تازہ ترین: آپ سارے عالَم میں محمد رسول اللہﷺ کے جھنڈے کو سب جھنڈوں سے بلندتر لہرانے والے ہوں (خلاصہ اختتامی خطاب سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ)

٭… آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ جماعت کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس عمر میں آپ کو اپنے اپنے پیشوں میں بھی محنت کےساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے
٭… نَوجوانی کی عمر صحت مندی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آپ کی عمر میں تھکاوٹ اور سستی کے بہانے نماز کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔ نماز کو وقتِ مقررہ پر ادا کیا جانا چاہیے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جس کا موت کے بعد سب سے پہلے سوال ہوگا۔ اس دَور میں جب بےحیائی عروج پر ہے تو اس کے بد اثرات سے بچنے کےلیے بھی نمازوں کی طرف راغب ہونا ضروری ہے۔
٭…آپ جو خدام الاحمدیہ ہیں آپ یاد رکھیں کہ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے، خلافتِ احمدیہ کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خلافت کی جانب سے دیے جانے والے ہر ہر حکم پر اس کی مکمل رُوح کے ساتھ عمل کریں گے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یقیناً آپ اس کےنتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے والے ہوں گے
(۲۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل)اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز اتوار مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع (منعقدہ ۲۵تا۲۷؍ستمبر۲۰۲۶ء) سے انگریزی زبان میں بصیرت افروز اختتامی خطاب ارشاد فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔ امسال اجتماع گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہوا۔ مقام اجتماع اسلام آباد ٹلفورڈ سے گاڑی پر پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع تھا ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے‘‘ ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چار بج کر دس منٹ پر مقام اجتماع میں رونق افروز ہوئے۔ بعد ازاں درج ذیل گروپس کو حضور انور کے ساتھ اجتماع گاہ کے باہر تصاویر کھنچوانے کی سعادت حاصل ہوئی:
علمی مقابلہ جات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے خدام و اطفال نیز بہترین کارکردرگی دکھانے والی مجالس کے نمائندے، مجالس اطفال الاحمدیہ کی نیشنل مجلس عاملہ و ناظمین اطفال و اطفال الاحمدیہ کی اجتماع کمیٹی، قائدین مجالس، اجتماع کمیٹی، سائٹ ٹیم اور سائٹ پر کام کرنے والے ریجنز۔ اس کے بعد حضورِانور نے چار بج کر سولہ منٹ پر لوائے خدام الاحمدیہ لہرایا اور دعا کروائی۔
بعد ازاں حضور پُر نور اجتماع گاہ میں تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر کی امامت فرمائی۔ بعد ازاں چار بج کر 45 منٹ پر والہانہ نعروں کی گونج میں حضورِانور کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے اور ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عنایت فرمایا جس کے بعد اختتامی اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
مکرم خان فرید احمد صاحب نے سورۃ النور کی آیات ۳۶ تا ۳۹ کی تلاوت کی۔ متلوّ آیات کا انگریزی زبان میں ترجمہ مکرم محسن راجہ صاحب کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔ بعد ازاں حضور انور کی اقتدا میں تمام حاضرین نے خدام الاحمدیہ کا عہد دہرایا۔
مکرم عبد الحئی سرمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے منظوم کلام ’کس قدر ظاہر ہےنور اس مبدء الانوار کا‘ میں سے بعض اشعار پیش کیے۔ ان اشعار کا انگریزی ترجمہ مکرم سید عیشان احمد صاحب کو پیش کرنےکی سعادت ملی۔ اس کے بعد مکرم فرہاد احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی جس کے اختتام پر اجتماع کی جھلکیوں پر مشتمل ایک ویڈیو دکھائی گئی۔
حضور انور کی اجازت سے مکرم عتیق الرحمٰن صاحب (نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ) نے سال ۲۰۲۴-۲۰۲۵ء کے دوران عمدہ کارکردگی پر علَمِ انعامی حاصل کرنے والی اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کی مجالس کا اعلان کیا۔ مجلس اطفال الاحمدیہ میں قیادت اسلام آباد جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ میں قیادت بورن ماؤتھ (Bournemouth) علم انعامی کی حق دار قرار پائی۔ ان مجالس کے ناظم اطفال اور قائد مجلس کو علی الترتیب حضورانور کے دست مبارک سے علم انعامی وصول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
پانچ بج کر 14 منٹ پر حضورِانور منبر پر تشریف لائے اور اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ خدام الاحمدیہ جماعت کے اُن مردوں کی تنظیم ہے جن کی عمریں پندرہ سال سے لےکر چالیس سال کے درمیان ہیں۔ جبکہ اطفال الاحمدیہ سات سے پندرہ سال کے بچوں ک تنظیم ہے۔ خادم کی عمر علمی اور شعوری اعتبار سے عملی زندگی کے آغاز کی عمر ہے۔ پس
آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ جماعت کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس عمر میں آپ کو اپنے اپنے پیشوں میں بھی محنت کےساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ گوکہ مذہبی اور دینی جماعتوں کی ترقی کا دارومدار افراد کی علمی و پیشہ وارانہ ترقی پر منحصر نہیں بلکہ خدا کی مدد پر موقوف ہے۔ خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کے لیے انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے۔ دینی جماعتیں اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتیں جب تک اُس کے پیروکار ان باتوں پر مکمل عمل کرنے والے نہ ہوں۔ یہ ہماری کیسی خوش قسمتی ہے کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے مبارک دَور میں پیدا ہوئے ہیں۔ آپؑ کی بعثت کی پیش گوئیاں قرآن اور حدیث میں فرمائی گئی تھیں۔ کتنے ہی لوگ اس مبارک دَور کو دیکھنے کی خواہش لیے، دعائیں کرتے ہوئے ، اس جہان سے گزر گئے۔ پس
آپ اپنی اس خوش قسمتی کو یاد رکھیں کہ آپ نہ صرف اس دَور میں پیدا ہوئے بلکہ آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت سے وابستہ ہونے کی بھی توفیق ملی۔ اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ آپ تقویٰ اختیار کریں، خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ حضورؑ کی پیش فرمودہ دس شرائطِ بیعت کو پیشِ نظر رکھیں۔
آج مَیں دو شرائطِ بیعت کا ذکر کروں گا۔
سب سے پہلی شرطِ بیعت نماز اور آنحضورﷺ کی اطاعت سے متعلق ہے۔ یاد رکھیں کہ سب سے اہم عبادت کی قسم نماز ہے۔ وہ دین دین نہیں جس میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں۔ صلوٰة سے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ نماز بری اور ناپسندیدہ باتوں سےروکتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے خشوع و خضوع اختیار کرو۔ روزہ اور زکوٰة وغیرہ عبادتیں بھی ضروری ہیں مگر نماز سب سے زیادہ اہم ہے۔ اپنی دعاؤں میں اس بات کو یاد رکھیں کہ ہمارا خدا سب طاقتوں کا سرچشمہ ہے، پھر دعاؤں میں تضرع اور خشوع خود پیدا ہوجائے گا۔
حضور انور نے فرمایا کہ بعض دفعہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ اس حوالے سے بےچینی اور بےقراری کی بجائے یہ غور کرنا چاہیے کہ کیا مَیں اللہ تعالیٰ کے سب احکامات پر عمل کر رہا ہوں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ یقیناً دعاؤں کو سنتا ہے مگر اُن لوگوں کی دعاؤں کو جو یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہی سب طاقتوں کا منبع ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر وہ اس کے احکامات پر مکمل عمل کرتے ہیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی دعاؤں کو سنتا ہے۔
نماز میں یہ طاقت ہے کہ وہ برائیوں سے بچاتی ہے۔ بعض لوگ یہ بہانے بناتےہیں کہ ہم اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ نماز میں سستی ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی بہانے لےکر جب بعض نَومسلم حضرت رسول کریمﷺ کے پاس آئے تھے تو آپؐ نے انہیں واضح فرمادیا تھا کہ یاد رکھو! اگر نماز نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ یعنی وہ دین دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ عبادت کے بغیر ایمان نہیں ہوا کرتا۔

حقیقی مومن نماز سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم مجھے یاد رکھو مَیں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میری شکرگزاری کرو اور ناشکری مت کرو۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا جو اُس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں۔
نَوجوانی کی عمر صحت مندی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آپ کی عمر میں تھکاوٹ اور سستی کے بہانے نماز کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔ نماز کو وقتِ مقررہ پر ادا کیا جانا چاہیے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جس کا موت کے بعد سب سے پہلے سوال ہوگا۔ اس دَور میں جب بےحیائی عروج پر ہے تو اس کے بد اثرات سے بچنے کےلیے بھی نمازوں کی طرف راغب ہونا ضروری ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ نماز دس سال کی عمر سے فرض ہے،اس لیے یہ نہ سوچیں کہ ابھی تو مَیں بچہ ہوں، ابھی تو مَیں کم عمر ہوں؛ ساری زندگی پڑی ہے نمازیں پڑھنے اور عبادات کرنے کےلیے۔ نہیں! ایسا نہیں ہے، بلکہ اسی عمر سے آپ نے نمازوں کی طرف پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ کرنی ہے۔
پھر آپ کے عہد ہیں اُن کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ مَیں اس وقت دسویں شرطِ بیعت کی طرف بھی آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ دسویں شرط میں یہ مضمون ہے کہ ہر بیعت کنندہ مردوزن حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اخوّت کا تعلق پیدا کرے اور ہر معروف بات میں آپؑ کی فرمانبرداری اختیار کرے۔
یہ کوئی معمولی وعدہ یا عہد نہیں بلکہ یہ اُس امام الزمان کے ساتھ عہدِ اخوّت و موَدَّت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق مبعوث فرمایا ہے۔ پس اس عہد کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعودع کے مشن کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ و ہر آن کوشاں رہنا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو شخص اس عہدِ اخوّت و موَ دَّت پر کما حقہٗ کاربند ہوگا وہ لازماً جماعت سے وابستگی اور محبت میں بھی ترقی کرے گا۔ اُس کی خلافت سے وابستگی اور محبت بھی روز بہ روز بڑھتی چلی جائے گی۔ وہ اس بات کو سمجھنے والا ہوگا کہ عہدیداران کی کمزوریاں اور خامیاں اُن کی شخصی کمزوریاں اور خامیاں ہیں۔ یہ کمزوریاں ہماری حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کےمشن کے ساتھ وابستگی کو کمزور کرنے والی نہیں بن سکتیں۔ خدا تعالیٰ نے ہر معروف فیصلے پر عمل کی تلقین فرمائی ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ معروف سے کیا مراد ہے؟ یہ بڑی سادہ سی بات ہے یعنی یہ کہ معروف بات ہر اُس ہدایت یا فیصلے کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ، قرآن کریمِ اور رسول اللہﷺکے احکامات کی روشنی میں ہو۔ جب یہ بات سمجھ لی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے خلفاء کے تمام احکامات اسی تعریف کے ذیل میں آتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اطاعت کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ جب تک امیر ایسا حکم نہ دے جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کےا حکامات کے صریح خلاف ہو تب تک اس کی اطاعت لازماً کرنی ہے۔ ہماری جماعت تو خلافت کے زیرِ قیادت ہےاس لیے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ خلیفہِ وقت کوئی ایسا حکم دے جو خدا اور اُس کے رسول کے احکامات سے ٹکرانے والا ہو۔ سورہ نُور جس میں خلافت کاذکر ہے اُسی سورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑی بڑی قسمیں کھانے اور کھوکھلے دعوے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ معروف اطاعت کی ضرورت ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ پس! اصل اطاعت وہ ہے جو عملی طور پر نظر آئے جو آپ کے افعال سے ظاہر ہو۔
حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے نظامِ خلافت کو جاری فرمایا ہے۔ خلافت کے قیام کا وعدہ رسول کریمﷺ کا وعدہ ہےیعنی یہ کہ مسیح موعود کے بعد اُس کی خلافت قائم ہوگی؛ پھر اس خلافت نے قیامت تک جاری رہنا ہے ان شاء اللہ۔ مگر یہ وعدہ خلافت کے متبعین کے ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ خلافت کے ماننے والے تقویٰ میں ترقی کرتے جائیں اور معروف کی اطاعت کریں۔
پس
آپ جو خدام الاحمدیہ ہیں آپ یاد رکھیں کہ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے، خلافتِ احمدیہ کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خلافت کی جانب سے دیے جانے والے ہر حکم پر اس کی مکمل رُوح کے ساتھ عمل کریں گے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یقیناً آپ اس کےنتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے والے ہوں گے۔
اس کے لیے تقویٰ شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا اولین شرط ہے۔ جب آپ ایسا کرنےو الے ہوں گے تب ہی آپ شرائطِ بیعت پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔ ہر قربانی کے لیے تیار رہنے کا یہی مفہوم ہے۔
اللہ کرےکہ آپ اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کرنے والے ہوں اور پھر اِس روحانی تبدیلی کو دنیا تک پہنچاسکیں۔ آپ کی زندگیاں حقیقی رنگ میں مومنانہ شان رکھنے والی ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی غلامی میں آپ کی زندگیاں بسر ہوں۔
آپ وہ لوگ ہوں جو سارے عالَم میں محمد رسول اللہﷺ کے جھنڈے کو سب جھنڈوں سے بلندتر لہرانے والے ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس امتحان میں سرخرو فرمائے۔ آمین
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب پانچ بج کر ۵۷؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کروائی۔ دعا کے بعد اطفال و خدام نے ترانے پیش کیے۔ ترانوں کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرما کر اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔
رپورٹ صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ حضور انور کے خطاب سے قبل صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔ یہ رپورٹ حسب ذیل ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
پیارے حضور! ذیل میں اجتماع کی مختصر رپورٹ پیش ہے۔
اس سال کے اجتماع کا مرکزی موضوع، جو ہمیں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے عطا ہوا، تھا: ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔‘‘
پیارے حضور! اس سال کے اجتماع کی چند نمایاں خصوصیات میں ایمان افروز اور تربیتی پروگرام شامل تھے۔ ان میں جماعتِ احمدیہ کبابیر کے امیر جماعت، محترم محمد شریف عودہ صاحب کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی شامل تھی۔
اسی طرح ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں اس سال کے موضوع کو تاریخ اور اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی زندگیوں کے آئینے میں اجاگر کیا گیا۔
اجتماع میں معلوماتی اور تعلیمی کوئزز اور مختلف دلچسپ سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا جن کے ذریعے خدام کو اپنی دینی اور عمومی معلومات جانچنے کا موقع ملا۔ ایک ہزار سے زائد خدام نے ان کوئزز میں حصہ لیا۔
اس سال پہلی مرتبہ علمی مقابلہ جات کے فائنل میں براہِ راست حاضرین کی ووٹنگ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تلاوت کے مقابلے میں ۵۰۰؍ سے زائد، نظم میں ۷۰۰؍ سے زائد جبکہ تقریر کے مقابلہ میں ۲۰۰؍ سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔
نوجوانوں کے لیے ایک خصوصی یوتھ مارکی بھی قائم کی گئی جہاں مختلف اہم عصری موضوعات پر تقاریر اور نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان پروگراموں میں بالخصوص ۱۵ سے ۱۸؍ سال کی عمر کے نوجوانوں کو مدنظر رکھا گیا۔
اس سال اطفال کے پروگرام کو اطفال اور والدین کی آراء کی روشنی میں مزید بہتر بنایا گیا۔ علمی مقابلہ جات اور کھیلوں جیسی روایتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ منفرد اور تفریحی پروگرام بھی شامل کیے گئے۔ ان میں ماسٹر بیک آف چیلنج، مارشل آرٹس شو اور سال کے مرکزی موضوع پر اطفال کی خصوصی مجالس شامل تھیں۔
اس کے علاوہ اطفال کے لیے رات کے وقت بھی مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا جن میں فلکیات کا پروگرام اور بون فائر کے گرد تربیتی و دوستانہ نشستیں شامل تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس سال اجتماع میں مہمانوں سمیت کل ۸۔۱۳۸؍ افراد نے شرکت کی۔
پیارے حضور! اجتماع کی انتظامی ٹیمیں ایسے نوجوان پیشہ ور افراد پر مشتمل تھیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت وقف کرکے اجتماع میں ایک خوبصورت ماحول اور باہمی محبت و اخوت کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کیا۔
خاکسار پوری مجلس کی جانب سے ان تمام رضاکاروں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے اور حضورِ انور سے ان کی انتھک کوششوں کے لیے خصوصی دعاؤں کی عاجزانہ درخواست کرتا ہے۔
خاکسار اجتماع کمیٹی کے تمام اراکین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے جس کی قیادت نائب صدر محترم عتیق الرحمٰن صاحب نے کی جنہوں نے اس سال ناظمِ اعلیٰ کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔ اسی طرح ہم جماعتِ احمدیہ برطانیہ، مجلس انصار اللہ، لجنہ اماء اللہ، جلسہ سالانہ مینجمنٹ اور ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی ٹیموں کا بھی ہم تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر، پوری مجلس کی جانب سے ہم حضورِ انور کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم حضورِ انور کی مسلسل رہنمائی اور دعاؤں کے شکر گزار ہیں جن کی بدولت اس سال ایک کامیاب اجتماع منعقد ہوسکا۔ ہم اس بات پر بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ حضورِ انور نے ازراہِ شفقت اجتماع کے اختتامی اجلاس میں بنفسِ نفیس تشریف لا کر ہمیں برکتوں سے نوازا۔
پوری مجلس کی جانب سے خاکسار حضورِ انور سے عاجزانہ درخواست دعا کرتا ہے کہ ہم ہمیشہ حضرت خلیفۃ المسیح کی ہدایات اور توقعات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔ پیارے حضور! آپ کی اجازت سے اب ہم تین روزہ اجتماع کی جھلکیوں پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جزاکم اللہ۔
ادارہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل محترم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ، انتظامیہ اجتماع اور ممبران مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کو اس کامیاب اجتماع پر مبارک باد پیش کرتا ہے نیز دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو حضور انور کی زرّیں نصائح پر کما حقہٗ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭…٭…٭
