امریکہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ سرینام کاپینتالیسواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

٭… حکومتی افسران، ایمر انڈین (Amerindian)وفد اور مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

٭… تراجم قرآن مجید، جماعتی لٹریچر اور کتب کی نمائش، مختلف ممالک سے پیغام تہنیت ٭… ۳۵۰؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ سرینام کو مورخہ ۲۸تا ۳۰؍اگست ۲۰۲۶ء اپنا ۴۵واں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ امسال سرینام میں جماعت احمدیہ کے قیام کی ۷۰؍سالہ تقریبات بھی جلسے کا حصہ تھیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم مقصود احمد منصور صاحب صدر جماعت و مبلغ انچارج گیانا، مکرم اسفند سلیمان صاحب امیر و مبلغ انچارج ٹرینیڈاڈ و ٹوبیگو، مکرم حامد کریم محمود صاحب مبلغ سلسلہ ہالینڈ اور مکرم لقمان احمد صاحب مبلغ سلسلہ فرنچ گیانا کو بطور مہمان جلسے میں شمولیت کی اجازت عطا فرمائی۔

جلسے کی تیاریوں کا آغاز جولائی کے شروع میں کیا گیا۔ مسجد اور ملحقہ ہال کی تکمیل، مشن ہاؤس کی تزئین، بچوں کے لیے کھیل کی جگہ میں توسیع، دعوت ناموں کی تقسیم، جلسہ و نمائش کے بینرز کی تیاری، مہمانوں کے لیے ٹینٹ، اضافی لائٹس اور ایئرکولر کا انتظام کیا گیا۔ اراکین پارلیمنٹ اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کو جماعت کے تعارف اور ۷۰؍سالہ خدمات کی مختصر جھلک کے ساتھ دعوت نامے ارسال کیے گئے۔ اجتماعی وقار عمل کے دوران مسجد اور ملحقہ جگہوں کی صفائی، گھاس کی کٹائی اور کچن میں نئے چولہوں کی تنصیب بھی کی گئی۔

پہلا روز:پہلے روز کا آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد ’’استقامت‘‘ کے موضوع پر درس دیا گیا۔ صبح ۹؍بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا گیا۔ نماز جمعہ مکرم اسفند سلیمان صاحب نے پڑھائی۔ نماز جمعہ و عصر کے بعد پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ مکرم حامد کریم صاحب نے لوائے احمدیت جبکہ خاکسار (مبلغ سلسلہ)نے سرینام کا پرچم لہرایا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت خاکسار نے کی۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم شمشیر علی صاحب صدر جماعت احمدیہ سرینام نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔ مکرم حامد کریم صاحب نے جلسہ سالانہ کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات پیش کیے۔ مکرم نصیر صدیقی صاحب نے ’’تعلق باللہ‘‘ اور خاکسار نے ’’جلسہ سالانہ- صداقت مسیح موعودؑ کا زندہ نشان‘‘ کے موضوع پر تقاریر کیں۔

بعد ازاں دن کا باقی حصہ مستورات کے لیے مخصوص تھا۔ صدر لجنہ اماء اللہ مکرمہ انجلی علی جان صاحبہ کی صدارت میں پروگرام ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ کی توفیق مکرمہ شنین عائشہ صاحبہ نے حاصل کی جبکہ مکرمہ فرح ناز صاحبہ نے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ منظوم کلام پیش کیا۔ بعد ازاں مکرمہ فرزانہ مہ جبیں صاحبہ نے ’’خواتین کی معاشی آزادی اور جائیداد کے حقوق: ایک تاریخی جائزہ‘‘، مکرمہ سارینا چراغ علی صاحبہ نے ’’اسلام میں خواتین کی معاشی حیثیت: انصاف، وقار اور مالی آزادی‘‘ اور مکرمہ سارہ حاصل صاحبہ نے ’’اسلام میں خواتین کے لیے وراثت کا قانون‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ رکن پارلیمنٹ و سابق وزیر دفاع محترمہ کرشنا حسین علی صاحبہ، ماہر نفسیات ڈاکٹر امیرانی جگ بندھن صاحبہ سمیت مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی چار مہمان خواتین نے بھی اظہار خیال کیا اور اسلام میں خواتین کو عطا کردہ حقوق اور مہمان نوازی کو سراہا۔ جماعتی روایت کے مطابق مختلف تعلیمی سالوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی ۱۲؍طالبات کو اعزازی اسناد اور نقد انعامات دیے گئے۔ پانچ مہمان خواتین کو جماعتی لٹریچر اور سووینئر پیش کیے گئے۔ مکرمہ صدر صاحبہ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا جبکہ مکرمہ رفعت لئیق صاحبہ نے اختتامی دعا کروائی۔ اجلاس میں کُل ۱۰۰؍خواتین نے شرکت کی۔

دوسرا روز:دوسرے روز خاکسار نے نماز تہجد و فجر پڑھائی اور ’’دعا کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر درس دیا اور آٹھ بجے ناشتہ پیش پیش کیا گیا۔

بعدہٗ مکرم امیر صاحب ٹرینیڈاڈ کی صدارت میں اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ مکرم محمد صہیب اسد صاحب نے پیش کیا جبکہ مکرم جلیل احمد صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ منظوم کلام ’’اے خدا اے کارسازو عیب پوش و کردگار‘‘ پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔ مکرم ڈاکٹر فارق دین محمد صاحب نے حاضرین کو خوش آمدید کہا اور جلسہ سالانہ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ مکرم ساحر حاصل صاحب نے ’’امام مہدی کی ضرورت‘‘، مکرم شارق محمود صاحب نے ’’ختم نبوت کی حقیقت‘‘، مکرم اسفند سلیمان صاحب نے ’’قیام نماز، ایک سچے مسلمان کی پہچان‘‘، مکرم مقصود احمد منصور صاحب نے ’’سوشل میڈیا کے بدنتائج اور اس کا مثبت استعمال‘‘ اور مکرم فرید جمن بخش صاحب نے ’’جماعت احمدیہ سرینام کی ستّر سالہ تاریخ‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔

مختلف مذاہب و شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمان مقررین میں مقامی لوکل کونسل کی نائب صدر محترمہ جانیرا، یونیورسٹی آف سرینام کی پروفیسر و شعبہ سوشیالوجی کی ڈین محترمہ رائیتہ جمراتی، سیاسی راہنما مسٹر دھرم مونگرا اور ایمر انڈین (Amerindian) وفد کی نمائندہ محترمہ آندرے کرسٹیان شامل تھیں۔ مختلف تعلیمی سالوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ۱۰؍طلبہ کو اعزازی اسناد اور نقد انعامات دیے گئے جبکہ پرائمری سکول کے بچوں میں سکول کی اشیاء کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔ دوسرے روز حاضری ۲۰۰؍سے زائد رہی۔ مہمانوں کو جماعتی کتب اور سووینئر بھی پیش کیے گئے۔

تیسرا روز:تیسرے روز مکرم مقصود احمد منصورصاحب نے نماز تہجد و فجر پڑھائیں اور درس دیا جس کے بعد ناشتہ کا انتظام کیا گیا۔

جلسہ سالانہ کے تیسرے دن کا مرکزی موضوع ’’اخلاقی و روحانی اصلاح-انصاف اور عالمی امن کی کلید‘‘ تھا۔ مکرم حامد کریم صاحب کی صدارت میں اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ کی سعادت مکرم حارث احمد صاحب نے حاصل کی جبکہ مکرم نوشاد چراغ علی صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ منظوم کلام ’’ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے‘‘ پیش کیا۔ مکرم عرفان مکرام صاحب نے ’’قرآن مجید انسانیت کے لیے مشعل راہ‘‘ اور مکرم صہیب اسد صاحب نے مقررہ موضوع پر تقریر کی۔ مکرم شمشیر علی صاحب نے ’’برکات خلافت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جبکہ مکرم حامد کریم صاحب نے بھی جلسے کے مرکزی موضوع کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

تیسرے روز کے مہمان مقررین میں وزارت کھیل و نوجوانوں کے امور کے وزیر کے نمائندہ، منسٹری آف سپورٹس کے ڈائریکٹر مسٹر رائیلم، ایمر انڈین وفد کے نمائندہ مسٹر سلیمان صاحب اور ایک مسجد کے صدر شامل تھے۔ مکرم محمد صہیب اسد صاحب نے قومی اسمبلی کے چیئرمین، مختلف وزراء اور بیرون ممالک سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات پیش کیے۔ صدر صاحب جماعت نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا جبکہ خاکسار نے اختتامی دعا کروائی۔ تیسرے روز حاضری ۲۲۵؍رہی جبکہ جلسے کی مجموعی حاضری ۳۵۰؍سے زائد رہی۔ پہلی مرتبہ پانچ ممالک سے مہمان جلسے میں شامل ہوئے۔

جماعتی لٹریچر اور کتب کی نمائش: امسال تراجم قرآن کریم کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف زبانوں کے تراجم، زبانوں کا مختصر تعارف اور بولنے والوں کی تعداد درج کی گئی۔ مختلف زبانوں میں جماعتی کتب و لٹریچر کے علاوہ گذشتہ ۷۰؍سال کے دوران جماعت احمدیہ سرینام کے شائع کردہ فولڈرز، پمفلٹس اور کتب بھی پیش کی گئیں۔ ٹی وی سکرین پر جماعت کی ۷۰؍سالہ تصویری تاریخ دکھائی گئی۔ جلسے کے اغراض و مقاصد، اہمیت و فضیلت اور نظام جلسے کے عالمگیر ہونے کے حوالے سے کتابچہ، جبکہ ’’اُلوہیت ِمسیح کا ردّ‘‘ کے موضوع پر پمفلٹ اور ’’جماعت احمدیہ اور خدمت انسانی‘‘ کے موضوع پر فولڈر تیار کرکے تقسیم کیے گئے۔

میڈیا کوریج: خدا تعالیٰ کے فضل سے جلسے کو بھرپور میڈیا کوریج ملی۔ ۲۸؍اگست کو جلسہ گاہ میں پریس کانفرنس ہوئی جس میں تین مہمان مبلغین، صدر جماعت اور افسر جلسہ سالانہ مکرم محمد صہیب اسد صاحب نے شرکت کی اور جماعتی نظام، روایات، جلسے کی تیاری اور سرگرمیوں کے بارے میں بتایا، بعد ازاں سوال و جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہوا۔ جلسے کی خبر معروف ٹی وی چینل پر نشر ہوئی جبکہ ’’سرینام ہیرلڈ‘‘، ’’اے بی سی نیوز‘‘، ’’ٹائمز آف سرینام‘‘ اور ’’داخ بلاد سرینام‘‘ سمیت مختلف نیوز ویب سائٹس نے خبریں اور تصاویر شائع کیں۔ اے بی سی نیوز نے فیس بک پر جلسے کی ۲۰؍سے زائد تصاویر شیئر کیں۔ ۳۱؍اگست کو ’’آپنتی میڈیا‘‘ پر تینوں مہمان مبلغین کا نصف گھنٹے سے زائد دورانیہ کا لائیو انٹرویو نشر ہوا۔ غیر از جماعت مہمانوں نے بھی سوشل میڈیا پر جلسے کی تصاویر شیئر کرکے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔

(رپورٹ:لئیق احمد مشتاق۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ سرینام ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت احمدیہ سرینام

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ۴۵واں جلسہ سالانہ ۲۸، ۲۹؍اور ۳۰؍اگست ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسے کو بہت کامیاب کرے اور تمام شاملین بے شمار برکتیں حاصل کریں۔

جیسا کہ میں نے حال ہی میں جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر بیان کیا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے کہ ہم اس جلسے کا انعقاد اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور ہم ایک دوسرے کے لیے تقویٰ یعنی راستبازی، دل کی نرمی، باہمی محبت اور اخوت کا نمونہ بن سکیں۔

لہٰذا، آپ سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ اپنے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے کے لیے جلسے میں شامل ہوئے ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ شفقت اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔ ہر ایک کو سلامتی کے پیغام کو عام کرنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنے درمیان کی تمام دشمنیوں اور گلوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر ایک کو اپنے صبر کے معیار کو بڑھانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ اگر جلسے کا مقصد ہی پورا نہ ہو تو پھر جلسے میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

آپ کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ جہاں جلسوں میں ہماری شمولیت ہمیں روحانی ترقی کا موقع فراہم کرتی ہے، وہاں حقیقی مقصد عبادت کا ماحول قائم کرنا ہے۔ جلسے کے اس نظام کے ذریعہ، جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الٰہی ہدایت کے تحت قائم فرمایا تھا، ایک مقدس ماحول پیدا ہوتا ہے جو مومنین کو اپنے خالق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اس جلسے کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیارکی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم مسلسل ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ جیسا کہ خبر دی گئی تھی، ہم دیکھ رہے ہیں کہ سرینام سمیت دنیا بھر کے ممالک میں باقاعدگی سے جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور مزید قومیں بھی اس میں شامل ہو رہی ہیں۔

تاہم، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف وہی لوگ جلسے کی برکات کے وارث بنیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیے گئے اپنے عہد بیعت پر قائم رہیں گے۔ جو لوگ اپنی اخلاقی اصلاح اور روحانی ترقی کی طرف توجہ نہیں دیتے، وہ اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت احمدیہ کے نظام سے نوازا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کو خلافت کا مخلص، وفادار اور فرمانبردار رہنا چاہیے اور خلیفۃ المسیح کے ساتھ اپنے محبت اور اخلاص کے تعلق کو بلند کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نصیحت پکڑیں کہ جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ہر لحاظ سے مکمل اطاعت اور وقف کا عہد کرتے ہیں اور کسی بھی دیگر دنیاوی تعلق اور رشتے سے بڑھ کر، جیسا کہ آپؑ نے اپنی جماعت کے ممبران سے تقاضا فرمایا تھا، ہم آپؑ کے ساتھ ایک قریبی تعلق قائم کرتے ہیں، تو یہ عہد خلیفۂ وقت کے ساتھ بھی اسی عزم اور لگن کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ یہ اس لیے ہے کہ خلافت احمدیہ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانی جانشین ہے۔

میں تبلیغ کے حوالے سے بھی آپ کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، جو ہر احمدی مسلمان کے لیے لازمی ہے۔ آپ کو حکمت عملی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور سرینام کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کا پُرامن پیغام پہنچانے کے لیے نئے طریق اور ذرائع تلاش کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک کام میں کامیابی عطا فرمائے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اپنے جلسے کی کارروائی سے بھرپور استفادہ کریں اور وہ اپنے فضل سے آپ کے ایمان کو مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگیوں میں تقویٰ، نیک اعمال اور اسلام و انسانیت کی خدمت کی طرف ایک حقیقی تبدیلی پیدا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل فرمائے۔

مزید پڑھیں: لجنہ اماء اللہ ہالینڈ کا تینتالیسواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button