بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۵)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… جماعت کے قرآن کریم میں بِسۡمِ اللّٰہ کو آیت شمار کیا جاتا ہے لیکن نماز میں امام اسے پڑھتےنہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

٭… بِسۡمِ اللّٰہ سورت کا حصہ ہے، لیکن غیر احمدی اسے سورت کا حصہ نہیں مانتے۔ ہم اپنے قرآن میں بِسۡمِ اللّٰہ کو پہلی آیت کہتے ہیں لیکن غیر احمدی نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟

٭… فقہ کی ایک کتاب نظر سے گزری جس میں ہے کہ ظہر عصر کی نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی صورت میں سنتوں کی ادائیگی لازمی ہے۔ اسی طرح اگر سفر میں جمعہ آجائے اور اس کے ساتھ عصر جمع کرنی ہو تو سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ بھی لکھا ہے کہ جتنی بھی مجبوری ہو جمعہ کے ساتھ عصر جمع نہیں کی جا سکتی۔ اس کا کیا جواب ہے؟

٭… قرآن کریم کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کا مسئلہ پڑھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو مخلوق کے درجہ سے اوپر ہے۔ لیکن کیا اس سے خداتعالیٰ کی توحید میں فرق نہیں آ جاتا؟ حضور کی خدمت میں سوال ہے کہ کیا ہم قرآن کریم کو مخلوق مانتے ہیں یا غیر مخلوق؟

٭… ۱۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے محفوظ رکھا گیا، پھر اس کی مختلف قراءتیں کیسے ہو سکتی ہیں۔ جبکہ الفاظ کی ہلکی سی تبدیلی سے معانی بدل جاتے ہیں؟ ۲۔ والدین کے ساتھ تعلقات میں مشکلات ہیں، جب والدین بچہ سے بُرا سلوک کریں تو بچہ کا والدین کے ساتھ کیسا رویہ ہونا چاہیے؟ ۳۔ غصہ اور مایوسی کے خیالات سے نمٹنے کے لیے راہنمائی کی درخواست ہے۔

٭… سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کی سنت نہیں تھی۔ حضورﷺ نے سوموار کا روزہ صرف اس لیے رکھا تھا کہ ان کی پیدائش سوموار کے دن ہوئی تھی۔ لہٰذا ہم صرف اپنی سالگرہ کے دن نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں ہماری جماعت کا کیا موقف ہے؟

سوال: انڈونیشیا سے ایک خاتون نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ جماعت کے قرآن کریم میں بِسۡمِ اللّٰہ کو آیت شمار کیا جاتا ہے لیکن نماز میں امام اسے پڑھتےنہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۶؍جون ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: احادیث نبویہﷺمیں یہ بات بڑی وضاحت سے موجود ہے کہ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ باقاعدہ ایک آیت ہے اور قرآن کریم کی ہر اس سورت کا حصہ ہے جس کے شروع میں یہ نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب حجۃ من قال البسملۃ آیۃ من اوّل کل سورۃ۔ سنن ابی داؤد کتا ب الصلاۃ باب من جھر بسم اللہ۔ سنن دار قطنی جلد اوّل باب وجوب قراءۃ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم فی الصلاۃ) اس لیے جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے قرآن کریم کے تمام نسخوں میں بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کو باقاعدہ آیت شمار کیا جاتا ہے اور ہراس سورت کا اسے حصہ قرار دیا جاتا ہے،جس کے شروع میں یہ نازل ہوئی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

باقی جہاں تک نماز میں سورۃ الفاتحہ یا کسی دوسری سورت سے پہلے بِسۡمِ اللّٰہ پڑھنے کی بات ہے تو نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ یا کسی بھی دوسری سورت سے پہلے ہم بِسۡمِ اللّٰہ پڑھتے ہیں۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ اسے اونچی آواز سے نہیں پڑھا جاتا بلکہ آہستہ آواز سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ احادیث کی مستند کتب سے ایسا ہی ثابت ہے کہ حضورﷺنمازوں میں بِسۡمِ اللّٰہ کو سورۃ الفاتحہ اور دوسری سورتوں سے پہلے آہستہ آواز میں ہی پڑھتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ، حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ جب بھی نماز شروع کرتے تو اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ سے شروع کرتے۔ (بخاری کتاب الاذان باب مایقول بعد التکبیر۔ شرح بخاری جلد ۲ صفحہ ۱۴۴)

اسی طرح ایک اَور روایت میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ میں نے کبھی بھی ان سے بلند آواز سے (سورت سے پہلے) بِسۡمِ اللّٰہ نہیں سنی۔ (سنن نسائی کتاب الافتتاح باب ترک الجہر بسم اللہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی طریق تھا کہ بِسۡمِ اللّٰہ جہراً نہیں پڑھتے تھے۔ خلفائے احمدیت نے بھی اسی طریق کو جاری رکھا اور بِسۡمِ اللّٰہ جہراً نہیں پڑھی۔ جماعتی یکجہتی کا تقاضا یہی ہے کہ نماز با جماعت میں امام الصلوٰۃ وہی طریق اختیار کرے جو آنحضرتﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء سے ثابت ہے۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی نماز میں بِسۡمِ اللّٰہ جہراً پڑھے تو ہم اسے غلط نہیں سمجھتے کیونکہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضورﷺنے بعض وقت اسے جہراً بھی پڑھا ہے۔ (سنن نسائی کتاب صفۃ الصلاۃ باب قراء ۃ بسم اللّٰہ)

سوال: پاکستان سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ بِسۡمِ اللّٰہ سورت کا حصہ ہے، لیکن غیر احمدی اسے سورت کا حصہ نہیں مانتے۔ ہم اپنے قرآن میں بِسۡمِ اللّٰہ کو پہلی آیت کہتے ہیں لیکن غیر احمدی نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۹؍جون ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: احادیث نبویہﷺمیں یہ بات بڑی وضاحت سے موجود ہے کہ بِسۡمِ اللّٰہ باقاعدہ ایک آیت ہے اور قرآن کریم کی ہر اس سورت کا حصہ ہے جس کے شروع میں یہ نازل ہوئی۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز حضورﷺہمارے درمیان رونق افروز تھے کہ آپؐ پر غنودگی طاری ہوئی۔ پھر آپؐ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺآپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ نے بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ کی تلاوت فرمائی۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب حجۃ من قال البسملۃ آیۃ من اوّل کل سورۃ) اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ ایک سورت کو دوسری سورت سے جدا نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ آپ پر ’’ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ‘‘ نازل ہوتی۔ (سنن ابی داؤد کتا ب الصلاۃ باب من جھر بسم اللّٰہ)

پس اس وجہ سے جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے قرآن کریم کے تمام نسخوں میں بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِکو باقاعدہ آیت شمار کیا جاتا ہے اور ہراس سورت کا اسے حصہ قرار دیا جاتا ہے،جس کے شروع میں یہ نازل ہوئی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

باقی اگر غیر احمدی بِسۡمِ اللّٰہ کو سورت کا حصہ نہیں مانتے تو اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں کہ وہ اسے سورت کا حصہ کیوں نہیں مانتے۔ ہم تو آنحضورﷺکے ارشادات کی تعمیل میں بِسۡمِ اللّٰہ کو سورت کا حصہ مانتے اور سورت کی آیت شمار کرتے ہیں۔

سوال: نائیجیریا سے ایک دوست نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ فقہ کی ایک کتاب نظر سے گزری جس میں ہے کہ ظہر عصر کی نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی صورت میں سنتوں کی ادائیگی لازمی ہے۔ اسی طرح اگر سفر میں جمعہ آجائے اور اس کے ساتھ عصر جمع کرنی ہو تو سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ بھی لکھا ہے کہ جتنی بھی مجبوری ہو جمعہ کے ساتھ عصر جمع نہیں کی جا سکتی۔ اس کا کیا جواب ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان امور کے بارہ میں میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: یہ تینوں باتیں درست نہیں ہیں۔ چنانچہ حضورﷺنے ظہر و عصر کو بھی اور مغرب و عشاء کو بھی جمع کر کے ادا فرمایا اور اس صورت میں آپ نے سنتیں ادا نہیں فرمائیں۔ (بخاری کتاب الحج بَابُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَطَوَّعْ۔ شرح بخاری جلد۳ صفحہ ۳۵۴۔ ابن ماجہ کتاب المواقیت بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ)

اور جمعہ سے پہلے جو سنتیں ادا کی جاتی ہیں وہ دراصل جمعہ کے ساتھ مخصوص ہیں اور جمعہ کے نوافل ہیں، جنہیں ہم سفر میں بھی ادا کرتے ہیں اور جمعہ اور عصر کی نماز کے جمع کی صورت میں بھی ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں: جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں یہ اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی، پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔ یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی۔ لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے۔ میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں۔ یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریمﷺجمعہ کی نماز سے قبل جو سنتیں پڑھا کرتے تھے، میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ نماز ظہر کی پہلی سنتوں سے مختلف ہیں۔ ان کو دراصل رسول کریمﷺنے جمعہ کے اعزازمیں قائم فرمایا ہے۔ (روزنامہ الفضل قادیان دارالامان نمبر ۲۱ جلد ۳۰ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۴۲ء صفحہ۱)

حضورؓ مزید فرماتے ہیں: میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو سفر کے موقعہ پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی۔ اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تومیں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔ (روزنامہ الفضل قادیان دارالامان نمبر۲۱ جلد۳۰ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۴۲ء صفحہ۱)

جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کرنے کے بارے میں اگرچہ علماء و فقہاء میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن بعض علماء اس کے جواز کے قائل ہیں۔ چنانچہ امام نووی لکھتے ہیں کہ جمعہ اور عصر کو بارش کی وجہ سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ (کتاب المجموع شرح المہذب للشیرازی جلد ۴ صفحہ ۲۶۲۔ مکتبۃ الارشاد۔ جدہ)

ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ بوقت ضرورت و مجبوری نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز کو جمع کیا جا سکتاہے۔ اس میں کسی ہرج کی بات نہیں۔

سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ قرآن کریم کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کا مسئلہ پڑھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو مخلوق کے درجہ سے اوپر ہے۔ لیکن کیا اس سے خداتعالیٰ کی توحید میں فرق نہیں آ جاتا؟ حضور کی خدمت میں سوال ہے کہ کیا ہم قرآن کریم کو مخلوق مانتے ہیں یا غیر مخلوق؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۷؍جولائی ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کے متعلق درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: ہم قرآن کریم کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کی بحث میں نہیں پڑتے۔ ہم قرآن کریم کو خداتعالیٰ کا کلام مانتے ہیں اور کلام، کلام کرنے والی ہستی کی صفت ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ازلی و ابدی ہیں۔ پس قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کی صفت خلق کی بجائے صفت امر کے نتیجہ میں ظہور میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات خلق اور امر کے بارہ میں فرماتا ہے: اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ (الاعراف:۵۵) یعنی سنو،پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور قانون بنانا بھی (اسی کا کام ہے)۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: جو چیز علل اور اسباب سے پیدا ہو تی ہے وہ خَلق ہے اور جو محض کُنْ سے ہو وہ اَمر ہے۔ چنا نچہ فر ما یا ہے: اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ (یٰسین:۸۳) عالم اَمر میں کبھی تو قف نہیں ہوتا۔ خلق سلسلہ علل ومعلول کا محتاج ہے۔ جیسے انسان کے بچہ پیدا ہونے کیلئے نطفہ ہو پھر دوسرے مراتب اور طبعی اور طبابت کے قواعد کے نیچے ہو تا ہے مگر اَمر میں یہ نہیں ہو تا ہے۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۷۵۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: خلق اور امر میں ایک لطیف فرق ہے۔ خلق تو خدا کے اس فعل سے مراد ہے کہ جب خدائے تعالیٰ عالم کی کسی چیز کو بتوسط اسباب پیدا کرکے بوجہ علت العلل ہونے کے اپنی طرف اس کو منسوب کرے۔ اور امر وہ ہے جو بلاتوسط اسباب خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہو اور کسی سبب کی اس سے آمیزش نہ ہو۔ پس کلام الٰہی جو اس قادر مطلق کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ اس کا نزول عالم امر سے ہے نہ عالم خلق سے اور دوسرے جو جو خیالات انسانوں کے دلوں میں بوقت نظر اور فکر اٹھا کرتے ہیں۔ وہ بتمامہا عالم خلق سے ہیں کہ جن میں قُدرتِ الٰہیہ زیر پردۂ اسباب و قویٰ مُتصرفّ ہوتی ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۳۵ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱)

سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے محفوظ رکھا گیا، پھر اس کی مختلف قراءتیں کیسے ہو سکتی ہیں۔ جبکہ الفاظ کی ہلکی سی تبدیلی سے معانی بدل جاتے ہیں؟۲۔ والدین کے ساتھ تعلقات میں مشکلات ہیں، جب والدین بچے سے بُرا سلوک کریں تو بچے کا والدین کے ساتھ کیسا رویہ ہونا چاہیے؟۳۔ غصہ اور مایوسی کے خیالات سے نمٹنے کے لیے راہنمائی کی درخواست ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی سات قراءتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے قرآن کریم کے مطالب اور معانی میں کوئی تبدیلی آتی ہے، بلکہ ان قراءتوں کا تعلق صرف تلفّظ کے ساتھ ہے، معانی کے ساتھ ہرگز نہیں۔ بسااوقات ایک ہی لفظ کو ایک علاقہ میں اَور طرح سے بولا جاتا ہے اور دوسرے علاقہ میں اس لفظ کو اَور طرح سے بولتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس لفظ کا مفہوم تبدیل ہو گیا ہے۔ حضورﷺکے عہد مبارک میں چونکہ عرب کی آبادی کم تھی، قبائل ایک دوسرے سے دور دور آباد تھے اس لیے ان کے لہجوں اور تلفّظ میں بہت فرق ہوتا تھا۔ زبان ایک ہی تھی مگر بعض الفاظ کا تلفّظ مختلف ہوتا تھا اور بعض دفعہ ایک معنی کے لیے ایک قبیلہ میں ایک لفظ بولا جاتا تھا اور دوسرے قبیلہ میں دوسرا لفظ بولا جاتا تھا۔ ان حالات میں رسول کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اجازت عطا فرمائی کہ فلاں فلاں الفاظ جو مختلف قبائل کے لوگوں کی زبان پر نہیں چڑھتے، ان کی جگہ فلاں فلاں الفاظ وہ استعمال کر لیا کریں۔ چنانچہ جب تک عرب ایک قوم کی صورت اختیار نہیں کر گیا اس وقت تک یہی طریق ان میں رائج رہا۔ لیکن جب سب لوگ حجازی زبان سے پوری طرح آشنا ہو گئے تو حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کی اصل قراءت جو حجازی قراءت تھی اس کے سوا باقی تمام قرأتوں سے مسلمانوں کو منع فرما دیا اور عربوں اور عجمیوں کو ایک ہی قراءت پر جمع کرنے کے لیے ایسے نسخوں کو جاری فرمایا جو حجازی اور ابتدائی قراءت کے مطابق تھے۔

پس قرآن کریم کی مختلف قراءتوں سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کے ذریعہ قرآن کریم میں کوئی تحریف ہو گئی ہے، قراءتوں کی یہ اجازت ایک تو صرف وقتی طور پر تھی اور اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھی اور صرف تلفّظ کی حد تک تھی، ان سے قرآن کریم کے معانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اور پھر جب ان مختلف قراءتوں کا مقصد پورا ہو گیا تو حضرت عثمانؓ نے تمام امت مسلمہ کو صرف ایک قراءت پر جمع کر دیا جو ابتدائی اور اصلی قراءت تھی۔

قرآن کریم کی مختلف قراءتوں کے مضمون کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ الفرقان اور سورۃ اللیل کی تفاسیر(تفسیر کبیر جلد ۹ اور جلد۱۳ مطبوعہ ۲۰۲۳ء یوکے) میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، وہاں سے آپ یہ تفصیل پڑھ سکتی ہیں۔

۲۔ والدین کے سلوک کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کی عزت و احترام کا حکم دیا ہے، اور انہیں اُف تک کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (بنی اسرائیل:۲۵،۲۴) سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا حکم دیں تو صرف اس بارے میں ان کی اطاعت سے منع فرمایا ہے۔ (العنکبوت:۹۔ لقمان:۱۶) اس لیے آپ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے والدین کا دل بدل دے اور وہ آپ سے اچھا سلوک کرنے لگ جائیں۔

۳۔ غصہ اور مایوسی کے خیالات آنے کے وقت زیادہ سے زیادہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھا کریں، کثرت سے استغفار کیا کریں اور بہت درود شریف پڑھا کریں۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کی سنت نہیں تھی۔ حضورﷺ نے سوموار کا روزہ صرف اس لیے رکھا تھا کہ ان کی پیدائش سوموار کے دن ہوئی تھی۔ لہٰذا ہم صرف اپنی سالگرہ کے دن نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں ہماری جماعت کا کیا موقف ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۷؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: یہ بات درست نہیں ہے کہ حضورﷺجمعرات کو نفلی روزہ نہیں رکھتے تھے اور صرف سوموار کو روزہ رکھتے تھے اور وہ بھی اس لیے کہ یہ آپ کی پیدائش کا دن تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سوموار اور جمعرات کو نفلی روزہ رکھنا حضور ﷺ کی عمومی سنت تھی۔ (سنن نسائی کتاب الصیام باب صَوْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذٰلِكَ) نیزسوموار اور جمعرات کو حضورﷺکے نفلی روزہ رکھنے کی مختلف وجوہات احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضورﷺنے فرمایا کہ سوموار اور جمعرات کے دن انسانوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور مَیں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال ایسی حالت میں پیش ہوں کہ مَیں روزہ سے ہوں۔ (سنن ترمذی کتاب الصوم بَاب مَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمِ الِْاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ) اسی طرح ایک اَور حدیث میں حضورﷺنے فرمایا کہ سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ (سنن ترمذی کتاب البر و الصلۃ بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُتَهَاجِرَيْنِ) پھر ایک اَور حدیث میں ہے کہ سوموار کے روزہ کی بابت حضورﷺسے پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس روز میں پیدا ہوا تھا اور اسی روز مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام بَاب اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِْاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ)

پس احادیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺسوموار اور جمعرات دونوں دن نفلی روزہ رکھا کرتے تھے، بلکہ ان دنوں کے علاوہ آپ بہت سے اَور نفلی روزے بھی رکھاکرتے تھے۔

ہاں آپ اگر اپنی پیدائش کے دن روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو ضرور رکھیں۔ بلکہ ساتھ نوافل بھی ادا کریں اور صدقہ بھی دیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ اور جو باتیں نیکی کی تحریکات پر مبنی ہوں انہیں ماننے اور کرنے میں کوئی ہرج کی بات نہیں ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button