متفرق شعراء

ہے واحد و لاشریک وہی یگانہ دائم ہے ذات اُس کی

لبوں پہ آئی ہے بات جس کی بیاں کروں کیا صفات اُس کی
ہے واحد و لاشریک وہی یگانہ دائم ہے ذات اُس کی

ہے لب پہ ذکرِ حبیب ہر دم تبھی ہے دل میں سکون ہر دم
میں جپتی رہتی ہوں جس کی مالا یہ دن بھی اس کا یہ رات اُس کی

دکھائی دیتے ہیں محوِ گردش یہ کہکشاں، مہر و ماہ و انجم
اسی کے کن کا ہے یہ کرشمہ حسین سی کائنات اُس کی

یہ چار دن جو ملے ہیں ہم کو تو کبر کیسا غرور کیسا
سنوار لیں عاقبت کو اپنی یہ دنیا ہے بے ثبات اُس کی

کتابِ قسمت کو کھول دیگی دعا جو اس کے حضور ہوگی
نصیب وہ ہی سنوارتا ہے قلم بھی اس کا دوات اُس کی

مصیبتوں سے نکالتا ہے جو گر پڑیں تو سنبھالتا ہے
اسی کی رہ میں کیوں نہ لٹائیں، جو دی ہوئی ہے حیات اُس کی

تری پناہوں میں آنا چاہوں تری محبت کو پانا چاہوں
بنا ہے دشمن یہ نفس میرا ترے کرم سے ہو مات اُس کی

منؔ اس سے پہلے کے بارِ عصیاں میں ڈوب جائے مرے خدایا
تو بخش دے گا تو جی اٹھے گی گر آ بھی جائے ممات، اس کی

(منصورہ فضل منؔ)

مزید پڑھیں: نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button