کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

جس سے نکاح کیاجاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہو

ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے با لکل خلاف ہے۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہیے کہ جس سے نکاح کیاجاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجبِ فتنہ ہو۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کاکچھ بھی لحاظ نہیں۔ صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ(الحجرات:۱۴) یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ ترپرہیزگار ہے۔

(ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۲۸۳، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

نکاح کے اغراض میںسے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تا اس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔ دوسری غرض خدا تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بد نظری اور بد عملی سے محفوظ رہے۔ تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تا با ہم اُنس ہوکر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۹۳)

جو لوگ لڑکی دیتے ہیں ۔ ان کی بداخلاقی قابل افسوس نہیں ۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ سے یہی دستور چلا آتا ہے کہ لڑکی والوں کی طرف سے اوائل میں کچھ بد اخلاقی اور کشیدگی ہوتی ہے اور وہ اس بات میں سچے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی جگر گوشہ لڑکی کو جو ناز و نعمت میں پرورش پائی ہوتی ہے۔ ایک ایسے آدمی کو دیتے ہیں جس کے اخلاق معلوم نہیں اور وہ اس بات میں بھی سچے ہوتے ہیں کہ وہ لڑکی کو بہت سوچ اور سمجھ کے بعد دیں کیونکہ وہ ان کی پیاری اولاد ہے اور اولاد کے بارہ میں ہر ایک کو ایسا کرنا پڑتا ہے اور جب تم نے شادی کی اور کوئی لڑکی پیدا ہوئی تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔ لڑکی والوں کی ایسی باتیں افسوس کے لائق نہیں ہوا کرتیں ۔ ہاں جب تمہارا نکاح ہو جائے گا اور لڑکی والے تمہارے نیک اخلاق سے واقف ہو جائیں گے تو وہ تم پر قربان ہو جائیں گے۔

(خط بنام ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ، مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ ۲۵۶)

مزید پڑھیں: اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمۂ اسلام میں کوشش کریں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button