اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
لالیاں ۔ضلع چنیوٹ: پنجاب حکومت کی انتظامیہ لالیاں ضلع چنیوٹ میں ایک احمدی پرنسپل کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی جہاں سکول کے ایک ملازم کی جانب سے مذہب کو ہتھیار بنا کر بار بار احمدی پر نسپل کو ہراساں کیا جاتا رہا۔
مئی ۲۰۲۱ء سے موصوف گورنمنٹ ہائی سکول پیر پنجہ میں بطور ہیڈ ماسٹر تعینات ہیں اور انہیں گریڈ ۴ کے ایک ملازم عطا محمد کی جانب سے مسلسل ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے اساتذہ نے عطا محمد پر کام چوری اوربد عنوانی کے الزامات عائد کیے ۔ جب ہیڈ ماسٹر نے عطا محمد کی باز پُرس کی تو ان کے آپسی معاملات بگڑ گئے۔ ۲۰۲۴ء کے اواخر میں جب ہیڈ ماسٹر نے سکول میں لکھی قرآنی آیات کو دوبارہ سے لکھنے کےلیے کہا جو کہ ایک معمول کی کارروائی تھی تو عطا محمد نے اس بات کو بہانہ بناکر ان پرالزام عائد کر دیا کہ ہیڈماسٹر نے قرآن کی آیات کو مٹایا ہے۔
۲۰۲۵ء کی گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد حالات سنگین صورت حال اختیار کر گئے۔ عطا محمد نے لوگوں کو کہنا شروع کردیا کہ اب وہ ’’غازی علم دین‘‘ بنے گا۔ (غازی علم دین شدّت پسندوں کا ہیرو ہے جس نے مبینہ طور پر توہین کے ایک ملزم کو قتل کر دیا تھا۔) گواہان نے بعد میں بتایا کہ عطا محمد کے ان بیانات میں ایک خفیہ دھمکی کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ ۱۷؍ستمبر کو عطا محمد ایک خنجر لے کر سکول آگیا۔ جب اساتذہ کو پتا چلا تو انہوں نے عطا محمد سے وہ خنجر چھینا۔ مقامی سماجی شخصیات اور سکول انتظامیہ نے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی ۔ عطا محمد کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے غیر رسمی طور پر اس کے گھر بھیج دیا گیا اور اس کی نوکری اس کے بیٹے کو دے دی گئی۔ اس واقعہ کی کوئی بھی تفتیش نہیں کی گئی اور نہ احمدی ہیڈماسٹر کی حفاظت کے لیے کوئی انتظام کیا گیا۔ اس بات کومدّنظر رکھتے ہوئے کہ کیسے جھوٹے مذہبی الزام لگا کر پُرتشدد کارروائی کو انجام دیا جا سکتا ہے ان احمدی ہیڈ ماسٹر نے اپنا تبادلہ کسی دوسرے سکول میں کروا لیا۔
سماجی اور معاشی مقاطعہ
ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ ہے کہ کئی جگہ پر احمدیوں کا سماجی اور معاشی مقاطعہ جاری ہے اور حکومت اس کے متعلق کوئی کارروائی عمل میں لانے سے گریزاں ہے۔
مانگا ضلع سیالکوٹ: ۹؍مارچ کو مانگا ضلع سیالکوٹ کے ایک احمدی رہائشی نے رمضان کے دوران لوگوں میں اشیاء خورد ونوش تقسیم کیں۔ مقامی مولویوں کی سرپرستی میں کچھ شرپسندوں نے موقع پر پہنچ کر احمدیت مخالف نعرے بازی کی اور موصوف کے اس عمل میں رخنہ ڈال کر پُرتشدد کارروائی کےلیے اکسایا۔ بعد ازاں پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور امدادی سامان لینے والوں کو منتشر کر دیا۔ شرپسندوں نے پولیس سے استدعا کی کہ تمام سامان خورونوش کو ضبط کیا جائے۔ پولیس کے عدم تعاون سے مایوس ہو کر یہ شرپسند تھانہ بڈیانہ میں چلے گئے اور وہاں کی پولیس کو ان احمدی کے خلاف مقدمہ درج کر نے لیے کہا لیکن تھانہ بڈیانہ کی پولیس نے انکار کر دیا۔
احمدیوں کا مقاطعہ صرف معاشی نقصان پہنچانے کی غرض سے نہیں کیا جا رہا بلکہ کوشش یہ ہے کہ احمدیوں کو ہر شعبہ زندگی سے بے دخل کر دیا جائے۔
۲۷۵ ر۔ب،کرتارپور ضلع فیصل آباد: اپریل کے اوائل میں ۲۷۵ ر۔ب کرتارپور ضلع فیصل آباد میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مکمل سماجی اور معاشی مقاطعہ کی ایک منظّم مذہبی مہم کا آغاز کیا گیا۔
۷؍اپریل کو مولویوں نے باقاعدہ طور پر مساجد میں مقاطعہ کا اعلان کیا۔
اگلے روز عصر کی نماز کے بعد ہجوم کو اکٹھا کیا گیا اور انہیں احمدیہ مسجد پر حملے اور تشدد پر اکسایا گیا۔ سنگین حالات کے پیش نظر جماعتِ احمدیہ کا ایک وفد پولیس ایس پی سے ملا جس نے یقین دہانی کروائی کہ احمدیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
۹؍اپریل کو دو احمدیہ مساجد کے باہر پولیس کو تعینات کر دیا گیا۔ پہلے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا جس کا عنوان’’ الحمد للہ ‘‘تھا اور اس میں کھلے عام لوگوں کو احمدیوں کے سماجی اور معاشی مقاطعہ کی دعوت دی گئی تھی۔
۱۱؍اپریل کو احمدی احباب کو مزید تحقیرآمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا جب مخالفین نے ہر احمدی گھر کے باہر جمع ہوکر احمدیت مخالف نعرے بازی کی۔ اور جمعہ کے خطبوں میں بھی مولویوں کی جانب سے احمدیوں کے خلاف انتہائی غلیظ زبان کا استعمال کیا گیا۔ یہ مقاطعہ اس قدر شدّت اختیار کر گیا کہ مقامی احمدیوں کو اشیاء خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے دیگر راستے تلاش کرنے پڑے۔
نویں جماعت کی ایک احمدی طالبہ کو عین امتحان کے وقت گاڑی سے اتار دیا گیا۔ جس کے باعث احمدیوں کو اس کے لیے متبادل انتظام کرنا پڑا۔ اسی طرح ایک مقامی نجی سکول آئیڈیل پبلک نے ۴۶؍احمدی طلبہ اور ایک احمدی استاد کو سکول سے نکال دیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ جب تک حالات قابو میں نہیں آتے بچوں کو سکول داخل نہیں کیا جاسکتا ۔ استاد کو کہا گیا کہ بچوں کو گھر میں ہی پڑھائے۔ اس گاؤں میں عرصہ دارز سے احمدیوں کے خلاف شورش برپا ہے۔ جس میں مسجد کےنقشے کے حوالے سے جھگڑے اور مقاطعہ شامل ہیں۔
الحمد للہ کے عنوان سے تیار کردہ پمفلٹ کی عبارت درج ذیل ہے:چک نمبر ۲۷۵ ر۔ب، کرتار پور میں ناموسِ رسالتﷺ اور ختم نبوتﷺ کی خاطر مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر یکجا ہو چکے ہیں۔ گاؤں کے معزز ین نے امن قائم رکھنے کی خاطر قادیانیوں، (مرتد کافروں) کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے مطابق قادیانی ۱۰؍اپریل ۲۰۲۵ء بروز جمعرات کو اپنی دونوں عبادت گاہوں کے میناروں کو مسمار کرنے کے پابند تھے۔ اس کا باقاعدہ سٹام پیپر بھی لکھا گیا تھا جس پر دونوں فریقین نے خوش اسلوبی سے بغیر کسی دباؤ کے دستخط کئے ۔ مگر چند گھنٹوں کے بعد ہی قادیانیوں نے دھوکے کے ساتھ منافقت کرتے ہوئے شرارت کرکے سٹام پیپر حاصل کر لیے اور ان کو پھاڑ ڈالا اور اپنے کئے گئے وعدے اور معاہدے سے مکر گئے۔ جس کے بعد چک نمبر ۲۷۵ ر-ب کرتار پور تحصیل و ضلع فیصل آباد کے تمام غیور مسلمانوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ ہر قسم کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ جس کے مندرجہ ذیل نکات ہوں گے۔
۱۔ تمام قادیانیوں کا واٹر سپلائی کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ہر قسم کے زمینی اور نہری پانی کے لین دین کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۲۔ جس پرائیویٹ سکول یا اکیڈمی میں قادیانیوں کے بچے پڑھائے جاتے ہیں انہیں وہاں سے ڈسچارج کیا جائے گا، قادیانی اساتذہ کو بھی تمام اداروں سے فارغ کیا جائے گا، اور قادیانیوں کے لڑکوں کو کسی بھی قسم کی کھیل کود میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
۳۔ گاؤں کا کوئی بھی ڈاکٹر کسی قادیانی کو کسی بھی قسم کی کوئی دوا نہیں دے گا اور نہ ہی قادیانیوں کے گھروں میں جاکر مریض چیک کرے گا۔
۴۔ قادیانیوں کے لیے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۵۔ قادیانیوں کے ساتھ تمام تاجروں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا جو تاجر باہر سے سبزی، یا فروٹ وغیرہ فروخت کرنے آتے ہیں ان کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور وہ اس پر عمل کرنے کے پابند ہونگے،تمام حجام ان کی کٹنگ اور شیو وغیرہ نہ حمام پر کریں گے اور نہ ہی ان کے گھر جا کر ۔
۶۔ قادیانیوں کے لیے ہر قسم کے پلمبر، الیکٹریشن کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور ان کے لیے ہر قسم کی مزدوری کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۷۔ گاؤں میں قادیانیوں کی جو آٹے کی چکی ہے اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۸۔ قادیانیوں کے ساتھ ٹھیکے پر زمین لینے اور دینے پر پابندی ہوگی جن کی زمینیں پہلے سے قادیانیوں کے پاس ٹھیکے پر موجود ہیں وہ مسلمان جلد از جلد ان سے اپنی زمینیں واپس لینے کے پابند ہوں گے۔ جو مسلمان ان کے ساتھ معاملات رکھے گا اس کا کوئی بھی مسلمان جنازہ نہیں پڑھے گا اور نہ ہی کوئی عالم ان کا جنازہ پڑھائے گا۔
۹۔ قادیانیوں کے ٹرالی ٹریکٹر کا مسلمانوں کی جانب سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۱۰۔ قادیانیوں کے اینٹوں کے بھٹے کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
۱۱۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جائے گا، گاؤں میں ایک امن و امان کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی جو امن امان کی صورتحال کو دیکھے گی۔
۱۲۔ جو کوئی مسلمان ان تمام شرائط پر عمل نہیں کرے گا اور قادیانیوں کے ساتھ معاملات رکھے گا تو تمام گاؤں والوں کی جانب سے اس مسلمان کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: پریس ریلیز: کراچی میں شرپسند عناصر کی جانب سے ڈرگ روڈ پہ واقع احمدی مسجد ”بیت المبارک“ کے مینار توڑ دیے گئے




