خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍اکتوبر 2026ء

’’میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا۔ اضطراب تو ہوگا کہ آگ ہے۔ اس سے انسان جل جاتا ہے مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گی یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

یہ آپؑ کی اللہ تعالیٰ پر توکّل کی عجیب شان ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچانے کا کہہ دیا تو پھر سوال ہی نہیں اٹھتا کہ اس پر توکّل نہ کیا جائے اور کامل یقین نہ ہو۔ پورے یقین سے آپؑ نے کہا کہ مَیں کہتا ہوں مجھے آگ نہیں جلائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے

بے چینی میں جس طرح اللہ تعالیٰ پر توکّل انبیاء کا خاصہ ہے اسی طرح ایک مومن کو بھی چاہیے کہ انبیاء اور خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہوئے یاس اور نا امیدی کو اپنے پاس نہ آنے دے۔ بے چینی میں بھی اللہ تعالیٰ پر توکّل ہونا چاہیے۔ اسباب کا استعمال ہو۔ دعاؤں پر زور ہو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل ہو

’’جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق پر رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ پر توکّل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’ہمارے حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے ۔کسی کو خوشی ہے کہ میری اولاد بہت ہے۔ اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتھا بہت ہے۔ پر مَیں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادر مطلق ہے‘‘(حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ)

’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے ۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے میں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’اے عزیز! جو تم نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا کیا نعمتیں ملتی ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے سے کیسی دولت ملتی ہے غور کر کے دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے کیا اس کے ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے؟ وہ پاک اور سچا خدا ہی ہے جو ہم تم سب کو پالتا پوستا ہے۔ پس خدا ہی سے ڈرو اسی پر بھروسہ کرو اور نیکی اختیار کرو‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’توکّل کا مقام یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہ رکھے اور توکّل کے یہ معنے بھی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جستجو کرنے والوں کے لئے سامان کرنے منع ہیں۔ سامان بھی کئے جا سکتے ہیں‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

’’مَیں نے ایک کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا کہ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔ بس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء ؑو اولیاء و صلحاء کا آزمایا ہؤا ہے۔ نادان لوگ اس بات کو چھوڑ کر بوٹیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اتنی محنت اگر وہ ان بوٹیوں کے پیدا کرنے والے کے لئے کرتےتو سب من مانی مرادیں پا لیتے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’ مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنا ہوتا ہے۔ کام تو خدا تعالیٰ کرتاہے لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں اور ہم وہی کچھ کہیں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

’’انبیاء اکثر امور میں مشورہ لیتے ہیں اور ان سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا مگر بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں کہ جن میں وہ دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مشورہ کا بھی موقعہ اور محل ہوتا ہے اور کسی دشمن کی طرف سے علمی اعتراض ہونے پر انبیاء عموماً محض خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ)

’’اگر ہم قرض لیتے تو یہ توکّل کے خلاف ہوتا۔ اِدھر ہمیں ضرورت پیش آئی اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے ذریعہ سے روپیہ بہم پہنچا دیا جس کا ہمیں وہم اور خیال بھی نہیں تھا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’آپؑ کو اپنے بھیجنے والے خدا کی نصرت پر کامل بھروسہ تھا کہ جو پودا اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔… جماعت احمدیہ کے نوجوانوں اور مقامی جماعتوں کے امیروں اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے عہدیداروں اور سب سے بڑھ کر جماعت کے مبلّغوں اور مربیوں اور مرکزی کارکنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس غیر معمولی صبر اور استقلال اور اس غیرمعمولی عزم اور اس غیر معمولی توکّل سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اگر وہ بھی صبر و ثبات سے کام لیں گے اور خدا کے بندے بن کر رہیں گے اور اپنے آپ کو ثمر دار پودے بنائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح حفاظت کرے گا اور ان کے لئے بھی اسی طرح غیرت دکھائے گا جس طرح کہ وہ ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کے لئے دکھاتا چلا آیا ہے‘‘(حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ)

توکّل کا یہ مقام ہے کہ ایک مضمون کی فصاحت و بلاغت اور اس کے معنوی محاسن پر ناز ہونے کے باوجود اس کے کھوئے جانے پر کس استغنا ءکے رنگ میں فرماتے ہیں کہ کوئی فکر کی بات نہیں خدا ہمیں اس سے بہتر مضمون عطا فرما دے گا!!یہ شفقت اور یہ توکّل اور یہ تحمل خدا کے خاص بندوں کے سوا کسی اَور میں پایا جانا ممکن نہیں (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ)

’’اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہوجاتا ہے۔جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اس کا مزا نہیں آتا کیونکہ توکّل علیٰ اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا ۔اور جب توکّل پر کام کیا جائے اللہ مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو تووہ وضع بدل دیتا ہے۔… یہ خیالات باطل ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ ہو تو کام چلے۔ خدا پر توکّل کر کے جب ایک کام شروع کیا جائے اور اصل غرض اس سے دین کی خدمت ہو تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے اور سارے سامان اور اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے آنحضرتﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی نصائح اور سیرتِ طیبہ کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍اکتوبر 2026ء بمطابق 09؍اخاء1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توکّل کے واقعات بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر میر محمداسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ علاج کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ کبھی ایک قسم کا علاج نہ کرتے تھے بلکہ ایک ہی بیماری میں انگریزی دوا بھی دیتے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ یونانی بھی دیتے جاتے تھے۔ پھرجو کوئی شخص مفید بات کہہ دے اس پر بھی عمل کرتے تھے اور اگر کسی کو خواب میں کچھ معلوم ہوا تو اس پر بھی عمل فرماتے تھے‘‘ بعض دفعہ بعض بزرگوں کو خواب میں بھی نسخے نظر آ جاتے ہیں۔ ’’پھر ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے تھے اور ایک ہی وقت میں ڈاکٹروں اور حکیموں سے مشورہ بھی لیتے تھے اور طب کی کتاب دیکھ کر بھی علاج میں مدد لیتے تھے۔ غرض

علاج کو ایک عجیب رنگ کا مرکّب بنا دیتے تھے اور اصل بھروسہ آپ کا خدا پر ہوتا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد1 حصہ سوم صفحہ 786 روایت نمبر 906)

لوگ سوال کرتے ہیں کہ بے چینی ہوتی ہے کس کو ہوتی ہے؟کیوں ہوتی ہے؟کیا سزا ہے ؟کیا وجہ ہے؟ تو بہرحال انبیاء کی بے چینی اور عام آدمی کی بے چینی کے فرق کو واضح کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ اگرچہ انسان کو بشریت کے تقاضا سے اضطراب ہوتا ہے‘‘ قدرتی بات ہے انسان کو اضطراب ہوتا ہے، بےچینی ہوتی ہے ’’مگر وہ خاصہ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں جیسے کہ جنگِ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اضطراب ہوا تھا ۔

عام لوگوں میں اور انبیاؤں میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیاؤں کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی۔‘‘ مایوسی نہیں ہوتی۔ ’’ان کو اس امر پرپورا یقین ہوتا ہے کہ خدا ضائع کبھی نہ کرے گا۔‘‘

آپؑ نے فرمایا کہ

’’میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا۔ اضطراب تو ہوگا کہ آگ ہے ۔اس سے انسان جل جاتا ہے مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گی یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ۔‘‘

اےآگ!تُو ابراہیم کے لیے ٹھنڈی بھی ہو جا اور اس کے لیے سلامتی کا باعث بھی بن جا۔

’’لیکن دوسرے لوگوں کے اضطراب میں یاس ہوتا ہے۔‘‘ ناامیدی ہوتی ہے جن کا ایمان نہیں ہوتا۔ ’’خدا پر تو ان کو توقع نہیں ہوتی اور یہ کفر ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 4صفحہ 271 حاشیہ ، ایڈیشن 2022ء)

یہ جو حالت ہے یہ کفر ہے۔ پس

بے چینی میں جس طرح اللہ تعالیٰ پر توکّل انبیاء کا خاصہ ہے اسی طرح ایک مومن کو بھی چاہیے کہ انبیاء اور خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہوئے یاس اور نا امیدی کو اپنے پاس نہ آنے دیں۔ بے چینی میں بھی اللہ تعالیٰ پر توکّل ہونا چاہیے۔ اسباب کا استعمال ہو۔ دعاؤں پر زور ہو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل ہو۔

آپؑ نے مومنوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ مومن کا بھی یہ کام ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ پر توکّل رہنا چاہیے اور مایوسی اس طرح نہیں آنی چاہیے۔

حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ہم میں سے بیسیوں اشخاص اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ جب کتاب نور الدین لکھ رہے تھے تو اس میں آپ نے لکھا کہ حضرت ابراہیمؑ  کو آگ میں ڈالنے کا جو ذکر ہے اس سے مراد لڑائی کی آگ ہے۔ آپ نے خیال کیا کہ آگ میں پڑکر زندہ بچنا تو بہت مشکل ہے اس لئے آگ سے مراد لڑائی کی آگ لی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ان دنوں بسراواں ‘‘ قادیان کے قریب ایک گاؤں ہے ’’ کی طرف سیر کو جایا کرتے تھے۔‘‘ حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں :’’مجھے یاد ہے مَیں بھی ساتھ تھا۔ کسی نے چلتے ہوئے کہا کہ حضور! بڑے مولوی صاحب نے‘‘ یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ نے، مولانا نورالدین صاحبؓ نے ’’ بڑا لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔‘‘ آپؓ لکھتے ہیں :’’(جو لوگ عام طور پر عقلی باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوں وہ ایسی باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں )لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام قریباً ساری سیر میں اس بات کا ردّ کرتے رہے اور فرمایا کہ میری طرف سے مولوی صاحب کو کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔ ہمیں الہام ہؤا ہے کہ ’’آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے‘‘تو حضرت ابراہیمؑ سے اگر اللہ تعالےٰ نے ایسا سلوک کیا تو کیا بعید ہے۔‘‘ پھر آپؑ نے فرمایا :’’کیا طاعون آگ سے کم ہے اور دیکھ لو کیا یہ کم معجزہ ہے کہ چاروں طرف طاعون آئی مگر ہمارے مکان کو اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا۔ پس اگر حضرت ابراہیمؑ  کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچا لیا ہو تو کیا بعید ہے۔ ہماری طرف سے مولوی صاحب سے کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔ چنانچہ آپ نے‘‘ مولانا نورالدین صاحبؓ نے یہ مضمون ’’کاٹ دیا‘‘ اتنا فقرہ۔

(خطبات محمود جلد 19 صفحہ 617) (روزنامہ الفضل قادیان نمبر 209 جلد 26 ، مورخہ 10؍ستمبر 1938ء صفحہ 5-6)

یہ آپؑ کی اللہ تعالیٰ پر توکّل کی عجیب شان ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچانے کا کہہ دیا تو پھر سوال ہی نہیں اٹھتا کہ اس پر توکّل نہ کیا جائے اور کامل یقین نہ ہو۔ پورے یقین سے آپؑ نے کہا کہ مَیں کہتا ہوں مجھے آگ نہیں جلائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  تحریر فرماتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہیں رہا۔ ان دنوں جلسہ سالانہ کے لیے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پاس سے ہی صَرف فرماتے تھے۔ میر ناصر نواب صاحبؓ مرحوم نے آ کر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لیے کوئی سامان نہیں ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر دیں۔ چنانچہ زیور فروخت کیا یا رہن رکھا گیا اور میر صاحبؓ روپیہ لے آئے۔ مہمانوں کو کھانا مہیا کیا۔ دو دن کے بعد پھر میر صاحبؓ  آئے اور (حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ) کہتے ہیں کہ رات میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لیے پھر کچھ نہیں ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم نے برعایتِ ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا ۔اب ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔ اگلے دن آٹھ یا نو بجے صبح جب چٹھی رساں آیا ڈاکخانہ سے تو حضورؑ نے میر صاحب ؓکو اور مجھے بلایا اور پھر اس چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر تھے جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے۔ سو سو پچاس پچاس روپیہ کے اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں، مہمانوں کے صَرف کے لیے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔ وہ آپؑ نے وصول فرما کر توکّل پر تقریر فرمائی۔ اَور بھی چند آدمی تھے جہاں آپؑ کی نشست تھی وہاں کا یہ ذکر ہے۔ فرمایا کہ

جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق پر رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ پر توکّل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2حصہ چہارم صفحہ 97-98، روایت نمبر 1124)

اللہ تعالیٰ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا توکّل اور اللہ تعالیٰ کا آپؑ سے کیا سلوک تھا

اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک خادم حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میاں نجم الدین صاحب بھیرویؓ لنگر خانے کے منتظم تھے۔ ایک دفعہ میاں نجم الدین صاحبؓ حضرت صاحبؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ لنگر خانے کی ضروریات کے لیے آٹا وغیرہ کی خرید کے لیے کچھ روپیہ عنایت فرمائیں۔ تو حضرت صاحبؑ نے فرمایا اس وقت میرے پاس کوئی روپیہ نہیں ہے۔ جس خدا کے مہمان ہیں اور جن کے لیے یہ لنگر ہےوہ خود انتظام فرمائے گا۔ اس پر میاں نجم الدینؓ واپس آ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک پھٹے پرانے کپڑوں والا ایک شخص حضرت صاحبؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اندر اطلاع کی۔ آپؑ باہر تشریف لائے۔ اس نے آپؑ کے ہاتھ میں ایک گٹھڑی کپڑوں میں روپوں کی پوٹلی باندھی ہوئی دے دی اور خود چلا گیا۔ جب حضرت صاحبؓ نے وہ گٹھڑی یا پوٹلی کھولی تو اس میں کافی روپیہ تھا۔ حضرت صاحبؑ نے اندر سے واپس آ کر اس شخص کو بلوانے اور پتہ لگانے کی کوشش کی مگر وہ نہ ملا۔ میاں نجم الدین صاحبؓ  کو حضرت صاحبؑ نے بلوا کر وہ سب روپے دے دیے۔

(ماخوذ از روزنامہ الفضل ربوہ جلد 46-81 نمبر 214 مؤرخہ 21؍ستمبر 1996ء صفحہ 3)

حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ بیان فرماتے ہیں کہ

’’ہمارے حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے ۔کسی کو خوشی ہے کہ میری اولاد بہت ہے۔اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتھا بہت ہے۔ پر مَیں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادر مطلق ہے۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 171)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے ۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے میں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 240-241، ایڈیشن 2022ء)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ… نے فرمایا کہ جناب امام ہمام علیہ الصلوٰةوالسلام نے پانچ ستمبر1898ء کوبعدنمازعصر میری درخواست پر‘‘یعنی حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمدؓ کی درخواست پر، جب وہ بچے تھے، ایک’’… کہانی سنائی‘‘ اور وہ کہانی یہ تھی۔ کہتے ہیں ’’جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکّل اور بھروسہ کرنا اور سچا تقویٰ انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طور پر اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔‘‘ اس مضمون پہ آپؑ نے یہ کہانی بیان کی۔ ’’چنانچہ حضرت نے …فرمایا کہ ایک بزرگ کہیں سفر پر جا رہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کو لوٹ لیا کرتا تھا۔ اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی لوٹنے لگا۔ بزرگ موصوف نے فرمایا‘‘ اسے۔ ’’وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔(الذاریات:23)‘‘ اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ وعدہ کیا جاتا ہے وہ بھی ہے۔’’ تمہارا رزق آسمان پر موجود ہے تم خدا پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور چوری چھوڑ دو۔ خدا تعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا۔ چور کے دل پر اثر ہوا اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا یہاں تک کہ اسے سونے چاندی کے برتنوں میں عمدہ عمدہ کھانے ملنے لگے۔ وہ کھانے کھا کر برتنوں کو جھونپڑی کے باہر پھینک دیتا۔ اتفاقاً وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور نے جو اَب بڑا نیک بخت اور متقی ہو گیا تھا اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی اور کہا کہ مجھے اَور آیت بتلاؤ۔ تو بزرگ موصوف نے فرمایاکہ۔فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۔‘‘ کہ آسمانوں اور زمین کے ربّ کی قسم ہے یعنی جب یہ باتیں پوری ہوں گی تو پتہ لگ جائے گا کہ یہ قرآن اسی طرح ایک حقیقت ہے۔ ’’یہ پاک الفاظ سن کر‘‘ اس چورپر ’’اس‘‘شخص’’پر‘‘جو اب چوری چھوڑ چکا تھا اور نیکی کی طرف مائل تھا بلکہ نیکی کر رہا تھا ’’ایسا اثر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اس کے دل پر بیٹھ گئی۔‘‘ تقویٰ میں مزید بڑھا’’ پھر تڑپ اٹھا‘‘اور اس سوچ کے ساتھ ہی بے چین ہوا۔ تڑپ اٹھا ’’اور اسی میں جان دے دی۔‘‘ معرفت اس کو اتنی حاصل ہو گئی تھی۔’’پس

اے عزیز! جو تم نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا کیا نعمتیں ملتی ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے سے کیسی دولت ملتی ہے غور کر کے دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے کیا اس کے ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے؟ وہ پاک اور سچا خدا ہی ہے جو ہم تم سب کو پالتا پوستا ہے۔ پس خدا ہی سے ڈرو اسی پر بھروسہ کرو اور نیکی اختیار کرو۔‘‘

(حیات احمد جلد 1 حصہ 2 صفحہ 242-243) (الحکم نمبر 26و 27 جلد (2) مؤرخہ 6 تا 13 ستمبر 1898ء صفحہ 11)

لوگ عام طور پر کہتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو زیادہ گہری باتوں کی سمجھ نہیں آتی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مصلح موعود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓکو ان کی عمر جب صرف نَوسال تھی، یہ حکایت سنائی۔

یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ  کی ذہانت کے مطابق بھی یہ کہانی سنائی ہو گی۔آپؑ کو پتہ ہو گا کہ بچہ سمجھ جائے گا۔لیکن یہ بھی آپؑ کے پیش نظر ہوگا کہ بچپن سے ہی آپؓ میں، بچوں میں توکّل کی اہمیت پیدا کی جانی چاہیے۔ پس یہ تربیت کے اصول ہم سب کے لیے راہنما ہیں۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک بزرگ کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ وہ کسی گوشہ میں بیٹھے وعظ و نصیحت کرتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو وہیں روزی پہنچا دیتا تھا۔ دور شہر سے باہر جگہ تھی جہاں وہ رہتے تھے۔ ایک دفعہ کئی دن گزر گئے اور کھانے کو کچھ نہ آیا۔ یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب شہر میں چل کر کسی دوست سے کچھ مانگنا چاہیے۔‘‘ بڑے دن ہو گئے ہیں بھوکا رہتے ہوئے۔’’ چنانچہ وہ گئے اور ایک دوست سے کہا کہ کچھ کھانے کو دو۔ اُس نے دو تین روٹیاں اور کچھ سالن اوپر ہی ڈال کر دے دیا۔ یہ چل پڑے تو ساتھ ہی اس دوست کا کتا بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔ وہ دم ہلاتا جاتا تھا اور پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اس بزرگ نے سمجھا کہ اس روٹی میں اس کا بھی حق ہے کیونکہ اس گھر کی نگرانی کرتا ہے ‘‘ یہ۔ جس گھر کے مالک سے مَیں روٹی لایا ہوں یہ اس کا کتا ہے اس کا حق ہو گا کیونکہ یہ کتا نگرانی کرتا ہے وہاں۔ گھر کا پہرہ دیتا ہے ’’اور اس نے ایک روٹی پر سالن کا تیسرا حصہ ڈال کر اسے ڈال دی‘‘ کہ یہ حق ہے کتے کا اس کو دے دیا۔ تیسرا حصہ جو لے کے آئے تھے مالک سے۔ ’’کتے نے وہ کھا لی اور پھر پیچھے پیچھے چل پڑا۔ بزرگ نے خیال کیا کہ بے شک اس کا حق زیادہ ہے کیونکہ یہ اس گھر کا محافظ ہے اور ایک روٹی پر سالن کا ایک اَور حصہ ڈال کر اس کےآگے پھینک دی مگر کتا وہ کھا کر بھی پیچھے چل پڑا۔ ادھر اس بزرگ کو خود سخت بھوک لگی ہوئی تھی وہ کہنے لگے کہ تُو بڑا بے حیا ہے۔‘‘ اب کتے سے ہی بات کر رہے ہیں بزرگ کہ ’’مَیں تین میں سے دو روٹیاں تجھے دے چکا ہوں مگر پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ کہنا تھا کہ معاً کشف کی حالت پیدا ہوئی وہ دنیا کی حالت کو بالکل بھول گئے۔ کتے کی روح متمثل ہو کر ان کے سامنے آئی اور کہا کہ تم مجھے بے حیا کہتے ہو حالانکہ مَیں تو کتا ہوں اور تم انسان ہو مجھے سات سات فاقے اس گھر میں آئے اور مَیں نے اس ڈیوڑھی کو نہیں چھوڑا مگر تمہیں تین دن کا فاقہ آیا اور تم چھوڑ کر شہر کو آگئے۔ بتاؤ بے حیا مَیں ہوں یاتم ہو؟ یہ بات سن کر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور تیسری روٹی مع سالن بھی کتے کے آگے پھینک دی۔ جب واپس اپنے مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص نہایت پُرتکلف کھانے لئے بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کہاں چلے گئے تھے مَیں انتظار میں تھا۔ تو

توکّل کا مقام یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہ رکھے اور توکّل کے یہ معنے بھی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جستجو کرنے والوں کے لئے سامان کرنے منع ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی منع نہیں فرمایا۔’’ سامان بھی کئے جا سکتے ہیں۔‘‘

(خطبات محمود جلد 20 صفحہ 511-512)

اللہ تعالیٰ کا ہر ایک سے سلوک ہے۔ اس بزرگ سے ایک سلوک تھا ۔ان کا امتحان اس طرح اللہ تعالیٰ نے لیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسباب کااستعمال ہونا چاہیے۔ اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہے اور اس کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ’’میرے نزدیک سب سے بڑے مشرک کیمیا گر ہیں کہ یہ رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں اور ان اسباب سے کام نہیں لیتے جو اللہ تعالیٰ نے جائز طور سے رزق کے حصول کے لئے مقرر کئے ہیں اور نہ پھر توکّل کرتے ہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ‘‘(الذاریات:23) ’’( کہ آسمان میں ہے تمہارا رزق اور جو کچھ تم وعدہ دئیے جاتے ہو) ہم ایسے مُہَوِّسَوں‘‘ یعنی جڑی بوٹی سے چاندی سونا بنانے والے کیمیا گر جو نام نہاد ہوتے ہیں آپؑ نے فرمایا کہ ان ’’ کو ایک کیمیا کا نسخہ بتلاتے ہیں بشرطیکہ وہ اس پر عمل کریں۔‘‘ یونہی کیمیا گری کرتے رہتے ہو کچھ نہیں تمہیں ملا۔ مَیں تمہیں نسخہ بتاتا ہوں اور نسخہ ایسا ہوگا کہ کارآمد بھی ہوگا بشرطیکہ تم اس پہ عمل کرو۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘(الطلاق:3-4) اور جو اللہ سے ڈرے اس کے لیے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے اور وہ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ ’’پس تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے یہ حاصل ہو اسے گویا تمام جہان کی نعمتیں حاصل ہو گئیں۔ یاد رکھو متقی کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اس مقام پر ہوتا ہے کہ جو چاہتا ہے خدا اس کے لئے اس کے مانگنے سے پہلے مہیا کر دیتا ہے۔‘‘ آپؑ فرماتے ہیں :

’’مَیں نے ایک کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا کہ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔ بس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء ؑو اولیاء و صلحاء کا آزمایا ہؤا ہے۔ نادان لوگ اس بات کو چھوڑ کر بوٹیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اتنی محنت اگر وہ ان بوٹیوں کے پیدا کرنے والے کے لئے کرتے‘‘

یعنی بوٹیاں تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ناں۔ اس کو حاصل کرنے کی محنت کرتے، تقویٰ حاصل کرتے ’’تو سب من مانی مرادیں پا لیتے۔‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  صفحہ 207-208)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توکّل کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’حضورؑ دہلی میں گئے۔ جاتے وقت خاص خاص دوستوں کو خط لکھے کہ جس دوست کو خط ملے وہ اگر ہو سکے دہلی پہنچے۔ ہمارا مباحثہ مولوی نذیر حسین دہلوی سے ہو گا۔‘‘ مباحثہ ہونا تھا مولوی نذیر حسین سے۔ ’’چنانچہ‘‘ کہتے ہیں ’’مَیں بھی دہلی پہنچا۔ وہاں معلوم ہوا کہ مولوی صاحب‘‘ مولوی نذیر حسین ’’ کا فساد کرنے کا منشاء ہے۔ اب ہم نے امیر علی شاہ سے جو غالباً انسپکٹر پولیس تھے یا کوئی اَور عہدہ دار تھے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا ہم خوب انتظام امن کا رکھیں گے۔‘‘ پولیس کی نفری کافی تعداد میں بھیج دوں گا تم فکر نہ کرو کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوتا۔’’ غرض جس دن مباحثہ ہونا تھا میں اور چوہدری نواب خان امیر علی شاہ کے پاس گئے مگر انہوں نے کہا افسوس ہے ہم کچھ انتظام نہیں کر سکتے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر سے عرض کر دی کہ مولوی لوگ روز بحث کرتے ہیں کیا آپ روز ان معمولی باتوں کا انتظام کریں گے؟‘‘ بڑی بڑی نفری بھیجیں گے پولیس کی۔ ’’چنانچہ انہوں نے کہہ دیا کہ انتظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘ ڈپٹی کمشنر نے۔ ’’ہم مجبور ہیں‘‘ پولیس انسپکٹر نے کہا ہم مجبور ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ’’اس طرح باتوں میں دیر لگ گئی ۔مَیں نے نواب خان سے کہا چلو وقت ہو گیا ہے حضرت صاحب تو ہمارا انتظار نہ کریں گے۔ وقت پر مکان مباحثہ پر پہنچ جائیں گے۔ ہم جلدی جلدی وہاں پہنچے۔ دیکھا کہ حضرت صاحب گاڑی پر سوار ہو رہے ہیں۔ عرض کیا گیا انتظام پولیس کا نہیں ہے‘‘ جس طرح انتظام یہ چاہتے تھے وہ نہیں تھا ۔ویسے تھوڑی بہت پولیس تو تھی وہاں۔ ’’آپؑ نے فرمایا ہمیں کیا پرواہ‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مجھے کیا پرواہ ہے۔

’’ہمارا انتظام خدا کرے گا۔ ہم ضرور جائیں گے۔رُک نہیں سکتے۔

آپؑ وہاں پہنچے۔ حضورؑ کے ساتھ گیارہ آدمی ایک لڑکا غرضیکہ صرف بارہ آدمی تھے۔

ادھر مخالف لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور فساد کا بھی سخت اندیشہ تھا مگر حضورؑ کے چہرہ پر ذرہ بھی خوف یا ملال نہ معلوم ہوتا تھا۔ آپؑ بہادروں کی طرح ان کے درمیان جا پہنچے۔ کسی مخالف کی کوئی شرارت نہ چلی۔ خدا نے ہر شریر کی شرارت سے حضورؑ کو بچایا۔‘‘

(سیرت احمد از قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ 8-9)

آپؑ کو اللہ تعالیٰ پر مکمل توکّل تھا۔ بھروسہ آپؑ کو اللہ تعالیٰ پر تھا۔

حضرت مصلح موعود ؓبیان کرتے ہیں کہ

’’ مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنا ہوتا ہے۔ کام تو خدا تعالیٰ کرتاہے لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں اور ہم وہی کچھ کہیں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور پیشگوئی کی میعاد گزر گئی۔‘‘ آپؓ،مصلح موعود ؓلکھتے ہیں کہ’’مَیں اس وقت چھ سات سال کی عمر کا تھا۔ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے…۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ نے تفصیل سے کمروں وغیرہ کا نقشہ بھی کھینچا ہے کہ کہاں کہاں بیٹھے تھے،کس طرح اور کون کون سے کمرے اس وقت کس استعمال ہوتے تھے، بعد میں کہاں استعمال ہوتے تھے۔ بہرحال تفصیل بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں کہ ’’مجھے خوب یاد ہے کہ مَیں چھوٹا سا تھا کہ جب آتھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔ غالباً یہ 1894ء کے آخر یا 1895ء کے شروع کی بات ہے مَیں اس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا۔ ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔ اس وقت تو مَیں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی لیکن اب واقعات سے مَیں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا آخری دن تھا یعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے اس دن اتنا کہرام مچا ہوا تھا کہ لوگ رو رو کر چیخیں مار رہے تھے اور دعا کرتے تھے کہ خدایا! آتھم مر جائے۔ یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔ پھر نماز کا وقت ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپؑ مجلس میں بیٹھ گئے۔ گو اس عمر میں مَیں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔ اس دن مَیں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔ اس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کسی انسان کو اس کے کلام کے لئے غیرت ہو سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو ہمیں ایمان رکھنا چاہیے کہ ایسا ضرور ہوگا اور اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا ہے‘‘ ہو سکتا ہے کچھ اَور مطلب ہو ’’تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہو سکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوں پر یقین رکھیں۔‘‘ جب تم نے مجھے مسیح موعودؑ مان لیا تو باتوں پر یقین رکھو۔ کس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے کام کرنا ہے، وہ اللہ کا فعل ہے۔ ’’غرض

مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکّل کرے۔ خدا تعالیٰ کی بات بہرحال پوری ہو کر رہتی ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد 30 صفحہ 109-110)

کس طریقے سے ہوتی ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مباحثہ میں آتھم نے ایک دفعہ ایسے سوالات کئے کہ ہمارے بعض احباب گھبرا گئے کہ ان کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا اور بعض احباب نے ایک کمیٹی کی‘‘ یعنی میٹنگ کی، اکٹھے ہو گئے ’’اور قرآن شریف اور انجیل کے حوالہ سے چاہا کہ حضرت صاحب کو امداد دیں‘‘کچھ حوالے پیش کریں۔ کہتے ہیں ’’مَیں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو مزاحاً کہا۔‘‘ منشی ظفر صاحبؓ نے ’’کہ کیا نبوتیں بھی مشورہ سے ہوا کرتی ہیں۔‘‘ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ضرورت ہوگی تو آپ ہی حوالے مانگ لیں گے۔ تم لوگوں کو جا کے دینے کی کیا ضرورت ہے۔ ’’اتنے میں حضرت صاحبؑ تشریف لے آئے اور حضورؑ کچھ باتیں کر کے جانے لگے تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحومؓ نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اگر کل کے جواب کے لئے مشورہ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔‘‘ مشورہ کر لیں کس کس طرح جواب دینا ہے، حوالے اکٹھے کر لیں۔ ’’اس پر حضرت صاحبؑ نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ آپ کی دعا کافی ہے۔‘‘ آپ دعا کریں بس یہی کافی ہے ’’اور فوراً تشریف لے گئے… ‘‘ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ

’’انبیاء اکثر امور میں مشورہ لیتے ہیں اور ان سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا مگر بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں کہ جن میں وہ دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مشورہ کا بھی موقعہ اور محل ہوتا ہے اور کسی دشمن کی طرف سے علمی اعتراض ہونے پر انبیاء عموماً محض خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اس موقعہ پر خدا نے عیسائیوں کو ذلیل کیا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ سوم صفحہ 523 روایت نمبر 515)

حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ’’مَیں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام جب زلزلہ کے الہامات کی وجہ سے باغ میں تشریف لے گئے تو ایک دن آپ نے گھر میں حضرت اماں جانؓ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ روپیہ بالکل نہیں رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ بعض دوستوں سے قرض لے لیا جائے مگر پھر آپؑ نے فرمایا کہ یہ بھی توکّل کے خلاف ہے‘‘ کہ مَیں لوگوں سے قرض لوں۔ ’’اس کے بعد آپؑ مسجد میں گئے اور نماز ہوئی۔ جب واپس آئے تو آپؑ نے ایک پوٹلی نکالی اور اس کو کھولا اور پھر اسے دیکھ کر فرمانے لگے۔( مَیں بھی اس وقت پاس ہی کھڑا تھا)‘‘ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں مَیں پاس ہی کھڑا تھا جب آپؑ نے جیب سے پوٹلی نکالی اور کھولی ’’کہ جب مَیں نماز کے لئے باہر گیا تو ایک غریب آدمی جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے اس نے یہ پوٹلی ہماری جیب میں ڈال دی اور چونکہ یہ بوجھل تھی مَیں نے سمجھا کہ اس میں پیسے وغیرہ ہوں گے‘‘ سکّے ہوں گے ’’مگر جب گھر آکر مَیں نے اس پوٹلی کو کھولا تو اس میں سے روپے اور نوٹ نکلے۔ پھر آپؑ نے ان روپوں اور نوٹوں کو گنا تو وہ چار پانچ سو کے قریب نکلے۔ آپؑ نے فرمایا

اگر ہم قرض لیتے تو یہ توکّل کے خلاف ہوتا۔ اِدھر ہمیں ضرورت پیش آئی اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے ذریعہ سے روپیہ بہم پہنچا دیا جس کا ہمیں وہم اور خیال بھی نہیں تھا۔‘‘

(خطبات محمود جلد 30 صفحہ 321)

پھر حضرت مصلح موعودؓ ایک اَور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرمایا کرتے تھے۔ ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ زکوٰة کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا زکوٰة کے متعلق دو حکم ہیں ۔ایک تمہارے لئے اور ایک میرے لئے۔ تمہارے لئے تو یہ حکم ہے کہ چالیس پر ایک روپیہ زکوٰۃ دو۔‘‘ چالیس روپیہ پر ایک روپیہ دے دو۔چالیسواں حصہ زکوٰة ہے ’’لیکن میرے لئے یہ حکم ہے کہ چالیس پر 41 روپے دوں۔ اس نے کہایہ فرق کیوں؟‘‘ کہ ایک پوری رقم بھی دے دیں اور ایک روپیہ زائد بھی آپ دے دیں؟’’ فرمانے لگے مجھے خدا تعالیٰ نے توکّل کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور تجھے تدبیر کے مقام پر۔ تم اگر مال جمع کرو تو تمہارے لئے یہ حکم ہے کہ چالیس پر ایک روپیہ دو لیکن میں چونکہ توکّل کے مقام پر ہوں اس لئے اگر میرے پاس چالیس روپے جمع ہو جائیں تو اس لئے 41 دوں کہ مجھے جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے اور جمع کرنے پر مجھے ایک روپیہ زائد جمع شدہ سے جرمانہ دینا چاہیے۔‘‘

(خطابات شوریٰ جلد 1 صفحہ 465)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ

’’آپؑ کو اپنے بھیجنے والے خدا کی نصرت پر کامل بھروسہ تھا کہ جو پودا اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔

چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں:

اے آنکہ سوئے من بِدَوِیْدِی بِصَد تَبَر

از باغباں بِتَرْسْ کِہ مَن شاخِ مُثْمِرَمْ

یعنی اے وہ جو میری طرف غصہ سے بھرا ہوا سو خنجر لے کر بھاگا آتا ہے! تُو آسمانی باغبان سے ڈر کہ مَیں اس کے اپنے ہاتھ کا لگایا ہوا پھل دینے والا پودا ہوں۔

جماعت احمدیہ کے نوجوانوں اور مقامی جماعتوں کے امیروں اور انصاراللہ اور خدام الاحمدیہ کے عہدیداروں اور سب سے بڑھ کر جماعت کے مبلّغوں اور مربیوں اور مرکزی کارکنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس غیر معمولی صبر اور استقلال اور اس غیرمعمولی عزم اور اس غیر معمولی توکّل سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اگر وہ بھی صبر و ثبات سے کام لیں گے اور خدا کے بندے بن کر رہیں گے اور اپنے آپ کو ثمر دار پودے بنائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح حفاظت کرے گا اور ان کے لئے بھی اسی طرح غیرت دکھائے گا جس طرح کہ وہ ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کے لئے دکھاتا چلا آیا ہے۔‘‘

(سیرت طیبہ از مرزا بشیر احمد صاحب ؓ ایم اے صفحہ 96-97)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غیر معمولی توکّل اور حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ یعنی حضرت خلیفہ اولؓ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت

کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ اپنی تصنیف ’’سیرت مسیح موعودؑ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ لکھ رہے تھے حضور نے مولوی نور الدینؓ صاحب خلیفہ اوّل کو ایک بڑا دوورقہ اس زیر تصنیف کتاب کے مسودہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے مجھے پہنچا دیا جائے۔‘‘ ان کو جو واقعہ بیان کر رہے ہیں فرمایا کہ واقعہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ کو فارسی میں ترجمہ کرنے کے لیے پہنچا دیا جائے۔ حضرت خلیفہ اول ؓکو یہ دو صفحے دیے۔ تو ’’ وہ ایسا مضمون تھا کہ اس کی خداداد فصاحت و بلاغت پر حضرت کو ناز تھا‘‘ کہ اللہ تعالیٰ نے بہت اعلیٰ مضمون سمجھایا ہے ’’مگر مولوی صاحب سے یہ دوورقہ کہیں گر گیا۔‘‘ یہ کاغذ تھے دو صفحے ،کہیں گرگئے ۔ ’’ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لئے ارسال فرمایا کرتے تھے اس لئے اس دن غیر معمولی دیر ہونے پر مجھے طبعاً فکر پیدا ہوئی اور مَیں نے مولوی نور الدین صاحبؓ سے ذکر کیا کہ آج حضرت کی طرف سے مضمون نہیں آیا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہو رہی ہے معلوم نہیں کیا بات ہے۔‘‘ مولوی عبدالکریم صاحبؓ کہتے ہیں کہ ’’یہ الفاظ میرے منہ سے نکلنے تھے کہ مولوی نورالدین صاحبؓ  کا رنگ فَق ہو گیا کیونکہ یہ دو ورقہ مولوی صاحب سے کہیں گر گیا تھا ۔بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑکو اطلاع ہوئی تو حسب معمول ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یاگھبراہٹ کا اظہار کرنا تو درکنار الٹا اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کےگم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی۔ مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔ میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گمشدہ کاغذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرما دے گا۔‘‘ لکھتے ہیں کہ

’’اس لطیف واقعہ سے ایک طرف حضرت مسیح موعودؑ کے غیر معمولی جذبہ شفقت اور دوسری طرف اپنے آسمانی آقا کی نصرت پر غیر معمولی توکّل پر خاص روشنی پڑتی ہے۔

غلطی حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ سے ہوئی تھی کہ ایک قیمتی مسودہ کی پوری حفاظت نہیں کی اور اسے ضائع کر دیا مگر حضرت مسیح موعود ؑکی شفقت کا یہ مقام ہے کہ خود پریشان ہوئے جاتے ہیں اور معذرت فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو مسودہ گم ہونے سے اتنی تکلیف ہوئی ہے اور پھر

توکّل کا یہ مقام ہے کہ ایک مضمون کی فصاحت و بلاغت اور اس کے معنوی محاسن پر ناز ہونے کے باوجود اس کے کھوئے جانے پر کس استغنا ءکے رنگ میں فرماتے ہیں کہ کوئی فکر کی بات نہیں خدا ہمیں اس سے بہتر مضمون عطا فرما دے گا!!یہ شفقت اور یہ توکّل اور یہ تحمل خدا کے خاص بندوں کے سوا کسی اَور میں پایا جانا ممکن نہیں۔‘‘

(سیرت طیبہ از مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 55-56)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ قرآن شریف میں صحابہؓ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے۔ ہُوَالَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ اِنَّہٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔(الانفال:63-64) وہ خدا جس نے اپنی نصرت سے اور مومنوں سے تیری تائید کی اور ان کے دلوں میں ایسی الفت ڈالی کہ اگر تُو ساری زمین کے ذخیرے خرچ کرتا تو بھی ایسی الفت پیدا نہ کر سکتا لیکن خدا نے ان میں یہ الفت پیدا کر دی وہ غالب اور حکمتوں والا خدا ہے۔‘‘ آپؑ فرماتے ہیں :

’’جس خدا نے پہلے یہ کام کیا وہ اب بھی کر سکتا ہے۔ آئندہ بھی اسی پر توکّل ہے۔ جو کام ہونے والا ہوتا ہے اس میں خدا کے فضل کی روح پھونکی جاتی ہے۔

جیسا کہ باغبان اپنے باغ کی آبپاشی کرتا ہے تو وہ تروتازہ ہوتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنے مرسلین کے سلسلہ کو ترقی اور تازگی عطا فرماتا ہے جو فرقے صرف اپنی تدبیر سے بنتے ہیں ان کے درمیان چند روز میں ہی تفرقے پیدا ہو جاتے ہیں جیسا کہ برہمو تھوڑے دن تک ترقی کرتے کرتے آخر رک گئے اور دن بدن نابود ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بنا صرف انسانی خیال پر ہے۔

ہماری جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔ کوئی انسانی عقل یا دور اندیشی یا دنیوی اسباب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی سب اسباب مہیا کر دے گا تب یہ کام انجام کو پہنچے گا۔

اگر بالفرض ہماری جماعت کی تعداد بیس پچیس لاکھ تک پہنچ کر ٹھہر جائے تو پھر بھی کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں اتنی تعداد تو سکھوں کی بھی ہے۔

ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اس جماعت سے بھر جائے اور یہ انسان کا کام نہیں۔ انسان کی زندگی کا تو ایک دم کا اعتبار نہیں۔ وہ کیا کر سکتا ہے؟ لیکن خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 198-199، ایڈیشن 2022ء)

اتنی تعداد ہو بھی جائے تو اس تعدادوں پہ فخر والی بات کوئی نہیں۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو پیغام پہنچانا ہے اور سب دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے کے آنا ہے اور یہ انسانی کوششوں سے بہرحال نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ کے فضل سے ہی ہوگا اور اللہ کا فضل اس پر کامل ایمان سے حاصل ہوتا ہے۔

حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم نے سوال کیا کہ حضورؑ نشان نمائی کے لئے کوئی میعاد مقرر فرما دیتے ہیں‘‘ کہ یہ نشان اتنے عرصے میں ظاہر ہوگا ’’کبھی سال کی کبھی چھ مہینہ کی۔ کیا یہ آپ الہام الٰہی کے ماتحت کر سکتے ہیں یا اس کی آپ کو اجازت ہے کہ جس قدر چاہیں میعاد مقرر فرما دیں۔ فرمایا نہیں!

مجھے خدا تعالیٰ پر ایسا یقین اور کامل بھروسہ ہے کہ مَیں بذریعہ دعا خدا تعالیٰ سے وہ نشان میعاد کے اندر ظاہر کروا لیتا ہوں۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 1 صفحہ 211)

یہ توکّل ہے اور یہ بھروسہ ہے۔

حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ کے بیمار ہونے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں یہ خط لکھا جس میں

دعا اور دوا کے ساتھ ساتھ توکّل کی نصیحت

کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ کا ایک نہایت دردناک خط پہنچا۔ درحقیقت اس قدر غم اور صدمہ جو چاروں طرف سے آپ کے دل کو گھیر رہا ہے یہ خدا تعالیٰ کا بڑا امتحان ہے۔ خدا کرے جو آپ اس امتحان میں صادق نکلیں۔ مَیں نے اس خط کے لکھنے سے پہلے جنابِ الٰہی میں بہت دعا کی ہے اگر تقدیر مبرم‘‘ یا نہ ٹلنے والی تقدیر ’’نہ ہو تو قبول ہونے کی امید ہے۔ مجھے اب تک آپ نے پتہ نہیں دیا کہ مرض کی کیا حالت ہے ‘‘ مرض کی تفصیل آپؑ نے پوچھی ہے ’’کیا دست تو نہیں آتے؟ بدن تو بہت لاغر نہیں ؟ کس درجے پر بخار معلوم ہوتا ہے؟‘‘ یہ پتہ ہے ’’اور بخار کو کتنے دن ہو گئے ہیں؟ ‘‘ آپؑ نے پھر فرمایا کہ ’’اورمَیں ایک نسخہ اس خط کے ہمراہ بھیجتا ہوں …بلاتوقف کھانا شروع کر دیں اور دل برداشتہ نہ ہوں۔ خدا سب چیز پر قادر ہے۔ ‘‘ پھرآگے آپؑ لکھتے ہیں کہ ’’دو تین ماہ کی مدت ہوئی میرا لڑکا مبارک احمد جو اس کی والدہ کو بہت ہی پیارا تھا تپ سے فوت ہواہے‘‘ بخار ہوا اس کو۔ فوت ہو گیا۔’’ اس کے انتقال کے قریب وقت میں مَیں نے ان کو کہہ دیا ‘‘یعنی والدہ کو بچے کی’’ کہ دیکھو اب یہ لڑکا مرنے والا ہے اور ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو مارنے والا ہے وہ مرنے والے سے ہمیں زیادہ پیارا ہے اور یہی طریق ایمان کامل کا ہے کہ صرف یہ کہو کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ خدا کی امانت تھی خدا نے لے لی۔ سو انہوں نے لڑکے کی موت کے وقت ایسا ہی کہا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر کوئی مر جائے تو یہ غیر معمولی بات نہیں ہم بھی تو ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔ خدا کے نزدیک انہیں کو مراتب ملتے ہیں جو اس چند روزہ زندگی میں تلخی دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اگر خوش ہوتا ہے تو بدل عطا کرتا ہے۔ ہرگز ہرگز طریقِ عوام نہیں اختیار کرنا چاہیے۔‘‘ کہ لوگوں نے جو طریق اختیار کیا ہے وہ نہیں ہے۔ صبر کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں پھر اپنے انعامات سے نوازتا ہے۔ ’’خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کو کوئی مصیبت بھی بھیجتا ہے۔ سو نہایت استقلال سے خدا تعالیٰ پر توکّل کرو اور اس سے نو امید مت ہو اور مجھے اطلاع دیتے رہیں۔ والسلام‘‘

(مکتوبات احمد جلد 3 صفحہ 243، مکتوب نمبر 777)

ذکرِ حبیب میں ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ’’مفتی محمد صادق صاحب کو فرمایا: جبکہ انہوں نے مسٹر وَیْب‘‘ مکمل نام الیگزینڈر رسل ویب (Alexander Russell Webb)’’کا ایک خط سنایا کہ ان کو لکھ دو کہ عمر گذر جاتی ہے جو کرنا ہے اب کر لو۔ دن بدن قویٰ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ دس برس پہلے جو قویٰ تھے وہ آج کہاں ہیں۔ گذشتہ کا حساب کچھ نہیں۔ آئندہ کا اعتبار نہیں۔ جو کچھ کرنا ہو آدمی کو موجودہ وقت کو غنیمت سمجھ کر کرنا چاہیے۔‘‘ ایک انگریز تھے ان کو خط لکھا تھا۔ ’’اب اسلام کی خدمت کر لو۔ اوّل واقفیت پیدا کرو کہ ٹھیک اسلام کیا ہے۔‘‘ اسلام سیکھو۔ پھر اس کی خدمت کرو۔

’’اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہوجاتا ہے۔جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اس کا مزا نہیں آتا کیونکہ توکّل علیٰ اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا ۔اور جب توکّل پر کام کیا جائے اللہ مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو تووہ وضع بدل دیتا ہے۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح صحابہؓ  کی وضع بدل دی۔ یہ سارا کام اس کشش نے کیا جو صادق کے اندر ہوتی ہے۔

یہ خیالات باطل ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ ہو تو کام چلے۔ خدا پر توکّل کرکے جب ایک کام شروع کیا جائے اور اصل غرض اس سے دین کی خدمت ہو تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے اور سارے سامان اور اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  صفحہ 261-262)

اس لیے آپ فکر نہ کریں کہ مالی کمزوری یا فلاں ہے۔ اللہ پہ توکّل کرو اور کام کرو اوراسلام کی جو خدمت کر سکتے ہو کرو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ اصل میں توکّل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب و بامراد بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (الطلاق:4) جو اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے اللہ اس کو کافی ہو جاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے توکّل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اور صبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاوے۔ دنیا گذشتنی‘‘ ہے یعنی گزرنے والی ہے ’’اور گذاشتنی ہے‘‘ یعنی اس چھوڑ دینے کے لائق ہے ’’اور اس کے کام بھی ایسے ہی ہیں۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اس کا غم کم کرے۔‘‘ دنیا کا غم کم کرے ’’اور آخرت کی فکر زیادہ رکھے۔ اگر دین کے غم انسان پر غالب آجاویں تو دنیا کے کاروبار کا خود خدا متکفّل ہو جاتا ہے۔…‘‘ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نکتہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’افسوس ہے بڑے بڑے حوادث روز ہو رہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ توجہ نہیں کرتے۔ پروا نہیں کرتے۔ حضرت موسیٰؑ کے کافر ہی اچھے تھے کہ جب ان پر عذاب نازل ہوتے تھے تب تو توجہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر یہ ٹل جاوے تو مان لیں گے مگر آج کل کے کافر ان سے بھی زیادہ سخت جان ہیں کہ نت نئے عذاب آتے ہیں۔ نئی نئی صورت میں خدا کا قہر نازل ہوتا ہے مگر یہ ہیں کہ کان پر جُوں نہیں چلتی‘‘ پھر آپؑ نے مثال دی ہے کہ ’’دیکھو ایک طاعون نے ہی کیسےکیسے خطرناک حملے کئے۔ کیسی کیسی جانگداز تباہیاں واقع ہوئی ہیں کہ ان کا ذکر سننے سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر کسی پر اثر نہیں ہوا۔ وہ لوگ تھے کہ ایسے اوقات میں حضرت موسیٰ ؑسے دعا کرایا کرتے تھے مگر یہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کوئی نہیں معمولی بات ہے۔ ایسا ہوا ہی کرتا ہے اور ایسے عذاب آیا ہی کرتے ہیں۔‘‘ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کا قدیم سے یہ وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں طرح طرح کے عذاب آویں گے۔ اس وقت بعض ہدایت پا جاویں گے اور اکثر ہلاک ہوں گے۔‘‘ عذاب آ رہے ہیں، ضروری نہیں کہ سارے ہدایت پا جائیں۔ فرمایا کہ وعدہ تھا بعض ہدایت پائیں گے اور اکثر ہلاک ہو جائیں گے۔ ’’نشان تو خدا دکھاتا ہے مگر نشان سے بھی فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو مومن ہوتے ہیں اور وہ قلیل ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 212-213، ایڈیشن 2022ء)

وہ تھوڑے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ دنیا داروں کو عقل دے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے ہوں اور ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ماننے والے ہیں ہمیں ایمان و یقین میں بڑھائے اور دعاؤں کے ساتھ توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے والے بھی ہوں اور اس میں بڑھنے والے بھی ہوں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍اکتوبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button