جلسہ سالانہیورپ (رپورٹس)

تازہ ترین: جلسہ سالانہ جرمنی کا دوسرا دن

(عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل جرمنی)

 (جلسہ گاہ مینڈِک، جرمنی ۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشل) حسبِ روایت جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کا آغازبھی صبح پونے پانچ بجے باجماعت نمازِ تہجد سے ہوا جو مکرم حافظ احتشام احمد صاحب مربی سلسلہ نے پڑھائی۔ فجرکی اذان عزیزم کبیر سنوری متعلم جامعہ احمدیہ نے دی۔ اور پونے چھ بجے نمازِ فجر مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی نے پڑھائی۔ نماز کے بعد مکرم وجاہت احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’صبرکی حقیقت اوراس سے حاصل ہونے والا پھل‘‘ کے عنوان سے درس دیا۔

 دوسرے روز کا پہلا اجلاس صبح ساڑھے دس بجے مکرم طاہر محمود عابد صاحب صدرو مشنری انچارج گنی کناکری کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے کی سعادت چودھری سعادت احمد سوہل صاحب کے حصہ میں آئی۔ جس کا جرمن ترجمہ مکرم احتشام حسن احمد صاحب اور اردو ترجمہ مکرم محمد اکرم بیگ صاحب نے پیش کیا۔ آج کی پہلی تقریر جرمن زبان میں مکرم طارق احمد ظفر صاحب مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ نے کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’بچوں کی تربیت میں والدین کا مثالی کردار‘‘۔

 تقریر سے قبل مکرم خرم شہزاد صاحب نے درثمین سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شیرین کلام خوش الہانی سے پڑھا۔ تقریر کے بعد بھی حضرت المصلح الموعودؓ کا کلام میاں دانش تسنیم صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم مرزا نصیر احمد صاحب مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ نے اردو زبان میں ’’صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کے نمونے اور ان کے ثمرات‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ صبح کے اجلاس میں وقفہ وقفہ سے جرمن مہمانوں کو بھی مختصر تقریر کا موقع فراہم کیا گیا۔ مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کی تقریر کے بعد حضور انورایدہ اللہ کا خواتین سے خطاب مردوں کی طرف بھی سنا گیا۔

حضور ایدہ اللہ کے خطاب کے بعد مکرم میر وسیم الرشید صاحب مربی سلسلہ سیرالیون نے اذان دی اور مکرم مبلغ انچارج صاحب کی اقتدا میں نماز ظہر و عصر ادا کی گئی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا۔

 درمیانی وقفہ کے بعد شام کا اجلاس ساڑھے پانچ بجے زیرِصدارت مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی شروع ہوا۔ تلاوتِ قرآِن کریم کرنے کی سعادت مکرم دانیال احمد داؤد صاحب کے حصہ میں آئی۔ جرمن ترجمہ طلحہ وڑائچ صاحب اور اردو ترجمہ سفیر احمد نجم صاحب نے پیش کیا۔ اردو نظم راحیل احمد صاحب کی آواز میں سامعین جلسہ نے سنی۔ اس کے بعد ایڈیشنل وکیل اشاعت لندن مولانا نصیر احمد قمر صاحب نے ’’حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی قبولیت دعا کے واقعات‘‘ کے عنوان سے حاضرین جلسہ سے خطاب کیا۔ آپ کی تقریر کے بعد اردو نظم مکرم عبدالحفیظ صاحب نے خوش الہانی سے پڑھی۔ اجلاس کے دوسرے مقرر مکرم چنگیز وارلی صاحب ایڈیشنل سیکرٹری تربیت برائے نو مبائعین تھے۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’ایک احمدی کا عمدہ کردار خاموش تبلیغ کا سبب بن سکتا ہے‘‘۔ اجلاس کی کارروائی ساڑھے سات بجے شام تک جاری رہی۔

آج دوپہر کو طویل وقفہ کے دوران احمدیہ لائیرز ایسوسی ایشن نے ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا۔ جس پر بعض سیاست دانوں کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ احمدی نوجوانوں اور وکلاء کی طرف سے سیاست دانوں سے حالاتِ حاضرہ سے متعلق سوالات کیے گئے۔ جوابات دینے والوں میں صوبے کے وزیراعلیٰ بھی شامل تھے۔ احمدی نوجوانوں نے اس سیمینار میں بھرپورشرکت کی۔

نو بجے شب عزیزم ظفیر احمد سوہل طالب علم جامعہ احمدیہ جرمنی نے اذان دی اور مکرم مبلغ انچارج صاحب نے مغرب وعشاء کی نمازیں باجماعت پڑھائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button