حاصل مطالعہ

حاصل مطالعہ

(عطاء المجیب راشد۔ امام مسجد فضل لندن)

مبارک اور خوش قسمت شخص

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’وہ شخص بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے جس کا دل پاک ہو اور وہ اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا خواہاں ہوں کیونکہ اﷲ تعالیٰ اس کو دوسروں پر مقدّم کر لیتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد۷ صفحہ ۲۴۰)

بیوگان کے لیے نسخۂ  کیمیا

ایک دفعہ حضرت غلام رسول صاحب راجیکی ؓ شدید بیمار ہوگئے اور انہیں اپنے بچوں اور بیوی کے بارے میں خیال آیا کہ ان کی وفات کے بعد ان کا کیا بنے گا؟ چنانچہ انہوں نے دعا کی جس پر انہیں بشارت ہوئی۔چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں:’’انہی ایام میں اپنی نازک حالت کے پیش نظر جب میں نے اپنی بیوی اور بچوں کی بے کسی اور بے بسی پر نظر کر کے خاص طور پر دعا کی تو مجھے الہامی کلام میں بشارت دی گئی کہ اپنی بیوی اور بچوں کے متعلق یہ وصیت کردی جائے کہ اگر میں وفات پا جاؤں اور انہیں کسی قسم کی ضرورت حقہ پیش آئے تو اس کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ان ناموں کے ساتھ دعا کرلیا کریں۔

یا رزاقُ، یا رحمٰنُ، یا وھّابُ

اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے ان کی اس ضرورت کو پورا فرمادے گا۔‘‘

چنانچہ میں نے اپنے اہل و عیال کے لیے اس بارہ میں وصیت کردی اور ان الہامی ناموں کے ساتھ دعا کرنے کے متعلق میرے دل میں بطور القاء یہ تفہیم ہوئی کہ وہ بیوہ اور یتیم بچے جن کے سر پر مربّیوں کا سایہ نہ رہے۔ان کا ان مبارک ناموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور تنگی رزق کے دور کرنے کے لیے دعا کرنا اللہ تعالیٰ کو خاص طور پران کے لیے متکفّل بنادیتا ہے ۔‘‘ (حیات قدسی صفحہ ۲۰۲)

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ہجرتِ کشمیر کے بارے میں ایک جامع اور مبسوط حوالہ

حضرت مصلح موعودؓ سورۃ المومنون آیت نمبر ۵۱ وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَاُمَّہٗۤ اٰیَۃً وَّاٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیۡنٍ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت مسیحؑ کو صلیب سے بچالیا تھا اس لیے ضروری تھا کہ اب وہ کسی اور ملک کو ہجرت کر جاتے۔کیونکہ ملک شام قیصر روم کے ماتحت تھا اور وہ قیصر کے باغی قرار پا چکے تھے۔اگر حضرت مسیحؑ اس ملک میں رہتے تو دوبارہ گرفتار کر لیے جاتے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہجرت کا حکم دے دیا اور پھر اپنے فضل و احسان سے انہیں ایک ایسے بلند مقام پر جگہ دی جو اُن کے دشمنوں کی دست درازی سے محفوظ تھااور جہاں خوشگوار پانی کے چشمے بہتے تھے۔یہ مقام جیسا کہ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کشمیر کا علاقہ ہے جسے اعلیٰ درجہ کے چشموں اور سر سبز و شاداب مقامات اور نہایت عمدہ آب و ہوا کی وجہ سے لوگ جنّت نظیر قرار دیتے ہیں بلکہ خود کشمیر کا لفظ حضرت مسیح ؑ کے سفرِ کشمیر کی طرف صریح اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ کشمیری زبان میں کشمیر کو کشیر کہتے ہیں جو درحقیقت ایک عبرانی لفظ ہے جو کاف اور اشیر سے مرکب ہے کاف کے معنے مانند کے ہیں اور اشیر عبرانی زبان میں ملک شام کو کہتے ہیں۔پس کشیر کے معنے تھے ’’ ملک شام کی مانند۔‘‘لیکن کثرت استعمال سے الف ساقط ہو گیا اور صرف کشیر رہ گیا۔جسے بعد میں غیر قوموں کے لوگوں نے آہستہ آہستہ کشمیر بنا دیا۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ کشمیری زبان میں اب تک کشمیر کو کشیر ہی کہا جاتا اور اسی طرح لکھا جاتا ہے اور کشمیر کے رہنے والوں کو کشمیر ی لوگ کاشر کہتے ہیں اور پنجابی لوگ کشمیری کہتے ہیں۔پھر صرف کشمیر کا لفظ ہی اس امر کا ثبوت نہیں کہ کسی زمانہ میں عبرانی قوم اس جگہ ضرور آباد رہ چکی ہے بلکہ تاریخی کتب سے صراحتہً ثابت ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہزادہ نبی کہلاتا تھا اُس کی قبر محلہ خان یار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔یہ لفظ جیسا کہ بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتب میں لکھا ہے یسوع آصف کا بگڑا ہو ا ہے۔آصف عبرانی زبان میں اُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی قوم کو تلاش کرنے والا ہو اور یوز کا لفظ یسوع سے بگڑا ہوا ہے گویا مسیحؑ کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ وہ اسرائیل کے اُن دس قبائل کی تلاش اور اُن کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لیے نکلے تھے جن کو بخت نصر غلام بنا کر لے آیا تھااور جسے اُس نے مشرق کے علاقوں یعنی افغانستان اور کشمیر میں لاکر بسا دیا تھا۔‘‘

(History of Afghanistan p۔39 & The Races of Afghanistan chapter 2 p15)

حضرت مصلح موعودؓ مزید فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ فلسطین میں اُن کے خلاف مخالفت کی ایک عام رو چل پڑی۔یہاں تک کہ حکومت کی طرف سے آپ پر بغاوت کا مقدمہ دائر کیا گیا اور اس کے لیے پھانسی کی سزا تجویز ہوئی مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے یوناہ نبی کو موت کے مونہہ سے بچالیا تھا اسی طرح حضرت مسیح ؑ کو بھی اس نے صلیبی موت سے بچا لیا اور چونکہ اس کے بعد وہ اپنے ملک میں نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ حکومت کی طرف سے جسے پھانسی کا حکم مل چکا ہو وہ اگر بچ بھی رہے تو دوبارہ تختۂ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔اس لیے انہوں نے اس ملک کو چھوڑ دیا اور باوجود اس کے کہ فلسطین سے افغانستان اور کشمیر تک کا راستہ بڑا ہولناک تھا پھر بھی وہ ہجرت کرکے ان ممالک میں آئے اور جیسا کہ قرآن کریم بتاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے کشمیر کو دارالہجرت بنایا جو ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ کا مصداق تھا۔یعنی وہاں انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے امن و عافیت کے ساتھ رہائش اختیار کر لی اور پھر یہ جگہ ایسی تھی جہاں نہ صرف صاف پانی کے چشمے تھے بلکہ یہ علاقہ اپنی ٹھنڈک اور سرسبزی و شادابی میں ملک شام کی مانند تھا جہاں پہنچ کر اُن کی تمام کلفتیں دور ہوگئیں اور وہ ایک سو بیس سال کی عمر تک خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہے (کنز العمال کتاب الفضائل، من قسم الافعال، الباب الثانی فی فضائل سائرالانبیاء) اور آخر انہوں نے یہیں وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں دفن ہوئے جہاں آج تک اُن کی قبر پائی جاتی ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۸ صفحہ ۳۳۲ تا ۳۳۴)

پیارے حضور ہم سب کے لیے کس طرح دعا کرتے ہیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رات کو سونے سے پہلے جب میں قُلْ یا آیت الکرسی پڑھتا ہوں اور پھونکتا ہوں تو میں اللہ سے دنیا بھر کے احمدیوں کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان پر فضل فرمائے اور ان پر رحم کرے۔ بالکل ویسے ہی جس طرح والدین سونے سے پہلے اپنے بچوں پر دعائیں پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ جب میں سونے سے پہلے یہ دعائیں پڑھتا ہوں تو ساری جماعت پر پھونکتا ہوں جو میرے بچوں کی طرح ہیں۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍مئی ۲۰۲۱ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عالمی امن کا قیام انصاف کےقیام کے بغیر ممکن نہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button