سدِّ صوت
(ابوطالع)
(پاکستان میں پہلی مرتبہ ساؤنڈ بیریئر ٹوٹنے کی داستان)
ہمیشہ پاکستانی فضائیہ کی تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ پاکستان کی فضا میں پہلی دفعہ سدِّ صوت ۵؍ستمبر ۱۹۵۶ء کو F-86 طیارہ پرواز کرتے ہوئے نمبر ۱۵؍سکواڈرن کے پہلے سکواڈرن کمانڈر سکواڈرن لیڈر سید محمد احمد نے توڑا۔ جو نہیں لکھا جائے گا وہ یہ کہ موصوف احمدی تھے۔ تو چلو ہم لکھے دیتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا سدِّ صوت توڑنے والا پائلٹ احمدی تھا
آج ۵؍ستمبر۲۰۲۶ء کو پاکستان ایئرفورس کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ کو پیش آئے پورے ۷۰؍برس ہو جائیں گے۔ یہ وہ دن تھا جب پاک فضائیہ کے ایک طیارہ نے پہلی دفعہ آواز کی لہروں سے تیز پرواز کرتے ہوئے ساؤنڈ بیریئر یعنی سدِّ صوت کو توڑا۔
یہ مضمون الفضل میں شائع ہونے کی ترکیب کیوںکر پا رہا ہے کہ اس طیارہ کے پائلٹ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نہایت کامیاب ایک نامور احمدی تھے۔
پوری تفصیل بتانے سے پہلے سدِّ صوت کے متعلق کچھ بیان ہو جائے تو بہتر ہے۔ جب Orville Wright نے ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۳ء کو Kitty Hawk, North Carolina کے مقام پر ہوائی جہاز کی پہلی کامیاب پرواز کی، تب سے بڑی سرعت سے صنعتِ ہوا بازی نے ترقی کی ہے۔ ایک ہدف جو ہردم طیارہ ساز افراد کے پیش نظر رہا وہ یہ تھا کہ آواز کی رفتار سے تیز طیارہ ایجاد کیا جائے۔ آج کل تو یہ عام بات ہے اورتقریباً سارے ملٹری فائٹرجیٹ آواز کی رفتار یعنی ۷۶۷؍میل فی گھنٹہ سے زیادہ تیز پرواز کرتے ہیں۔ مسافر بردار طیاروں میں کونکورڈ بھی اسی رفتار سے دگنی پرواز کرتا تھا۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک یہ ایک ایسا سنگِ میل تھا جو ہوا بازوں کی گرفت سے دور ہی رہا۔ جس کی بنیادی وجہ پسٹن انجن جہازاوران کے ایئر فریم ہیں جو اس رفتار کو پانے سے قاصر تھے۔
حتیٰ کہ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں پہلی دفعہ ہوا بازی میں ایک جیٹ انجن جہاز نے ہوا کی لہروں سے تیز پرواز کرتے ہوئے سدِّ صوت کو توڑا۔ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے برّی افواج کے پائلٹ چَک ییگر ( Chuck Yeager) تھے۔ سدِّ صوت ٹوٹنے سے پہلے ہمیشہ ہوا بازی سے منسلک افراد میں یہ خوف قائم رہا کہ نہ جانے ایسا ہونے سے ہوائی جہاز اور ہواباز پر کیا گزرے گی۔ کہیں جہاز پاش پاش نہ ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔ اس قدرتی امر کی سائنسی حقیقت یوں ہے کہ جہاز سے نکلتی صداؤں کی لہریں ہرسمت سفر کررہی ہوتی ہیں۔ جو لہریں ہوائی جہاز کے پیش پیش چلتی ہیں وہ ہمیشہ جہاز سے آگے ہی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ جہاز کی رفتار ۷۶۷؍میل فی گھنٹہ سے تجاوز کرجائے۔ تب جہاز اپنی پیدا شدہ صدا کی لہروں سے آگے ہو جاتا ہے اورآواز پیچھے پیچھے چلی آتی ہے۔ عین اسی موقع پر جب جہاز ان پیدا شدہ آواز کی لہروں کے برابر ہوتا ہے تو ان لہروں کا مجمع ہوائی جہاز کے لیے ایک سدّ یعنی بیریئر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس کو توڑنے میں زور بھی لگتا ہے اورٹوٹنے سے کڑاکے کی آواز بھی آتی ہے۔

آواز سے تیز پرواز کرتے ہوئے طیارہ کواگرزمین پرکھڑا کوئی فرد دیکھے گا تو اس کے سر سے طیارہ پہلے گزر جائے گا اورآواز بعد میں آئے گی۔ جیسے آسمانی بجلی کی چمک اپنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار کی وجہ سے ہمیں بہت پہلے نظرآجاتی ہے اوراس کا کڑاکا اپنی نسبتاً بہت سست رفتار یعنی ۷۶۷؍میل فی گھنٹہ کی وجہ سے بہت بعد میں سنائی دیتا ہے۔ سدِّ صوت ٹوٹنے کی مثال ہماری روزمرّہ زندگی میں بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ چمڑے کے بنے ہوئے کوڑے احباب نے دیکھے ہوں گے۔ اگر یہ کوڑا لمبائی میں خاص حد سے زیادہ ہو۔ جس کا سرا بالکل پتلی نوک پر مشتمل ہواور دستہ موٹا ہو، تو اب اس کوڑے کواگرخاص طرز سے تیزی سے ہوا میں جنبش دی جائے تو ’تڑاخ‘ کی آوازآتی ہے۔ وجہ یہ بنتی ہے کہ وہ پتلا نوک دار سِرا ہوا میں آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے اور یوں کوڑے کی نوک پہ سدِّ صوت ٹوٹ جاتا ہے۔
جن احباب نے سرکس دیکھا ہے جہاں شیروں سے کرتب کروائے جاتے ہیں انہوں نے رِنگ ماسٹر کے ہاتھ میں کوڑے سے آتی یہ آواز بخوبی سنی ہوگی۔
اب پاک فضائیہ میں سدِّ صوت ٹوٹنے کے واقعہ کی طرف واپس آتے ہیں۔ جولائی ۱۹۵۶ء سے پہلے پاک فضائیہ کے پاس جو تیزترین لڑاکا طیارہ تھا اس کا نام سوپر مرین اٹیکر (Supermarine Attacker) تھا۔ یہ ہوائی جہازوں کا دستہ پاک فضائیہ کے پاس ۱۹۵۱ء میں آیا۔ اس کی حد رفتار ۵۹۰؍میل فی گھنٹہ تھی۔ اور یوں یہ اس قابل نہ تھا کہ سدِّ صوت کو توڑ سکے۔ ۱۹۵۴ء میں پاک فضائیہ کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فضائیہ سے ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت اس دور کا بہترین لڑاکا طیارہ F-86 Sabre امریکی فضائیہ نے پاک فضائیہ کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ہوائی جہازوں کی پہلی کھیپ جولائی ۱۹۵۶ء میں موصول ہوئی۔ اس کھیپ سے پاک فضائیہ میں ایک نیا سکواڈرن تشکیل دیا گیا۔ سکواڈرن کا نام ’کوبرا‘ رکھا گیا اوراس کو نمبر ۱۵ کا دیا گیا۔ اسی نمبر ۱۵ سکواڈرن کے پہلے سکواڈرن کمانڈر کا نام سکواڈرن کمانڈر سید محمد احمد تھا۔
آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سب کی قیادت کرتے ہوئے اس پہلی کھیپ کو اُڑا کرامریکہ سے کراچی ماڑی پوربیس ( Karachi Mauripur Base) (اس بیس کا نام اب مسرور ہے) لے کرآئے۔ اس نئے تشکیل شدہ سکواڈرن کو بعد میں تین قابلِ بیان اعزاز حاصل ہوئے۔
اوّل:۲؍فروری ۱۹۵۸ء میں سکواڈرن نمبر ۱۱ کی شراکت میں دنیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں پہلی دفعہ ۱۶؍جہازوں نے ہوائی لوپ کا کرتب کیا۔ یعنی ۱۶؍جہاز ڈائمنڈ فارمیشن میں پرواز کرتے اکٹھے ہوا میں بلند ہوئے۔ اکٹھے اُلٹے ہوئے اور چکر مکمل کیا گیا جس کو لوپ کہتے ہیں۔ سکواڈرن لیڈرسید محمد احمد اس فارمیشن میں شامل تھے۔
دوم: ۱۰؍اپریل ۱۹۵۹ء کو اسی سکواڈرن کے ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ نے پاکستان فضائیہ کا پہلا شکارکیا۔ یعنی جو پہلا جہاز پاک فضائیہ نے گرایا وہ نمبر ۱۵ سکواڈرن نے گرایا۔ بھارتی فضائیہ کا جہاز کینبرا۔
سوم: ۱۰؍مئی ۲۰۲۵ء کو نمبر۱۵ سکواڈرن کے ہوابازوں نے بھارتی فضائیہ کے متعدد ہوائی جہاز گرائے جن میں معروف زمانہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
اس سکواڈرن کے پہلے سکواڈرن کمانڈر جنہوں نے اس مضبوط سکواڈرن کی بنیاد رکھی۔ یعنی سکواڈرن لیڈر سید محمد احمد، پیدائش ۲۸؍مارچ ۱۹۲۵ء۔ اُن کا تعارف یوں ہے کہ سید محمد احمد حضرت اُمّ المومنین نصرت جہاں المعروف حضرت امّاں جانؓ کے سگے بھتیجے تھے۔ اور بھتیجوں میں سب سے بڑے تھے۔ آپ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سب سے بڑے تھے۔ بی ایس سی کرنے کے بعد ۱۹۴۴ء میں رائل انڈین ایئر فورس میں کمیشن حاصل کیا اور بحیثیت فائٹر پائلٹ سپٹ فائر( Spit Fire) طیارہ کو پرواز کرتے ہوئے برطانیہ کی طرف سے دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوئے۔ جنگ کے دوران آپ کا جہاز کریش بھی ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بچا لیا۔ جنگ عظیم کے بعد ۱۹۴۶ء میں ایئرفورس کوخیرآباد کہہ کرایک کمرشل ایئرلائن میں نوکری اختیار کی۔ تقسیم ہند سے پہلے ۱۹۴۷ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت پرجماعتی ہوائی جہازوں کی ڈیوٹی سنبھالی۔ حضورؓ کا جب بلاوا پہنچا تو اس وقت سب چھوڑ چھاڑ کر قادیان حاضرہو گئے۔ ۱۹۵۰ء تک ڈیوٹی پرحاضررہے۔ ۱۹۵۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعتی جہاز فروخت فرمائے اورسیّد محمد احمد کو پاکستان ایئرفورس میں نوکری کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۵ء کی جنگ تک آپ پاکستانی فضائیہ میں ڈیوٹی دیتے رہے۔ اور ونگ کمانڈر کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ مگر سید محمد احمد صاحب نے جماعت کی تین سالہ ڈیوٹی کو اپنی زندگی کا سرمایہ ٹھہرایا۔ اس دور کے متعلق آپ نے ایک مضمون بھی لکھا جو تین قسطوں میں الفضل ۲۷،۲۶اور ۳۰؍اگست ۲۰۱۰ء کے شمارہ جات میں شائع ہوا۔ بعد میں اس مضمون کا انگریزی ترجمہ فضل عمرفاؤنڈیشن نے ایک کتاب کی صورت طبع فرمایا۔ جو ونگزآف ڈیوٹی ( Wings of duty) کے نام سے شائع ہوا۔ ایم ٹی اے (MTA) کینیڈا نے اس ہی نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی جو جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء پر شاملین نے ملاحظہ فرمائی۔ یہ فلم آج کل یوٹیوب (youtube) پر اس ہی نام سے دستیاب ہے۔
سید محمد احمد اپنے زمانے کے سب سے مایہ ناز فائٹر پائلٹ تھے۔ آپ نہایت پُرصلاحیت کمانڈر، قابل اورفرض شناس افسر سمجھے جاتے تھے۔ اپنے سینئرزاورجونیئرز میں یکساںمقبول اورعزّت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ صائب الرائے تھے اور چیف آف ایئرفورس سے لے کردیگرسینئرافسران اہم معاملات میں آپ سے مشورہ طلب کرتے تھے۔ اسی لیے یہ کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی کہ جب پاک فضائیہ نے اپنی تاریخ کے اہم ترین جہازوں یعنی F-86 کا پہلا سکواڈرن تشکیل دیا توایئرچیف مارشل نے سکواڈرن کمانڈر کے طور پرآپ کا انتخاب کیا۔ پھر F-86 کی کھیپ کوامریکہ سے لانے کے لیے بھی پائلٹوں کا دستہ آپ کی سرپرستی میں امریکہ روانہ کیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں احمدی غیراحمدی کا کوئی امتیاز نہ تھا اورعہدہ قابلیت دیکھ کر دیا جاتا تھا نہ کہ مذہب پوچھ کر۔ آج کل کے حالات میں کوئی احمدی ایئر فورس آفیسر چاہے کسی قدرقابل کیوں نہ ہو، اُس کو فائٹر طیاروں کا سکواڈرن کمانڈر نہیں بنایا جاتا۔ یہ پاکستان کا المیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کم نظری اورکم بختی سے اس ملک کو نجات عطا فرمائے۔ آمین
پاکستانی فضائی حدود میں پہلی دفعہ سدِّ صوت کو توڑنے کا واقعہ اس طرح ہے کہ ۲۰؍جولائی ۱۹۵۶ء کو جو F-86 طیارے کوبرا سکواڈرن میں آئے ان کی حد رفتار۶۸۵ میل فی گھنٹہ تھی۔ یعنی آواز کی رفتار سے ۹۰؍میل کم۔ اس طرح یہ اس قابل نہ تھے کہ سدِّ صوت کو توڑ سکیں۔ ۵؍ستمبر ۱۹۵۶ء کی صبح یعنی آج سے پورے ۷۰؍سال قبل ۱۵ نمبر سکواڈرن کے سکواڈرن کمانڈر، سکواڈرن لیڈر سید محمد احمد اپنا F-86 جہاز لے کر محوِپرواز ہوئے۔ پلان یہ تھا کہ بہت بلندی پرجا کرجہاز کو اس کی حدِّ رفتار تک پہنچایا جاوے اورپھراسی فُل تھراٹل کی حالت میں جہاز کو غوطے میں ڈال دیا جائے۔ غوطے میں رفتاراورتیز ہونی چاہیے۔ اوریوں جہاز ۷۶۷؍میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تجاوز کر جائے گا۔
یوں کہنے کو تو آسان سی بات لگتی ہے مگرخدشات موجود تھے۔ کچھ دل گردہ چاہیے تھا۔ غوطہ میں سدِّ صوت توڑنے کے اثرات سے اگر طیارہ غوطہ سے باہر نہ آیا تو پھر؟ یا ایئرفریم کو ناگزیر نقصان پہنچ گیا وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے شاید سید محمد احمد نے سکواڈرن کمانڈر ہونے کے ناطے اس کام کو سرانجام دینے کے لیے اپنے آپ کو چنا۔ اوریہ پُر خدشات ذمہ داری اپنے ماتحتوں کو نہ دی۔
۵؍ستمبر ۱۹۵۶ء کو پھرپاک سرزمین کی فضاؤں میں پہلی دفعہ سدِّ صوت ٹوٹنے کا کڑاکا موجزن ہوا۔ اوراُس کے ساتھ ہی تاریخ لکھی گئی۔
اب ہمیشہ پاکستانی فضائیہ کی تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ پاکستان کی فضا میں پہلی دفعہ سدِّ صوت ۵؍ستمبر ۱۹۵۶ء کو F-86 طیارہ پرواز کرتے ہوئے نمبر ۱۵؍ سکواڈرن کے پہلے سکواڈرن کمانڈر سکواڈرن لیڈر سید محمد احمد نے توڑا۔جو نہیں لکھا جائے گا وہ یہ کہ موصوف احمدی تھے۔تو چلو ہم لکھے دیتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا سدِّ صوت توڑنے والا پائلٹ احمدی تھا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: کہیں تو بہرِ خدا ذکرِ یار چلے




