متفرق مضامین

استحکام خلافت کے لئے ایک احمدی کی ذمہ داریاں

(رانا مشہود احمد۔ مربی سلسلہ، یوکے)

قرآنِ کریم کی سورۃ النور میں مذکور آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ اعمالِ صالحہ بجا لانے والے مومنوں سے ایک اعلیٰ قسم کے انعام کا وعدہ فرماتا ہے۔ یہ عظیم الشان انعام خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہے جو بلا شبہ نبوت کے بعد سب سے بڑا انعام ہے۔

آج صفحۂ ہستی پرجماعت احمدیہ مسلمہ وہ خوش قسمت جماعت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے ماتحت خلافت جیسی عظیم نعمت کو قائم فرمایا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے ساتھ وابستگی میں امت محمدیہ میں وحدت، یگانگت ،اتحاد، اورپوری دنیا میں امن کے قیام کا راز سربستہ ہے۔ اوردیکھا جائے تو یہی تمکنتِ دین ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں مومنین کو تلقین فرماتا ہے کہ وہ اپنے اوپر نازل ہونے والے انعامات کا شکر ادا کریں اور فرماتا ہے کہ : لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراھیم آیت8) کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے نا شکری کی راہ اختیارکی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کو خلافت کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا تھا جس کے ذریعہ اسلام کو مزیدتمکنت نصیب ہوئی اور اسلام کا پیغام اطرافِ عالم میں پھیل گیا۔ اور بلا شبہ لکھوکھہا سعید روحیں حلقہ بگوشِ اسلام ہوئیں۔ مگر جب مسلمان اس نعمت عظمیٰ کی قدر نہ کرتے ہوئے ناشکری کے مرتکب ہوئے تو مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا وعدہ پورا ہوا اور ان سے یہ لازوال نعمت چھِن گئی۔ اور امّتِ واحدہ ٹکڑوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر خدا کے فضلوں سے محروم ہو گئی۔

چنانچہ آج ہم اگر مسلمانوں کی سابقہ تاریخ کو دیکھیں اور پھر موجودہ حالت پر غور کریں تو یہ روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ خلافتِ حقہ اسلامیہ کے اختتام کے بعد مسلمان مسلسل انحطاط اور انتشار کا شکار ہوتے چلے گئے۔ آج بھی بعض مسلمان ممالک آپس میں لڑ رہے ہیں اور بعض ممالک اندرنی انتشار اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اور بعض مسلمان اللہ تعالیٰ کے ایک اور حکم کی نافرمانی کر کے وہ اسلام کے نام پر تلوار کا جہاد کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو وہاں غیروں کے ہاتھوں ماریں کھا رہے ہیں اور ذلت اٹھا رہے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے جو رحیم و کریم خدا ہے اپنے پیارے کی امّت کو تنہا نہیں چھوڑا۔اس نے اپنے وعدوں کے تحت دنیا کو دوبارہ اس خلافت علیٰ منہاج النبوّۃ کی لازوال نعمت سے وابستہ ہونے کا موقع دیا ہے تا کہ پوری دنیا امن و آشتی، بھائی چارے اور انصاف کا گہوارہ بن جائے اوردنیا میں توحید الٰہی کا بول بالا ہو۔

آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ کا قیام 27؍مئی 1908ء کو عمل میں آیا۔ اور آج خلافت اسلامیہ حقہ احمدیہ کے قیام کو ایک سو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اوراب خلافت حقہ کے سائے میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا یہ قافلہ منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کامیابیوں اور کامرانیوں کی راہوں پر گامزن ہے۔ اور قیامت تک اس سلسلہ کے بڑھنے اور کامیاب ہونے کے وعدے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔ بشرطیکہ کہ ہم ماننے والے اعمال صالحہ بجالانے والے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے والے ہوں۔

آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔چنانچہ مسلمانوں کا اور بالخصوص احمدی مسلمانوں کا یہ اوّلین فریضہ ہے کہ اس نعمتِ عظمیٰ کی عطا پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ کیا یہ شکر محض زبانی کلمات سے ادا کرنا کافی ہو گا؟ ایسا کرنا بھی ضروری ہے لیکن شکر کے حقیقی معنوں کو پورا کرنے کے لئے ہمیں خلافت کے قیام کے مقاصد اور اس کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے اپنی اصلاح اور اخلاق کے اعلیٰ عملی نمونے قائم کرنے ہوں گے۔

خلافت کا وعدہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہے

استحکامِ خلافت کے لئے ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم سب اعمالِ صالحہ بجالانے کی طرف بھرپور توجہ دیں۔

چنانچہ اس سلسلے میں حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں:

’’ …تیسری بات اس آیت سے یہ نکلتی ہے کہ یہ وعدہ امت سے اس وقت تک کیلئے ہے جب تک کہ امت مومن اور عمل صالح کرنے والی ہو۔ جب وہ مومن اور عمل صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کو واپس لے لے گا۔

خلافت کا فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے

 پس اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور خلافت کا مٹنا خلیفہ کے گنہگار ہونے کی دلیل نہیں بلکہ امّت کے گنہگار ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ صریح وعدہ ہے کہ وہ اس وقت تک خلیفہ بناتا چلا جائے گا جب تک جماعت میں کثرت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہو گی۔ ‘‘

(خلافت راشدہ، انوارالعلوم، جلد 15، صفحہ 531 ۔532)

اب جو خلافت کا انعام اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اس کے شکرانے کے طور پر ہر احمدی کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے تا کہ قیامت تک یہ انعام ہمارے پاس رہے۔ کیونکہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری، اللہ کے فضلوں اور نعمتوں سے محرومی کا باعث بنتی ہے۔

استحکام خلافت کے لئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اور شکر ادا کرنے کے طریق ہم نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ کے تحت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہمارے لیے بہترین اُسوہ ٔحسنہ ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر عبادات بجا لاتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے بے انتہا آپ پر فضل کئے ہیں اور بخشش کا وعدہ دیا ہے تو پھر اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں کہ کھڑے ہو کر عبادت کرنے کی وجہ سے آپ کے پاؤں سوج گئے ہیں۔ جواب میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہی پیارااو ر رہنما اصول بیان فرماتے ہیں کہ عائشہ! اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کے لئے عبادت ضروری ہے۔ اور بہترین عبادت میں اوّل نمبر فرائض کی ادائیگی کا آتا ہے، اس کے بعد نوافل۔ چنانچہ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی اپنے خطباتِ جمعہ میں بار بار ہمیں اس طرف توجہ دلا رہے ہیں ہر احمدی کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کے لئے پانچ وقت نماز کی ادائیگی باقاعدگی اور التزام کے ساتھ کرے۔ پھر جس قدر ممکن ہو نوافل اور نمازِ تہجد میں بھی استحکام خلافت کے لئے دعائیں کرے۔

اطاعت خلافت

اللہ اور رسول کی اطاعت کی طرح خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری بھی ہر احمدی کی ذمہ داری ہے اوراس کے فرائض میں شامل ہے۔ اور کوئی بظاہر چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے۔ کیونکہ ہر ایک نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ’’ خلیفۂ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔‘‘ اور جب بھی خلیفۂ وقت کی طرف سے کوئی ارشاد ہو تو ہر ایک احمدی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس ارشاد کا اوّلین مخاطب میں ہی ہوں نہ کہ اس غلط فہمی کا شکار ہونا چاہیے کہ حضور کا ارشاد دوسرے لوگوں کے لئے ہی ہے۔

چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ:

 ’’ خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا ہر فرد شاگرد۔ جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا ‘‘

( الفضل 2مارچ 1946 صفحہ 3)

بلا تخصیص ہر ارشاد کی اطاعت

حضرت مصلح موعود ؓ مزید فرماتے ہیں:

’’یہ مت سمجھو کہ چھوٹے چھوٹے احکام میں اگر پرواہ نہ کی جاوے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔ جو شخص چھوٹے سے چھوٹے حکم کی پابندی نہیں کرتا، وہ بڑے سے بڑے حکم کی بھی پابندی نہیں کر سکتا۔ خدا کے حکم سب بڑے ہیں۔ بڑوں کی بات بڑی ہی ہوتی ہے۔ جن احکام کو لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں، ان سے غفلت اور بے پرواہی بعض اوقات کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے بعض چھوٹے چھوٹے احکام بتائے ہیں لیکن ان کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔ طالوت کا واقعہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ ایک نہر کے ذریعہ قوم کا امتحان ہو گیا۔ سیر ہو کر پینے کے لیے کہہ دیا فَلَیْسَ مِنِّی۔اب ایک سطحی خیال کا آدمی تو یہی کہے گا کہ پانی پی لینا کونسا جرم تھا۔ مگر نہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سکھانا مقصود تھا۔ وہ جنگ کے لیے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا۔ اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں تو پھر میدان جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ‘‘

(منصب خلافت، انوار العلوم، جلد 2، صفحہ 45۔46)

خلیفۂ وقت کی اطاعت پر زور دیتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں کہ:

 ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔ جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔ فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ ابلیس نہ بنو‘‘

(بدر 4جولائی 1912ء)

ہر احمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سمجھے کہ خلیفۂ وقت کے ہر حکم کا مخاطب مَیں ہوں

اس سلسلہ میں ایک جگہ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں:

 ’’پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک شخص یہ سمجھ لے کہ میرے وعظ کا مخاطب سب سے پہلے وہی ہے اور یہ خیال کر لے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے۔ پس اگر کوئی ولی بیٹھا ہو تو وہ بھی میرا مخاطب ہے اور اگر کوئی گندے سے گندا انسان بھی بیٹھا ہو تو وہ بھی۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نہیںبلکہ دوسرے مخاطب ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔ کسی بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کی اطاعت اور فرمانبرداری آزمانے کے لئے حکم دیا کہ کل رات تم سب فلاں تالاب میں ایک ایک لوٹا پانی کا ڈالنا۔ وہ جب اپنے گھر گئے تو ہر ایک نے خیال کر لیا کہ ہم کہاں پانی کا لوٹا اٹھائے ہوئے جائیں، وہ وزراء اور امراء جن کو رومال اٹھانا دوبھر تھا بھلا وہ پانی کا لوٹا کس طرح اٹھا سکتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ لیا کہ میرے لوٹا ڈالنے سے تالاب تو بھر نہیں جائے گا اور ہزاروں آدمی لوٹے ڈالیں گے۔ بادشاہ کو میرے لوٹے کا کیا پتہ لگے گا کہ اس نے ڈالا ہے کہ نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ہر ایک یہی خیال کر کے گھر بیٹھ رہا اور کسی نے لوٹا نہ ڈالا۔ تالاب بالکل خشک رہا۔ بادشاہ نے جب تالاب کو دیکھا تو خشک پڑا تھا۔ اس نے سب درباریوں کو ملامت کی اور کہا شرم کرو۔ کیا حکم کی تعمیل اسی طرح ہوا کرتی ہے؟ لیکن بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ اور نادم ہوتے ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ تم نے کیوں پانی کا لوٹا نہ ڈالا۔ میں تو یہ خیال کر کے بیٹھ رہا کہ باقی جو ڈالیں گے تو میرا ایک لوٹا نہ ڈالنے سے کیا نقصان ہو گا۔ تم لوگوں نے سستی کر کے میری بھی ذلّت کرائی۔ اور اسی طرح ہر ایک نے اپنی سستی اور نالائقی کو دوسرے کے سر پر تھوپنا چاہا۔ اگر وعظوں کو سننے والے بھی اس طرح اپنے دل میں خیال کریں کہ واعظ کے وعظ کے ہم مخاطب نہیں بلکہ اور لوگ ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ سب ہی کورے رہ جائیں گے۔ لیکن جب ہر ایک شخص یہ سمجھے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے اور مجھے ہی اس کی تعمیل کرنی ضروری ہے تو سب کے سب نفع اٹھا سکیں گے۔ ‘‘

 (برکات خلافت، انوار العلوم، جلد2 ، صفحہ235)

پس ثواب و اجر اور برکت اس میں ہے کہ جو کہا جائے وہی کرو ۔ بعض دفعہ بظاہر نیکی کے کام بھی گناہ بن جاتے ہیں جب اللہ اور اس کے رسول کی مرضی اور ہدایت کے خلاف کئے جائیں۔ مثلاً نماز ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے مگر ممنوعہ اوقات میں جو پڑھتا ہے گنہگار ہے۔ یا کوئی اس نیّت سے پڑھتا ہے کہ لوگ اسے نیک کہیں گے تو ایسے نمازیوں پر تو اللہ لعنت ڈالتا ہے جیسے فرماتا ہے فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ۔ اسی طرح روزہ ہے ۔ عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے بلکہ حکم ہے کہ کھاؤ، پیو اور خوشی مناؤ۔ لیکن اس دن روزہ رکھنے والے کو آنحضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان قرار دیا ہے۔ اسی طرح جب خلیفئہ وقت کی بیعت کر لی تو پھر اپنا کچھ نہ رہا۔ نہ سوچیں ، نہ تدبیریں، نہ اصلاحی کوششیں اپنی رہیں۔ پھر سب کچھ خلیفۂ وقت کے احکام و ہدایات کے تابع ہو جانا چاہئے۔

 حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک موقع پر فرمایا:

’’ خلافت کے معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم ،وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو ا س و قت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں‘‘

( خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936)

اطاعت سے صرف یہ مراد نہیں کہ جو خلیفۂ وقت کی طرف سے ارشاد ہو اس پر عمل کیا جائے۔ بلکہ اس سے یہ مراد بھی ہے کہ اگر کسی احمدی کے ذہن میں کوئی نئی ترکیب، نئی سکیم سوجھتی ہے تو اس پر خود بخود عمل درآمد نہ شروع کر دیا جائے بلکہ عمل سے پہلے ہر چیز کی اجازت اور راہنمائی خلیفہ ٔ وقت سے حاصل کی جائے اور پھر اس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ بظاہر نیکی کا کام بھی اگرخلیفۂ وقت کی منشاء کے خلاف ہو تو وہ عملِ صالح نہیں ہو گا۔

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍ مارچ 2016ء میں فرمایا:’’خلافت کے قدموں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ یاد رکھیں جو بھی کرے گا وہ پھسل جائے گا۔ ایک اکائی رکھیں۔‘‘

 ایک سبق آموز واقعہ۔ خلیفۂ وقت کی ڈھال سے آگے بڑھنے والے کو دوبارہ بیعت کا حکم

 حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض غلطی خوردہ لوگوں کی جانب سے خلافتِ احمدیہ کے خلاف اٹھائے جانے والے ایک فتنہ کے سدِّ باب کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین آدمیوں کو دوبارہ بیعت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی بیعت تو اس لئے دوبارہ لی گئی کہ انہوں نے نظام خلافت کے متعلق تحقیر آمیز حرکات کیں مگرایک مخلص اور خلافت کے فدائی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کو بھی دوبارہ بیعت کرنے کا ارشاد ہوا۔ اس کی وجہ حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں کچھ یوں ہے۔ حضور ؓ فرماتے ہیں: ’’ شیخ یعقوب علی صاحب سے اس موقع پر جو بیعت لی گئی وہ اس لئے لی گئی تھی کہ شیخ صاحب نے ایک جلسہ کیا تھا جس میں ان لوگوں کے خلاف تقریریں کی گئی تھیں جنہوں نے نظام خلافت کی تحقیر کی تھی۔ اور گو یہ اچھا کام تھا مگر حضرت خلیفہ اولؓ نے فرمایا جب ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ خود بخود الگ جلسہ کرتے۔ غرض ان تینوں سے دوبارہ بیعت لی گئی اور انہوں نے سب کے سامنے توبہ کی‘‘۔

اس سے ثابت ہوا کہ ہم ایک امام کے تابع ہیں۔ ہم نے جو کام بھی کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے ، خلیفۃ المسیح کے تابع کرنا ہے تب ہی قابل قبول ہو گا، ورنہ عین ممکن ہے کہ خداتعالیٰ اور اس کے نمائندے کی مرضی اور ہدایت کے خلاف کیا جانے والا بظاہر نیکی کا کام بھی شرفِ قبولیت سے محروم رہ جائے۔

سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا

یہ امر بہت ضروری ہے کہ خلیفہ وقت کے جن ارشادات کی اطاعت کرنا مقصود ہے ہم انہیں براہِ راست سننے کی سعادت بھی حاصل کریں۔اور ہم جب خلیفۂ وقت کے ارشادات کو سن کر ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو خلافت کے مقاصد کو پورا کرنے والے ہو جائیں گے۔ اور جب تک خلافت کے قیام کے مقاصد پورے ہوتے چلے جائیں گے، خلافت کا قیام اور اس کا استحکام جاری رہے گا۔ قرآن کریم میں مومنوں کا یہ شعار بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔ کہ ہم نے سنا اورہم نے اطاعت کی۔ اب اگر کوئی پہلے زینہ پر پاؤں نہیں رکھے گا تو اگلے زینہ پر کیسے چڑھ سکے گا۔ یعنی ہدایات اور احکام اگر خلیفہ سے سنے گا نہیں تو اطاعت کیسے کرے گا۔ چنانچہ ایک نہایت اہم ذمہ داری جو ہر احمدی کے کندھوں پر ہے وہ خلیفۂ وقت کے خطبات سننا اور دوسروں کو سنانا اوران پر عمل کرکے اپنی عملی اصلاح کرنا ہے۔

خلیفۂ وقت کے خطبات سننا

یہ بھی خلافت جیسی عظیم نعمت کی ناشکری ہو گی کہ اگر کسی کے پاس حضور کے خطبات اور تقاریر سننے کے لئے وقت نہ ہو۔ جس برکت سے ہم ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں، دین و دنیا کی نعمتیںجس برکت کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہیں، وہ وجود جو راتوں کو ہماری خاطر جاگتا ہے، دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہماری بلکہ پوری دنیا کی بھلائی کے لئے تدبیریں سوچتا ہے اور ہر خطبہ جمعہ میں ہماری روحانی اور جسمانی ترقی کے طریق بتاتا ہے اس کی باتیں سننے کے لئے کسی احمدی کے پاس وقت نہ ہو! یہ انتہائی نا شکری اور بد نصیبی ہے۔خلیفہ کی مثال تو ایک ڈاکٹر کی سی ہے جو مریضوں کو بیماریوں سے شفا دینے کے لئے نسخے دیتا ہے اور پرہیز بتاتا ہے۔ اب اگر مریض ڈاکٹر کی تجاویز پر عمل کرے گا تو اس کا فائدہ ہے اور اگر عمل نہیں کرے گا تو مریض کا اپنا ہی نقصان ہو گا۔ ڈاکٹر نے تو اپنا فریضہ سرانجام دے دیا۔ یہ تو ایک چشمہ ہے جو عرفان الٰہی اور برکات کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے۔ اب اس چشمہ سے جام بھربھر کے پینا ہر احمدی کا کام ہے۔ اس لئے حقیقی مومن بننے کے لئے ہمیں چاہیے کہ خلیفہ وقت کے خطبات کو غور سے سنیں اور لبّیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں تا کہ خدا کے فضلوں کے وارث بنیں ۔ نبی اور خلیفہ کی زبان میں جو تاثیر ہے وہ کسی اور کی زبان میں نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ براہ راست حضور کے خطبات سنے جائیں۔ بجائے اس کے کہ صرف خلاصوں پرہی انحصار کیا جائے۔

پھر ایم ٹی اے کے نظام کے شکرانے کے طور پر بھی جسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی برکت سے دنیا کوعطافرمایا ہے ہمیں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے اوراگر ہم حضور انور کے خطبات براہ راست یا کم از کم ریکارڈنگ نہ سن سکیں تو ایک گونہ یہ اس نعمت کی بھی ناشکری شمار ہو گی۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جب تک اللہ تعالیٰ کی منشاء اپنے سلسلہ میں خلافت راشدہ کو قائم رکھنے کی رہے اس وقت تک برکتیں خلافت سے وابستہ ہوتی ہیں اور ہر وہ شخص جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ ان برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ میرا یہ تجربہ ہے ذاتی کہ بعض لوگ جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ان کے حق میں میری دعائیں قبول نہیں بلکہ ردّ کر دی جاتی ہیں۔ حالانکہ میں نے اپنے لئے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق مجھے یقین بھی ہو جائے کہ وہ خلافت کی اہمیت نہیں سمجھتا اور اس کے دل میں خلافت کے نظام سے وہ محبت اور پیار نہیں جو ایک احمدی کے دل میں ہونی چاہئے تب بھی مَیں اس کے لئے دعا کرتا رہتا ہوں اور دعا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ اس لئے دعا کرنا میرا کام ہے، میں اپنا کام کر دیتا ہوں۔ دعا قبول کرنا میرے ربّ کا کام ہے اور مَیں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں میری دعا قبول نہیں ہوتی۔

حالانکہ اس سے برعکس بہت سے ایسے احمدی بھی ہیں جو اگرچہ اعتقاد ًا پختہ ہوتے ہیں اور نظام جماعت سے ان کا بڑا گہرااور سچا تعلق ہوتا ہے اور خلافت سے وہ حقیقی تعلق رکھتے ہیں لیکن عملًا بہت سی ذاتی کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب اس گروہ کے متعلق یا ان میں سے کسی فرد کے متعلق دعا کی جائے تو اللہ بسا اوقات محض اپنے فضل سے اس دعا کو بڑی جلدی قبول کر لیتا ہے۔ یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے۔

اس مختصر سے وقت میں یعنی جب سے میں مسندِ خلافت پر بٹھایا گیا ہوں جو میں نے ذاتی مشاہدے کیے ہیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے دیکھا ہے اور بعض دعاؤں کو ردّ ہوتے پایا ہے، یہ میرا مشاہدہ ہے جو مَیں نے اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے…‘‘(روزنامہ الفضل23؍ دسمبر 1967ء)

منصب خلافت کا احترام

ہر احمدی مسلمان کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ وہ منصب خلافت کا کماحقہ احترام کرے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں:

’’مَیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پہلے بھی یہی دیکھا تھا اور آئندہ بھی یہی ہو گا کہ اگر کسی احمدی کو منصب خلافت کا احترام نہیں ہے، اس سے سچا پیار نہیں ہے، اس سے عشق اور وارفتگی کا تعلّق نہیں ہے صرف اپنی ضرورت کے وقت دعا کے لئے حاضر ہوتا ہے تو اس کی دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ یعنی خلیفۂ وقت کی دعائیں اس کے لئے قبول نہیں کی جائیں گی۔ اسی کے لئے قبول کی جائیں گی جو اخلاص کے ساتھ دعا کے لئے لکھتا ہے اور اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے عہد پر قائم ہے کہ جو نیک کام آپ ہمیں فرمائیں گے ان میں مَیں آپ کی اطاعت کروں گا۔ ایسے مطیع بندوں کے لئے تو بعض دفعہ ہم نے نظارے دیکھے ہیں، ایک دفعہ نہیں، بسا اوقات یہ نظارے دیکھے کہ وہاں پہنچی بھی نہیں دعا ۔ اور قبول ہو گئی۔ ابھی کی جا رہی تھی دعا، تو اللہ تعالیٰ اس پر پیار کی نظر ڈال رہا تھا اور وہ قبول ہو رہی تھی۔ بعض دفعہ دعا بنی بھی نہیں تو وہ دعا قبول ہو جاتی ہے۔ اس لئے یہ ایسا بنیادی اصول ہے جس کو ہمیشہ ہر احمدی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔‘‘ (الفضل، 27جولائی 1982ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا:

’’بے شمار لوگ مجھے دعا کے لئے لکھتے رہتے ہیں۔ میری ذات کی تو کوئی حیثیت نہیں… لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے منصب خلافت پر فائز فرمایا ہے۔ اس لئے اگر کسی احمدی کو منصب خلافت سے پیار نہیں یا اس مقام سے سچا عشق نہیں تو خلیفہ وقت کی دعا بھی اس کے حق میں قبول نہیں ہو گی اس لئے زبانی اور عملی طور پر بھی اطاعت خلافت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی کی دعائیں سنے گا جو خلافت سے سچی وفاداری رکھتا ہے۔(الفضل 6؍ فروری2001ء)

اولاد کوخلافت سے وابستگی اور اطاعت کی تلقین

ہر احمدی پر لازم ہے کہ دعا اور تدبیر کے ساتھ اوّل اپنی اولاد کی تربیّت اس رنگ میں کرے کہ وہ خلافت احمدیہ کے وفا داروں میں شامل رہیں۔ اوریہ وفاداری کا سبق اپنی اولاد در اولاد کو سکھائیں۔ اس طرح نسل در نسل خلافت کے ساتھ وفا اور وابستگی اور اطاعت کا درس اور سبق ملتا رہے۔ بچوں کو خلافت کے ساتھ وابستہ کرنے میں ہی ہماری اور ان کی بقا ہے کیونکہ ایک موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا تھا کہ : ’’اگر آپ اپنی نسلوں کی بقا چاہتے ہیں تو ان کو میرے خطبات سے وابستہ کر دیں ۔‘‘

 اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اولادوں کو کیسے خلیفہ وقت کے خطبات سے وابستہ کریں گے اگر ہم خود وابستہ نہ ہوئے۔ اس لئے لازم ہے کہ پہلے والدین حضور کے خطبات سے وابستہ ہوں ۔

پھر ہمارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضورِ انور کے ارشادات کی روشنی میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے گھروں کاکوئی فرد ایسا نہ رہ جائے جو پنج وقتہ نمازوں اور تلاوت کا پابند نہ ہو اور ہر جمعہ کا خطبہ نہ سنتا ہو۔ اس کام کے لئے دعا اور اپنی بھرپور کوشش اور عملی نمونہ لازمی ہے۔

آج کے دور میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بچوں کی تربیت میں ماں کا بہت اہم کردار ہے۔ اس لئے احمدی ماؤں پر بھی بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں خلافت کی محبّت پیدا کریں۔ یہ محبت اس وقت پیدا ہو گی جب مائیں خود دعائیں کریں گی اور خلیفہ وقت کے احکامات پر خوش دلی سے لبّیک کہیں گی۔ مثلاً پردہ کا حکم دراصل اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو خلیفہ وقت بار بار ہمیں پہنچا رہے ہیں۔ اس معاشرہ میں صرف احمدی عورتیں اور مرد ہی ہیں جنہوں نے اس حکم الٰہی پر عمل کر کے ایک نمونہ بننا ہے اور دنیا کو ہلاکت اور بے حیائی کی راہ سے بچانا ہے۔ آجکل دنیا زمانہ جاہلیّت کی طرح ایسے مختصر اور تنگ لباسوں کو فخر سے پہنتی ہے جن سے جسم کی نمائش ہو، اور پورا لباس پہننے کو قابل شرم خیال کرتی ہے۔ خصوصاً یورپ میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ حالانکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ننگے رہنا اور مختصر لباس پہننا جہالت کے زمانہ کی باتیں ہیں۔ جب لوگوں نے تہذیب سیکھی تو لباس پہننے اور جسم ڈھانپنے شروع کئے، تو یہ زمانہ ترقی یافتہ کہلایا۔اگر احمدی مائیں پردہ نہیں کرتیں تو بچوں کے دلوں میں کیسے خلافت کے احکام ماننے کی تلقین کریں گی ۔ اس لئے نسلوں کو خلافت سے وابستہ کرنے کے لئے احمدی ماؤں کو اطاعت کے نمونے دکھانے ہوں گے تا کہ ان کی گود سے ایسی نسلیں پروان چڑھیں جو خلافت کی فرمانبردار ہوں۔

ہر احمدی کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس کا اور اس کی اولاد کا حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ سے ذاتی تعلق پیدا ہو۔ یہ تعلق باقاعدہ خطوط لکھنے، ایم ٹی اے پر حضورِ انور کے خطبات و خطابات و دیگر پروگرامز اور کلاسز وغیرہ دیکھنے اور حضورِ انور سے جس حد تک ممکن ہو سکے ملاقات کا شرف حاصل کرنے سے پروان چڑھے گا۔

تبلیغ ایک اہم فریضہ

تبلیغ بھی ایک فریضہ ہے جس کی طرف خلیفۃ المسیح ہمیں بار بار بلاتے ہیں۔ یہ بھی ہر احمدی پر فرض ہے۔ یہ بھی استحکام خلافت کے لئے ضروری ہے۔ خلافت کے سائے میں توحید اور اسلام کا جھنڈا لہرانا اور دنیا کو ہلاکتوں سے بچانا اور امن کے جھنڈے تلے جمع کرنا اور خصوصاً آج کے دور میں، جبکہ اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ اور بعض مسلمان کہلانے والوں کی اسلامی تعلیمات کے خلاف کی جانے والی حرکات کی وجہ سے اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے۔ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے ثابت کرے کہ حقیقی اسلام وہ نہیں ہے جو میڈیا میں ایک پروپیگنڈا کے تحت دکھایا جا رہا ہے۔ بلکہ اصلی تصویر اسلام کی یہ ہے جوخلیفۂ وقت کی تربیت اور راہنمائی کی بدولت ہمارے چہروں اور لباس ، رہن سہن، بول چال اور حسن معاشرت اور خدمت انسانیت کے ذریعہ ظاہر ہورہی ہے۔

منافقین پر نظر

 ہر احمدی کا کام ہے کہ اگر وہ نظام خلافت کے خلاف کوئی بات سنے یا کوئی حرکت دیکھے تو فوراً اس کے سدّ باب کے لئے کوشش اور دعا کرے۔ اور نظام جماعت کو اطلاع کرے تا کہ نظام خلافت میں کوئی شریر رخنہ پیدا نہ کر سکے۔ اگر کہیں ایسی مجلس دیکھیں جہاں منصب خلافت یا نظام جماعت کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں، وہاں سے فوراً اٹھ جائیں ، کبھی بھی ایسی مجلس کا حصہ نہ بنیں۔ اور نہ منافقین کی ہاں میں ہاں ملائیں، بلکہ ہو سکے تو ان کو سمجھائیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محرومی والی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی حرکات ہیں، ان سے بچنا چاہئے۔

استحکامِ خلافت کے لئے دعائیں

ہمارا فرض بنتا ہے کہ خلافتِ احمدیہ کے استحکام کے لئے دعائیں کریں۔ یہ اسی طرح ہے گویا کہ ہم ایک ایسے درخت کے سایہ دار اور سرسبز رہنے کے لئے دعائیں کریں جس کے سائے کے نیچے ہم خود پناہ لئے ہوئے ہیں۔ہم نے جو عہدِ بیعت کیا ہے اس کو نبھائیں۔ جو دعائیں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافتِ احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کے موقع پر کرنے کی تحریک فرمائی تھی اور پھر ان کو کرتے رہنے کے لئے ارشاد فرمایا تھا ان کا وِرد کرتے رہیں اور خود بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہریں۔ اسی طرح نفلی روزہ رکھنے اور نوافل کی ادائیگی کی تحریک پر بھی عمل کریں۔

امام ڈھال ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ‘ کہ امام ایک ڈھال ہے اس کی پناہ میں لڑا جاتا ہے۔یعنی امامِ وقت مومنوں کے لئے مشکلات و آفات اور شیطانی حملوں سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے۔ اب ڈھال تو اسی کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے جو اس ڈھال کے پیچھے اور اس کی پناہ میں اپنے آپ کو لے آئے۔ اور جو اپنے آپ کو اس سے بے نیاز سمجھے گا یا اس کو نظر انداز کر دے گا تو وہ نقصان اٹھائے گا۔اس لئے ہمارا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ ہم اس خداد داد ڈھال یعنی خلافتِ احمدیہ کے زیرِ سایہ ہر قدم اٹھائیںتاکہ ہم اپنے آپ کو، اپنی اولادوں کو اور تمام بنی نوع کو ہلاکت سے بچا کر خدا کے فضلوں کے وارث بنا سکیں۔

آج سے 42؍ سال قبل مولانا عبد الماجد صاحب دریا آبادی مرحوم نے فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کی ایک کانفرنس کے انعقاد پر اپنے اخبار صدق جدید لکھنؤ کے 8؍ مارچ 1974ء کے پرچہ میں ’’خلافت کے بغیر اندھیرا‘‘ کے عنوان کے تحت بڑی حسرت کے ساتھ لکھا تھا کہ:

’’اتنے تفرق اور تشتت کے باوجود کبھی کسی کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ عراق کا منہ کدھر اور شام کا رخ کس طرف ہے؟ مصر کدھر اور حجاز کدھر؟ یمن کی منزل کون سی ہے اور لیبیا کی کونسی؟ ایک خلافت اسلامیہ آج ہوتی تو اتنی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں آج مملکتِ اسلامی کیوں تقسیم در تقسیم ہوتی؟ ایک اسرائیل کے مقابل سب کی الگ الگ فوجیں کیوں لانا پڑتیں۔ تُرک اور دوسرے مسلم فرمانروا آج تک تنسیخ خلافت کی سزا بھگت رہے ہیں۔‘‘

پس آج دنیا کا امن صرف خلافت کے دامن سے ہی وابستہ ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر قوم کی مثال ایک ایسے ریوڑ کی ہے جس کا کوئی گڈریا نہ ہو اور وہ پُر خطر جنگل سے گزررہا ہو۔

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 11؍ مئی 2003ء کو جماعت کے نام پیغام دیتے ہوئے فرمایا:

’’جان سے پیارے احباب جماعت!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

’’… پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔ اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو اور آپ کو خلافت احمدیہ سے کامل وفا اور وابستگی کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

نظامِ خلافت کی حفاظت کا عہد

 خلافت ضمانت ہے اسلام کی ترقی اور غلبہ کی۔ شریعت کے احکام کی اشاعت کی۔ خلافت ضمانت ہے ہر مومن کی ذاتی واجتماعی بقا کی۔ خلافت ضمانت ہے جماعت میں الفت و اتحاد کی۔ لہٰذا آئیں آج ہم سب اسی طرح عزم و حمد کے ساتھ عہد کریں جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 24؍ جنوری 1960ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے تمام افراد کو کھڑا کر کے ان سے عہد لیا تھا، جس کی تجدید 28؍ مئی 2008ء کے روز حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی کے موقع پر ہونے والے اپنے معرکۃ الآراء خطاب میں فرمائی:

’’ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔ اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تا کہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاجھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔‘‘(الفضل 16؍ فروری 1960ء) اور ہم اس عہد کو ہر لمحہ اپنے دلوںمیں تازہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اس کی توفیق عطا فرما۔ آمین اللّٰھم آمین ٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button