احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
اگر تعصب کی عینک اتار کر صاف دل سے درودشریف پڑھ کر براہین احمدیہ کامطالعہ شروع کیاجائے تو براہین احمدیہ کا ایک ایک صفحہ اوراس کی ایک ایک سطر ہستی باری تعالیٰ کی اورصداقت اسلام کی دلیل نظر آتی ہے
اورکتاب کے آخری صفحہ پر ایک ایسااعلان شائع فرمایا کہ جو انسانی طاقتوں اورتدبیروں سے ماوراء ہستی کی طاقت کے تابع تھااور کسی بھی انصاف پسند انسان کے لیے اس پر اعتراض کرنے کی ذرا بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ براہین احمدیہ کا آخری صفحہ ہے، آپؑ فرماتے ہیں:
’’ہم اور ہماری کتاب
ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اُس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہرًا و باطنًا حضرت ربّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لیے کافی ہیں اور اس کے فضل و کرم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ جب تک شکوک اور شبہات کی ظلمت کو بکلّی دور نہ کرے اپنی تائیدات غیبیہ سے مددگار رہے گا اگرچہ اس عاجز کو اپنی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں لیکن اس سے نہایت خوشی ہے کہ وہ حیٌّ و قیُّوم کہ جو فنا اور موت سے پاک ہے ہمیشہ تا قیامت دین اسلام کی نصرت میں ہے اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ ایسا اس کا فضل ہے کہ جو اس سے پہلے کسی نبی پر نہیں ہوا۔ اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر کرنا لازم ہے جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے کے لیے آج تک مدد دی ہے خدا تعالیٰ ان سب پر رحم کرے اور جیسا انہوں نے اس کے دین کی حمایت میں اپنی دلی محبت سے ہریک دقیقہ کوشش کے بجالانے میں زور لگایا ہے خداوند کریم ایسا ہی ان پر فضل کرے۔ بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خرید وفروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا اور صدق اور ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کردیا ہے لیکن موخر الذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت مالی بہت کم رکھتے ہیں اور سنت اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی رہی ہے کہ اوّل اوّل ضعفاء اور مساکین ہی رجوع کرتے رہے ہیں اگر حضرت احدیت کا ارادہ ہے تو کسی ذی مقدرت کے دل کو بھی اس کام کے انجام دینے کے لیے کھول دے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔‘‘
اب اس اصولی اطلاع اوراعلان کے بعد تو کسی بھی قسم کے اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ تین سودلائل کہاں ہیں۔ اول تو براہین احمدیہ کامطالعہ کیاجائے تین سوکیاتین لاکھ دلیلیں موجودہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’لوگ لکھتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کادعدہ دیا گیا تھاوہ پورا نہیں ہوا۔حالانکہ براہین میں صداقت اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد۹صفحہ ۱۶۲)
اسی ارشاد کی تشریح اورتفصیل کی روشنی میں علمائے سلسلہ نے مقالے لکھے اورکتب لکھی ہیں۔
۱۔’’دلائل قاطعہ مجموعہ۳۰۰دلائل۔ ماخوذ از براہین احمدیہ‘‘ مرتبہ: عبدالرحمٰن صاحب مبشر۔ تاریخ اشاعت: دسمبر ۱۹۸۳ء۔ صفحات: ۳۴۶
۲۔’’براہین احمدیہ میں حقیت اسلام کے تین سو دلائل‘‘ مقالہ نگار: عبدالسمیع خان صاحب۔ یہ مقالہ جامعہ احمدیہ میں درجہ شاہد کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھاگیا جو تاحال غیرمطبوعہ ہے۔ اس کے ۴۹۸ صفحات ہیں۔ سنہ تحریر۱۹۸۱ء اورلائبریری جامعہ احمدیہ میں اس کا اندراج نمبر۲۷۹.۲۰۴۶ہے۔
اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر تعصب کی عینک اتار کر صاف دل سے درودشریف پڑھ کر براہین احمدیہ کامطالعہ شروع کیاجائے تو براہین احمدیہ کا ایک ایک صفحہ اوراس کی ایک ایک سطر ہستی باری تعالیٰ کی اورصداقت اسلام کی دلیل نظر آتی ہے ۔
تعجب ہے مخالف کہتاہے کہ براہین احمدیہ میں ہستی باری تعالیٰ کے تین سودلائل کہاں ہیں۔ایک بھلے مانس کو جس کے دل میں نبی اکرم حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کے لیے غیرت ہوگی، جس کا دل اسلام اورقرآن کی صداقت کےلیے دلائل کا متلاشی ہوگا جواس کے حسن پر نگاہ کرنے کا مشتاق ہوگا اس کو تو حضرت اقدسؑ کے اس ارادے اورعزم کوپورانہ کرنے میں ہی ہستی باری تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری دلیل نظر آجاتی ہے۔ حضرت علیؓ جیسے محبوب الٰہی اورعارف باللہ نے خداکی ذات کو پہچانا ہی اس سے تھا۔آپؓ فرماتےہیں: عَرَفْتُ رَبِّىْ بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ۔(بحارالانوارالجزء الثالث کتاب التوحیدصفحہ ۳۱، ۳۲ الامیرۃ للطباعۃ والنشر والتوزیع بیروت ،لبنان )
کسی نے حضرت علی ؓسے پوچھا کہ یاحضرت! یاامیرالمؤمنین!! اللہ کی تونہ کوئی صورت ہے آپ نے اسے کیسے پہچانا؟ فرمانے لگے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے اورپورانہ ہونے سے ،کیونکہ جب میں کوئی ارادہ کروں تووہ میرے اورمیرے ارادے کے درمیان حائل ہوجاتاہے اورجب میں کوئی عزم کروں تو قضاء وقدر میرے اس عزم کے مخالف ہوتی ہے تو میں جان لیتاہوں کہ میرے علاوہ کوئی اورمدبّرہستی ہے جو مجھ پر غالب ہے۔
توحضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جویہ ارادہ فرمایا لیکن باوجود پوری کوشش اورسعیٔ بلیغ کے وہ ارادہ پورانہیں ہواتو یہ بھی ہستی باری تعالیٰ کی دلیل ٹھہرتی ہے۔لیکن افسوس اوربراہومخالفت کا اورتعصب کاکہ جو حق سے اتنا دورلے جاتاہے۔ خیرہم ان متعصبوں کوچھوڑتے ہیں۔ ان کے اپنے ہی اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ۔ہم اس ’’موسیٰ ‘‘ کے ذکر کے لیے واپس اس وادی میں چلتے ہیں جو اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ کی صدا سن کرایسی آگ لے کر آیا جو ہماری روحوں کوبھی گرمارہی ہے اور اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًیکے مصداق ہماری ہدایت کے سامان بھی لے کرآیااوراسلام اس وقت موسیٰ کا وہ طور تھا جہاں خدابول رہاتھا اوراس ایک دل میں وہ کلام کررہاتھا۔میں اپنے قارئین کو اب اسی تسلسل میں ۱۸۸۴ء کے مزید واقعات کی طرف لیے چلتاہوںجوکہ آئندہ اقساط میں بیان ہوں گے۔ ان شاء اللہ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت امام حسنؓ و حسینؓ کا عظیم الشان مقام و مرتبہ




