نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ امۃ الرافع صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالمنان صاحب (آف مچم۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ امۃ الرافع صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالمنان صاحب (آف مچم۔ یوکے)

۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۷۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مکرم عبد اللطیف گیانی صاحب مرحوم( درویش قادیان) کی بھا بھی تھیں۔ آپ کے شوہر مکرم عبد المنان صاحب حضرت مولوی محمد حسین صاحب کپور تھلوی رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کے پوتے ہیں۔ مرحومہ پابند صوم وصلوٰۃ،تہجد گزار، نہایت ملنسار اور سب کا خیال رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ پاکستان میں اپنی مقامی مجلس میں ایک لمبے عرصہ تک سیکرٹری مال رہیں۔ برطانیہ آنے کے بعد بھی جماعتی کاموں میں بڑی سرگرم تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم ملک فضل الرحمٰن سعید صاحب (آف جہلم)

۳۰؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۹۲سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے دادا حضرت حافظ محمد امین صاحب رضی اللہ عنہ اور والد حضرت ملک محمد سلیم صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ آپ نے جہلم جماعت میں بطور قاضی اور صدر جما عت تربیلاکے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ واقفینِ نو بچوں کو فرنچ زبان سکھایا کرتے تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار،کثرت سے ذکرِ الٰہی کرنے والے ایک نیک اور دعا گو بزرگ تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم جمیل الرحمٰن رفیق صاحب …کے بڑے بھائی تھے۔

۲۔مکرم طاہر احمد صاحب ابن مکرم عبد الحلیم صاحب (صدر جماعت صادق پور۔ عمرکوٹ، سندھ)

۲۴؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۶۲سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو طویل عرصہ مختلف عہدوں پر جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرنے کی خاص طور پر تلقین کیا کرتے تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، نہایت شفیق، مہمان نواز، ہر ایک سے ادب و احترام کے ساتھ پیش آنے والے، خدمت دین کے جذبہ سے سرشار ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چھ بیٹے شامل ہیں۔

۳۔مکرم خواجہ محمد مبین بٹ صاحب ابن مکرم خواجہ محمد امین بٹ صاحب (سابق امیر ضلع سیالکوٹ۔ حال جرمنی )

۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۶۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کا نظامِ جماعت سے بہت اچھا اور مضبوط تعلق تھا۔آپ نے کچھ عرصے کے لیے مقامی جماعت میں سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتے اور اپنے چندہ جات بھی باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ مرحوم کی طبیعت میں خوش اخلاقی اور خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔ احمدی اور غیر احمدی احباب کے ساتھ آپ کے بڑے اچھے اور دوستانہ تعلقات تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری سعید احمد صاحب مرحوم (اسلام آباد پاکستان )

۳۱؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۸۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا حضرت علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی اور اکثر ذکر الہٰی اوردرود میں مشغول رہنے والی، سادہ مزاج، حلیم الطبع اور ہر دل عزیز شخصیت کی حامل ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ ضرورت مندوں کی مدد خاموشی سے کیا کرتی تھیں۔ آپ کے اندر اللہ تعالیٰ، آنحضور ﷺ اور حضرت اقدس مسیح موعو دعلیہ السلام اور خلفاء سے محبت کا وصف بہت نمایاں تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی بیٹی مکرمہ بشریٰ عاطف صاحبہ صدر لجنہ اور داماد مکرم لئیق احمد عاطف صاحب بطور مبلغ سلسلہ مالٹا خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۵۔مکرم محمد فاروق بٹ صاحب ابن مکرم عبد الرشید بٹ صاحب (ضلع نارووال)

۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۹۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳۵ سال تک سیکرٹری مال کے علاوہ بعض اور عہدوں پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تہجد کے پابند، چندوں میں باقاعدہ،مہمان نواز، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ایک نیک اور مخلص بزرگ تھے۔ اپنی اولاد کو ہمیشہ جماعت کی خاطر قربانی کی تلقین کرتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔

۶۔مکرم پرویز احمد چٹھہ صاحب ابن مکرم اللہ رحم چٹھہ صاحب (مہےچٹھہ ضلع گوجرانوالہ۔ حال ربوہ)

۲۶؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۶۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم نے اپنے گاؤں میں مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو مہے چٹھہ میں شدید مخالفت کے باوجود ایک مسجد تعمیر کروانے کی بھی توفیق ملی۔ ربوہ شفٹ ہونے کے بعد یہاں بھی مختلف جماعتی خدمتیں بجالاتے رہے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند،جماعت کے لیے غیرت رکھنے والے ایک نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ کو فجر سے قبل صلّ علیٰ پڑھنے اور دعوت الیٰ اللہ کا بھی بہت شوق تھا۔ پسماندگان میں والد اور اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button