اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو سلام کہنے، خیرات دینے اور اسلامی نام رکھنے کے جرم میں کئی دہائیوں سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فتح شاہ۔ ضلع ننکانہ(۲۷؍اگست تا ۳؍ستمبر): ۲۷؍اگست کو ضلع ننکانہ کی پولیس نے ایک جھگڑے کے باعث جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مختلف مقدمات درج کرلیے۔ اس جھگڑے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب احمدی احباب ایک واٹر فلٹر پلانٹ سے پانی بھر رہے تھے اور مقامی شدت پسندوں نے احمدیوں پر حملہ کردیا۔
اس معاملے کی ایف آئی آر صدر پولیس سٹیشن ننکانہ صاحب میں درج کر لی گئی اور اس میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا جن میں سے تین کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔ بعد ازاں تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ دو روز بعد پولیس نے احمدیوں کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں مزید ایف آئی آر درج کر لیں۔
یکم ستمبر کو سول جج تصدق حسین نے تین مقدمات کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت کی اور تینوں مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔ اگلے روز کاغذی کارروائی کے بعد دو افرادکو رہا کر دیا گیا جبکہ تیسرے کی رہائی کاغذی کارروائی میں کسی سقم کی وجہ سے ایک دن کے بعد عمل میں آئی۔
حاصل پور ضلع بہاولپور: اگست کے مہینے میں ایک احمدی کو توہین کے ایک جھوٹے مقدمے کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ یہ مقدمہ سائبر کرائم کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ۳۰؍اگست کو فیڈرل انسویسٹی گیشن ایجنسی(FIA) کی جانب سے درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ایسی دفعات شامل کی گئیں جن کی سزا موت ہے اور اس میں ۲۰۱۶ء کے الیکٹرونک کرائم کی روک تھام کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔ یہ مقدمہ تحریک لبیک حاصل پور کے مقامی راہنما قاضی شیر محمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں اس نے الزام عائد کیا کہ موصوف نے فیس بک پر رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا ہے۔ مقامی پولیس نے بغیر کسی چھان بین کے فوری کارروائی کا آغاز کردیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس نے موصوف کے چچا ،چچی ،ان کے ملازم اور ان کی بیوی کو بھی حراست میں لے لیا۔ اور بعد ازاں مذکوراحمدی کو بھی گرفتا رکرلیا۔ دوران تفتیش پولیس کو اس بات کا علم ہو ا کہ یہ توہین آمیز مواد ایک فیک اکاؤنٹ کے ذریعے نشر کیا گیا تھا۔ اس پر پولیس نے باقی چار زیر حراست افراد کو رہا کردیا لیکن ان میں سے ایک کو حراست میں ہی رکھا۔ مقامی شدّت پسندوں کے دباؤ میں آکر پولیس نے موصوف کو ملتان ایف آئی اےسائبر کرائم ونگ میں منتقل کر دیا۔ ایف آئی اے حکام نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کی فرانزک جانچ ہو گی اور حتمی نتائج آنے پر ہی پیش رفت ہو گی۔ درایں اثنا موصوف نے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی۔ ۱۱؍نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج ملتان ممتاز احمد نے درخواست سنی اور فیصلہ ملتوی رکھا۔ ۱۳؍نومبر کو بنا کسی بھی فرانزک ثبوت کے جج نے موصوف کی درخواست مسترد کر دی۔
اس مقدمے کا پس منظر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ کئی تحقیقی رپورٹس اور عدالتی تحقیقات میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایسے مقدمات درج کروانے والوں کا طریقہ واردات ایک ہی ہے۔ ہر مقدمے کے گواہ بھی وہی ہیں،سوشل میڈیا پر وہی اکاؤنٹ بار بار استعمال ہو رہے ہیں اور ہر مقدمے میں شواہد ناکافی ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی تحقیقی رپورٹ میں ایسےچار سو مقدمات اور سات سو افراد کا ذکر ہے جن کو توہین کے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ عدالت نے دوران تحویل ہونے والی اموات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس بات کو بھی واضح کیا کہ ان مقدمات میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹ ایک جیسے ہیں اور یہ کہ ایف آئی اے ان مقدمات میں ڈیجٹل شواہد کی تفتیش میں ناکام رہی ہے۔ ان عدالتی رپورٹس کے باوجود ایک جعلی اکاؤنٹ سے نشر کیے گئے مواد کی وجہ سے بےگناہ احمدی ابھی تک ایف آئی اے کی حراست میں ہے۔ ان کی ناجائز حراست اس بات کی شاہد ہے کہ کیسے جعلی اکاؤنٹ سے نشر شدہ مواد کی کوئی تحقیق نہیں کی جاتی اور صرف جھوٹے الزام کے باعث کسی بھی فرد واحد کو اس کی آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے سے یہ بھی واضح ہوتا ہےکہ کیسے بیرونی دباؤ ان جھوٹے مقدمات کے درج ہونے اور ان کے نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور کس طرح انتظامیہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والے ان جرائم کی روک تھام میں ناکام ہوئی ہے۔
پشاور: ۲۹؍ستمبر کو پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک باضابطہ نوٹس جاری کیا۔ نوٹس کا لب لباب یہ تھا کہ نہ تو پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور نہ ہی اس کا کوئی بھی ممبر کسی بھی ایسے مقدمے میں پیش ہوگا جس میں کسی نے آنحضورﷺ کی شان میں گستاخی کی ہو۔ بار کا یہ قدم تشویش ناک ہے۔ کیونکہ ایسے مقدمات میں ملزم کی جان کو پہلے سے ہی سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں اور اس مقدمے کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
۲۹؍ستمبر کو جاری کیے جانے والے اس نوٹس کا متن یوں ہے: ’’آئندہ توہین رسالت ﷺ اورتوہین مذہب اسلام کے مقدمات میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پشاور بار ایسو سی یشن کا کوئی ممبر ملزمان کی جانب سے پیش نہیں ہو گا بصورت خلاف ورزی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔ آئند جنرل باڈی۔ کم۔ وکلاء کنونشن نومبر ۲۰۲۵ء میں منعقد کیا جائے گا۔ جس میں مطالبات اور نتائج کا تقابلی جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کنونشن کی تاریخ ،وقت اور جگہ کا تعین وکلاء / بار مشیران کے مشورے کے بعد طے کیا جائے گا۔ ‘‘
اس نوٹس پر صرف سیکرٹری جنرل پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اشفاق احمد داؤد زئی نے دستخط کیے۔ لیکن صدر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس پر دستخط نہیں کیے۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ اقدام ایسے ملزمان کو صوبے کی سب سے طاقتور بار ایسوسی ایشن سے کسی بھی راہنمائی اور مدد کے حصول سے محروم کر رہا ہے۔ ایسے ملزمان پہلے ہی ہجوم کی جانب سے تشدد کے خطرے اور سیاسی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو وکیل ان ملزمان کی طرف سے پیش ہوتے ہیں ان کو بھی نہ صرف ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان پر جان لیوا حملے بھی ہوچکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ بائیکاٹ مستقبل میں ایسے مقدمات کے منصفانہ فیصلوں کے حصول تک رہائی کو ناممکن بنارہا ہے اور ساتھ ہی توہین کے ملزمان کو بے یارو مدگارچھوڑے جانے کو یقینی بنا رہا ہے۔
اسلام آباد: ۲؍دسمبر کو اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن کی بنیاد رکھی۔ لیکن اس کی توثیق اس وقت ہی ہوئی جب قانون دانوں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ اس میں احمدی شامل نہیں ہوں گے۔ وزراء نے بار ہا اس بات کو دہرایا کہ یہ کمیشن احمدیوں کے لیے کام نہیں کر سکتا کیونکہ احمدی آئین پاکستان کے مطابق خود کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔ وزراء نے آئین پاکستان کی ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم اور بعد ازاں ۱۹۸۴ء میں بنائے جانے والے احمدیت مخالف قوانین کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احمدی اپنی آئینی حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اس لیے وہ اس کمیشن سے مستفید نہیں ہو سکتے۔
احمدیوں کو اس کمیشن کی دسترس سے باہر رکھنے کا یہ عمل ۲۰۲۰ء میں بنائے جانے والے اس کمیشن کی بازگشت ہے جس سے احمدیوں کو خارج کیا گیا تھا اور اس پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دونوں مواقع پر ہی قانون سازوں نے کہا کہ احمدی کسی بھی طرح ہمارے قانونی ڈھانچے کا حصہ نہیں بن سکتے اور انہوں نے تمام مذہبی جماعتوں کو یقین دہانی کروائی کہ یہ کمیشن کسی بھی طرح احمدیت مخالف قوانین کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔
بہرحال کمیشن بنانے کے یہ فیصلے کسی حد تک مضحکہ خیز ہی ہیں۔ کیونکہ جماعت احمدیہ بارہا یہ باور کروا چکی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کمیشن کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے احمدی اس بات پر مہر لگا رہے ہوں گے کہ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ احمدیوں کی انسانی حقوق کے لیے ساری تگ ودو اپنی مسلم شناخت کے حصول کے لیے ہے۔ اور ایسے کسی بھی کمیشن میں شمولیت اپنی مسلم شناخت سے دستبرداری کا اعلان ثابت ہو گی۔
علاوہ ازیں یہ کمیشن انتہائی محدود طاقت کے حامل ہیں۔ نہ تو یہ خود سے کسی بھی جرم کا نوٹس لے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی فیصلے پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔ ان کی حیثیت صرف مشیر کی حد تک ہے۔ احمدی تو اس کمیشن سے کبھی مستفید نہیں ہو سکتے تھے۔ یہ صرف ایک سیاسی داؤ تھا اور اس کا مقصد یہ باور کروانا تھا کہ احمدی آئین پاکستان کی جانب سے دیے گئے شہری حقوق سے تو محروم ہیں ہی لیکن وہ ان حقوق سے بھی محروم ہیں جو غیر مسلم اقلیتوں کو ایسے کمیشن بنا کر دیے جارہے ہیں۔ قانون سازی کی ایسی مہم جوئی صرف یہ واضح کرنے کے لیے کی گئی ہے تا کہ ریاست کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ احمدیوں کو سیاسی اور شہری حقوق کے جس دائرے میں مقید کیا گیا ہے وہ اسی دائرے کے اندر ہی رہیں۔ گو کہ احمدیوں کی تعداد ملکی آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔ لیکن پھر بھی وہ توہین کے جھوٹے مقدمات، ہجوم کی جانب سے حملوں ،ناجائز گرفتاریوں، اپنی مساجد اور قبرستانوں پر حملوں کا شکار ہیں۔
سیاسی اور مذہبی دباؤ میں آکر ریاست ایک ایسے قانونی ڈھانچے کو تقویت دے رہی ہے جہاں پر احمدیوں کے شہری حقوق موروثی نہیں بلکہ مشروط ہیں۔ یہ کمیشن ایک ایسی سوچ کو جنم دے رہے ہیں جس میں احمدیوں کو ہر قسم کی قانونی اور ادارہ جاتی شناخت سے محروم کیا جارہا ہے۔
٭…٭…٭



