بھی پائی جاتی ہے کہ اگر ناک کی علامات ٹھیک ہو جائیں تو ایگزیما ہو جاتا ہے ، ایگزیما ٹھیک ہو تو نزلہ شروع ہو جا تا ہے۔ کالی بائیکروم میں ناک کے اندر گہرائی میں ایک خاص مقام ہوتا ہے جہاں سے نزلہ شروع ہو تا ہے۔ گلے اور ناک کے جوڑ کے پاس جراثیم کی کمین گاہ بن جاتی ہے اور پھر ناک اور گلے سے اچانک ناقابل برداشت بدبو کے بھبھکے اٹھتے ہیں۔ ان علامات میں کالی با ئیکر وم اور میزیریم مشترک ہیں لیکن میزیریم کا دائرہ اثر محدود ہے۔ وہ اسی حصہ میں رہتی ہے لیکن کالی بائیکروم تمام جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ میزیریم کے ساتھ گرمی اور سردی کی علامات نہیں ہوتیں۔(صفحہ۴۸۸)

کالی بائیکروم میں السر بننے کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ گلے کے غدود پھول جائیں تو درد کے علاوہ اتنے متورم ہو جاتے ہیں کہ گلے کے باہر گردن پر بھی ورم نمایاں ہو جاتی ہے اور سرخی بھی پائی جاتی ہے۔ (صفحہ۴۹۰)

کالی بائیکروم کی بائی کی درد یں بعض دفعہ نزلے کی بجائے پیچش سے ادلتی بدلتی ہیں اور پیچش لگنے پر مریض کا بدن ہلکا ہو جا تا ہے۔ حاجت سے پہلے اور رفع حاجت کے دوران درد ہوتا ہے اور فراغت کے بعد بھی بل پڑتا ہے کانچ بھی باہر نکل آتی ہے۔(صفحہ۴۹۲)

کالی با ئیکروم کی نزلاتی تکلیفیں سردیوں کے نمدار موسم میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ گرمیوں میں برسات کے موسم میں اسہال لگ جاتے ہیں۔ بستر میں لیٹ کر آرام محسوس ہو تا ہے۔(صفحہ۴۹۳)

کالی بائیکروم میں کالی کا رب اور اپی کاک کی طرح پیٹھ میں سردی کا احساس ہوتا ہے۔ البتہ کالی کا رب میں سردی کا یہ احساس پیٹھ کے نچلے حصہ تک محدود رہتا ہے جبکہ کالی بائیکروم میں اپی کاک کی طرح گردن تک سردی کی لہریں جاتی ہیں۔ بائی کی درد یں حرکت سے بڑھ جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ برائیو نیا سے مشابہ ہے۔ صبح کے وقت درد میں شدت ہوتی ہے جو اٹھ کر چلنے پھرنے سے آہستہ آہستہ بکھرنے لگتی ہے۔ رات آرام کرنے سے فائدہ ہوتا ہے مگر صبح تک دردیں ایک مقام پر سمٹ جاتی ہیں جو اٹھ کر چلنےپھرنے سے منتشر ہو جاتی ہیں۔ (صفحہ۴۹۳)

کالی میور

Kali mur

(Chloride of potassium)

بائی کے بخار اور رات کو بڑھنے والے دردوں میں مفید ہے۔یہ درد بستر میں لیٹنے کےبعد بڑھتے ہیں اور بجلی کے کوندوں کی طرح جسم میں حرکت کرتے ہیں۔(صفحہ۵۰۴)

کالی میور کی تکلیفیں ثقیل اور مرغن غذائیں کھانے سے بڑھ جاتی ہیں اور حرکت کرنےسے بھی تکلیف بڑھتی ہے۔(صفحہ۵۰۴ )

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۶)(قسط ۱۵۱)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button