اداریہ

اداریہ: یہ جلسہ ہمارا یہ دن برکتوں کے

(حضورِانور کا ہر خطاب ایک بحرِعرفان ہوتا ہے لیکن اگر ہم سب خلیفۂ وقت کے ہر خطاب سے کوئی ایک نصیحت لے کر اُس پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے لگ جائیں تو آہستہ آہستہ ہماری کایا پلٹ جائے)

کبھی کبھی ایک چھوٹا سا واقعہ آنے والی کئی دہائیوں کی داستان کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۵ء کا سرد دن تھا، ہمبرگ کی مسجد فضل عمر کے باہر برف باری ہو رہی تھی اور اندر قریباً ستر، پچھتر افراد جلسہ سالانہ میں شریک تھے۔ کھانا ایک فرم کے کچن میں تیار ہوا، آلو گوشت اور زردہ گاڑی میں رکھ کر مسجد تک پہنچایا گیا۔ اس جلسے کے لیے کوئی بہت بڑا انتظامی ڈھانچہ نہ تھا، سب ہی مل جل کر کام کر رہے تھے۔ شاید اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مشرق میں قادیان میں لگ بھگ اسّی برس قبل شروع ہونے والے ایک للّہی اجتماع کی نیابت میں مغرب میں ہمبرگ کے برفانی موسم میں لگایا جانے والا یہ ننھا سا پودا ایک روز ایسا تناور درخت بنے گا جس کے سائے میں ہزاروں انسان جمع ہوں گے۔ یہ تھا جماعت احمدیہ جرمنی کا پہلا باقاعدہ جلسہ سالانہ جس میں قریباً ستر، پچھتر احمدی شامل ہوئے تھے۔(تاریخ احمدیت جرمنی، الفضل انٹرنیشنل، ۲۷؍مئی ۲۰۲۰ء)

پھر چشمِ فلک نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ ۲۰۰۱ء میں جب جرمنی کو مرکزی جلسہ سالانہ کی میزبانی کا شرف ملا تو Mannheim کی Maimarkt میں ساٹھ سے زائد ممالک سے اڑتالیس ہزار سے زائد افراد اس میں شریک ہوئے اور اسی سرزمین پر پہلی مرتبہ عالمی بیعت بھی ہوئی۔ ۲۰۲۴ء کے جلسے کی وسعت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جلسہ گاہ کی پارکنگ ہی میں سات ہزار گاڑیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ الغرض ستر پچھتر سے ہزاروں شاملینِ جلسہ تک کا یہ سفر محض تعداد کا اضافہ نہیں بلکہ تاریخ احمدیت جرمنی کا ایسا باب ہے جو اخلاص و وفا، اللہ کی راہ میں پیش کی گئی قربانیوںاور سب سے بڑھ کر خلافت سے وابستگی سے رقم ہے۔ جس زمانے میں پاکستان میں بعض مخالف قوتیں یہ خیال کر رہی تھیں کہ مصائب و پابندیوں کے بند جماعت احمدیہ کے قافلے کا راستہ روک دیں گے اسی زمانے میں اللہ تعالیٰ چند مخلص لوگوں کے ذریعہ ایک دُوردراز کی مسجد میں اس قافلے کی ایک نئی منزل کا تعین کر رہا تھا۔ آج نصف صدی بعد مسجد فضلِ عمر میں قائم کیا جانے والا مختصر سا پنڈال ایک وسیع و عریض جلسہ گاہ میں بدل چکا ہے۔

لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر شاملینِ جلسہ کی تعداد ستر پچھتر سے بڑھ کر چالیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے تو کیا جلسہ کا اصل مقصد بھی ہمارے اندر اسی تناسب سے راسخ ہوا ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کو کسی میلے، دنیاوی اجتماع یا محض اپنی کثرت دکھانے کے لیے قائم نہیں فرمایا تھا۔ آپؑ نے ’’اصلاحِ خلق اللہ‘‘ کو اس کا بنیادی مقصد کو قرار دیا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۱۹ء کے موقع پر اسی حقیقت کو نمایاں کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اگر جلسے میں آکر بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، تقویٰ میں بڑھنے، اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش نہ ہو تو محض جلسے میں آنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ ماحول انسان پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات کو جذب کرنے کے لیے انفرادی کوشش بھی ضروری ہے۔ ۲۰۲۴ء کے جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھر یاد دلایا کہ جلسہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ ہمیں عطا ہوئی تاکہ ہم اپنی روحانی اور اخلاقی حالت بہتر کریں، اللہ کے قریب ہوں، تقویٰ میں ترقی کریں، باہمی اخوت بڑھائیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کریں اور لغویات سے بچیں۔

پس جب ہم اس مرتبہ بھی ہزاروں کی تعداد میں جلسہ گاہ پہنچیں تو وہاں موبائل فون، کپڑے، بستر اور دیگر سامان تو ساتھ لے جائیں گے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک تڑپ اور روحانی پیاس کو بھی ساتھ لے جائیں جسے جلسے کی کارروائی سننے اور اس دوران نمازوں کی ادائیگی ،ذکرِ الٰہی اور اپنے پیارے آقا کے خطابات کے ذریعے بجھانے کی پوری کوشش ہو۔ دوستوں سے میل ملاقات، لنگر کھانے، بازار سے خریداری کرنے، تصاویر بنوانے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے میں کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ مقصد کو ہی پس پشت ڈال دیں۔

آج دنیا ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہے۔ ایک جنگ ختم نہیں ہوتی تو دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ قومیں ایک دوسرے سے خوف زدہ ہیں، باہمی اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے، معاشی ابتری نے الگ سے پریشان کر رکھا ہے، مذہبی اور نسلی تقسیم بڑھ رہی ہے اور سوشل میڈیا نے انسانوں کو بظاہر ایک دوسرے سے جوڑ دینے کے باوجود دلوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے میں خوب کردار ادا کیا ہے۔ ممالک پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں مگر دلوں کو سکون میسر نہیں۔ ایسے حالات میں جلسہ سالانہ ہمارے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ہمیں اپنا احتساب کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک مومن دوسرے مومن بھائی سے ملتا ہے تو دلوں کے زنگ دور ہوتے ہیں۔ نمازوں اور قرآن کریم سے تعلق کو ایک جلا ملتی ہے اور سب سے بڑھ کر خلافتِ احمدیہ سے براہِ راست ہدایات سن کر ہماری روح معطر اور ایمان تروتازہ ہو جاتے ہیں۔

جلسے کی ایک بہت بڑی برکت جلسے کی ڈیوٹی بھی ہے۔ ہزاروں رضاکار اپنی نیند، آرام اور وقت قربان کرکے دوسرے مہمانوں کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ کوئی ٹریفک ڈیوٹی پر کھڑا ہے، کوئی کھانا تقسیم کررہا ہے، کوئی صفائی کررہا ہے، کوئی آب رسانی کر رہا ہے اور کوئی بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کا خیال رکھ رہا ہے۔ دوسری جانب اگر کسی موقع پر ڈیوٹیوں میں کوئی کمی نظر آئے، کھانے میں دیر ہوجائے، ٹریفک میں رکنا پڑ جائے، رہائش میں کوئی مشکل ہو یا کسی کارکن سے کوئی غلطی ہوجائے تو حسبِ ارشاد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سامنے کھڑا شخص تنخواہ دار ملازم نہیں بلکہ ہماری ہی طرح کا ایک احمدی اور رضاکار ہے جو جلسہ سالانہ کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا وقت اور آرام قربان کررہا ہے۔

گذشتہ سال کی طرح جلسہ سالانہ جرمنی کو امسال بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ کے دوران ہفتے کے روز خواتین کے اجلاس سے اور پھر اتوار کے روز اختتامی اجلاس سے براہِ راست خطاب فرمائیں گے۔ حضورِانور کے خطابات محض جلسے کے پروگرام کا ایک حصہ نہیں بلکہ جلسہ سالانہ کا لُبِ لباب ہوتے ہیں۔ ہم بھلے جرمنی میں جلسہ گاہ میں ہوں یا دنیا کے کسی اَور ملک میں اپنے گھروں میں، ہمارا فرض ہے کہ حضورپُرنور کے خطابات کے دوران اپنی دوسری مصروفیات روک کر، اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر پوری توجہ سے انہیں سنیں اور ممکن ہو تو اہم نکات نوٹ کریں۔ حضورِانور کا ہر خطاب ایک بحرِعرفان ہوتا ہے لیکن اگر ہم سب خلیفۂ وقت کے ہر خطاب سے کوئی ایک نصیحت لے کر اُس پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے لگ جائیں تو آہستہ آہستہ ہماری کایا پلٹ جائے۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ خلافت سے حقیقی تعلق محض خلیفۂ وقت کو دیکھ لینے یا ان کی آواز سن لینے یا اُن سے ملاقات کر لینے کا نام نہیں بلکہ حضور کی بتائی ہوئے باتوں کو اپنی زندگی کے راہنما اصول بنانا ہے۔

ثاقب زیروی صاحب نے کیا خوب فرمایا تھا کہ

خلافت سہارا ہے ہم غمزدوں کا

اسے رکھ سلامت خدائے خلافت

آج جب دنیا میں قیادت کا بحران ہے، قومیں اپنے مستقبل کے متعلق بے یقینی میں مبتلا ہیں اور انسانی تہذیب تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے تو ہمیں خلافت کے عظیم الشان انعام کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ کرنی چاہیے۔ خلیفۂ وقت انسانیت کی بقا کا درس دیتے اور آخرت میں کامیابی کے گُر سمجھاتے ہیں۔ شاید جلسہ سالانہ کا ایک بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ تین دن خلافت کی برکات کو قریب سے دیکھیں اور محسوس کریں اور خلیفۂ وقت سے اپنے تعلق کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرلیں۔

پہلے جلسہ سالانہ کے شاملین جو آج حیات ہیں جس شدّت سے جلسے کی وسعت کو محسوس کر سکتے ہیں شائد کسی اَور کے لیے ممکن نہیں لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ ہم تعداد میں کتنے بڑھ گئے بلکہ اصل سوال یہ ہے جلسہ گاہ کے کشادہ ہونے، حاضری ہزاروں تک بڑھ جانے اور انتظام کی وسعت کے ساتھ ساتھ کیا ہمارے دل بھی اتنے ہی کشادہ ہو رہے ہیں؟ کیا ہماری روحانیت اور عبادات بھی اتنی ہی ترقی کر رہی ہیں، کیا ہماری قربانی کے معیار بھی اتنے ہی بلند ہو رہے ہیں اور کیا خلیفۂ وقت سے ہمارا اخلاص و وفا بڑھ رہا ہے؟ اورپھر اللہ تعالی سے محبت ذاتی اور تقوی و طہارت میں اضافہ ہورہا ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات اثبات میں ہیں تو ہمارا جلسہ سالانہ کی وسعت پر خوشی منانا حق بجانب ہے، بصورتِ دیگر لمحۂ فکریہ ہے۔

اللہ کرے کہ دنیا کے ہر ملک میں ہونے والا جلسہ سالانہ اپنے شاملین کو تقویٰ،روحانیت ،اطاعتِ خلافت اور احکاماتِ ربّانی کی فرمانبرداری میں بڑھانے والا ثابت ہو۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اداریہ: ہم کو نہ مل سکا تو فقط اِک سکونِ دل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button