مختصر عالمی جماعتی خبریں
اس کالم میں الفضل انٹرنیشنل کو موصول ہونے والی جماعت احمدیہ عالمگیر کی تبلیغی و تربیتی مساعی پر مشتمل رپورٹس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
………………………
[ بینن(مغربی افریقہ)]
بوئی کوں ریجن کے گاؤں Tindji میں احمدیہ مسجد کا کامیاب اور بابرکت افتتاح
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ بینن کو ریجن بوئی کوں کے گاؤں تینجی (Tindji)میں22جنوری 2016ء بروز جمعۃالمبارک کو مسجد کا افتتاح کرنے کی توفیق ملی۔الحمد للہ۔
اس گائوں میں احمدیت کاپودا مارچ 2015ء میں مکرم عبدالقدوس صاحب مبلغ سلسلہ کے ذریعہ لگا اور اس گائوں کے 245 لوگ احمدیت کی آغوش میں آئے۔ یہ سب لوگ نائیجرکے مسلمان ہیں اور تیجانی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے ذریعہ یہ گاؤں احمدی ہو گیا۔
احمدیت قبول کرنے کے بعد گاؤں کے احمدیوں کو اپنے رشتہ داروں ، گاؤں کے امام اور مختلف ائمہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔22؍اکتوبر 2015ء کو رانا فاروق احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بینن نے جب احمدیہ مسجد کی بنیاد رکھی تو اس کے بعد غیر از جماعت علماء نے کھل کر مخالفت کا مظاہرہ کیا۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت اپنے عہدِ بیعت پر مضبوطی سے قائم رہے۔
22 جنوری 2016ء کو مسجد کی افتتاحی تقریب کے لئے مکرم رانا فاروق احمد صاحب امیر صاحب بینن، مکرم الثانی رحمن صاحب اور مکرم راجی شہود صاحب مہمانِ خصوصی کے طور پر شامل ہوئے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ اس کے فرنچ ترجمہ اور قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع فرنچ ترجمہ کے بعد جماعت احمدیہ تینجی (Tindji) کے صدر صاحب نے حاضرین کو خوش آمدید کہا۔اس تقریب میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کی اتھارٹیز اورملک کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے مسلمان علماء شامل ہوئے۔
مکرم عارف محمود شہزاد مبلغ سلسلہ بینن کی محررہ رپورٹ کے مطابق اس علاقہ کے بڑے شہر آبومے (Abomey)کے کالج کے ڈائریکٹر، علاقہ کے چیف، نائب مئیر،کوتونوو شہر سے آئے ہوئے امام ادریس نے پورے ملک کے علماء کی نمائندگی میں اور ایک گورنر کے نمائندہ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سب نے خوبصورت مسجد تعمیر کرنے پر جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا ، نیک تمنّاؤں کا اظہار کیا اور دعائیں دیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو آئندہ بھی اسلام کی خدمت کرنے اور دنیا میں امن پھیلانے کی توفیق دیتا چلا جائے۔
اس کے بعد مکرم رانا فاروق احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بینن نے خطاب کیا۔آپ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑا پُر امن مذہب دیا ہے جس کا نام ہی اس کی سلامتی اور امن کا ضامن ہے یعنی اسلام ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم امن کی تعلیم ہے۔ جب مسلمانوں کو مکہ میں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا کہا لیکن پُر امن رہنے کی تلقین کی۔ہجرت مدینہ کے بعد آپؐ نے مدینہ میں پہلی اسلامی مسجد تعمیر کی جسے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مختلف مذاہب کے لوگ ملنے کے لئے آتے تھے تو آپؐ نے ان کو بھی ان کے اپنے اپنے طریق کے مطابق خدائے واحد کی عبادت کرنے کی اجازت دی۔یہ احمدیہ مسجد بھی عبادت کی غرض سے سب کے لئے کھلی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ تبلیغ کا اور خدا کی طرف بلانے کا ایک مرکز ہے۔
اس کے بعد مکرم امیر صاحب اور نائب گورنر صاحب نے مل کر فیتا کاٹا۔اورامیر صاحب نے دعا کروائی۔ اس کے بعد نماز جمعہ کے لئے پہلی اذان دی گئی۔نماز جمعہ کے بعد کھانے کے ساتھ مہمانان کی تواضع کی گئی۔
اس پروگرام میں 13 جماعتوں کی نمائندگی ہوئی اور کُل شاملین کی تعداد 615 رہی۔ بعض لوگ موٹر سائیکلوں پر آئے۔ ایک جماعت (Alohon) کے نو افراد چودہ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔
……………
مسجد کی عمارت 10 میٹر چوڑی اور 13 میٹر لمبی ہے جس میں 375 ؍افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد کے سامنے کے ایک حصہ میں چھوٹا سا صحن بنایا گیا ہے جہاں پر بوقت ضرورت125افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔مسجد کے ساتھ دو خوبصورت13میٹر بلند مینار بنائے گئے ہیں۔اس مسجد کے اخراجات مکرم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن نے ادا کئے ۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے۔
٭…٭…٭
[ یوکے]
Hayesمیں تبلیغی نشست کا کامیاب انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے یوکے کی جماعت ہیز (Hayes)کو مسجد بیت الامن میں مورخہ 31جنوری 2016ء ایک کامیاب تبلیغی نشست منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعد ازاں مہمانوں کو ایک documentary دکھائی گئی جو جماعت احمدیہ کے تعارف اور حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف پارلیمینٹس میں خطابات کی جھلکیوں پر مشتمل تھی۔اس کے بعدریجنل قائد صاحب نے خدام الاحمدیہ کے تحت ہونے والے خدمتِ خلق کے کاموں پر روشنی ڈالی اور بتایاکہ کس طرح جماعت احمدیہ کے نوجوان انسانیت اور اس ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ پھر بچوں نےLove for All Hatred for None کے موضوع پر ایک ترانہ پیش کیا۔
Mr John McDonnel MPنے اپنے مختصر ایڈریس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کر چکے ہیں اور جماعت احمدیہ کے سالانہNational Peace Symposiums میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں جماعت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب کبھی اور جہاں کہیں مشکل پیش آئے افراد جماعت ہر وقت خدمت کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں خواہ وہ مقامی سطح پر ہو یا ملکی سطح پر۔
اس کے بعد مکرم عطاء المجیب راشد صاحب مشنری انچارج یوکے نے اپنے خطاب میں حاضرین کو اسلام کی خوبصورت اور پُر امن تعلیم سے آگاہ کیا اور اپنی تقریر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اور اسوۂ حسنہ سے مزیّن کیا۔
خطاب کے بعد مکرم عطاء المجیب راشد صاحب نے مہمانوں کو سوالات کرنے کا موقع دیا ۔ سوال و جواب کی اس مجلس میں مہمانوں نے بڑی دلچسپی کا اظہار کیا اورمقررہ وقت سے تجاوز کر کے بہت دیر تک یہ سوال و جواب کی محفل چلتی رہی۔
سوال و جواب کے اختتام پر مکرم عطاء المجیب راشد صاحب نے دعا کروائی جس کے بعد مہمانوں کو عشائیہ پیش کیا گیا اور اس دوران بھی مہمانوں کے ساتھ گفتگو اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔
مکرم منصور احمد چٹھہ صاحب ریجنل مبلغ مڈل سیکس یوکے کی مرسلہ رپورٹ کے مطابق سب مہمانوں کو کتاب World Crisis and the Pathway to Peaceدی گئی۔ پادری صاحبان کو اس کتاب کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تصنیف Revelation, Rationality, Knowledge and Truth بھی دی گئی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تقریب میں ایک ممبر آف پارلیمنٹMr John McDonnell MP ، لوکل مئیر، چھ کونسلرز ، چار پولیس افسران اور تین ہیڈ ٹیچرز کے علاوہ مختلف چرچز(Churches)سے تعلق رکھنے والے آٹھ پادری بھی شامل ہوئے۔غیر از جماعت مہمانوں کی کل تعداد 120 تھی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پروگرام میں شامل مہمانان نے اچھے تأثرات کا اظہار کیا ۔
٭…ایک پادری صاحب نے سوالیہ انداز میں مکرم منصور احمد چٹھہ صاحب ریجنل مبلغ سے کہا کہ آپ لوگ بہت دیر سے پروگرام کی تیاری کر رہے ہو ں گے اور بڑی محنت کرنی پڑی ہو گی؟ مبلغ صاحب نے انہیں بتایا کہ اس پروگرام کی تیاری صرف چند ہفتوں میں ہوئی ہے۔
٭… ایک عیسائی دوست اس تقریب میں شامل نہ ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے روزیعنی اتوار کو گرجا (Christ Church) میں بھی اس تقریب کا ذکر ہو رہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ عیسائیت میں بھی فرقہ بازی ہے اور ان کے چرچ میں یہ ذکر چل رہا تھا کہ جماعت احمدیہ نے ایسے عیسائیوں کو جو کبھی کسی ایک گرجا میں اکٹھے نہیں ہوتے ایک مسجد میں اکٹھا کر لیا ۔
٭… ایک پادری Rev. Andrew Pottage نے کہا کہ بعض سوالات نا مناسب تھے مگر آپ لوگوں کا جواب اور ردّ ِعمل بہت ہی اچھا تھا۔
Online Mediaپر بھی اس تقریب کی خبر شائع ہوئی ہے۔ ایک انگریز کو جب علم ہوا کہ print media نے ہماری خبر شائع نہیں کی تو اس نے تقریب کی رپورٹ ریجنل اخبار میں بھی شائع کرا دی۔
ایک گرجا کے نمائندہ نے اپنے گرجا(Seer Green Church)کے Bulletin میں اس تقریب کی تصاویر اور رپورٹ شائع کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے پروگرام کے بعد بھی جماعت احمدیہ کے تعارف کا سلسلہ جاری رہا۔
…………………………
[ مالٹا]
مالٹا کے ایک چرچ کی عمارت میں
اسلامی تعلیمات کا تذکرہ
اسلام : ایک خطرہ یا امن کا ذریعہ؟
مالٹا کے ایک چرچ Millennium Chapel Foundation کی طرف سے اسلام سے متعلق ایک لیکچر کی دعوت ملی۔ چرچ کے Coordinator مکرم Anthony Curmi صاحب نے لکھا کہ وہ جماعت کی طرف سے اخبارات میں لکھے جانے والے مضامین سے بہت متأثر ہیں اور چرچ کے پادری صاحب کی بھی خواہش ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد ہمارے لوگوں کو اسلام سے متعلق ایک لیکچر دیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مؤرخہ 21 جنوری 2016ء چرچ کی عمارت میں Islam: a threat or a source of peace? کے عنوان پر مکرم لئیق احمد عاطف صاحب مبلغ سلسلہ مالٹا نے ایک تفصیلی لیکچر دیا اور بعد میں حاضرین کے سوالات کے جوابات دئیے۔ یہ پروگرام ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔
اس پروگرام کے بعد منتظمین نے لکھا کہ ہم کئی سالوں سے پروگرام منعقد کررہے ہیں لیکن اتنی حاضری کبھی نہیں ہوئی جتنی اس لیکچر کے دوران تھی۔یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ یہ مضمون لوگوں کی خصوصی دلچسپی کا باعث ہے۔ ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیم جاننے کا موقع ملااور تمام حاضرین بہت خوش تھے اور ان کی طرف سے بہت اچھاFeedback ملا ہے۔
چرچ کے پادری مکرم Hilary Tagliaferro نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آپ کا ہمارے پروگرام میں آنا اورایک نہایتenlightening talk پیش کرنا ہمارے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ہمیں دنیا میں امن ومحبت کے قیام کے لئے مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو اپنے فضلوں سے نوازے۔
ا س پروگرام میں تمام حاضرین کو جماعت کے تعارف پر مشتمل فولڈر اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتاب ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘کا مالٹی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔
اس پروگرام میں مسلمان، یہودی اور عیسائی لوگوں نے شرکت کی۔ حاضرین کی کل تعداد 70 تھی۔
…………………
قارئین الفضل سے دعاکی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ عالمگیر کی تبلیغی و تربیتی مساعی میں بہت برکت دے اور ان کے شیریں ثمرات عطا فرمائے۔ آمین۔
٭…٭…٭




