ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۳)
ریا
’’انسان کی فطرت میں دراصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بری ہے لیکن بد استعمالی بری بنادیتی ہے۔ مثلاً ریا ہی کولو۔یہ بھی دراصل بُری نہیں۔کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالیٰ کے لیے کرتا ہے اور اس لیے کرتا ہے کہ اس نیکی کی تحریک دوسروں کو بھی ہوتو یہ ریا بھی نیکی ہے۔
ریا کی دو قسمیں ہیں۔ایک دنیا کے لیے۔مثلا کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے۔ اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آگیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لمبا کرنا شروع کردیا۔ ایسے موقعہ پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑجاتا ہے کہ وہ بھول بھول جاتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم ریاکی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے۔مگر برخلاف اس کے جو شخص محض اﷲ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار کر پڑھتا ہے وہ ریا میں داخل نہیں۔بلکہ رضاء الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ غرض ریاکے بھی محل ہوتے ہیں۔اور انسان ایسا جانور ہے کہ بے محل عیوب پر نظر نہیں کرتا۔ مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو بڑا عفیف اور پارسا سمجھتا ہے،راستہ میں اکیلا جارہا ہے۔ راستہ میں وہ ایک تھیلی جواہرات کی پڑی پاتا ہے وہ اُسے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ مداخلت کی کوئی بات نہیں۔کوئی دیکھتا نہیں۔اگر یہ اس وقت اس پر گرتا نہیں اور سمجھتا ہے کہ غیر کا حق ہوگا اور روپیہ جو گرا ہوا ہے آخر کسی کا ہے۔ان باتوں کو سوچ کر اگر اس پر نہیں گرتا اور لالچ نہیں کرتا تو فی الحقیقت پوری عفّت اور تقویٰ سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اگر نرا دعویٰ ہی ہے تو اس وقت اسکی حقیقت کھل جاوے گی اور وہ اسے لے لے گا۔
اسی طرح ایک شخص جس کے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ ریا نہیں کرتا۔جب ریا کا وقت ہو اور وہ نہ کرے تو ثابت ہوگا کہ نہیں کرتا۔ لیکن جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا بعض اوقات ان عادتوں کا محل ایسا ہوتاہے کہ وہ بدل کر نیک ہو جاتی ہیں۔چنانچہ نماز جو باجماعت پڑھتا ہے۔اس میں بھی ایک ریا تو ہے۔لیکن انسان کی غرض اگر نمائش ہی ہو تو بیشک ریا ہے اور اگراس سے غرض اﷲ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری مقصود ہے تو یہ ایک عجیب نعمت ہے۔پس مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھو اور گھروں میں بھی۔ایسا ہی ایک جگہ دین کے کام کے لیے چندہ ہو رہا ہو۔ایک شخص دیکھ رہا ہے کہ لوگ بیدار نہیں ہوتے اور خاموش ہیں۔وہ محض اس خیال سے کہ لوگوں کو تحریک ہو سب سے پہلے چندہ دیتا ہے۔بظاہر یہ ریا ہوگی لیکن ثواب کا باعث ہوگی۔
اسی طرح خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا(بنی اسرائیل:۳۸) زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ایک جنگ میں ایک شخص اکڑ کر اور چھاتی نکال کر چلتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ فعل ناپسند ہے لیکن اس وقت اﷲ تعالیٰ اس کو پسند کرتاہے۔پس
؎ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۵۸-۳۶۰ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع ایک معروف صوفی شاعر عبدالرحمان جامی جن کا پورا نام مولانا نورالدین عبد الرحما ن جامی ہے کی رباعی کاایک مصرع ہے۔ پو ر ی رباعی کچھ یوں ہے۔
اَےْ بُرْدِہْ گُمَانْ کِہْ صَاحِبِ تَحْقِیْقِیْ
وَنْدَرْصِفَتِ صِدْقُ ویَقِیْن صِدِّیْقِیْ
اے وہ (شخص)جو اپنے آپ کو دانشمند ومحقق، صدق اور یقین کی صفت سے متصف سمجھتا ہے۔
ھَرْ مَرْتَبِہْ اَزْوُجُوْد حُکْمِیْ دَارَدْ
گَرْ حِفْظِ مَرَاتِبْ نَکُنِیْ زِنْدِیْقِیْ
ہر مرتبہ اپنی ذات میں (احترام بجا لانے کا )حکم رکھتا ہے۔ اگر تو حفظ مراتب نہیں کرتا ، توبے دین ہے۔
لغوی بحث: گَرْ(اگر) حِفْظِ مَرَاتِبْ (مراتب کاخیال) نَکُنِیْ (تونہیں کرتا۔ن برائے نفی، کردن(کرنا)مصدر سےمضارع سادہ دوم شخص مفرد) زِنْدِیْقِیْ (تو بے دین ہے۔ آخر پر ’’ی‘‘ ضمیرمتصل برائے دوم شخص مفرد )
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۲)




