صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۳)(قسط ۱۵۷)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

لیکیسس
Lachesis
(سیاہ پھن دارسانپ’’سروکوکو‘‘کا زہر)

سانپ کے زہر کی علامتوں میں وقت کی بہت پابندی پائی جاتی ہے۔ سانپ جس موسم میں بھی کاٹے اگلے سال عین انہی دنوں میں اس کے بداثرات دوبارہ ابھر آتے ہیں اور علامات واپس آجاتی ہیں ۔ بہار میں جن مریضوں کو سانپ کاٹتا ہے ۔ اگر وہ زندہ رہ جائیں تو ہر بہار میں ان کو ویسی ہی علامتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ سوتے میں سانپ نے دوبارہ کاٹ لیا ہے۔ چونکہ وہ جگہ جہاں سانپ نے کاٹا ہو اس کا زخم بھی ابھر آتا ہے اس لیے اس وہم کو مزید تقویت ملتی ہے۔ دوسرے موسموں میں بھی سانپ کاٹے کی علامتیں کچھ نہ کچھ ابھرتی تو ہیں مگر اس شدت سے نہیں کہ انسان سمجھے کہ

سانپ نے دوبارہ کاٹا ہے ۔(صفحہ۵۴۱)

ہرو ہ مریض جو موسمی یا جغرافیائی لحاظ سے سردی سے گرمی کی طرف حرکت کرنےسےبیمار ہوجائے ،اس کی دوسری بیماریوں میں بھی لیکیسس کو یاد رکھنا چاہیے ۔البتہ ڈلکامارا ایک ایسی دوا ہےجس کا ہر موسم میں چھینکیں آنے سے تعلق ہے۔برائیونیا بھی سردی سے گرمی میں بدلتے موسم میں بہت کارآمد ہے۔(صفحہ۵۴۱ ۔۵۴۲)

لیکیسس میں خاص علامت یہ پائی جاتی ہے کہ سونے کے بعد تکلیف ضرور بڑھتی ہے۔ سانپ کے اکثر کاٹے ہوئے مریضوں کا یہی حال ہو تا ہے مگر اس خاصیت میں سانپ کے سب زہروں میں لیکیسس نمایاں ہے۔ اگرچہ یہ اکثر ایسے مریضوں میں کام آتی ہے جن کی تکلیف سونے سے بڑھتی ہو ۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کو سانپ ہی نے کاٹا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ملتی جلتی علامت ہے جس میں لیکیسس کار آمد ہو سکتی ہے۔ اگر واقعتاً لیکیسس سانپ نے ہی کاٹا ہو اور مریض سو جائے تو وہ اٹھتا ہی نہیں کہ بعد ازاں کسی علاج کے قابل رہے۔ ہر طبیب کو یہ امر پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر واقعتاً کسی سانپ کے کاٹے ہوئے مریض کے علاج کے لیے اسے بلا لیا جائے تو وہ ایسے مریض کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کرے خواہ اسے زور زور سے تھپڑ مارنے پڑیں۔ اگر اس کی آنکھ کھل گئی اور کچھ دیر اس کو جگائے رکھا گیا تو پھر اس کے بچنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ لیکیسس کے مریض کا مرض سوتے میں رات بھر بڑھتا رہتا ہے اور بعض مریضوں کو پریشان کن خوابیں بھی آتی ہیں اور صبح اٹھنے تک بیماری میں بہت اضافہ ہو چکا ہو تا ہے۔ مریض سخت بے چین ہوتا ہے۔ صبح سر میں تپکن والا درد ہو تا ہے ، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مریض غم کا گہرا اثر محسوس کرتا ہے جو لیکیسس کا خاص نشان ہے۔ جلسیمیم میں بھی مریض صبح سر درد کے ساتھ اٹھتا ہے لیکن اس کی رات بے چینی سے نہیں گزرتی اور نہ ہی اسے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ اگر اٹھنے کے اوقات میں تبدیلی ہو یا چائے اور ناشتہ کا وقت بدل جائے تو جلسیمیم کے مریض کو عموماً سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اوقات کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے ایسے سردرد میں جلسیمیم دوا ہے نہ کے لیکیسس۔(صفحہ۵۴۲)

لیکیسس کا مریض بہت ٹھنڈا ہوتا ہےخصوصاً اس کے پاؤں برف کی طرح ٹھنڈے ہوتے ہیں مگر گر م پانی سے تکلیف بڑھتی ہے خصوصاً سر کی علامتیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔خون کا دباؤ شدید محسوس ہوتا ہے اور لگتا ہےکہ سر پھٹ جائے گا لیکیسس میں بیلا ڈونا کی طرح خون کا دباؤ زیادہ ایک طرف ہوجاتا ہے۔بیلا ڈونا میں مختلف اعضاء میں خون کا دباؤ بڑھ سکتا ہے ضروری نہیں کہ سر کی طرف ہی دباؤ کا رحجان ہو مگر لیکیسس میں دوران خون زیادہ ہونے کا خاص مقام سر ہے۔خون کا اجتماع تیزی سے سرکی طرف ہوجاتا ہے اور پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔درد کے ساتھ باندھے جانے کا احساس ہوتا ہےجیسے کسی نے سر کے اوپر کپڑا کس دیا ہو۔لیکیسس کی علامتیں رکھنے والے بعض مریض گرم پانی سے نہانےکے دوران بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں۔(صفحہ۵۴۲-۵۴۳ )

لیکیسس کی ایک اور نمایاں علامت یہ ہے کہ بدن پر جامنی یا سیاہی مائل داغ پڑ جاتے ہیں جو چہرے پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مریض جن پر دل کا حملہ ہوا ہو ان کے چہرے پر بھی ایسے ہی نشان پڑتے ہیں۔ ایسے مریض جن کے جسم پر یہ نشان پڑنے کا رجحان ہو ان کو وقتاً فوقتاً لیکیسس دیتے رہنا چاہیے۔ یہ خون میں Clot بننے اور نتیجتاً دل کے حملے کی روک تھام کے لیے بہترین دوا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے آرنیکا سے ملا کر دیا جائے تو اور بھی زیادہ کار آمد ہوتی ہے۔(صفحہ۵۴۳)

لیکیسس متورم غدودوں میں بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔اس کے زخموں سے آرسنک اور سیکیل کی طرح سیاہ رنگ کا خون بہتا ہےجو گھاس پھوس کے ریشوں کی طرح جم جاتا ہےاور مقدار میں بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔کرئیوزٹ اور فاسفورس کی طرح لیکیسس میں بھی بہت زیادہ سیاہ خون بہنے کا رحجان ملتا ہے۔کرئیوزوٹ کی یہ خاص علامت ہےکہ معمولی دباؤ سے بھی خون بہنے لگتا ہے۔اچھے بھلے نظر آنے والے مسوڑھوں کو انگلی سے دبا دیں تو خون نکل آئے گایا کہیں کوئی معمولی سی بھی تکلیف ہو تو ذرا سا دبانے سے بھی خون رسنے لگے گا۔فاسفورس میں ہمیشہ سرخ رنگ کا خون بہتا ہے اور یکدم شدت کے ساتھ جاری ہوتا ہے۔سیکیل کار (Secale cor) اور لیکیسس میں خون کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہےاور ان کے زخموں کی شکل بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔سیکیل کی طرح لیکیسس کے زخموں میں گینگرین بننے کا رحجان ہوتا ہےاور ان سے سیاہی مائل خون رستا ہے۔زخموں کے ارد گرد کے کنارے گل کر متورم ہوجاتے ہیں۔جلد سکڑ کر سیاہی مائل ہوجاتی ہےاور اس میں جھریاں پڑجاتی ہیں لیکن لیکیسس کی باقی علامتیں سیکیل سے بہت مختلف ہیں۔اس میں مریض کا جسم ٹھنڈا ،اور مریض سخت سردی محسوس کرتا ہے جبکہ سیکیل کا مریض سخت گرمی محسوس کرتا ہےلیکن ماؤف جگہوں کو ٹھنڈی چیز لگانے سے آرام آتا ہے۔(صفحہ۵۴۳-۵۴۴ )

لیکیسس میں ایک علامت رگوں کے گچھے کا نیلا ہو کر پھول جانا (Varicose Veins) ہے جن میں خون جم جاتا ہے اور ابھار اور گانٹھیں بن جاتی ہیں ان کے پھٹ جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک اور تکلیف دہ بیماری ہے۔ عموماً بعض عورتوں میں حمل کے دوران یا بعد میں ٹانگوں اور پاؤں پر یہ بیماری حملہ کرتی ہے۔ بعض دفعہ یہ تکلیف اتنی شدید ہوتی ہے کہ چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے ۔ ان پھولی ہوئی رگوں کے علاج میں اکیلی لیکیسس ناکام رہتی ہے۔ ایسی صورت میں بہت سی ایسی علامات کا مشاہدہ کرنا چاہیے جو اس پہلو سے مریض کی تشخیص کریں کہ بحیثیت مریض وہ کس دوا کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اگر اس دوا میں رگیں پھولنے کی علامت بھی ہو تو اسے ہی اولیت دینی چاہیے لیکن اگر تشخیص نہ ہو سکے تو روز مرہ کی دوا کے طور پر آرنیکا اور لیکیسس بار بار دینے سے کچھ نہ کچھ فرق پڑتا ہے لیکن سب سے اچھا روٹین کا علاج ایسکولس ہے۔(صفحہ۵۴۴)

لیکیسس میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور دل کمزور ہو جا تا ہے ، سر میں تپکن ہوتی ہے اور رگیں پھڑکتی ہیں۔ اگر سر میں درد ہو تو بعض اوقات مریض تکیہ پر سر رکھ کر سو بھی نہیں سکتا۔ جس طرف بھی سر رکھے گا وہاں دھڑکن محسوس ہو گی کیونکہ خون کا ر جحان سر کی طرف ہو تا ہے۔(صفحہ۵۴۵)

لیکیسس انسانی جذبات پر بھی اثر انداز ہونے والی دوا ہے۔ اگر اچانک غم کی کوئی خبر ملے یا مریض کسی وجہ سے جذباتی ہو جائے تو دل کی رفتار ہلکی ہو جاتی ہے، جسم پر پسینہ آ جاتا ہے، سرگرم اور پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اگر پاؤں ٹھنڈے ہوں اور لیکیسس کی معمول کی علامتیں بھی پائی جائیں تو اس کی ایک خوراک ہی جادو کا سا اثر دکھاتی ہے ۔ سردی سے سخت کانپتا ہوا مریض جو تہ بہ تہ لحاف میں لپٹا ہوا ہو اور اس کے پاؤں ناقابل برداشت حد تک ٹھنڈے ہوں ، دوا دینے کے چند منٹ بعد ہی یوں محسوس کرتا ہے کہ یکدم گرمی کی لہریں جسم میں اوپر سے نیچے کی طرف سرایت کر گئی ہیں۔ اس سے میرا اندازہ ہے کہ سر کی طرف رجحان خون ختم ہو کر تمام جسم میں یکساں ہو جا تا ہے اور پاؤں دیکھتے ہی دیکھتے گرم ہو جاتے ہیں۔ سورائینم میں بھی یہ خوبی پائی جاتی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ سورائینم کے مریض کا سارا جسم ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے۔ سو رائینم کے مریض گرمیوں میں بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ ان کی جلد سیاہی مائل ہو جاتی ہے اخراجات میں بدبو پائی جاتی ہے لیکن لیکیسس میں یہ علامتیں نہیں ہو تیں اس میں کسی بوجھ اچانک پریشانی یا ویسے ہی کبھی کبھی مریض میں کمزوری سے اس کا بدن یک دم ٹھنڈا ہو جاتا ہے لیکن سر گرم ہی رہتا ہے ۔ اس وقت لیکیسس کام آتی ہے۔(صفحہ۵۴۵۔۵۴۶)

لیکیسس میں بیماری کا حملہ عموماً بائیں طرف ہوتا ہےلیکن بیماری یہاں ٹھہرتی نہیں بلکہ کچھ عرصہ زور دکھا کر دائیں طرف منتقل ہوجاتی ہے۔یہ بہت واضح علامت ہے ۔اگر اس کے ساتھ سونے سے تکلیف میں اضافہ بھی ہوجائے تو بلا جھجک لیکیسس استعمال کروانی چاہیے۔(صفحہ۵۴۶)

عورتوں کے بیضتہ الرحم (Ovaries) کی تکلیفوں میں بھی لیکیسس بہت مفید دوا ہے۔ اگر بائیں طرف کے بیضتہ الرحم میں تکلیف کا آغاز ہو اور دائیں طرف منتقل ہو جائے تو اس میں لیکیسس بہت اچھی ثابت ہو گی۔ اگر دائیں بیضۃ الرحم میں تکلیف ہو تو لائیکو پوڈیم اور ٹیرنٹولا بہت مفید ہیں۔ لیکیسس میں گلے کی تکلیف با ئیں طرف سے شروع ہو کر دائیں طرف منتقل ہو جاتی ہے جبکہ لائیکو پوڈیم میں دائیں سے بائیں طرف بیماری حرکت کرتی ہے۔ پلسٹیلا میں درد کی لہریں ادھر سے ادھر حرکت کرتی ہیں جبکہ امراض کی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں حرکت لیک کنائینم میں بہت نمایاں ہے۔(صفحہ۵۴۶)

لیکیسس میں ایک خاص علامت یہ ہے کہ اس کی تکلیفیں اوپر کے دھڑ سے نچلے دھڑ میں منتقل ہوں تو سمت تبدیل کر لیتی ہیں۔ مثلاً اگر بائیں طرف دل کے پاس درد اور دباؤ محسوس ہو تو یہ تکلیف دائیں طرف کو لہے میں یا بن ران میں منتقل ہو سکتی ہے اور بعض دفعہ بیک وقت دونوں سمتوں کو ماؤف کر دیتی ہے ۔ بسا اوقات سر سے لے کر پاؤں تک بیماری بائیں طرف ہی رہتی ہے،خصوصاً فالج میں ایسے ہوتا ہےلیکن دردوں کے احساس اور عضلات کے تناؤ میں اوپر کے بائیں طرف کے دھڑ اور نیچے کے دائیں طرف کے دھڑ میں علامتوں کا موجود ہو نا لیکیسس کا خاص نشان ہے۔ (صفحہ۵۴۶-۵۴۷)

لیکیسس اور سورائینم دونوں اینٹی سورک (Anti Psoric) ہیں۔ جلد پر بعض دفعہ خون کے کچے کچے چھالے ابھر آتے ہیں۔ لیکیسس ان خون کے چھالوں کی چوٹی کی دوا ہے۔ عام طور پر لیکیسس میں آرنیکا کی طرح سیاہی مائل خون بہتا ہے لیکن چہرے پر سرخ رنگ کے خون کے چھالے بنتے ہیں جن کا لیکیسس سے ہی تعلق ہے۔ اس میں مسوڑھوں سے بھی خون بہتا ہے ، زبان بالکل خشک ہو کر چمڑے کی طرح ہو جاتی ہے ، منہ بھی بالکل خشک ہو تا ہے لیکن پیاس نہیں ہوتی۔ منہ اور زبان کا خشک ہو نا جلسیمیم کی بھی یاد دلاتا ہے لیکن لیکیسس اپنی دوسری علامتوں کی وجہ سے ممتاز ہو جاتی ہے۔ لیکیسس میں تھوک صابن کے جھاگ کی طرح ہو جاتا ہے مزے کے لحاظ سے نہیں بلکہ شکل سے یوں لگتا ہے جیسے صابن کی جھاگ ہو۔ بعض دفعہ گاڑھی، سخت ، مضبوط دھاگے دار زرد رنگ کی رطوبت خارج ہوتی ہے ۔ کالی بائیکرم (Kali Bichrome) میں یہ علامت سب سےنمایاں ہے۔(صفحہ۵۵۱)

لیکیسس میں مائع چیز گلے میں پھنسنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے ، خصوصاً گرم مشروب سے تکلیف ہوتی ہے۔ سانپ کے تقریباً سب زہروں کے نتیجہ میں گلے میں تشنّج پیدا ہو تا ہے اور خوراک اور پانی گلے میں پھنستا ہے۔ لیکیسس میں گرم مشروب سے اس کیفیت میں مزید اضافہ ہو جا تا ہے جبکہ ٹھنڈے پانی سے قدرے افاقہ ہو تا ہے ۔ یہ علامت لیکیسس کے عمومی مزاج سے بر عکس ہے کیو نکہ اس میں مریض کا جسم ٹھنڈا ہو تا ہے اور وہ گرمی کو پسند کرتا ہے لیکن گلے کے تشنج میں لیکیسس کا مریض بیلاڈونا کے مریض سے مشابہ ہو جاتا ہے۔ بیلاڈونا میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے اور سردی سے ان میں کمی آجاتی ہے ۔ ایپس کی تکلیفیں بھی گرمی سے بڑھتی ہیں اور سردی سے آرام آتا ہے۔ لیکیسس، بیلاڈونا اور ایپس میں یہ علامت مشترک ہے۔ لیکن لیکیسس میں ٹھنڈے مشروب سے آرام آتا ہے اور اچھا بھی لگتا ہے مگر ساتھ ہی اس سے متلی شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ لیکیسس کی واضح پہچان ہے۔(صفحہ۵۵۱-۵۵۲)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۲)(قسط ۱۵۶)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button