تورات اور بائبل میں جنگ کی تعلیمات اور اسلام سے ان کا موازنہ
(عمر احمد یحیٰ ۔استاد جامعہ احمدیہ نائیجیریا)
اسلام میں جنگ کو نہ توکسی خاص وعدے کی تکمیل یا گناہ گاروں کی سزا کے لیے ایک لازمی فریضہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی نفی کی گئی ہے، بلکہ قرآن کریم نے اسے ایک استثنائی تدبیر کے طور پر جائز قرار دیا ہے جس کی اجازت ظلم، جارحیت، مذہبی آزادی پر حملے اور مظلوموں کے دفاع کے لیے دی گئی
عصرِ حاضر میں اسلام پر سب سے نمایاں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ تشدّد اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والا مذہب ہے۔ بعض مغربی مصنفین، مستشرقین اور ذرائع ابلاغ اسلام کے تصوّرِ جہاد کو اس کے تاریخی اور قرآنی سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اسلام کی جنگی تعلیمات کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کے واقعات اور جنگ سے متعلق احکام صرف اسلام ہی میں پائے جاتے ہیں، یا دیگر آسمانی مذاہب، خصوصاً یہودیت اور عیسائیت کی مقدس کتابوں میں بھی جنگ، قتال اور دشمن کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے تاریخی واقعات اور تعلیمات موجود ہیں؟ اگر تورات، انجیل اور قرآن مجید کی متعلقہ تعلیمات کا تاریخی، مذہبی اور اخلاقی تناظر میں تقابلی مطالعہ کیا جائے تو کیا اسلام پر عائد کیے جانے والے تشدّد اور انتہا پسندی کے الزامات برقرار رہتے ہیں، یا ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے؟
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ مذاہب جنگ کو کن حالات میں جائز قرار دیتے ہیں، جنگ کے دوران کن اخلاقی اصولوں کی پابندی لازم قرار دیتے ہیں، اور امن و مصالحت کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔
تورات میں جنگ کا تصوّر
یہودیت دنیا کے قدیم ترین الہامی مذاہب میں سے ایک ہے اور اس کی بنیادی مذہبی تعلیمات تورات میں محفوظ ہیں۔ جو بائبل کے عہد نامہ قدیم کی پہلی پانچ کتب پر مشتمل ہے۔ تورات نہ صرف بنی اسرائیل کی مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کے اصول بیان کرتی ہے بلکہ ان کی قومی تاریخ اور مختلف اقوام کے ساتھ ہونے والی جنگوں کا بھی تفصیلی ذکر کرتی ہے۔تورات میں جنگ کو محض ایک سیاسی یا عسکری سرگرمی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ متعدد مقامات پر اسے خدا تعالیٰ کے حکم، نصرت اور مشیّت سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔
حضرت موسی ؑکی قیادت میں مصر کی غلامی سے نکل کر بحیرۂ قلزم پار کرنے کے معاً بعد ان کی مذہبی تاریخ کے بالکل آغاز میں ہی خدا کا جو تصوّر ابھر کر سامنے آتا ہے وہ خروج باب ۱۵ میں درج اس حمدیہ گیت میں بیان ہے: ’’مَیں خداوند کی ثنا گاؤں گا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتح مند ہوا۔ اُس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں ڈال دیا خداوند میرا زور اور راگ ہے۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا۔ وہ میرا خُدا ہےمَیں اُ س کی بڑائی کرونگا وہ میرے باپ کا خُداہے۔ میں اُسکی بزرگی کرونگا۔خُداوند صاحِب جنگ ہے یہوواہ اُسکا نام ہے۔ …اے خداوند؛ تیرا داہنا ہاتھ قدرت کے سبب سے جلالی ہے۔ اَے خُداوند ؛تیرا داہنا ہاتھ دُشمن کو چکنا چور کر دیتا ہے۔ تُو اپنی عظمت کے زور سے اپنے مخالفوں کو تہ و بالا کرتا ہے۔ تُو اپنا قہر بھیجتا ہے۔ (خروج باب ۱۵ آیات ۱ تا ۷)
اس گیت میں خدا کو صاحب جنگ، جلالی اور دشمنوں کو چکنا چور اور تہ و بالا کرنے والی ہستی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح استثناء باب ۲۰ آیت ۳، ۴ میں درج ہے ’’اُن سے کہہ سُنو اے اسرائیلیو! تُم آج کے دن اپنے دُشمنوں کے مقابلہ کے لیے معرکہ جنگ میں آئے ہو سو تمہارا دل ہراساں نہ ہو۔ تُم نہ خوف کرو نہ کانپو۔ نہ اُن سے دہشت کھاؤ۔ کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارے ساتھ ساتھ چلتا ہے تاکہ تُم کو بچانے کو تمہاری طرف سے تمہارے دُشمنوں سے جنگ کرے۔‘‘
گنتی باب ۳۱ آیت ۱ تا ۳ میں درج ہے: ’’پھر خداوند نے موسیٰؑ سے کہا: مدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لے اس کے بعد تُو اپنے لوگوں میں جا ملے گا۔ تب موسیٰؑ نے لوگوں سے کہا کہ اپنے میں سے جنگ کے لیے آدمیوں کو مسلح کرو تاکہ وہ مدیانیوں پر حملہ کریں اور مدیانیوں سے خداوند کا انتقام لیں۔ اور اسرائیل کے سب قبیلوں میں سےفی قبیلہ ایک ہزار آدمی لے کر جنگ کے لیے بھیجنا۔‘‘
ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات کے مطابق بنی اسرائیل کی جنگیں محض انسانی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ الٰہی حکم اور تائید کے تحت وقوع پذیر ہوئیں۔ اور تورات میں پائے جانے والے خدا کے تصوّر میں ایک اہم حصہ یہ ہے کہ خدا جنگوں کے ذریعہ دشمنوں کو سزا دیتا ہے اور ان کے مقابلہ میں بنی اسرائیل کو غلبہ عطا کرے گا۔ اسی لیے تورات کے جنگی تصوّر کو ’’Divine Warfare‘‘ یا ’’الٰہی جنگ‘‘ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
انجیل میں جنگ کا تصوّر
عیسائیت کی بنیادی تعلیمات بائبل کےعہدِنامہ جدید (New Testament) میں بیان ہوئی ہیں۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں اناجیل کہلاتی ہیں، جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور تعلیمات مذکور ہیں، جبکہ باقی کتابیں رسولوں کے خطوط اور دیگر تحریروں پر مشتمل ہیں۔
انا جیل کا بنیادی پیغام محبت، عفو، رحم اور صلح پر مبنی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دشمنوں سے محبت کرنے، برائی کے بدلے نیکی کرنے اور انتقام سے اجتناب کی تعلیم دی۔ چنانچہ پہاڑی وعظ میں اس حوالے سے مندرجہ ذیل تعلیم درج ہے: ’’ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔…تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔‘‘(متی باب ۵ آیت ۳۸ تا ۴۴)
اسی بنا پر عہدِ جدید میں جنگ کے متعلق کوئی مستقل قانونی ضابطہ یا جنگ کا حکم موجود نہیں ملتا۔
اگرچہ بعض مقامات پر ’’تلوار‘‘ کا ذکر آیا ہے، لیکن ان نصوص کو عموماً جنگ کے صریح حکم کے طور پر نہیں لیا جاتا۔ مثلا ًمتی باب ۱۰ آیت ۳۴ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان درج ہے کہ ’’میں زمین پر سلامتی نہیں بلکہ تلوار لانے آیا ہوں۔‘‘ لیکن اس سے اگلی آیت اس مفہوم کو واضح کررہی ہے کہ آپؑ کی تعلیمات کے نتیجے میں حق و باطل کے درمیان تقسیم پیدا ہوگی، حتیٰ کہ بعض اوقات ایک ہی گھر کے افراد میں اختلاف ہو جائے گا؛ چنانچہ لکھا ہے: ’’ کیونکہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کر دوں۔ ‘‘ (متی باب ۱۰ آیت ۳۵)
پس اس سے مراد جنگ یا مسلح تصادم نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر پیدا ہونے والی جدائی ہے۔ اسی طرح لوقا باب ۲۲ آیت ۳۶ میں درج الفاظ’’جس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خرید لے‘‘ کو بھی اکثر مفسرین نے یا تو ایک خاص اور عارضی موقع سے متعلق سمجھا ہے، یا اس سے مراد محض تیاری اور سفر کے حالات لیے گئے ہیں، نہ کہ عمومی جنگی حکم۔ اس کی مزید تائید اس واقعے سے ہوتی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے وقت ایک شاگرد نے تلوار استعمال کی تو آپؑ نے اسے سختی سے منع فرمایا اور کہا: ’’اپنی تلوار کومیان میں کر لے، کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ تلوار ہی سے ہلاک ہوں گے۔‘‘ (متی باب ۲۶آیت۵۲) اس لیے ان مقامات کا تعلق روحانی جد و جہد، یا علامتی بیان سے ہے، نہ کہ باقاعدہ جنگی قانون سے۔
بعد ازاں جب عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں، ریاستی دفاع و نظم و نسق کے مسائل پیدا ہوئےاور جنگ کے جواز کا سوال سامنے آیا۔ تو رومیوں کے نام خط میں درج پولوس کے اس قول سے جنگ کے جواز کا استدلال کیا گیا کہ ’’(حکمران) تلوار بے فائدہ لیے ہوئے نہیں بلکہ خدا کا خادم ہے کہ اس کے غضب کے موافق بدکار کو سزا دیتا ہے۔‘‘ (رومیوں باب۱۳ آیت۴) بعد کے عیسائی علماء نے اسی بنیاد پر جنگ کے جواز کی توجیح کی، حالانکہ عہدِ جدید کی بنیادی تعلیمات صرف اور صرف معافی اور نرمی کی تعلیم پر مرکوز رہیں۔
اسلامی تعلیم
اسلام نے امن، عدل، احسان اور مذہبی آزادی کو بنیادی اصول قرار دیا ہے، جبکہ قتال کی اجازت صرف ظلم، جارحیت اور مذہبی آزادی پر حملے کے خلاف دفاع کے لیے دی گئی ہے۔ اسلام نے جنگ کو ایک استثنائی تدبیر قرار دیا ہے، جس کی اجازت صرف مخصوص حالات میں اور واضح اخلاقی حدود کے ساتھ دی گئی ہے۔
تاریخ اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی دور میں مسلمانوں نے تیرہ سال تک شدید مظالم برداشت کیے، لیکن انہیں قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد جب ان پر مسلسل حملے ہوئے اور انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، تب پہلی مرتبہ قتال کی اجازت نازل ہوئی۔
جنگ کے اسباب
۱۔تورات میں بنی اسرائیل کی بعض جنگوں کا ایک بنیادی سبب اس سرزمین کا حصول تھا جس کا وعدہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل سے کیا تھا۔ اس وعدے کے مطابق کنعان کی سرزمین بنی اسرائیل کو عطا کی جانی تھی، اور بعد ازاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اس وعدے کی تکمیل کے لیے انہیں اس سرزمین میں داخل ہونے اور وہاں آباد اقوام کا مقابلہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس تناظر میں جنگ کو ایک الٰہی وعدے کی تکمیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس وعدے کا بنیادی ذکر پیدائش باب ۱۵ آیت ۸۱ تا ۲۱ میں ملتا ہے، جہاں خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عہد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’’اُسی روز خُداوند نے ابرہاؔم سے عہد کِیا اور فرمایا کہ یہ مُلک دریایِ مصؔر سے لیکر اُس بڑے دریا یعنی دریایِ فراؔت تک۔ قینیوں اور قنیزیوں اور قدمُونیوں۔ اور حِتّیوں اور فِرزیوں اور فائیم۔ اور اموریوں اور کنعانیوں اور جرجاسِیوں اور یبوسیوں سمیت میں نے تیری اَولاد کو دِیا ہے۔‘‘
بعد ازاں جب بنی اسرائیل کنعان کی سرحدوں تک پہنچتے ہیں تو انہیں حکم دیا گیاکہ خدا تعالیٰ ان اقوام کو مغلوب کرے گا، لہٰذا وہ ان پر حملہ کر کے موعودہ سرزمین پر قابض ہو جائیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور غضبِ الٰہی کے مورد ہوئے۔ استثنا ء کے پہلے باب میں ارض موعودہ پر حملہ کرنے کا حکم اس طرح دیا گیاہے:
اموریوں کے کوہستانی مُلک اور اُس کے آس پاس کے میدان اور پہاڑی قطعہ اور نشیب کی زمین اور جنوبی اطراف میں سمندر کے ساحل تک جو کنعانیوں کا مُلک ہے بلکہ کوہِ لبنان اور دریائے فرات تک جو ایک بڑا دریا ہے چلے جاؤ۔دیکھو میں نے اِس مُلک کو تمہارے سامنے کر دیا ہے پس جاؤ اور اُس مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لو جس کی بابت خداوند تمہارے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ وہ اُسے اُن کو اور اُن کے بعد اُن کی نسل کو دے گا۔ (استثنا ء باب۱ آیت ۷،۸)
۱۔ ۱ن نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات میں کنعان کی بعض جنگوں کا ایک اہم محرک وعدۂ ارض کی تکمیل تھا۔
۲۔ تورات میں بعض جنگوں کا ایک اہم سبب بنی اسرائیل کو بت پرستی اور مشرکانہ رسوم سے محفوظ رکھنا بھی بیان کیا گیا ہے۔ کنعان کی اقوام مختلف دیوی دیوتاؤں کی پرستش کرتی تھیں اور ان کے مذہبی رسوم و رواج کو بنی اسرائیل کے عقیدے اور مذہبی شناخت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر تورات میں متعدد مقامات پر ان اقوام کے ساتھ غیر ضروری میل جول، مذہبی اختلاط اور ان کی عبادت گاہوں کو باقی رکھنے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ بنی اسرائیل توحید پر قائم رہیں اور بت پرستی میں مبتلا نہ ہوں۔
چنانچہ استثناء باب ۷ آیت۳-۵ میں بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ ان اقوام سے رشتہ داریاں نہ کریں، کیونکہ اس سے ان کی اولاد خدا تعالیٰ کی عبادت سے ہٹ کر دوسرے معبودوں کی عبادت کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ اسی مقام پر ان کی قربان گاہوں، ستونوں اور بتوں کو گرانے اور تباہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں، استثناء باب ۲۰ آیت ۱۶۔ ۱۸ میں کہا گیا ہے کہ ان اقوام کو باقی نہ چھوڑا جائے، ’’تاکہ وہ تم کو اپنے مکروہ کام کرنا نہ سکھائیں‘‘ اسی طرح خروج باب ۲۳آیت ۲۴ اور ۳۳میں درج ہے:’’ تو ان کے معبودوں کو سجدہ نہ کرنا نہ ان کی عبادت کرنا نہ ان کے سے کام کرنا، بلکہ تو ان کو بالکل الٹ دینا اور ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنا۔…وہ تیرے ملک میں نہ رہنے پائیں تا نہ ہو کہ وہ تجھ سے میرے خلاف گناہ کرائیں۔‘‘
استثناء باب ۱۳ میں بھی مذہبی انحراف اور ارتداد کے سرچشموں کو تہ تیغ کرنے کی واضح تعلیم ہے۔ اس باب میں اگر کوئی نبی، خواب دیکھنے والا، قریبی رشتہ دار یا کوئی بھی شخص بنی اسرائیل کو خداوند کی عبادت سے ہٹا کر دوسرے معبودوں کی طرف مائل کرے تو اس کی بات نہ ماننے اور اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے ان کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی پورا شہر اجتماعی طور پر گمراہی اختیار کر لے اور بُت پرستی کو فروغ دے تو اس کے باشندوں اور چوپایوں تک کو مارنے اور مال اسباب سمیت ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات میں بعض جنگوں کا مقصد صرف علاقائی غلبہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ بنی اسرائیل کے مذہبی تشخص اور عقیدۂ توحید کو بت پرستی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی ایک تدبیر بھی یہ تھی کہ دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کو مکمل طور پر ہلاک کر دیا جائے۔
۳۔ علاوہ ازیں بعض جنگوں کو ان اقوام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا نافذ کرنے کا وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے جو طویل عرصے تک شرک، اخلاقی انحراف اور مختلف مکروہ اعمال میں مبتلا رہیں۔ اس تصوّر کے مطابق بنی اسرائیل بعض مواقع پر خدا تعالیٰ کے عدل کے نفاذ کا ذریعہ بنے اور ان کی جنگیں ایک الٰہی فیصلے کی تکمیل کے طور پر پیش کی گئیں۔
اس تصوّر کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کے اس عہد میں ملتی ہے، جہاں فرمایا گیا کہ ان کی نسل ایک مدت تک اجنبی ملک میں رہے گی، کیونکہ ’’اموریوں کی بدکرداری ابھی بھرپور نہیں ہوئی۔‘‘ (پیدائش باب ۱۵آیت ۱۳ تا ۱۶)
بعد ازاں حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو متنبہ کرتے ہیں کہ کنعان کی سرزمین انہیں ان کی اپنی نیکی کی وجہ سے نہیں دی جا رہی بلکہ وہاں کی اقوام کی بدکرداری اس فیصلے کا سبب بنی ہے۔ چنانچہ استثناء باب ۹آیت ۴-۵ میں ارشاد ہے کہ خداوند ان قوموں کی شرارت کے باعث انہیں تمہارے سامنے سے نکال رہا ہے، نہ کہ تمہاری راست بازی کے سبب۔ اسی مضمون کو احبار باب ۱۸آیت۲۴-۲۵ میں مزید واضح کیا گیا ہے، جہاں بتایا گیا ہے کہ ان اقوام کے ناپاک اعمال کی وجہ سے زمین بھی ناپاک ہو گئی اور اس نے اپنے باشندوں کو اُگل دیا۔ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات کے مطابق جنگیں خدا تعالیٰ کے عدل اور سزا کے نفاذ کا ذریعہ تھیں۔
۴۔ تورات میں جنگ کے اسباب میں ایک اہم سبب بنی اسرائیل کے قومی وجود اور دفاع کا تحفظ بھی ہے۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نجات کے بعد صحرائے سینا میں سفر کر رہے تھے تو بعض اقوام نے ان پر حملہ کیا۔ ایسے مواقع پر جنگ کو دفاعِ نفس اور قوم کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔اس سلسلے میں سب سے نمایاں واقعہ عمالیقیوں کے حملے کا ہے۔ تورات کے مطابق جب بنی اسرائیل رفیدیم میں تھے تو عمالیقیوں نے ان پر حملہ کیا۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یشوع کو حکم دیا کہ وہ منتخب افراد کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں، جبکہ حضرت موسیٰ پہاڑی پر کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے۔ اس جنگ میں بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی۔ (خروج باب ۱۷آیت۸-۱۳)
اس واقعہ کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس واقعہ کو یادگار کے طور پر لکھ لیا جائے، کیونکہ خداوند عمالیق کی یادگار کو مٹا دے گا۔ مزید فرمایا گیا کہ ’’خداوند کو عمالیق سے نسل در نسل جنگ رہے گی۔‘‘ (خروج باب ۱۷آیت۱۴ تا ۱۶) بعد ازاں استثناء باب ۲۵آیات ۱۷۔۱۹ میں بنی اسرائیل کو یاد دلایا گیا کہ عمالیقیوں نے سفر کے دوران ان کے کمزور اور پیچھے رہ جانے والے افراد پر حملہ کیا تھا، اس لیے جب خدا تعالیٰ انہیں امن عطا کرے تو وہ عمالیق کے نام و نشان کو مٹا دیں۔
ان احکامات سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات میں بعض جنگیں دشمن کی جارحیت کے جواب اور قومی دفاع کے تناظر میں بھی لڑی گئیں۔
اسلام میں جنگ کے اسباب
اسلام نے جنگ کو مقصود بالذات قرار نہیں دیا بلکہ اسے مظلوموں کے دفاع اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر تدبیر کے طور پر جائز قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا۔‘‘ (الحج: ۴۰، ۴۱) جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے، انہیں (اب جنگ کی) اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ناحق اپنے گھروں سے صرف اس وجہ سے نکال دیے گئے کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ نہ روکتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد، جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، ضرور ڈھا دی جاتیں۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں قتال کی اجازت ظلم، بے دخلی، مذہبی جبر اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے تناظر میں دی گئی۔ اس لیے قرآن کریم کی رُو سے قتال ایک دفاعی اور محدود اجازت ہے، نہ کہ جارحیت یا محض مذہبی اختلاف کی بنیاد پر جنگ کا حکم۔
پس اسلامی تعلیم کی رُو سے جنگ کی سب سے پہلی وجہ دفاعِ نفس ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ (البقرہ: ۱۹۱)اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو۔ یقیناً اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
دوسری وجہ مظلوموں کی مدد اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ ۔ (النساء: ۷۶) اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے؟
تیسری وجہ مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کا تحفظ ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا۔(الحج: ۴۱) اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا تو خانقاہیں، گرجے، یہودی عبادت گاہیں اور مساجد، جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، ضرور ڈھا دی جاتیں۔
اسی طرح قرآن کریم ان غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کا حکم دیتا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کرتے: لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الممتحنہ:۹) اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اسلام میں بجز دفاعی طور کی جنگ یا ان جنگوں کے سوا جو بغرض سزائے ظالم یا آزادی قائم کرنے کی نیت سے ہوں اور کسی صورت میں دین کے لیے تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں اور دفاعی طور کی جنگ سے مراد وہ لڑائیاں ہیں جن کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب کہ مخالفوں کے بلوہ سے اندیشہ جان ہو۔ یہ تین قسم کے شرعی جہاد ہیں بجز ان تین صورتوں کی جنگ کے اور کوئی صورت جو دین کے پھیلانے کے لیے ہو اسلام میں جائز نہیں۔‘‘( مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴، ۵)
پس واضح ہوتا ہے کہ تورات کے بر عکس اسلام میں جنگ کی اجازت زمین پر قبضہ، یا عقیدہ کے اختلاف اور دیگر مذاہب کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ دفاع، مظلوموں کی نصرت اور تمام انسانوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ پر ہے۔
جنگ کے احکام اور اخلاقی ضوابط
تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے احکام تمام اقوام کے لیے یکساں نہیں تھے بلکہ دشمن کی نوعیت کے مطابق مختلف تھے۔ استثناء میں کنعان سے باہر کے شہروں کے لیے الگ احکام بیان کیے گئے ہیں، جبکہ کنعان کی سات مخصوص اقوام کے لیے الگ ہدایات دی گئی ہیں۔
کنعان کی سات اقوام کے بارے میں حکم تھا کہ ’’اِن قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا۔ بلکہ تُو اِنکو حتی اور اموری اور کعنانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست کر دینا۔‘‘ (استثناء باب ۲۰ آیت ۱۶، ۱۷)
جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور کنعانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے۔ اور جب خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے آگے شکست دلائے اور تُو اُنکو مار لے تو تُو اُن کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تُو اُن سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ اُن پر رحم کرنا۔ تُو اُن سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ اُن کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے اُن کی بیٹیاں لینا۔ کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تُم پر بھڑکے گا اور وہ تُجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔ بلکہ تُم اُن سے یہ سلوک کرنا کہ اُنکے مذبحوں کو ڈھا دینا۔ اُنکے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور اُنکی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور اُنکی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا۔ ( استثناء باب ۷ آیت ۱ تا ۵۔)
اسی طر ح عمالیقی قوم کے متعلق حکم تھا کہ ’’جب خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تیرے سب دشمنوں سے جو آس پاس ہیں تجھ کو راحت بخشے تو تُو عمالیقیوں کے نام و نشان کو صفحہ روز گار سے مٹا دینا۔ تو اِس بات کو نہ بھولنا۔‘‘ (استثناء باب ۲۵ آیت ۱۹)
ان احکام پر عمل درآمد کا ذکر بھی موجود ہے: استثنا ء باب ۲ آیت ۳۴ میں لکھا ہے:’’ ہم نے اسی وقت اس کے سب شہروں کو لے لیا اور ہر آباد شہر کو عورتوں اور بچوں سمیت بالکل نابود کر دیا۔‘‘
اس کے برعکس کنعان سے باہر کے شہروں کے بارے میں حسب ذیل ہدایات درج ہیں: ’’جب تُو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اُسکے نزدیک پہنچے تو پہلے اُسے صلح کا پیغام دینا۔ اور اگر وہ تُجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگذار بن کر تیری خدمت کریں۔ اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تُو اُسکا محاصرہ کرنا۔ اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا۔ لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اُس شہر کے سب مال اور لُوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تُو اپنے دشمنوں کی اُس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا۔ اُن سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور اِن قوموں کے شہر نہیں ہیں۔ … جب تُو کسی شہر کو فتح کرنے کے لیے اُس سے جنگ کرے اور مدت تک اُسکا محاصرہ کیے رہے تو اُسکے درختوں کو کلہاڑی سے نہ کاٹ ڈالنا کیونکہ اُنکا پھل تیرے کھانے کے کام میں آئے گا۔‘‘(استثنا ء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۵، اور آیت ۱۹)
جنگ میں قید ہونے والے ان عورتوں اور بچوں کے حقوق کے متعلق تفصیلی احکام موجود نہیں البتہ صرف اس قدر تعلیم موجود ہے کہ اگر کوئی اسرائیلی مرد کسی جنگی قیدی عورت سے شادی کرنے کے بعد طلاق دے تو وہ آزاد شمار ہو گی۔ (استثناء باب ۲۱ آیت ۱۰ تا ۱۴)
نیز احبار باب۲۵ آیت ۴۶ میں غیر اقوام کے غلاموں کے متعلق لکھا ہے: ’’اور تم انکو میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کردینا کہ وہ ان کی موروثی ملکیت ہوں۔ان میں سے تم ہمیشہ اپنے لیے غلام لیاکرنا۔‘‘
اسلام میں جنگ کے اخلاقی اصول
قرآن کریم کے مطابق قتال کا مقصد دشمن کی تباہی نہیں بلکہ ظلم کا خاتمہ، امن کا قیام اور مذہبی آ زا دی کا تحفظ ہے۔ اسی لیے جنگ صرف ان لوگوں کے خلاف جائز قرار دی گئی جو خود جنگ کا آغاز کریں۔ اسلام نے جنگ کو بھی اخلاقی اور قانونی حدود کا پابند بنایا ہے۔ امن کے قیام کے بعد دشمنوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا، بچوں، بوڑھوں، عورتوں سمیت تمام اموال و نفوس کی تباہی تو درکنار، حملہ آور قوم کے تمام مردوں کے قتل کا بھی کوئی مستقل حکم نہیں دیا گیا بلکہ ہدایت دی گئی کہ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو جنگ جاری رکھنے کی بجائے صلح کی جائے: وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا(الانفال: ۶۲)اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔
پس قرآن کریم میں زمین پر قبضے کے لیے یا محض مذہبی اختلاف کی بنیاد پر مکمل طور پر تباہ کردینے کا حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ قتال کو دفاع، ظلم کے خاتمے اور امن کی بحالی تک محدود رکھا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو اسے جنگ کے دوران عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور دیگر غیر محارب افراد کو قتل کرنے، فصلوں اور درختوں کو بلاضرورت تباہ کرنے، اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے سے منع فرماتے۔ فتح کے بعد بھی متعدد مواقع پر دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزر کا برتاؤ کیا گیا، جس کی نمایاں مثال فتح مکہ ہے، جہاں برسوں کے جانی دشمنوں کو عمومی معافی عطا کی گئی۔
اسلام نے جنگی قیدیوں کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ اللہ تعالی اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا۔ (الدہر: ۹) اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ مزید برآں، قرآن کریم نے جنگ کے خاتمے کے بعد قیدیوں کو احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر رہا کرنے کی اجازت دی۔(محمد:۵)،سنتِ نبویؐ میں قیدیوں کی رہائی کے متعدد عملی نمونے ملتے ہیں، مثلاً فدیہ کے ذریعے، تعلیم کے بدلے آزادی، یا بلا معاوضہ رہائی۔ اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی مسلسل ترغیب، مکاتبت کے احکام اور مختلف گناہوں کے کفارےمیں غلام آزاد کرنے کی تعلیم نے غلامی کے دائرے کو بتدریج محدود کرنے کی بنیاد فراہم کی۔
الغرض تورات میں جنگ کو بنی اسرائیل کی مذہبی زندگی کا ایک لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ بعض مواقع پر جنگ کا حکم براہِ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا۔ تورات میں جنگ کے اسباب میں ارضِ موعودہ پر قبضہ، کسی دوسری قوم کی نافرمانی، ارتداد اور غیر معبودوں کی طرف بلانے جیسی وجوہات کی بنا پر ساری قوم اور سارے شہر کی تباہی تک کے احکام ملتے ہیں۔
اس کے برعکس نیا عہد نامہ اس مسئلہ پر خاموش ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں دشمن سے محبت، صلح اور درگزر پر خاص زور دیا گیا ہے، جبکہ جنگ سے متعلق کوئی مستقل قانونی ضابطہ پیش نہیں کیا گیا۔
اسلام میں جنگ کو نہ توکسی خاص وعدے کی تکمیل یا گناہ گاروں کی سزا کے لیے ایک لازمی فریضہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی نفی کی گئی ہے، بلکہ قرآن کریم نے اسے ایک استثنائی تدبیر کے طور پر جائز قرار دیا ہے جس کی اجازت ظلم، جارحیت، مذہبی آزادی پر حملے اور مظلوموں کے دفاع کے لیے دی گئی۔ نیز قرآن کریم نے قتال کو متعدد اخلاقی حدود کا پابند بنایا ہے۔ اس لیے اسلامی جنگی تعلیمات ایک متوازن اور عملی دفاعی نظام ہیں۔قرآن کریم نے نہایت واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔ نہ ہی محض کفر کی بنا پر کسی کو قتل کرنے یا کسی شہر کو تمام باشندوں اور املاک سمیت تباہ کرنے کی تعلیم دی گئی۔ بلکہ دیگر مذاہب کے معبودان کو گالی دینے سے بھی منع کیا گیا اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ پس قرآن اور اسلامی تعلیم نے دفاع کے بنیادی انسانی حق کو برقرار رکھتے ہوئے مذہبی اختلاف اور نسل کی بنیاد پر کی جانے والی جنگوں کا جواز ختم کر دیا اور یہی وہ جامع اور متوازن تعلیم ہے جو محفوظ اور پر امن معاشرے کے قیام کی ضمانت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:’’ایسا ہی بیرونی احکام توریت کے بھی زیادہ سخت تھے۔ جن کی رُو سے مخالفوں اور نافرمانوں کے دیہات اور شہر پھونکے گئے اور کئی لاکھ بچے قتل کیے گئے اور بڈھوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور ضعیف عورتوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا۔ اور انجیل کی تعلیم میں حد سے زیادہ نرمی اور رحم اور درگذر فرض کی طرح ٹھہرائےگئے۔ چنانچہ بیرونی طور پر اگر دشمن دین حملہ کریں تو انجیل کی رُو سے مقابلہ کرنا حرام ہے۔…سو ان دونوں کتابوں کا نا تمام اور ناقص ہونا ظاہر ہے لیکن قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے۔ رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بہرونی تعلیم میں ہر یک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آبپاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔ اور تمام قویٰ کی مُربی ہیں نہ کسی ایک قوت کی۔‘‘(کرامات اصادقین روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۵۷، ۵۸)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےقبولیتِ دعا کے واقعات




