ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۲)
فرمایا: ’’قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا (الشمس : ۱۱)مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کوآلودہ کرلیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔ گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خد اتعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قویٰ بشریہ کے برے طریق کو نہیں چھوڑتا۔اس وقت تک خد انہیں ملتا۔ دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو۔ورنہ
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دُوں
ایں خیال است و محال است و جنون‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۵۸ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل : اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعرمولانا جلال الدین رومی کاہےجوکہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔شعر مع اعراب واردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔
ہَمْ خُدَا خَواہِیْ وَہَمْ دُنْیَائے دُوْں
اِیْں خَیَالْ اَسْت ومَحَالْ اَسْت وجُنُوْں
ترجمہ: تو خدا کاطالب بھی بنتا ہے اور حقیر دنیا کابھی۔یہ محض وہم ہے،ناممکن ہے اور دیوانگی ہے۔
لغوی بحث: ہَمْ (بھی) خُدَا(خدا) خَواہِیْ (توچاہتا۔ خواستن (چاہنا) مصدر سے مضارع سادہ دوم شخص مفرد) وَ(اور) ہَمْ(بھی) دُنْیَائے دُوْں(حقیردنیا) اِیْں(یہ) خَیَالْ (وہم) اَسْت (ہے) و(اور) مَحَالْ (ناممکن) اَسْت (ہے) و(اور) جُنُوْں(دیوانگی)
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ نوربری، یوکے کے زیرِ اہتمام عید الاضحی کے موقع پر خصوصی تقریب



