حضرت ابراہیمؑ و برہماجی کی مماثلت اورہندوستان و ایران کا آلِ ابراہیم سے تعلق(قسط دوم۔ آخری)
(تحقیق و تحریر: طاہر احمد نمائندہ الفضل انٹرنیشنل۔ فن لینڈ)
ہر دور میں اللہ کچھ ایسے جلیل القدر اشخاص پیدا فرماتا رہا ہے جن سے عظیم الشان سلسلوں کی بنیادیں پڑیں اور یہ شرف صرف حضرت ابراہیمؑ کو حاصل ہے کہ آنحضرتﷺ نے آپؑ کو اور آپؑ کی آل کو درود شریف میں شامل فرمایا اور آپﷺ نےاپنے لیے اور اپنی آل کے لیےاسی طرح رحمت و فضل کی دعا سکھائی جس طرح حضرت ابراہیمؑ اور آپؑ کی آل پر رحمت و فضل ہوئے تھے
[گذشتہ سے پیوستہ]
اہلِ عجم و فارس آلِ ابراہیمؑ ہیں۔ اسلامی و تاریخی حوالوں سے
آنحضرت ﷺ ایک حدیث میں فرماتے ہیں: ’’فارس عصبتنا اھل البیتِ لأن إسماعیلَ عمُّ ولدِ إسحاقَ و إسحاقُ عمُّ ولدِ إسماعیلَ‘‘(رد الحاكم في تاريخ عن ابن عباس کنز العمال علیدصفحہ ۲۶۴، وتاریخ ابن عساکر بروایت ابن عباسؓ) یعنی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فارسی لوگ ہمارے خاندان اور ہمارے ہم قوم ہیں۔ کیونکہ اسمعیلؑ اسحٰقؑ کی اولاد کے تایا تھے۔ تو اسحقؑ اسمعیلؑ کی اولاد کے چچا ہوئے۔
محترم انصر رضا صاحب نے اپنے مضمون ’’کیا نبوت آلِ ابراہیم تک محدود ہے؟‘‘ میں یہ حدیث درج کی ہے کہ ’’اِبْنِ عُمَرَ۔ أھلُ فَارِسِ مِنْ وَّلَدِ إسْحَاقَ بْنِ إبْرَاھِیْمَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْھِمَا۔‘‘ یعنی ابن عمر سے روایت ہے کہ آل فارس اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ (الفردوس بمأثور الخطاب جز اول باب الألف صفحہ۴۱۸)
جبکہ جلال الدین سیوطیؒ نے در منثور میں سورۃالصّٰفٰت کی آیت ’’وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’البزار وابن ابی حاتم اور خطیب نے اپنی تلخیص میں ابوہریرہ ؓسے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولد سام العرب و فارس و روم والخير فيهم‘‘ یعنی سام کی اولاد میں عرب فارسی اور رومی ہیں، اور ان میں خیر ہے۔ ایک اور حدیث میں یوں بھی درج ہے: ’’حدثنا بشر بن معاذ العقدي بصري حدثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال سام أبو العرب ويافث أبو الروم وحام أبو الحبش قال أبو عيسىٰ هذا حديث حسن ويقال يافث ويافت ويفت‘‘ (سنن ترمذی، کتاب المناقب،باب فضل العرب۔جلد ۵،صفحہ ۶۸۱، حدیث نمبر۳۹۳۱) یعنی ہم سے بشر بن معاذ عقدی البصری نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زری نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی عروبہ نے، وہ قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سام عربوں کا باپ ہے۔ یافث رومیوں کا باپ ہے ، اور حام حبشیوں کا باپ ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا: یہ حدیث حسن ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے: جفت، یافت، اور یافث۔(نوٹ: بائیبل کے مطابق یہ تینوں حضرت نوحؑ کے بیٹے تھے اور طوفان کے وقت کشتی میں سوار تھے)
کنزالعمال میں ہے کہ ’’من اسلم من فارس لهو من قریش هم اخوانا و عصبنا‘‘ یعنی جو فارس سے اسلام لائے وہ قریش سے ہے۔ وہ ہمارے بھائی اور ہمارے رشتے دار (خاندان) ہیں۔’’ان للّٰه تعالىٰ خيرتين من خلقه: فخيرته من خلقه من العرب قريش، ومن العجم فارس‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوقات میں سے دو بہترین مخلوقات ہیں: عربوں میں سے اس کی بہترین مخلوق قریش ہے اور غیر عربوں میں اس کی بہترین مخلوق فارسی ہے۔ (كنز العمال – المتقي الهندي جلد ١٢۔ صفحہ ٩٢)
جاء عن رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَآلهٖ وسَلَّمَ أنه قال: سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ۔ یعنی آپﷺ نے فرمایا: سلمان ہم میں سے اہل بیت ہیں۔ اسے الطبرانی نے، الحاکم نے اپنی ’’مستدرک‘‘ میں، ابو نعیم الاصبھانی نے ’’معرفۃ الصحابہ‘ میں اور بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں روایت کیا ہے۔ (بحوالہ دارالافتاء المصریہ)
’’عن صالح بن ابى صالح مولى عمرو بن حريث قال سمعت أبا هريره يقول ذكرت الاعاجم عند النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فقال التي لا نا يهم ا بعضى هم اوثق منى بكما و بعضكم‘‘ (ترمذی باب فضائل الحجم صفحہ ۶۸۲، حدیث نمبر۳۹۳۲) ترجمہ : صالح ابن ابی صالح جو عمرو بن حریث کے غلام ہیں۔ نے کہا کہ میںنے ابو ہریرہ سے یہ بات سنی ہے۔ ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے حضور میں عجمیوں کا ذکر آیا تو آپﷺ نے فرمایاکہ میرا ان کے ساتھ یا ان میں سے بعض کے ساتھ تم سے بھی زیادہ پختہ تعلق(تم سے ذیادہ بھروسہ ) ہے۔(ماخوز از کتاب تحفہ ہند و یورپ ،مصنفہ مولوی نعمت اللہ خان گوہر،طبع وزیر ہندپریس امرتسر،۱۹۲۸ء قادیان)
پس مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ متعدد احادیث اور تاریخی روایات کے مطابق، اہلِ ایران یا فارس کو اہلِ بیت میں شامل کیا گیا ہے اور آلِ ابراہیمؑ سے خاص نسبت دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ ’’فارس عصبتنا اہل البیت‘‘، یعنی فارسی ہمارے خاندان اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، کیونکہ حضرت اسماعیلؑ اور حضرت اسحاقؑ باہم بھائی تھے، جس کی وجہ سے ان کی اولادیں ایک دوسرے سے خاندانی رشتہ رکھتی ہیں یہ ثابت کرتی ہے کہ جو بھی انبیاء حضرت ابراہیمؑ کے بعد ایران (موجودہ نہیں کیونکہ تاریخی طور پر بارڈر تبدیل ہوتے رہے ہیں ، سو جو جو علاقے کبھی بھی ایران کا حصہ رہے یا وہاں کی قوم سے تعلق رکھتے تھے) میں مبعوث ہوئے تو وہ حضرت ابراہیمؑ کی ذریت قرار پائیں گے۔ متعدد احادیث میں فارس وعجم کی فضیلت بیان ہوئی ہےجو فارسیوں کے ساتھ آپ کے روحانی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ سورۃالجمعہ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی پہنچ جائے تو ’’فارس کے فرزند اسے حاصل کر لیں گے‘‘، فارسی قوم کی روحانی قابلیت کی طرف اشارہ ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان کے بارے میں بھی ذکر ملتا ہے کہ وہ فارسی النسل ہیں، خواہ جغرافیائی اعتبار سے ان کا تعلق وسطی ایشیا سے رہا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انہیں ’’ابنائے فارس‘‘ سے تعبیر کیا، جو اس خاندان کے ایرانی الاصل ہونے کی تائید کرتا ہے نیز جہاں آپؑ روحانی طور پر آنحضرتﷺ کی ذریت ہیں اور اس طریق پر حضرت اسماعیلؑ سے تعلق رکھتے ہیں، دوسری طرف فارسی الاصل ہونے کے آپؑ بنو اسحاقؑ سے ہوئے۔
حضرت مسیح موعودؑ کا تعلق
چونکہ آنحضرتﷺ کے قول کے مطابق یہ آل اسحاق ہیں تو اس وجہ سے جہاں جہاں یہ گئے وہاں جو بھی انبیا آئے وہ روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی آلِ ابراہیمؑ کہلانے کے حقدار ہیں یہاں تک کہ مسیح آخر الزماں حضرت مسیح موعودؑ بھی ہندوستان میں مبعوث ہوا جو کہ فارس الاصل ہے اور جو خورس اعظم کی طرح دو تہذیوں اور آلِ ابراہیم کی آل کو اکھٹا کر کے ذوالقرنین بھی کہلایا۔
نوٹ: اس مضمون کا مقصد کسی بھی نظریے کو من و عن ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیمؑ کا تعلق ہندوستان سے اور وید کی اصل تعلیمات پر دینِ حنیف کے اثر کو ثابت کرنا ہے نیز اس بات پر روشنی ڈالنا ہے کہ جس طرح خورس اول حضرت ذوالقرنین کا تعلق ایران سے تھا لیکن بنی اسرائیل کے وہ مسیحا ٹھہرے نیز جس طرح اہل عجم جن میں حضرت زرتشتؑ سے لے کر بدھؑ اور کرشنؑ جیسے نبی مبعوث ہوئے لیکن مشرک تعلیم نے ان میں بگاڑ پیدا کر دیا اسی طرح حضرت ابراہیمؑ ہی کی نسل سے اہل عجم سے ہی تعلق رکھنے والا مسیح اور ان انبیاء کا بروز اور ذوالقرنین ثانی ہندوستان میں مبعوث ہوا تاکہ ان تعلیمات کو درست کر کے ان کو دوبارہ دین ِ حنیف کی طرف لے جائے جو اس زمانہ میں دینِ محمدی ﷺ ہے جیسا کہ سورۃالحج آیت ۷۹ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَؕ ہُوَ سَمّٰٮکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ۔یعنی (اے مومنو)! اپنے باپ ابراہیم کے دین کو (اختیار کرو کیونکہ) اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس کتاب میں بھی اور اس سے پہلی کتب میں بھی’ تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم باقی دنیا پر گواہ رہو۔
قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کا آخرین میں ذکر اور ذریت میں کتاب، نبوت و سلطنت کی پیشگوئی
قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کی ایک دعا ہے: وَاجۡعَلۡ لِّیۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ۔ (الشعراء: ۸۵)یعنی اور بعد میں آنے والے لوگوں میں ایک ہمیشہ قائم رہنے والی تعریف مجھے بخش۔ اس آیت کی تشریح میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کو دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف مسلمانوں نے پورا کیا ہے۔ ممکن ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے اور پوتے آپ کے لئے دعا کرتے ہوں لیکن بہت سی نسلیں گزر جانےکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی اور جسمانی اولاد ان کو بھول گئی لیکن مسلمان ہیں جو تیرہ سو سال سے برابرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے دعا کرتے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک دعا کرتے چلے جائیں گے چنانچہ ہرنمازی ہر تشہد کے آخر میں یہ کہتا ہے کہ اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌاللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَکْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۹ صفحہ ۴۶۶)
نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰہِیۡمَ وَجَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالۡکِتٰبَ فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔‘‘(الحدید:۲۷)اور یقیناً ہم نے نوح اور ابراہیم کو (بھی) بھیجا اور دونوں کی ذرّیت میں نبوت اور کتاب (کی عطا) رکھ دی۔ پس ان میں وہ بھی تھا جو ہدایت پاگیا جبکہ ایک بڑی تعداد ان میں سے گمراہوں کی تھی۔
پھرفرمایا : ’’فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا‘‘(النساء: ۵۵)تو یقیناً آلِ ابراہیم کو بھی ہم کتاب اور حکمت عطا کرچکے ہیں اور ہم نے انہیں ایک بڑی سلطنت عطا کی تھی۔
قرآن کی ان آیات کو اوپر ذکر کردہ تاریخ و روایات کے تناظر میں دیکھیں تو یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذریّت میں نبوت و کتاب کا ذکر ہے اور آپؑ کی آل میں سلطنت کا بیان ہے، تو اگر اوپر بیان کی گئی باتوں کو دیکھیں تو ایران و ہندوستان میں مبعوث انبیاء سب آلِ ابراہیمؑ کے زمرہ میں آتے ہیں کیونکہ اہلِ عجم کا اقوالِ آنحضرتﷺ سے حضرت اسحٰق ؑکی نسل سے ہونا ثابت ہے نیز مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانی قوم اور ہندوستان کی اکثریتی قوم یعنی انڈو۔آرین قوم کا ماخذ ایک ہی ہے ۔مختلف حوالوں سے ظاہر ہے کہ بعد ازاں میسوپوٹیمین علاقوں سے یہ ہجرت کر کے ایران اور ہندوستان کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ ہندوستان میں ویدک دور بھی آرین اقوام کے آنے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔نیز یہ بھی تاریخی حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم میسوپوٹیمیا تہذیب کا قدیم ایرانی تہذیب و دریائے سند کی تہذیب سے گہرا تجارتی وو سفری و نظریاتی تعلق و اثر تھا۔ مزید برآں صابی اقوام کا بھی میسوپوٹیمیا خاص کر حضرت ابراہیمؑ کے دور سے تعلق تھا اور ان کے علاقے سے ذیادہ دور بھی نہیں بستے تھے، نیز صابی اقوام کا ا نڈو آرین اقوام کے ساتھ ایران و ہندوستان میں آنا یا بعض کے نزدیک وہ بھی آرین ہی تھے، تو یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ انہی لوگوں کی تعلیم کے زیر اثر وید میں ابراہیمی اثر آیا نیز انہی قوموں میں اللہ نے قرآن کے مطابق نبی بھی مبعوث کیے اور بادشاہت و سلطنت بھی دی۔ جیسا کہ پہلے بھی حضرت ایوبؑ(۱۳۰۰ تا ۱۵۰۰ قبل مسیح) کی صورت میں جنہیں بائیبل نے نیز بعض مفسرین (جیسے طبری اور ابن کثیر)نے انہیں عیسو بن اسحاقؑ (حضرت یعقوبؑ کے جڑواں بھائی) کی اولاد میں شمار کیا ہے۔ اور بعض نے انہیں ادومی النسل اور ادوم (Edom) کا رہائشی قرار دیا ہے جو عیسو بن اسحاقؑ کا ہی نام تھا اور انہی کے نام سے آباد ہوا۔ نیز حضرت شعیبؑ(۱۵۰۰ تا ۱۶۰۰ قبل مسیح) جو کہ مدین کے علاقے میں مبعوث ہوئے، جو موجودہ اردن، فلسطین اور سعودی عرب کی سرحدوں کے قریب واقع تھا۔ آپؑ کا نسب حضرت ابراہیمؑ سے ملتا ہے، کیونکہ آپؑ مدین بن ابراہیمؑ کی اولاد میں سے تھے، جو حضرت ابراہیمؑ کی تیسری بیوی حضرت قطورہ کے بیٹے تھے۔( ماخوز از کتاب تحفہ ہند و یورپ ،مصنفہ مولوی نعمت اللہ خان گوہر،طبع وزیر ہندپریس امرتسر،۱۹۲۸ء قادیان) اسی طرح اللہ نے بنی اسحٰق(انڈو آرین) میں ایران میں زرتشتؑ، ہندوستان میں بدھؑ،کرشنؑ،رامچندرؑ وغیرہ جیسے انبیاء نیز ان انبیاء کے ماننے والوں میں خورس اعظم (ذوالقرنین ) و مہاراجہ اشوک جیسے عظیم بادشاہ اور سلطنت عطاء کیں۔
آنحضرتﷺ کے ظِل حضرت مسیح موعودؑ کا وید میں ذکر اور مسئلہ بروز
اب جبکہ مضمون میں ایک ربط قائم ہو چکا ہے تو اس کے بعد مختصر طور پر آنحضورﷺ کے ہندوستان یا ویدک مذہب سے تعلق پر بھی کچھ لکھ دینا مناسب ہے تاکہ تسلسل رہے اور حضرت مسیح موعودؑ کے ہندوستان میں ظہور کا مضمون حقائق کی روشنی میں بیان ہو سکے۔ مشہور کتاب ’’کلکی اوتار اور محمدﷺصاحب‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’پرانوں میں آخری اوتار کے مضمون کا ذکر آیا ہے کہ آخری اوتار کے جسم سے خوشبو نکلےگی۔ جو ہواؤں میں شامل ہو کر لوگوں کے قلوب کو پاک کریگی۔… آخری اوتار عظیم معاشرے کا نجات و ہندہ ہوگا۔ دین سے دور پڑے ہوئے ظالموں کا قلع قمع کر کے اُن کو سیدھی راہ پر لگائے گا۔ مادھو ماس کی دوارشی شکل پاکش میں جنم آخری اوتار کی ولادت زوئد النور بارہویں تاریخ مادھو ماس یعنی ربیع الاول میں ہوگی۔…‘‘ (کلکی اوتار او ر محمدصاحبﷺ، ڈاکٹر دید پرکاش اپادھائے، صدر مرکز دیندار انجمن ( خانقاه سرور عالم) جگت گرد آشرم آصف نگر ، حیدر آباد۔ ۲۸ اے پی، بھارت،صفحہ ۲۵ تا ۲۹)
ڈاکٹر وید پرکاش لکھتے کہ ’’اتھروید میں (Narashangsa) کی زندگی کے واقعات کو بیان کرنے کے لیے استعارے استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ استعارے اور واقعات محمد ﷺ کی زندگی کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اتھروید میں ذکر ہے کہ خدا (Narashangsa)کو دس ہزار گائیں دے گا۔ یہاں گائے ’’ایک استعارہ ہے، جو ایسے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو سادہ مزاج اور خوش اخلاق ہوں۔ محمد ﷺ کی زندگی کے آخری حصے میں اُن کے ماننے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یہ لوگ محمد ﷺ کی خاص صحبت میں تھے۔ جب آخرکار محمد ﷺ مدینہ سے مکہ کی فتح کے لیے روانہ ہوئے، تو اُن کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے۔‘‘ (Muhammad in the Hindu scriptures :Narashangsa And The Antim Rishiصفحہ ۱۵،مصنف ڈاکٹر وید پرکاش اپادھائے، انگریزی ترجمہ محمد عالمگیر،مطبوعہ گلوب آفسیٹ پریس، دریا گنج، نیو دہلی۔ انڈیا)
یہی بات عیسائیوں کی مقدس کتاب میں یوں درج ہے کہ ’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔ اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔ ہاں وہ اس قوم سے بڑی محبت رکھتا ہے۔ اس کے سارے مقدس تیرے ہاتھ میں ہیں۔ اور وہ تیرے قدموں کے نزدیک بیٹھے ہیں۔ اور تیری باتوں کو مانیں گے۔’‘‘(استثناء: ۳۳۔ ۲تا۳) (بانی اسلام اور بائبل مقدس از مولانا ابواالعطاء جالندھریؓ مرسلہ مولانا عطاء المجیب راشد، روزنامہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۸؍نومبر ۲۰۲۱ء)
نیز ویدوں میں بھی احمد نام کے اوتار کا ذکر بھی ملتا ہے اور رگوید،سام وید اور اتھر وید میں آتا ہے اور جس کا مفہوم بنتا ہے کہ وہ اپنے سے پہلے گزرے ایک مہ رشی کا تابع ہوگا۔ چنانچہ لکھا ہے : اہمیدھی پتوشپری میدھامرتسیہ جاگربھ۔آہن سورجیوازنی۔(اتھر وید کا نڈ ۲۰ سوکت ۱۱۵ منترا) یعنی احمد نے اپنے رب سے پُر حکمت شریعت کو حاصل کیا۔ میں سورج کی مانند (اس سے ) روشن ہو رہا ہوں۔‘‘(مترجم عبد الحق صاحب ودیارتھی کتاب میثاق النبیین جلد اول صفحہ ۱۶۲، ناشر دار الاشاعت کتب اسلامیہ بمبئی )
آنحضرتﷺ بحیثیت بروزِ ابراہیمؑ
حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں کہ’’یہ محقق امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خُو اور طبیعت پر آئے تھے۔ …ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑا جو خانہ کعبہ میں رکھے گئے تھے۔ جس طرح حضرت ابراہیم نے بھی بتوں کو توڑا اور جس طرح حضرت ابراہیم خانہ کعبہ کے بانی تھے۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خانہ کعبہ کی طرف تمام دنیا کو جھکانے والے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی طرف جھکنے کی بنیاد ڈالی تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بنیاد کو پورا کیا۔‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ۴۷۶۔ حاشیہ)
مسیح موعودؑ بحیثیت بروزِ کرشنؑ و رامچندرؑ
اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ حضرت کرشنؑ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دُور کرنے کے لئے جن سے زمین پُر ہوگئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اُس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔‘‘ پھر آپ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ’’ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔‘‘ سو میں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیوں کہ میں اس کا مظہر ہوں۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ، صفحہ ۲۶ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ نمبر ۲۲۸، ۲۲۹)
کرشنؑ بحیثیت بروزِ داودؑ
حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہندوؤں میں جو ایک نبی گزرا ہے جس کا نام کرشن تھا۔… افسوس کہ جیسے داؤد نبی پر شریر لوگوں نے فسق و فجور کی تہمتیں لگا ئیں ایسی ہی تہمتیں کرشن پر بھی لگائی گئی ہیں اور جیسا کہ داؤد خدا تعالیٰ کا پہلوان اور بڑا بہادر تھا اور خدا اس سے پیار کرتا تھا ویسا ہی آریہ ورت میں کرشن تھا۔ پس یہ کہنا درست ہے کہ آریہ ورت کا داؤد کرشن ہی تھا اور اسرائیلی نبیوں کا کرشن داؤد ہی تھا …کیونکہ زمانہ اپنے اندر ایک گردشِ دَوری رکھتا ہے اور نیک ہوں یا بد ہوں بار بار دنیا میں ان کے امثال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ ، صفحہ ۱۱۷)
ایک انتہائی اہم نقطہ: ’’آخر نقطہ ہر ایک دائرہ کا اس کے پہلے نقطہ سے جاملتا ہے‘‘
حضرت مسیح موعودؑ ، حضرت ابوبکر ؓ سے اپنی مشابہت بیان کرتے ہوئے ایک نہایت اہم نقطہ بیان کرتے ہیں جس کو سمجھنے کے بعد اس مضمون کو مختلف پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فرمایا:’’یہ بات بہت ضروری اور یادر کھنے کے لائق ہے کہ ہر ایک دائرہ کا عام قاعدہ یہی ہے کہ اُس کا آخری نقطہ پہلے نقطہ سے اتصال رکھتا ہے لہٰذا اس عام قاعدہ کے موافق خلافت محمد یہ کے دائرہ میں بھی ایسا ہی ہونا ضروری ہے یعنی یہ لازمی امر ہے کہ آخری نقطہ اُس دائرہ کا جس سے مراد مسیح موعود ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا خاتم ہے وہ اس دائرہ کے پہلے نقطہ سے جو خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نقطہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کے دائرہ کا پہلا نقطہ جو ابوبکر ہے وہ اس دائرہ کے انتہائی نقطہ سے جو مسیح موعود ہے اتصالِ تام رکھتا ہے جیسا کہ مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ آخر نقطہ ہر ایک دائرہ کا اس کے پہلے نقطہ سے جاملتا ہے۔اب جبکہ اوّل اور آخر کے دونوں نقطوں کا اتصال ماننا پڑا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو قرآنی پیشگوئیاں خلافت کے پہلے نقطہ کے حق میں ہیں یعنی حضرت ابوبکر کے حق میں وہی خلافت کے آخری نقطہ کے حق میں بھی ہیں یعنی مسیح موعود کے حق میں اور یہی ثابت کرنا تھا۔‘‘(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزا ئن جلد۱۷ صفحہ۱۹۱۔ بقیہ حاشیہ)
پس مجموعی طور پر یہ حوالےاس نتیجے کی طرف راہنمائی کرتےہیں کہ اسلام خود کو کسی ایک قوم یا خطے تک محدود دین نہیں بلکہ سابقہ الٰہی تعلیمات کی تصدیق اور تکمیل کرنے والا عالمگیر پیغام قرار دیتا ہے۔ ہندوستان، ایران، عرب اور بنی اسرائیل کی مذہبی روایات میں پائے جانے والے بعض مشترک عناصر اسی قدیم روحانی ربط کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کا مشن ان مختلف روحانی سلسلوں کو دوبارہ ایک وحدت کے نقطۂ نظر سے پیش کرنا قرار دیا گیا ہے۔
نیز چونکہ آپؑ نے ایک عام قاعدہ دائرہ کا بیان فرمایا ہے اور اپنی یعنی مسیح موعودؑ کی خلافت کی مشابہت حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ ثابت کی ہے تو اگر اسی قاعدہ کے مطابق جس جس نبی کے آپؑ نے بروز یا ظل ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے تو ہمیں اتصال کی تلاش کرنی چاہیے ، اور جیسا کہ آپؑ نے خود کو ابراہیم بھی فرمایا ہے نیز کرشن بھی تو لازم ہے کہ ان انبیاء کا اتصال روحانی یا جسمانی ثابت ہو۔ جیسا کہ مضمون پہلے بیان ہوا جس سے آپؑ کا نسلِ ابراہیم ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اور نسلِ ابراہیمؑ کا ہندوستان و ایران کے ساتھ بھی تعلق ثابت ہوتا ہے نیز اسلام سے پہلے عرب کے ہندوستان اور ہندوستان کے عرب سے روابط بھی ثابت ہوتے ہیں جس سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ہندوستانی مذہب پر ابراہیمی اثر ویسا ہی ہے جیسا کہ ہندوستانی تہذیب کا اثر عرب پر تھا بلکہ اس سے کہیں ذیادہ۔ یہ ابراہیمؑ ہی ہیں جن کی ملت کی پیروی کا حکم اللہ نے آنحضرتﷺ کو دیا اور فرمایا: ’’فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا‘‘ (اٰل عمران:۹۶)اور یہ بروزِ محمدﷺ یعنی حضرت مسیح موعود ہی ہیں جو فرما رہے ہیں کہ ’’اسلام کا منشاء یہ ہے کہ بہت سے ابراہیمؑ بنائے۔ پس تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ ابراہیم بنو۔‘‘ (ملفوظات جلد۲ صفحہ۵۲۲۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء) تو اگر ہندو مذاہب کے ماننے والوں کو یہ باور ہو جائے کہ جس ہستی کو وہ خدا بنا چکے ہیں اصل میں وہ بھی ابراہیمؑ ہی ہیں تو اس کا کیسا اثر پڑے گا۔
موعودامام الزمان کے خاندان کا ذکر احادیث میں ہے اور یہ کہ وہ فارسی الاصل ہوگا۔اور یہ کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوگا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ پر سورۃالجمعہ نازل کی گئی۔ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے متعلق پوچھا، یا رسول اللہ ! یہ کون ہیں ؟ تو آپﷺ نے اس کا ان کو جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے تین بار پوچھا اور اس وقت ہم میں سلمان فارسی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہا تھ سلمان پر رکھا اور فرمایا: ’’ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ ـ أَوْ رَجُلٌ ـ مِنْ هَؤُلاَءِ ‘‘ اگر ایمان شریا پر بھی چلا گیا ہو تو ان میں سے کچھ مرد یا فرمایا ایک مرد اس تک پہنچ جائیں گے۔ (صحیح البخاری جلد ۱۲،کتاب التفسیر۔الجمعہ، صفحہ ۲۲۶،حدیث نمبر ۴۸۹۷)
تاریخ سے اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کے آباء کا تعلق فارس و وسطی ایشیا سے تھا یعنی اسی علاقے سے جو کہ انڈو آرین اقوام کا ماخذ ہے۔ نیز خُدا نے آپؑ کو ٓاریوں کا بادشاہ قرار دیا ہے۔آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’خداتعالیٰ نے باربار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۵۲۲) آپؑ اپنا سلسلۂ نسب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ خاندان مسیح موعودؑ حاجی برلاس کی نسل میں سے تھے اور حاجی برلاس سمر قند کے امیر تیمور کے چچا تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے مورث اعلیٰ منگول اور ترک نسل کے تھے امیر تیمور نے اپنی زندگی میں ۴۲ ملک فتح کئے اور اس خاندان نے فارس اور وسطی ایشیا میں اپنی حکومت قائم کی اور سمر قند کو ۱۳۷۰ء میں اپنا دارالحکومت بنایا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’جیسا کہ بظاہر سمجھا گیا ہے یہ خاندان مغلیہ خاندان کے نام سے شہرت رکھتا ہے لیکن خدائے عالم الغیب نے جو دانائے حقیقت ِ حال ہے بار بار اپنی وحی مقدس میں ظاہر فرمایا ہے کہ یہ فارسی خاندان ہے اور مجھ کو ابناء فار س کہہ کر پکاراہے۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۸۰)
خلاصہ مضمون
ابو البشر یعنی حضرت آدمؑ سے موجودہ سلسلہ نبوت شروع ہوا ، پھر حضرت نوحؑ پہلے شارع نبی بنے اور پھر حضرت ابراہیمؑ مبعوث ہوئے اور انبیاء کے ایسے سلسلے جاری ہوئے کہ آپ ابو الانبیاء ٹھہرے۔ پھر آپؑ کی ہی نسل سے اللہ نے خاتم النبیین حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ پیدا کیے ، اور پھرآپﷺ ہی کی امت میں اللہ نے ایک نبی، یعنی حضرت مسیح موعودؑ کی بشارت دی کہ وہ نہ صرف امتی ہو گا بلکہ اہل ِفارس سے بھی ہو گا اور وہ مہدی جب ہندوستان میں مبعوث ہوتا ہے تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء یعنی نبیوں کے لباس میں اللہ کا پہلوان ہے نیز آپؑ کو اللہ تعالیٰ نےمختلف مبارک ناموں سے پکارا۔ آپ خود اپنے ایک منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
علاوہ ازیں حضرت مسیح موعودؑ نے ذوالقرنین ہونے کا دعویٰ بھی فرمایا ہے۔ذولقرنین اول مید و فارس کے عظیم بادشاہ تھے جو تاریخ میں خورس اعظم یا سائرس کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جن کا ذکر بائیبل اور قرآن دونوں میں ہے۔بلکہ خورس کو تو بنی اسرائیل کی مدد اور ہیکل کی تعمیر کی وجہ سے بائیبل ’’مسیح‘‘ کا درجہ دیتی ہے جو کہ ایسا رتبہ پانے والے بظاہر بائیبل میں واحد کردار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان ،فارس(ایران)اور اس سے متصل علاقے تقریباً تمام پائے جانے والے بڑے مذاہب کے گڑھ بلکہ بنیاد رہے ہیں۔ حضرت آدمؑ کی بھی ہجرت کا تعلق ہندوستان سے جوڑا جاتا ہے کہ آپؑ یہاں رہے(موجودہ سری لنکا میں ان کی اس زمینی جنت کا مقام مورخین بتاتے ہیں )،بدھ مت کے حضرت بدھؑ شمالی ہندوستان (موجودہ نیپال)سے تعلق رکھتے تھے، انہی کی طرح جین مت کے پیشرو وردحؤھمان مہاویر کا تعلق بھی ہندوستان کے اسی علاقے سے تھا۔ پارسی مذہب کے بانی حضرت زرتشتؑ کا تعلق موجودہ شمالی ایران سے تھا۔ حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں ہجرت کر کے کشمیر انڈیا تشریف لائے۔ یہاں تک کہ ہندوؤں کے مقدس حضرت رامچندرؑ اور حضرت کرشنؑ بھی ہندوستان میں مبعوث ہوئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ،حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نہ صرف اسرائیلی انبیاء کے بروز ہیں اور آنحضرتﷺ کے بھی ظل ہیں بلکہ دوسری اقوام میں منتظر اوتاروں کے بھی بروز ہیں۔ ’’آپؑ کے بارے میں اتھر وید میں ایک رشی کے آنے کا لکھا ہوا ہے اور جس جگہ اس نے آنا ہے اور جہاں سے اس نے اپنی جنگ لڑنی ہے اسے ’’قدون‘‘ بتایا گیا ہے۔‘‘(اتھر وید کا نڈ ۲۰ سوکت ۹۷ منتر ۳ ،شری کشن جی اور کلکی اوتار مولفہ مولوی برہان احمد ظفر درانی، صفحہ ۵۱)
بہرحال ہر دور میں اللہ کچھ ایسے جلیل القدر اشخاص پیدا فرماتا رہا ہے جن سے عظیم الشان سلسلوں کی بنیادیں پڑیں اور یہ شرف صرف حضرت ابراہیمؑ کو حاصل ہے کہ آنحضرتﷺ نے آپؑ کو اور آپؑ کی آل کو درود شریف میں شامل فرمایا اور آپ ﷺ نےاپنے لیے اور اپنی آل کے لیے اسی طرح رحمت و فضل کی دعا سکھائی جس طرح حضرت ابراہیمؑ اور آپؑ کی آل پر رحمت و فضل ہوئے تھے۔ یعنی آپﷺ نے ایک طرح سے حضرت ابراہیمؑ سے مماثلت بیان کی اور تاریخ گواہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیمؑ کی نسل پوری دنیا میں پھیل گئی اور کثرت سے انبیاء آئے نیز مذاہب عالم کو متاثر کیا اسی طرح آنحضرتﷺ کی روحانی اولاد بھی چہار عالم میں بسی ہوئی ہے اور جہاں ایک طرف آپﷺ کی جسمانی اولاد میں امام آتے رہے یعنی امام حسن و حسین رضوان اللہ علیہم و امام باقرؒ وغیرہم اسی طرح روحانی اولاد میں بے شمار اولیا ء و مجددین آتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’عُلَمَاءُ أُمَّتِیْ کَأَنْبِیَاءِبَنِیْ إِسْرَائِیْل‘‘ یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں۔ (تفسیر کبیر الرازی سورۃ یونس آیت۵۷) چونکہ آنحضورﷺ کا پیغام تمام دنیا کے لیے تھا۔ آپؐ ہی کی پیشگوئی کے مطابق جماعت احمدیہ ظہور میں آئی جس کا یہی مشن ہے کہ تمام دنیا میں اسلام کو غالب کر کے دکھا دیا جائے اور اس مقصد کے لیے اللہ نے حضرت مسیح موعودؑ کے تعلق کو فارس سے جوڑا جو کہ بنی اسحاق ہونے کی وجہ سے خدائی پیشگوئیوں کا مظہر تھا جہاں سے اس نسل سے زرتشتؑ جیسے نبی اور ذوالقرنین جیسے بادشاہ پیدا ہوئے او ر آپؑ کو اس سرزمین میں مبعوث فرمایا جو قدیم سے انبیاء کا جائے مسکن رہی اور حضرت ابراہیمؑ کی ایک نسل نے یہاں آ کر قدیم ہندودھرم اور تقافت پر اپنا اثر ڈالا یہاں تک کہ ان اقوام کو بھی اللہ نے دعائے ابراہیم سے باہر نہ کیا اور کرشن و بدھ وغیرہ انبیاء اور مہاراجہ اشوکا جیسے بادشاہ یہاں پیدا کیے نیز ان کے مذہب پر نہ صرف ابراہیمی اثر کی ایسی چھاپ لگا دی کہ جس سے انکار ممکن نہیں بلکہ آنحضرتﷺ و حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت ایسی پیشگوئیاں بھی محفوظ کروا دیں تاکہ انہیں ماننے میں تامل نہ ہو۔
نتیجہ: جیسا کہ مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور حوالوں سے یہ بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد خاکسار اس نتیجے پر پہنچے بنا نہیں رہ سکتا کہ حضرت مسیح موعودؑ جو کہ بروز ِ ابراہیمؑ بھی ہیں اور روحانی طور پر بنی اسماعیل سے کیونکہ آپؑ ، حضرت اقدس محمدﷺ کے ظل ہیں نیز چونکہ آپ کا فار س الاصل ہونے سے بنی اسحاق سے ہونا بھی ثابت ہے جن پر آنحضرتﷺ سے منسوب اقوال صادر ہیں۔ مزید برآں آپؑ یہاں اس لیے بھی مبعوث ہوئے تاکہ حضرت ابراہیمؑ کی اپنی ذریّت سے متعلق دعا کی تکمیل ہو سکے کیونکہ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ قدیم میسوپوٹیمیا جہاں حضرت ابراہیمؑ پیدا ہوئے، کا ایران و ہندوستان سے کیسا مضبوط تعلق تھا اور کیسے مختلف تعلقات و ہجرتوں سے ان دو اقوام کی موجودہ شکل بنی اور کیسے یہ قومیں مذاہب دینِ ابراہیم سے متاثر نظر آتی ہیں۔ شاید اسی وجہ سےآنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے:‘‘مجھے الہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، از الحاکم النیشا پوری، حدیث نمبر ۴۰۵۶)میں ہندو مذہب سے ایک اقتباس درج کر کے اپنا مضمون ختم کروں گا۔ دعا ہے کہ اللہ اس میں برکت ڈالے اور قبول کرے نیز حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے آلِ ابراہیمؑ ایک جھنڈے تلے متحد ہو جائے تاکہ جو وعدے برکتیں اس آخری زمانے میں ان سے منسوب ہیں وہ ان سب کے حق میں بھی پوری ہوں۔ آمین
’’جب ویدوں کی دی گئی تعلیمات اور شریعت ختم ہونے کو ہوگی اور کالکی کے دوبارہ ظہور ہونے کا وقت قریب ہوگا، تو ایک حصہ پیشگوئی کا اس کی اپنی روحانی تجلی یعنی براہما کے ذریعے ہوگا۔ جو کہ شروع اور آخر ہے جو سب چیزوں پر حاوی ہے۔ وہ زمین پر آئے گا… وہ زمین میں تقویٰ کو دوبارہ پھیلائے گا اور وہ لوگ جو کالکی کے زمانے کا انتظار کررہے ہوں گے انہیں خدا سے متنبہ کرے گا سو جو اس وقت اپنے اعمال ٹھیک کرے گا وہی انسان قدر کے لائق ہوگا۔وہ پاکیزگی کی راہ کو ہموار کرے گا۔‘‘ (وشنو پرانا ۴:۲۴ صفحہ۴۹۸)
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت ابراہیمؑ و برہماجی کی مماثلت اورہندوستان و ایران کا آلِ ابراہیم سے تعلق(قسط اوّل)




