حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ڈنمارک 2016ء
لجنہ اماء اللہ (ڈنمارک)، مجلس انصار اللہ (ڈنمارک) اور مجلس خدام الاحمدیہ (ڈنمارک) کی نیشنل عاملہ کے ممبران سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی الگ الگ میٹنگز۔ مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ اور نہایت اہم ہدایات۔ اطفال الاحمدیہ ڈنمارک کی حضور انور کے ساتھ کلاس۔
بچوں کے ساتھ دلچسپ مجلس سوال و جواب۔ انفرادی و فیملی ملاقاتیں۔ بیسیوں افراد مرد و زن نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔
………………………
7؍مئی 2016ء بروز ہفتہ
………………………
صبح سوا چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک، رپورٹس اور خطوط ملاحظہ فرمائے اور ان خطوط، رپورٹس پر اپنے دست مبارک سے ہدایات سے نوازا۔ حضور انور کے یہاں قیام کے دوران لندن مرکز اور دیگر ممالک سے جو ڈاک، ای میلز، فیکسز موصول ہو رہی ہیں حضور انور روزانہ انہیں ملاحظہ فرماتے ہیں اور ہدایات سے نوازتے ہیں۔
انفرادی و فیملی ملاقاتیں
پروگرام کے مطابق گیارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز و انفرادی احباب کی ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔
مجموعی طور پر 48فیملیز کے 160 ؍افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ ہر ایک نے حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کا شرف پایا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو از راہ شفقت چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
آج ملاقات کا شرف پانے والی یہ فیملیز ڈنمارک جماعت کے درج ذیل 12حلقوں سے آئی تھیں۔
Albertslund, Copenhagen, Broendby, Hvidovre, Fredriksvaerk, Jutland, Aarhus, Amager, Taastrup, Vallensbaek, Haslev, Odense.
علاوہ ازیں جرمنی سے آنے والے بعض احباب نے بھی شرف ملاقات پایا۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام دو بجے تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
………………………
نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ ڈنمارک کے ساتھ میٹنگ
پروگرام کے مطابق ساڑھے چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میٹنگ روم میں تشریف لائے جہاں نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ ڈنمارک کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔
حضور انور نے دعا کروائی۔ بعد ازاں صدر لجنہ نے عاملہ کا تعارف کروایا۔
حضور انور کے مجالس اور تجنید کے بارہ میں دریافت فرمانے پر جنرل سیکرٹری صاحبہ نے بتایا کہ ہماری مجالس کی تعداد چھ ہے۔ جن میں سے پانچ مجالس ریگولر رپورٹس دیتی ہیں اور ڈنمارک لجنہ کی تجنید 180 ہے اور ناصرات کی تعداد 35ہے جبکہ 24بچیاں سات سال کی عمر سے چھوٹی ہیں۔
بعد ازاں حضور انور نے سیکرٹری تربیت سے ان کے شعبہ کے لائحہ عمل کے بارہ میں دریافت فرمایا۔
حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ لجنہ کو سب سے پہلے نمازوں اور قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دلائیں۔ آپ ایک تو ماؤں کو کہہ دیں کہ گھروں میں نماز پڑھیں اور تلاوتِ قرآن کریم کریں۔ نمازیں اور قرآن کریم کی تلاوت یہ سب سے ضروری اور بنیادی چیز ہے۔ پھر یہ کہ گھروں میں MTAسنیں اور اپنے بچوں کو بھی MTAکے پروگرام دکھائیں۔ MTAسے وابستہ کریں۔
حضور انور نے فرمایا میں نے خطبہ جمعہ میں بھی کہا تھا کہ MTAکے ذریعہ میرے خطبات ہر گھر میں ، ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔ میں نے کہا تھا جو سننا چاہے سُن سکتا ہے تو اس سے مراد یہ تھی کہ کم از کم خطبہ تو سن لیا کریں اور اگر یہ نہیں تو خطبہ کا خلاصہ نکال لیا کریں اور ڈینش زبان میں ترجمہ کر کے اپنی ممبرات کو پہنچائیں۔
حضور انور نے فرمایا: خطبات کا اگر ڈینش ترجمہ نہیں ہوتا تو اپنے مربی صاحب سے لے کر لجنہ تک پہنچائیں۔
حضور انور نے فرمایا:تربیت کا شعبہ ، اگر سیکرٹری MTA اور شعبہ اشاعت کے ساتھ مل کر پروگرام بنا لیں اور جائزہ لے لیں کہ اس ہفتہ میں یا اس مہینہ میں MTA پر کون کون سے پروگرام آ رہے ہیں۔ ان میں سے کون سے اچھے اور فائدہ مند ہو سکتے ہیں تو پھر یہ پروگرام اپنی لجنہ کو سنائیں جن کو اردو میں سمجھ نہیں آتی ان کو انگلش میں سنا دیا کریں۔ یہاں کی زبان جاننے والی لڑکیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کریں۔ اس کام کے لئے ٹیمیں بنائیں تاکہ آپ کی اگلی نسلیں تباہ نہ ہوں۔
حضور انور نے فرمایا: نو جوان بچیاں ہیں اور نوجوان بچے ہیں، لڑکوں کو بھی اور لڑکیوں کو بھی عورتیں سنبھالیں۔ مَرد تو نہیں سنبھالیں گے۔ اسی لئے تربیت کا جو شعبہ ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے سپرد کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے، یہ تربیت کی وجہ سے ہی فرمایا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جو جنّت ہے وہ اولاد کی تربیت کی وجہ سے ہی ہے۔ اور صرف لڑکی کی تربیت کے لئے نہیں، لڑکے کی تربیت کی وجہ سے بھی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: صدر لجنہ اور سیکرٹری تربیت کا کام ہے کہ سَر جوڑ کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ مسائل کیا ہیں اور کس طرح ہم ان کو حَل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف اپنے بچوں، گھر والوں،عورتوں اور مردوں کو MTA کے ساتھ جوڑ دیں تو تربیت کا بہت بڑا حصّہ آپ اپنے گھر بیٹھے بھی حَل کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری ناصرات سے بچیوں کی تعداد دریافت فرمائی جس پر سیکرٹری ناصرات نے بتایا کہ کُل 34ناصرات ہیں۔ حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا : ان کے لئے تو وقفِ نو کا نصاب ہی کافی ہے۔ اب تو 21سال تک کی عمر کے لئے نصاب بن گیا ہے۔ اگر تمام لجنات کو پڑھا دیا جائے تو سب کے لئے کافی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: بچوں کے لئے دلچسپی کے سامان پیدا کریں ۔ اپنے ہمسایہ ممالک کی مثالیں لیں۔ وہاں سے لجنہ اور بچیوں کے گروپس مجھے ملنے کے لئے لندن آتے ہیں۔ آپ بھی لندن آنے کا پروگرام بنائیں۔ لجنہ اور ناصرات کو میرے پاس لے کر آئیں۔ اس کے لئے کوششیں کریں اور ماؤں سے میٹنگز کریں۔
حضور انور نے فرمایا: بات کرتے ہوئے ہمیشہ نرم رویّہ رکھیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی سے بات کرو۔
اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری صنعت و حرفت کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ عورتوں کو دستکاری کا کام سکھائیں۔
حضور انور نے سیکرٹری خدمت خلق کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ بڑی عمر کی عورتوں کو زبان سکھائیں اور ان کو بوڑھی عورتوں کے پاس لے جائیں ان کا حال احوال پوچھیں اس طرح ان کی باتیں سن کر ان کو بھی زبان آ جائے گی۔
حضور انور نے فرمایا:جو میں آپ کو مختلف ہدایات دے رہا ہوں ان میں سُستی نہ کریں۔ نو جوان پڑھی لکھی بچیاں ہیں ان کو اپنے ساتھ شامل کریں اور یہاں کی زبان جاننے والی ممبرات کو ان کاموں پر لگائیں۔
سیکرٹری صحت جسمانی سے حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ کو متحرک کریں۔ کھیلوں کے لئے جگہ لیں۔ اگر لجنہ کا ہال ہے تو ان کو ٹیبل ٹینس کھلوائیں۔ حضور انور نے فرمایا : ہر سیکرٹری کا ایک مقصد ہے۔ اس کے فرائض ہیں۔ اس کا باقاعدہ لائحہ عمل ہونا چاہئے۔
بعد ازاں حضور انور نے سیکرٹری ضیافت سے ان کے شعبہ اور کام کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔
حضور انور کے استفسار پر سیکرٹری تجنید نے ڈنمارک کی لجنہ اور بچیوں کی کُل تجنید 239بتائی۔ اسی طرح سیکرٹری اشاعت نے بتایا کہ ڈنمارک میں اشاعت کا کوئی خاص کام نہیں ہے صرف اگر کوئی کتاب وغیرہ حاصل کرنی ہو تو وہ منگوائی جاتی ہے۔
محاسبہ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ سیکرٹری مال کے ساتھ رسیدوں کی جانچ پڑتال کرتی ہیں۔
سیکرٹری مال نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا سالانہ بجٹ 56ہزار کرونر ہے جبکہ سالانہ اجتماع کا بجٹ 9ہزار کرونر ہے۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری تبلیغ کو فرمایا کہ یہاں عرب بھی ہیں۔ سیرین لوگ بھی ہے اور پرانے لوگ بھی ہیں۔ ایسٹرن یورپ سے آئے ہوئے لوگ بھی ہیں اور پھر مقامی ڈینش بھی ہیں۔ ان سب لوگوں میں بھی پروگرام بنائیں کہ کس طرح ان کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔ کس طرح ان سے رابطے اور تعلقات بڑھائے جا سکتے ہیں اور ان تک پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: کوئی ایسا شعبہ یا کام جس کا لجنہ کے کانسٹی ٹیوشن میں ذکر نہیں ہے تو معاون صدر بنا کر اس کے سپرد وہ کام کر دیں۔
حضور انور نے سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے بارے میں دریافت فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ پڑھی لکھی لڑکیوں کو اکٹھا کریں، کام کے لئے مختلف طریقے اپنائیں۔ خود مختلف طریقے ایکسپلور کریں اور ان کو جماعت سے منسلک کریں۔
سیکرٹری تبلیغ نے لجنہ کے زیر انتظام اوپن ہاؤس کا ذکر کیا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: آپ کو گائڈلائن کے لئے جہاد کے بارہ میں میرے کئی مضمون مل جائیں گے۔ ابھی جو میں نے حال ہی میں یوکے کی ’’پِیس کانفرنس‘‘ میں ایڈریس کیا تھا Current Issues آپ کو اسی میں مل جائیں گے۔ میں نے اس میں کئی پروفیسرز، رائٹرز وغیرہ کے ریفرنس کوٹ (Quote ) کئے تھے۔
سیکرٹری تعلیم سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ نصاب پر عمل کروانے کے لئے کیا کام ہوا ہے۔ 239لجنات میں سے اگر 116 یا 117 تک نصاب پہنچا دیں تو بڑی کامیابی ہے۔ جس پر سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ وہ تمام لجنات کو ای میل پر نصاب بھجواتی ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ کو اس کی فِیڈبَیک آنی چاہئے کہ پڑھا ہے یا نہیں۔ آپ کو ہر ایک سے رپورٹ لینی چاہئے صرف بھجوا دینا کافی نہیں۔ جب تک آپ کا لجنہ کی ممبرات سے، ہر ایک سے ذاتی طور پر رابطہ اور تعلق نہیں ہو گا ان کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ یہ ہماری عہدیدار ہے، یہ ہماری نمائندہ ہے۔ اگر یہ احساس ہو جائے کہ آپ ہر ایک کی ہمدرد ہیں تو پھر رابطہ بڑھ جائے گا۔
حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ ہر ایک کو ’’کشتی نوح‘‘ پڑھنی چاہئے۔ اس کا ڈینش ترجمہ کر کے سب کو دیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ شعبہ تعلیم اور تربیت کا کام ہے کہ لڑکیوں کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دعویٰ کے بارہ میں بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مسیح و مہدی کے ساتھ نبوّت کا دعویٰ بھی ہے۔ زیر تبلیغ لڑکیوں کو بتائیں کہ کس قسم کی نبوّت کا دعویٰ ہے۔
حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنے ملک کی ضروریات کے مطابق نصاب تیار کریں اور دیکھیں کہ کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ تاریخ اسلام اور احمدیت کی بنیادی تعلیم دیں۔ اس کے علاوہ حضرت امّاں جانؓ کی کتاب کا ڈینش ترجمہ کروائیں۔ اس کے مطالعہ سے لڑکیوں کو پتہ چل جائے گا کہ گھروں میں کس طرح رہنا ہے۔ شادیوں کو کس طرح قائم رکھنا ہے۔ بچوں کی تربیت کس طرح کرنی ہے اور صبر و برداشت کتنی ہونی چاہئے۔
شعبہ وقف نو کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا کہ وقف نو کا سلیبس جماعتی طور پر ہو گا۔ معاونہ صدر بنا کر لڑکیوں کے اجلاسات کروائے جائیں۔ اب تو 21سال تک کا سلیبس آگیا ہے۔ مائیں بھی اسے پڑھیں۔ معاونہ صدر اپنے اجلاسات کا انتظام لجنہ سیکرٹری کے ذریعہ کرے گی۔ لڑکیاں، لڑکوں میں نہیں بیٹھیں گی۔
میٹنگ کے آخر پر صدر لجنہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں مسجد میں لجنہ کے لئے جگہ کی کمی کا اظہار کیا جس پر حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ آپ لکھ کر دیں اور فرمایا کہ صدر لجنہ مجھے ڈائریکٹ اپنی رپورٹ بھجوائیں۔
حضور انور نے فرمایا: ذیلی تنظیمیں اس لئے بنائی گئی ہیں کہ جماعت کا پہیہ چلتا رہے اور ترقی ہوتی رہے۔ چاروں پہیے چلتے رہیں گے تو ترقی رہے گی۔ اگر چاروں شعبے جماعتی نظام کے ساتھ، لجنہ بھی، انصار بھی اور خدام بھی مستعد(Active) ہو جائیں تو ترقی بہت بڑھ جاتی ہے۔
نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ ڈنمارک کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ میٹنگ ساڑھے سات بجے تک جاری رہی۔
………………………
نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ ڈنمارک کے ساتھ میٹنگ
بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لائبریری ہال میں تشریف لے آئے جہاں نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ ڈنمارک کی حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
حضور انور نے قائد عمومی سے مجالس کی تعداد کے حوالہ سے رپورٹ طلب فرمائی جس پر قائد عمومی نے بتایا کہ انصار اللہ کی صرف ایک مجلس ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ کی تو چھ مجالس ہیں اور آپ کی صرف ایک مجلس ہے۔ اتنی سُستی کیوں ہے؟
حضور انور کے دریافت فرمانے پر تجنید کے بارہ میں بتایا گیا کہ 81 ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ان 81انصار کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ کوئی زعیم نہیں ہے؟ آپ کس طرح انصارسے رابطے رکھتے ہیں۔ ان کے چھوٹے یونٹ(unit) بنائیں تاکہ یہ صحیح طور پر سنبھالے جائیں اور ہر ایک سے رابطہ رہے۔ آپ کا نظام وہ ہے جو آپ کے دستور اساسی میں ہے۔ آپ نے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے حلقے اور مجالس بنانی ہیں اور اس کے مطابق چلنا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: انصار میں آپ کی عاملہ کے ممبرز ہیں۔ بعض کی داڑھیاں نہیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی داڑھیاں رکھ لیں۔
حضور انور نے فرمایا: جو پرانے احمدی یہاں آکر آباد ہوئے انہوں نے اپنی تعداد بڑھانے کے لئے کام نہیں کیا۔ دوسرے غیر احمدی مسلمانوں نے ہزار ہا کی تعداد میں اپنے لوگ بڑھائے اور اب ان کی تعداد دو لاکھ ہے اور آپ لوگ پانچصد تک محدود رہ گئے۔ پرانے لوگ کام کرتے اور احمدیوں کو اس ملک میں لے کر آتے تو آج آپ کی بڑی تعداد ہوتی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایاتھا کہ چالیس سال کی عمر تک خدام بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ جب انصار میں داخل ہوتے ہیں تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا ہے کہ سست ہو جاتے ہیں۔ حضور انور نے فرمایا: اپنے آپ کو فعّال رکھیں۔
رپورٹس بھجوانے کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا کہ ذیلی تنظیموں کی رپورٹس مجھے براہ راست آنی چاہئیں۔ ذیلی تنظیمیں اپنے کام میں اور رپورٹس بھجوانے میں آزاد ہیں۔ آپ کی رپورٹ پر امیر جماعت کے دستخط کی ضرورت نہیں ہے۔
حضور انور نے فرمایا: آپ سب بحیثیت فرد جماعت امیر کے ماتحت ہیں اور بحیثیت مجلس انصار اللہ آپ کی تنظیم آزاد ہے۔ بحیثیت فرد جماعت امیر آپ کو جو کام دے، جو حکم دے تو وہ کریں۔ اور اگر بحیثیت انصار اللہ کی تنظیم کے آپ کو امیر کوئی حکم دیتا ہے تو اس صورت میں مجلس انصار اللہ کا جو اپنا پروگرام طے ہے اس کے مطابق چلیں۔ اگر جماعتی پروگرام اور ذیلی تنظیم کے پروگرام میں ٹکراؤ ہو رہا ہو تو پھر جماعتی پروگرام کو اوّلیت ہو گی۔ ذیلی تنظیم کسی دوسرے وقت میں کر سکتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: دفتر پرائیویٹ سیکرٹری لندن میں انصار اللہ کا باقاعدہ شعبہ ہے۔ آپ مجھے براہ راست اپنی رپورٹ بھجوایا کریں۔
قائد تربیت نو مبائعین نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دو تین نو مبائع ہیں۔ فرمایا: گزشتہ دو تین سالوں کے کتنے ہیں اور بھی نو مبائعین بنائیں۔
قائد وقف عارضی و تعلیم القرآن کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی عاملہ والے وقف عارضی کریں۔ دوسرے کو وقف عارضی کی ترغیب دیں۔ بعض لوگ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کی صحت ٹھیک ہے، وہ وقف کر سکتے ہیں۔ یہ وقف کریں اور تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دیں، تبلیغ کی طرف توجہ دیں۔ وقف عارضی پہلے اپنی عاملہ سے شروع کریں۔
حضور انور نے قائد وقف عارضی کو فرمایا: آپ خود سب سے پہلے اپنے آپ سے وقف عارضی شروع کریں۔ تعلیم القرآن کے حوالہ سے بتایا گیا کہ باقاعدہ مسجد میں قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے اور اس میں دس انصار شامل ہوتے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ 81میں سے صرف 10 شامل ہوتے ہیں یہ تعداد تو بہت تھوڑی ہے۔ اس تعداد کو بڑھائیں۔
قائد تربیت کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: آپ باقاعدہ پروگرام بنائیں اور ایسا پروگرام بنائیں کہ گھروں میں عورتوں اور بچوں کی تربیت کا پروگرام بھی شروع ہو جائے۔ آپ نرمی کے ساتھ اس بات کی نگرانی کریں کہ باقاعدگی سے نمازیں پڑھی جا رہی ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہے۔ MTAسے تعلق ہے یا نہیں۔ یہ آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ کتنے ہیں جو MTAسے منسلک ہیں اور باقاعدہ MTAدیکھتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: اگر آپ سب کو MTAسے منسلک کر دیں تو آپ ان کو درس بھی سنوا سکتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے درس MTA پر آ رہے ہیں۔ میرے خطبات ہیں۔ تقاریر ہیں، ایڈریسز ہیں وہ سنیں۔ آپ کا کام ہے سب کو منسلک کریں اور پیار سے قریب لائیں۔
حضور انور نے فرمایا: شعبہ تربیت والے اپنا پروگرام بنا کر مجھے بھجوائیں اور یہ بھی بتائیں کہ اس پر کس طرح عمل کریں گے۔ اسی طرح باقی سارے قائدین بھی اپنا پروگرام بنا کر بھجوائیں۔
قائد تعلیم نے بتایا کہ ایک رسالہ کے لئے مواد تیار کر رہے ہیں۔ مواد تیار کر کے قائد اشاعت کے سپرد کرنا ہے تاکہ وہ رسالہ شائع کر سکیں۔ یہ پہلا رسالہ ہے جو ہم شائع کر رہے ہیں۔ اس کی اجازت اور نام کے لئے ہم نے درخواست دی ہوئی ہے۔
اس پر حضورانور نے فرمایا: اب شروع کریں اور رسالہ نکالیں۔ اس میں قرآن کریم کی ایک آیت ہو، ترجمہ اور مختصر تفسیر ہو، پھر کوئی حدیث ہو، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا اقتباس ہو، میرے خطبات ہیں ان میں سے مضامین انتخاب کر لیں۔ پھر بعض تربیتی مضامین آرٹیکل آپ کو مل جائیں گے۔ کتنا نکالنا ہے اور کتنے صفحات کا نکالنا ہے؟ اس پر قائد اشاعت نے بتایا کہ رسالہ سہ ماہی ہو گا۔
حضور انور نے فرمایا: تین ماہ بعد نکالنا ہے تو نکالیں۔ اب ترتیبوں سے آگے بڑھیں۔ اپنے رسالہ میں ڈینش زبان میں بھی مضامین شامل کریں۔ قرآن کریم کی آیت، اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر، حدیث، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس اور میرے خطبات کا خلاصہ یہ ڈینش زبان میں بھی شامل ہوں۔
حضور انور نے فرمایا: رسالہ کا نام ’’انصار دین‘‘ رکھ لیں۔ A4 سائز کا رکھ لیں اور سولہ صفحے بنا لیں۔
قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا پروگرام ہے کہ کتاب پیغام صلح پر سیمینار کا انعقاد کریں۔ یہ کتاب ہم نے سب انصار کو دی ہوئی ہے کہ اس کا مطالعہ کریں پھر ہم اکٹھے ہو کر اس کتاب کے مضامین پر بات چیت کریں گے۔
قائد صحت جسمانی کو ہدایت دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ بڑوں کو توجہ دلائیں کہ وہ سیر کیا کریں۔ ایسا پروگرام بنائیں کہ مسجد اور جماعتی سینٹرز میں آنا جانا رہے اور جماعت کے لوگ Activeرہیں۔
قائد اصلاح و ارشاد کا عہدہ بھی عاملہ میں موجود تھا۔ حضور انور نے فرمایا: انصار اللہ میں قائد اصلاح و ارشاد نہیں ہوتا بلکہ قائد تبلیغ ہوتا ہے۔ اس لئے قائد تبلیغ رکھیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ تبلیغ کے لئے اگر زبان کا مسئلہ ہے تو پھر اپنی ٹیم بنائیں جن سے بات ہو، رابطہ قائم ہو ان کو اپنا رابطہ نمبر دے دیں، مشن کا ایڈریس دے دیں، فون نمبر دے دیں۔
قائد تبلیغ نے بتایا کہ ہم پمفلٹس، لیف لیٹس تقسیم کر رہے ہیں۔ انصار اللہ اس پروگرام میں حصّہ لے رہے ہیں۔
قائد ایثار سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے کیا پروگرام بنایا ہے؟ کیا منصوبہ بنایا ہے؟حضور انور نے فرمایا: اپنے لائحہ عمل کے مطابق پروگرام بنائیں۔
صف دوم کے نائب صدر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک کوئی معین پروگرام نہیں بنایا۔ صدر مجلس رخصت پر گئے تھے جس کی وجہ سے پروگرام نہیں بن سکا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کیا صدر صاحب کے رخصت پر جانے سے پروگرام ختم ہو جاتے ہیں؟ جماعت کی ترقی کسی فرد سے وابستہ نہیں ہے۔ آپ کو اپنا پروگرام بنانا چاہئے۔ اپنے پروگرام بنائیں۔
حضور انور نے فرمایا: سپورٹس میں سائیکل چلائیں، ورزش کریں۔
قائد تبلیغ کو حضور انور نے فرمایا: مجھے باقاعدہ اپنی سکیم بنا کر بھیجیں۔ آپ سکیم بنا کر صدر صاحب کو دیں اور صدر صاحب مجھے بھجوائیں۔
تعلیم القرآن کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا: جماعت امریکہ نے Skype کے ذریعہ شروع کیا ہے۔ بچے بچیاں، نوجوان گھروں میں بیٹھ کر قرآن کریم سیکھ رہے ہیں۔ آپ بھی Skype کے ذریعہ قرآن کریم پڑھانے کا جائزہ لے لیں۔ اس طرح گھروں میں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اگر پہلے ہی Skypeپر یہ پروگرام جاری ہے تو پھر ٹھیک ہے۔
رپورٹ بھجوانے کے حوالہ سے حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی رپورٹ ایک صفحہ پر آنی چاہئے۔ مجھے Pointوائز رپورٹ بھجوائیں بجائے اس کے کہ مضمون کے رنگ میں لمبی رپورٹ لکھی جائے۔
قرآن کریم سیکھنے کے حوالہ سے حضور انور نے مزید ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ ربوہ میں ایسے انصار کو بھی پڑھانا شروع کیا ہے جن کو قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا تو اب اس عمر میں ان کی آمین ہو رہی ہیں۔ اس لئے آپ بھی اس کا جائزہ لیں اور پہلے چیک کریں کہ قرآن کریم انصار کو پڑھنا آتا ہے یا نہیں۔ گھروں میں تلاوت کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ سب باتیں چیک کریں اور پھر قرآن کریم سکھانے کا پروگرام بنائیں۔
حضور انور نے مجلس عاملہ کے ممبران کا جائزہ لیا کہ آج کتنوں نے قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔ اس پر چار ممبران نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا آپ کی عاملہ نے تلاوت نہیں کی تو دوسرے کس طرح کریں گے۔
حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ مجلس عاملہ جو بھی پروگرام بنائے ہمیشہ پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھیں۔ میرے ہر خطبہ کا پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھیں۔ اس کے بعد دوسروں سے عمل کروائیں۔ حضور انور نے فرمایا: اصل چیز یہ ہے کہ شوق پیدا کریں۔ شوق پیدا ہو گا تو تب دلچسپی بھی پیدا ہو گی۔
عاملہ کے ایک ممبر نے عرض کیا کہ مجھے تلاوت قرآن کریم کرنے میں مشکل ہے ، نظر کی مجبوری ہے۔ میں تلاوت سن کر ساتھ ساتھ پڑھ لیتا ہوں۔ حضور انور نے فرمایا: یہ بھی ٹھیک ہے۔ اسی طرح جتنی سورتیں آپ کو یاد ہیں وہ زبانی پڑھ لیا کریں۔
حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کا واقعہ لکھا ہے کہ اس نے کہا کہ میرے پاس سب کچھ ہے، ایک چار پائی ہے۔ ایک رضائی ہے، میرا ایک بیٹا ہے ہم دونوں یہ رضائی لے لیتے ہیں۔ کبھی وہ لے لیتا ہے۔ کبھی میں لے لیتی ہوں۔ مجھے صرف قرآن کریم کی ضرورت ہے۔ میری نظر کمزور ہو گئی ہے مجھے موٹے حروف والا قرآن کریم دے دیں تاکہ میں پڑھ لیا کروں۔ حضورانور نے فرمایا یہ شوق ہے دین کا۔ آپ کو یہ شوق پیدا کرنا چاہئے۔
مجلس عاملہ کے ایک ممبر نے عرض کیا کہ آجکل نوجوان نسل تلاوت نہیں کرتی۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: آپ کی عاملہ نہیں کرتی۔ بڑے نہیں کرتے تو چھوٹے کس طرح کریں گے۔ آپ لوگوں کی ذمّہ داری ہے کہ گھروں میں نرمی اور پیار سے سمجھائیں۔ گھروں میں ماں باپ، خاوند، بیوی نمازیں پڑھنے والے ہوں گے، تلاوت کرنے والے ہوں گے تو پھر بچے بھی نمازیں پڑھیں گے اور قرآن کریم پڑھیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: اگر گھروں میں نظام کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں تو پھر بچوں کی تربیت بگڑے گی۔ یہاں کے پڑھے ہوئے بچے صاف اور سیدھی بات چاہتے ہیں۔ آپ کے جو بچے مسجد سے دور ہو رہے ہیں وہ والدین کی وجہ سے ہو رہے ہیں اور اپنے گھروں کے ماحول کی وجہ سے دور ہو رہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: اگر والدین عہدیداروں سے شکوہ کی وجہ سے دور ہٹتے ہیں تو بچے دوگنا دور ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو امیر صاحب سے شکوہ ہے یا کسی دوسرے عہدیدار سے شکوہ ہے تو اپنے ذاتی شکووں کو اپنے دین کے اوپر نہ حاوی ہونے دیں۔ اپنے شکوہ کو اپنی ذات تک محدود رکھیں اور آگے نہ پھیلائیں اور نہ اپنے گھروں میں ڈسکس کریں۔ نظام کے خلاف کوئی بات نہ کریں۔ دعا کریں اور اپنی پریشانی کے لئے خدا سے مدد مانگیں۔ خدا تعالیٰ پہلے بھی سنتا تھا۔ اب بھی سنتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: اگر گھر میں بات کریں گے تو آپ کے بچے اس کا اثر لیں گے اور پھر وہ نظام سے دس قدم دُور ہٹیں گے۔
حضور انور نے فرمایا:ایک نو جوان ملا تھا۔ جماعت سے دور چلا گیا تھا اور غیر احمدیوں کی طرف مائل تھا۔ غیر احمدی دوستوں کے ساتھ گہری دوستی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا ایک گہرا دوست شراب پیتا ہے اور دوسرا داعش میں شامل ہو کر مارا گیا ہے تو اُسے تب یہ احساس ہوا کہ جماعت احمدیہ ہی اصل اور حقیقی مسلمان ہے۔ چنانچہ وہ جماعت کی طرف واپس آیا اور ضائع ہونے سے بچ گیا۔
حضور انور نے فرمایا: آپ اپنے بچوں کے لئے خود بھی دعا کریں اور ان کی تربیت کے لئے کوشش کرتے رہیں۔ ایک رات میں تو یہ خرابیاں دور نہیں ہوتیں۔ صبر اور حوصلے سے کام لینا ہے۔ اسی طرح جو برائیاں پیدا ہوئی ہیں وہ ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئیں۔ لمبا عرصہ لگا ہے۔ آپ کم از کم MTA پر میرے خطبوں سے اپنے بچوں کو منسلک کر دیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے درس ہیں، میرے خطبات ہیں۔ نئے اور پرانے خطبات نشر ہوتے ہیں۔ پھر ایڈریسز ہیں، تقاریر ہیں۔ MTA سے تعلق رکھیں گے تو پھر اگر امیر سے یا کسی عہدیدار سے کوئی شکوہ بھی ہو تو تب بھی MTA سے تعلق کی وجہ سے جماعت سے دور نہیں رہیں گے۔ اور ان کی جماعت کے ساتھ تعلق میں کمزوری نہیں ہو گی۔ اگر آپ جماعت سے، خلافت سے دوری کر دیں گے تو پھر یہ بچے ضائع ہو جائیں گے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو MTAسے وابستہ کریں۔
حضور انور نے فرمایا: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ امیر میں یا کسی بھی عہدیدار میں کوئی غلطی ہے یا اس کا رویّہ صحیح نہیں ہے اور بہت سختی سے پیش آتا ہے تو آپ کو دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس غلطی کی اصلاح کر دے اور اس کے رویہ میں تبدیلی پیدا فرما دے۔ یا اگرہم کسی جگہ غلط ہیں تو خدا تعالیٰ ہماری اصلاح کردے ۔
حضور انور نے فرمایا: شکوے، شکایتوں کو اپنی اگلی نسلوں کی تربیت پر بُرا اثر ڈالنے کی وجہ نہ بنا لیں۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی بات نظام جماعت کے خلاف ہے تو خلیفہ وقت کو لکھیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنا فرض ادا کر کے بری ہو جاتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: آپ کے باپ دادوں نے دین کو سنبھال کر رکھا اور نظام جماعت کی بھی حفاظت کی۔ اسی طرح آپ لوگوں نے اپنے دین کی اور نظام کی حفاظت کرنی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: امریکہ، کینیڈا سے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی مجالس عاملہ کے اور ملک بھر سے ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں کے سو سو کے وفود لندن آتے ہیں۔ دو تین دن یہاں قیام کرتے ہیں۔ ان سے میٹنگز ہوتی ہیں۔ واپس جا کر ان کی کایا پلٹی ہوتی ہے اور ان میں ایک بڑی تبدیلی نظر آتی ہے۔
آپ بھی اپنے عہدیداران کو اور انصار خدام کے وفود کو لندن لایا کریں۔ خدا تعالیٰ نے حفظ مراتب کا جو نظام رکھا ہے وہ اپنے اندر ایک گہرا اثر رکھتا ہے۔ آجکل تو MTA کے پروگرام انٹرنیٹ پر بھی آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی وابستہ کردیں تو وہ اس سے منسلک رہیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: آپ رات کو اٹھیں اور اپنے بچوں کے لئے دعائیں کریں۔ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو آپ سجدوں میں اس کے لئے تڑپ کر دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کا بچہ روحانی بیمار ہے تو کیا آپ اپنے سجدوں میں اس کے لئے بیقراری کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں؟ اگر آپ کریں گے تو خدا تعالیٰ والدین کی دعائیں اپنے بچوں کے حق میں قبول کرتا ہے۔ اس لئے اپنے بچوں کے لئے دعائیں کیا کریں۔
حضور انور نے فرمایا: اگر کوئی عہدیدار جماعت کے لئے ، نظام کے لئے نقصان دہ ہے تو خدا تعالیٰ کا جماعت سے سلوک ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ خداتعالیٰ نظام کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ نے جماعت قائم کی ہے تو وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: ہم سب نے مل کر کوشش کرنی ہے۔ آپ نے بھی، انصار نے بھی، خدام نے بھی اور جماعتی نظام نے بھی۔ سب نے مل کر کام کرنا ہے۔ سب مل کر کام کریں گے تو پھر جماعت تیزی سے ترقی کرے گی۔ اللہ آپ کو اس کی توفیق دے۔ آمین۔
نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ کی حضور انور کے ساتھ یہ میٹنگ آٹھ بج کر 25منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر مجلس عاملہ کے ممبران نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔
بعد ازاں سوا نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
…………………………
8؍مئی 2016ء بروز اتوار
…………………………
صبح سوا چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’ مسجد نصرت جہاں‘‘ میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور اپنے دست مبارک سے ان خطوط اور رپورٹس پر ہدایات سے نوازا۔ اور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔
انفرادی و فیملی ملاقاتیں
پروگرام کے مطابق صبح گیارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔ آج صبح کے اس سیشن میں 25فیملیز کے 94؍افراد نے ملاقات کی سعادت پائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔
ہر فیملی نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ ملاقات کرنے والی یہ فیملیز ڈنمارک کے درج ذیل علاقوں سے آئی تھیں۔
Odense, Copenhagen, Haslev, Albertslund, Amager, Broendby, Hivdovre, North Sealand, Nakskov,
اور اسہالے.
علاوہ ازیں ناروے سے آنے والے احباب نے بھی شرف ملاقات حاصل کیا۔
آج ملاقات کرنے والوں میں ڈنمارک کی جماعت ناکسکوو (Nakskov)میں مقیم ملک کسووو (Kosovo) کی احمدی فیملیز بھی آئی تھیں۔ ایک مخلص احمدی دوست آدم جوزی صاحب (Adem Xhuzi)ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد حضور انور سے دوبارہ ملاقات کی سعادت ملی۔ حضور سے ملاقات کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم میں ایک نیا ایمان پیدا ہو گیا ہے۔ حضور انور سے مل کر، خدا تعالیٰ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے محبت میں ایک خاص اضافہ اور ترقی ہوتی محسوس ہوئی ہے۔ ہمارے لئے یہ ملاقات زندگی کا ایک اہم خزانہ ہے اور میں اسے اپنی زندگی کے لئے ایک بڑی سعادت سمجھتا ہوں۔
موصوف نے 1993ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی اور اس وقت سے خلافت کے ساتھ اطاعت اور محبت کا تعلق ہے۔
اسی جماعت سے ایک دوست رمضان سنولاری صاحب (Ramadan Sanullari) پونے دو صد کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ملاقات کے لئے آئے تھے۔ ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ حضور انور سے مل کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ ہماری زندگی ہی بدل گئی ہے۔ میرا بیٹا Ehad Sanullari چند ماہ قبل حضور انور سے ملاقات کے لئے اطفال الاحمدیہ کے گروپ کے ساتھ لندن گیا تھا اور وہاں حضور انور سے ملاقات کی تھی۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہوئی کہ حضور انور نے اسے یاد رکھا اور اس بات کا ذکر بھی کیا۔
کسووو کے ایک دوست Muharem Qungiji صاحب اپنی اہلیہ، بیٹی، داماد اور دو نواسیوں کے ہمراہ حضور انور سے ملاقات کے لئے آئے تھے۔ ملاقات سے پہلے انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ جب سے حضور انور ڈنمارک آئے ہیں موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ یہ بھی خلیفہ وقت کی آمد کی برکات میں سے ایک برکت ہے۔
ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ خلیفہ وقت کی ملاقات کے لئے تو لوگ سالوں انتظار کرتے ہیں اور بعضوں کو بہت لمبے عرصہ تک ملاقات کا موقع نہیں ملتا۔ میں اور میری فیملی کتنی خوش قسمت ہے کہ ہمیں محض پانچ سال بعد خلیفہ وقت سے ملنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ حضور انور نے بڑے پیار سے ہم سے باتیں کیں اور بچوں کو اپنے دستِ مبارک سے قلم بھی عطا فرمائے۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام سوا ایک بجے تک جاری رہا۔
……………………………
نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ ڈنمارک کے ساتھ میٹنگ
بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لائبریری ہال میں تشریف لے آئے جہاں نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔
٭…حضو رانور نے معتمد سے دریافت فرمایا کہ یہاں خدام الاحمدیہ کی کتنی مجالس ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ خدام کی چار مجالس ہیں اور ان کی طرف سے رپورٹس موصول ہوتی ہیں۔
٭…حضور انور نے مہتمم وقار عمل سے ان کے کام کے حوالہ سے دریافت فرمایا جس پر مہتمم وقار عمل نے بتایا کہ ہم باقاعدہ مسجد کی صفائی کرتے ہیں۔ نئے سال کے آغاز پر شہر کی صفائی کرتے ہیں اور اس مسجد کی تعمیر کے دوران بھی بہت سے وقار عمل کئے گئے ہیں۔
٭…مہتمم خدمت خلق نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال ہم نے شہر میں دو دفعہ Food کیمپ لگایا ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کے مریض بچوں کی فیملیز کے لئے ایک آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر فنڈ ریزنگ کی گئی۔ ’’مسلم فار پیس‘‘ کے تحت ہم نے یہ پروگرام کیا تھا اور ایک لاکھ 26ہزار کرونر کی فنڈ ریزنگ کی تھی۔
٭…محاسب نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ابھی تک کا حساب مکمل ہے۔ تمام حساب کا آڈٹ کیا جاتا ہے۔
٭… مہتمم صحت جسمانی سے حضور انور نے رپورٹ طلب فرمائی۔جس پر مہتمم صحت جسمانی نے بتایا کہ ہم سپورٹس کے لئے ہال لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس پر حضور انور نے فرمایا جو ہال آپ نے بنایا ہے اس میں ہی سپورٹ کر لیں ورنہ لجنہ کو بنا کر ہی دے دیں، وہی کر لیں۔
٭…مہتمم تربیت سے حضور انور نے ان کے شعبے کے پلان کے بارہ میں دریافت فرمایا جس پر مہتمم تربیت نے بتایا کہ حضور انور کے خطبات کا خلاصہ WhatsApp پر خدام کو بھجوایا جاتا ہے اور گروپس کی صورت میں بھجوایا جاتا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ عاملہ کے ممبران ہی ہیں جو گروپ میں شامل ہیں یا تمام خدام شامل ہیں۔
حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ اپنے گروپ میں تمام خدام کو شامل کریں اور سب کو بھجوائیں۔ کم از کم سارے خدام خطبہ تو سُن لیا کریں۔ خطبہ سننے کی عادت ڈالیں۔
حضور انور نے فرمایا: بعض لوگوں کو شکوہ رہتا ہے کہ یہاں کا خطبہ سخت ہوتا ہے اور جھاڑ پڑتی ہے۔ میرے خطبہ میں تو جھاڑ نہیں پڑتی۔ میرا خطبہ سن لیا کرو اور یہاں کا برداشت کر لیا کرو۔
حضور انور نے فرمایا: یہ جائزہ لیں کہ آپ کی عاملہ میں پانچ وقت کے نمازی کتنے ہیں۔ حضور انور نے عاملہ کے ممبران سے دریافت فرمایا کہ آج فجر کی نماز کس کس نے پڑھی ہے؟ اس پر عاملہ کے ممبران نے ہاتھ کھڑے کئے۔ بعض نے عرض کیا کہ ہم اس موقع پر ڈیوٹی پر تھے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا آپ کی نیّت تو باجماعت کی تھی۔ حدیث میں ہے ’’ انما الاعمال بالنیات‘‘ کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ پس ہمیشہ خدا کو سامنے رکھ کر سارے کام کیا کریں۔ ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیاکہ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور سب کچھ کرو۔ جب خدا تعالیٰ کا خوف ہوجائے تو انسان پھر وہی کرتا ہے جو خدا چاہتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: نماز کے قیام اور تلاوت قرآن کریم پر زیادہ زور دیں۔ میں اپنے ہر خطبہ میں اس طرف کچھ نہ کچھ توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ باقی مالی قربانی وغیرہ بعد میں آتی ہے۔ پس نمازوں کی عادت ڈالیں۔ باقاعدہ تلاوت قرآن کریم کریں اور ترجمہ بھی پڑھیں ۔ جب تک ترجمہ نہیں آئے گا آپ کو قرآن کریم کے معانی اور احکام کا پتہ نہیں چلے گا۔
حضورا نور نے فرمایا: نوجوانوں پر خاص توجہ دیں۔ علم حاصل کریں اور ساتھ اس پر عمل بھی کریں۔ جماعت سے، خلافت سے ہر ایک کو وابستہ ہونا چاہئے۔ اپنی متعلقہ مجالس کے سیکرٹریز کو فعّال کریں اورنو جوانوں کی ٹیمیں بنائیں جو اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو قریب لائیں۔ چاہیں ناراضگیاں ہیں لیکن مسجد سے وابستہ رکھیں، خلافت سے وابستہ کریں۔ اگر آپ یہ کر لیں گے تو آپ کے تربیتی مسائل حَل ہو جائیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: MTA پر تربیتی پروگرام آتے ہیں، معلوماتی پروگرام آتے ہیں۔ خلیفہ وقت کے پروگرام آتے ہیں۔ میں نے جو اپنے خطبہ میں کہا تھا کہ جو خطبہ سننا چاہے وہ سن سکتا ہے تو یہ اس لئے کہا تھا کہ کم از کم میرا خطبہ ہی سن لیا کریں اور اس طرف لوگوں کی توجہ ہو۔ جو سست ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں ان کو فعّال کرنا اور قریب لانا صرف ایک آدمی کا کام نہیں۔ اس لئے آپ کو باقاعدہ ٹیمیں بنا کر اور منصوبہ بندی کر کے کام کرنا پڑے گا۔
حضور انور نے فرمایا:ایسا پروگرام بنائیں کہ ان کو کس طرح وابستہ کرنا ہے۔ جو نوجوان کسی عہدیدار کی وجہ سے یا سستی کی وجہ سے یا یہاں دنیا داری کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ان کو اپنے قریب لائیں۔ ہر ایک کا اُس کی کمزوری کے مطابق علاج کرنا پڑے گا۔ آپ جو مہتمم تربیت ہیں ڈاکٹر ہیں۔ اپنے مریضوں کی طرح، ان کمزور خدا م کے تربیتی معاملہ کا بھی علاج کریں اور ہر ایک کے لئے اس کے حسب حال طریقہ علاج اختیار کریں۔
حضور انور نے مہتمم مال سے خدام کے مالی بجٹ اور چندہ کرنے والے خدام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حضور انور نے فرمایا: آپ کے پاس کمانے والے اور نہ کمانے والے خدام کی لسٹ ہونی چاہئے۔
حضور انور نے فرمایا: یہ شعبہ تجنید کا کام ہے کہ فارم فِل کروائیں اور کوائف کے ساتھ خدام کی فہرست مکمل کریں۔ خدام کا نام، ولدیت، عمر ، تعلیم، سٹوڈنٹ ہیں یا کام کرتے ہیں، اس طرح سارے کوائف مکمل ہونے چاہئیں۔ شعبہ تجنید کو ان انفارمیشن کے حوالہ سے گراس رُوٹ لیول پر کام کرنا چاہئے۔
حضور انور نے فرمایا: اگر کوئی خادم چندہ دیتا ہے یا نہیں دیتا، تو وہ آپ کی تجنید میں شامل ہونا چاہئے۔ اگر کوئی بھی شخص اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور وہ Activeہے یا نہیں، چندہ دیتا ہے یا نہیں۔ مہینہ میں تیسرا، چوتھا جمعہ پڑھ لیتا ہے یا عید پر آجاتا ہے تو یہ آپ کی تجنید میںشامل ہونا چاہئے۔ باقی پھر شعبہ تربیت کا کام ہے کہ وہ ایسے خدام سے رابطہ کر کے ان کو Activeکریں۔
٭…مہتمم مال نے بتایا کہ خدام کا بجٹ 80ہزار کرونر ہے اور 53خدام چندہ ادا کرتے ہیں۔ ان کا چندہ مجلس 65ہزار کرونر ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: آپ خدام کو بتائیں کہ چندہ ٹیکس نہیں ہے۔ یہ خداتعالیٰ کا حکم ہے۔ ان کو بتائیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ان کو یہ بھی بتائیں کہ اس چندہ کا مصرف کیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ یوکے میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر کوشش کرکے ایسے خدام کو بھی لایا گیا جو پیچھے ہٹے ہوئے تھے اور بعضوں کو شکوے تھے۔ بعض بالکل چندہ نہیں دیتے تھے اور بعض بہت کم دیتے تھے۔ وہاں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ جامعہ احمدیہ یوکے کے طلباء نے ان کے سوالات کے جوابات دیئے اور چندہ کی اہمیت بتائی اور اس کا مصرف بتایا۔ ان خدّام نے کھل کر ایسے سوالات کئے جو وہ بڑوں سے کرنے سے ڈرتے تھے مثلاً چندہ کا مصرف کیا ہے۔ یہ کس لئے لیا جاتا ہے، کیا مقاصد ہیں، کہاں خرچ ہوتا ہے؟ تو اس بارہ میں ان کو تفصیل کے ساتھ بتایا گیا اور ان کے ہر سال کا جواب دے کر ان کی تسلّی کروائی گئی۔ ان کو چندہ کی اہمیت اور خدا تعالیٰ کے حکم کے بارہ میں بتایا گیا۔ بعد میں انہوں نے خود کہا کہ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ رقم اکٹھی کرنے کے لئے یہ ایک ذریعہ رکھا ہوا ہے۔ اب ہمیں اصل حقیقت پتہ چل گئی ہے۔ تو ایسے خدّام نے خود رقم نکال کر سیکرٹری مال کو چندہ ادا کیا۔
حضور انور نے فرمایا کہ خدام تو چندہ ادا کرتے ہیں۔ قصور اُن عہدیداروں کا ہے جو ان کو کھول کر چندہ کی غرض و غائت، اس کی اہمیت اور اس کا مصرف نہیں بتاتے۔
حضور انور نے فرمایا کہ خصوصاً نوجوانوں کو چندہ کی اہمیت پتہ ہونی چاہئے اور یہ بتایا جائے کہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ مَیں اپنے تحریک جدید اور وقف جدید کے خطبات میں بتا دیتا ہوںکہ یہ چندے کہاں کہاں خرچ ہوتے ہیں اور کن کاموں پر خرچ ہوتے ہیں۔ مساجد، مشن ہاؤسز اور جماعتی سنٹرز کی تعمیرات ہیں۔ MTA چینل ہے، اشاعت کے اور بعض دوسرے بہت سے کام اور منصوبے ہیں جن پر پر خرچ ہوتا ہے۔ افریقہ میں اور بعض دوسرے ممالک میں خرچ ہوتا ہے۔ یہ مَیں اس لئے بتاتا ہوں تاکہ لوگوں کو پتہ لگے کہ کہاں کہاں اخراجات ہورہے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ خطبہ سن کر ان کو پتہ چلا ہے کہ جماعت کے اتنے وسیع کام ہیں اور ان پر بہت بڑے اخراجات ہو رہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ ڈنمارک کی جماعت تو ایک چھوٹی جماعت ہے ۔ یہاں خدام کو اپنے چندہ کے نظام میں سو فیصد شامل ہونا چاہئے۔ آپ اپنے نوجوانوں کو سنبھالیں گے تو آگے بڑھیں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی‘‘۔ مَیں نے جو یہ ہدایت کی تھی کہ اس کے بَیج بناکر خدام اپنے سینہ پر لگائیں۔ وہ اس وجہ سے کی تھی تاکہ ہمیشہ یہ بات آپ کے ذہن میں رہے کہ آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور آپ نے ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو خدام یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اخراجات زیادہ ہیں اور آمد کم ہے اس لئے ہم چندہ نہیں دے سکتے تو وہ بے شک نہ دیں لیکن چندہ کی اہمیت اور اس کے ضروری ہونے کے بارہ میں احساس ضرور پیدا ہونا چاہئے۔
حضور انور نے فرمایاکہ تربیت کریں، آپ کے چندہ کے مسائل حل ہوجائیں گے اور ساتھ خدّام بھی ایکٹو (Active) ہوں گے۔ تربیت کا شعبہ بہت اہم ہے اس کے لئے سکیم بنائیں کہ کس طرح لوگوں سے ملنا ہے۔ کس طرح ذاتی تعلقات بنانے ہیں۔ کس طرح دوستی رکھنی ہے، چاہے کوئی بُرا ہے یا اچھا ۔ آپ نے ہر ایک سے دوستی بنانی ہے اور پھر اس کی تربیت کی طرف پوری توجہ دینی ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ یوکے میں نارتھ کی مجالس کے بارہ میں شکوہ تھا کہ وہ پیچھے ہیںا ور active نہیں ہیں اور وہاں بعض خدام بھی پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان سے خدام الاحمدیہ نے رابطے کئے، ان سے تعلق بڑھایا اور ان کے گروپس لندن آئے اور مجھ سے ملوایا گیا۔ اس سے ان میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی۔ اب کہتے ہیں کہ نارتھ کی مجالس لندن کی مجالس سے زیادہ آگے بڑھ گئی ہیں۔
٭…مہتمم تجنید کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ اپنی تجنید مکمل کریں۔ دیکھیں کتنی مجالس ہیں اور کہاں کہاں قائد نہیں ہے۔ تجنید مکمل کرنے کے لئے ان مجالس کے پیچھے پڑ جائیں۔ محبت و پیار سے پیچھے پڑنا ہے۔ کام پیچھے پڑ کر ہوتا ہے۔
٭…مہتمم تحریک جدید کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ تو نوجوان ہیں اور چھوٹی عمر کے ہیں۔ آپ تو پیچھے پڑ کر کام کرسکتے ہیں۔ تحریک جدید میں سب کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔
مہتمم تحریک جدید نے بتایا کہ 70 خدام نے تحریک جدید کا چندہ دیا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ مجلس کے چندہ سے زیادہ خدّام نے تحریک جدید کا چندہ دیا ہے۔ اس کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے خدام سے ان کے ماہانہ چندہ کے حصول میں سستی ہے۔ تحریک جدید میں حصہ لینے والے خدام کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
٭…حضور انور نے مہتمم مال سے فرمایا کہ جو طلباء کمانے والے ہیں ان کی علیحدہ فہرستیں بنائیں اور جو کمانے والے نہیں ہیں ان کی علیحدہ فہرست بننی چاہئے۔ حضور انور نے فرمایا محنت کے ساتھ کام کریں۔
٭…حضور انور نے فرمایا کہ پہلے عاملہ اپنے آپ کو پانچ وقت نمازوں کا عادی بنائے۔ اس کے بعد پھر آگے کام چلائیں۔
٭…مہتمم صنعت و تجارت کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی آپ کا پلان ہے اس پر کام کریں۔
٭…مہتمم اشاعت سے حضور انور نے ان کے کام کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ اس پر مہتمم اشاعت نے بتایا کہ ہمارا رسالہ نور میگزین ہے۔ سہ ماہی ہے لیکن باقاعدہ نہیں ہے۔ یہ رسالہ ڈینش زبان میں ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ اپنے اس رسالہ کو باقاعدہ نکالیں۔ اگر یہ رسالہ پہلے بند تھا اور اس کی اشاعت رُکی ہوئی تھی تو اب دوبارہ اس کو شروع کریں۔ ترقی کرنے والی قومیں تو ایسی نہیں ہوتیں کہ جو کام ہو رہا ہے وہ بند کردیا اور پھر رُک گئے اور بیٹھ گئے۔
٭…مہتمم اشاعت نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کتاب ’’لائف آف محمدؐ ‘‘ کا ڈینش ترجمہ ہوچکا ہے۔ یہ خدّام کی ٹیم نے کیا ہے۔ اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘ کا ترجمہ ہو رہا ہے۔
حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ کتاب ’’لائف آف محمدؐ ‘‘ زیادہ سے زیادہ تقسیم ہونی چاہئے۔
٭…مہتمم عمومی سے حضور انور نے خدّام کی ڈیوٹی کے بارہ میں دریافت فرمایا جس پر مہتمم عمومی نے بتایا کہ اس وقت 65 خدام مختلف شعبوں میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں اور اس کے علاوہ دس اطفال بھی ڈیوٹی پر ہیں۔ حضور انور کی آمد پر خدّام بہت زیادہ ایکٹو ہوگئے ہیں۔
٭…مہتمم تعلیم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2016ء کا تعلیمی نصاب بناکر خدام کو دیا ہوا ہے۔ مطالعہ کتب میں ’’برکات الدعا‘‘ اور ’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘ شامل ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ خدام کو مطالعہ کتب کے لئے وہ کتب دیں جو ڈینش زبان میں بھی ہوں۔ کتب دے کر بیٹھ نہیں جانا۔ آپ نے ہر خادم سے پتہ کرنا ہے کہ اُس نے پڑھی ہے یا نہیں۔ باقاعدہ فیڈ بیک لینا ہے۔ کوشش کریں کہ جو چیز بھی مطالعہ کے لئے دے رہے ہیں ترجمہ کرنے ویب سائٹ پر ڈال دیا کریں یا پرنٹ کرکے خدام کو مہیّا کردیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ الفضل ربوہ میں میرے خطبات سوال و جواب کی صورت میں شائع ہوتے ہیں۔ آپ بھی خطبہ میں سے سوال و جواب نکال کر ڈینش زبان میں ترجمہ کرکے اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا کریں اس طرح نوجوان پڑھنے لگ جائیں گے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو شعبہ اشاعت والے ہیں یہ سوال و جواب کی شکل میں اپنے رسالہ میں ڈال دیا کریں۔ رسالہ کا آغاز قرآن کریم کی آیت، اس کے ترجمہ اور مختصر تفسیر سے ہو۔ پھر حدیث ہو، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اقتباس ہو۔ اور جو میرے خطبات ہیں ان میں سے لیں انتخاب کرکے بعض اقتباسات لے لیں۔
٭…مہتمم تبلیغ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ خدّام کے ذریعہ کوئی بیعت نہیں ہوئی۔ ہم فلائرز تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہمارا ایک بڑا تبلیغی پروگرام ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ دونوں کام علیحدہ علیحدہ ہونے چاہئیں۔ فلائرز کی تقسیم کا کام علیحدہ ہو اور تبلیغ کا کام علیحدہ ہو۔ اپنے دوستوں کو تبلیغ کریں، اپنے تبلیغی رابطے بنائیں۔ بغیر تبلیغی پروگراموں کے صرف فلائرز کی تقسیم سے تبلیغی کام مکمل نہیں ہوگا۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ کے ملک کی آبادی ساڑھے پانچ (5.5) ملین ہے اور اس میں سے دو لاکھ مسلمان ہیں۔ پاکستانی ہیں، عرب ہیں، مشرقی یورپ کی اقوام ہیں، دوسرے یورپین ہیں، لوکل ڈینش ہیں۔ ان سب میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لئے اپنی ٹیمیں بنائیں جو باقاعدہ منصوبہ بندی سے تبلیغ کریں۔ اگر شروع میں آپ کے دس فیصد خدّام بھی تبلیغ کے لئے نکل آئیں تو بہت اچھا ہو۔
حضور انور نے فرمایا کہ ایسے خدّام تلاش کریں جن کو دین کا علم ہو یا اُن کو لٹریچر مہیا کرکے دینی علم دیا جائے تاکہ وہ اپنے دوستوں کو تبلیغ کریں۔ اسی طرح جو خدّام Active نہیں ہیں، اگر اُن کو قریب لائیں اور ان کا پوٹینشل اتنا ہے کہ ان کو استعمال کیا جاسکتا ہے تو ان سے بھی تبلیغ کا کام لیں۔ ضرورت اور حالات کے مطابق تبلیغ کے لئے راستے تلاش کریں۔
٭…مہتمم امور طلباء نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے 70 خدام ایسے ہیں جن میں سے 18 خدام نے ماسٹرز مکمل کرلیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ کے پاس سارا ریکارڈ ہونا چاہئے کہ کتنے ہیں جو کالج، یونیورسٹی اور ہائی سکول لیول پر ہیں۔ ان کی فہرستیں تیار ہوں۔ اپنے سٹوڈنٹ کو آرگنائز کریں اور ان کے فنکشن بھی کروایا کریں۔
٭…مہتمم اطفال نے بتایا کہ اطفال کی تجنید 29 ہے۔ حضور انور کے استفسار پر مہتمم اطفال نے عرض کیا کہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر اطفال کے علیحدہ پروگرام ہوتے ہیں۔ اطفال کا علیحدہ اجتماع ہوتا ہے اور ہال میں علیحدہ جگہ اطفال کے لئے ہوتی ہے۔ اطفال کا سالانہ چندہ 25 کرونر ہے۔
حضور انور نے دریافت فرمایا کہ کتنے اطفال چندہ ادا کرتے ہیں۔ اس پر مہتمم اطفال نے بتایا کہ سات آٹھ اطفال چندہ ادا کرتے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ باقی اطفال سے بھی چندہ لیں۔ ان کی تربیت اس طرح کریں کہ یہ خود اپنے جیب خرچ میں سے چندہ دیں۔ جو 25 کرونر نہیں دے سکتے وہ دس، پانچ کرونر ہی دے دیا کریں۔ اس طرح ان کو دینے کی عادت پڑ جائے گی۔
حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ تمام اطفال کو چندہ وقف جدید میں شامل کریں اور ہر طفل چندہ وقف جدید میں ضرور شامل ہو۔ اپنے وقف جدید کے شعبہ کو فعال کریں۔
٭…صدر صاحب خدام الاحمدیہ نے بتایا کہ ہم نے خدام کے جائزہ کے لئے ماہانہ فارم بنایا ہوا ہے جس میں نماز اور تلاوت کے متعلق پوچھا جاتا ہے۔ اس پر بعض خدام کا کہنا ہے کہ یہ ان کی پرسنل چیزیں ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ اپنا سوال اس طرح کرلیں کہ کیا اس ماہ کی اکثر نمازیں باجماعت پڑھیں۔ کیا نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ رہی، نمازیں پڑھتے رہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ سوشل سائنس پڑھنے والوں سے یہاں کی نفسیات کے مطابق سوالنامہ بناکر بھیج دیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ اپنے اجتماعات میں جنرل سوال و جواب کی میٹنگ رکھیں اور وہاں خدام سے سوال کریں کہ ہمیں مرکز رپورٹ بھجوانے کے لئے یہ انفارمیشن چاہئے ہوتی ہے، ہم کس قسم کا سوالنامہ بنائیں جس سے ہم آسانی سے جواب دے سکیں اور اپنی رپورٹ مرکز میں بھجواسکیں۔ سب کی رائے لیںا ور پھر کہیں کہ رائے لینے کے بعد یہ شکل بن رہی ہے یا اس شکل کو کچھ تبدیلی کے ساتھ اس طرح کردیا جائے۔ اس طرح اُن کی رائے کے ساتھ اپنے سوالنامہ کو فائنل کرلیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ جہاں اس طرح کی صورتحال ہو وہاں اعتماد میں لینے کے لئے نئے طریقے اختیار کریں۔ یہاں کے لوگوں کو ایک آزاد ماحول مل چکا ہے۔ سوچیں اَور طرح کی ہوچکی ہیں۔ وہاں سنبھالنے کے لئے ہمیں بھی نئے طریقے اختیار کرنے پڑیں گے۔ جہاں اعتراضات پیدا ہوتے ہیں وہاں انہیں اہمیت کا احساس دلاکر پھر بتائیں کہ ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ جو بنیاد اب پڑ جائے گی پھر وہی کام آئے گی۔
حضور انور نے فرمایا کہ اس طرح کے سوال بنائے جاسکتے ہیں کہ کیا اس ہفتہ نمازیں باقاعدہ پڑھیں۔ کیا اکثر نمازیں باجماعت پڑھیں، کیا چندہ ادا کردیا، کتب کے مطالعہ کے حوالہ سے سوال رکھا جاسکتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ یہاں کے پڑھے لکھے لڑکوں سے سوال بنوائیں اور اپنے اجتماع میں یہ پروگرام رکھیں۔ فلاح الدین صاحب مربی سلسلہ ہیں، ان کو بھی جواب دینے کے لئے سامنے بٹھادیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ کو تربیت کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ آپ نے اپنے نوجوانوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔ آپ کے مدّنظر ہمیشہ یہ رہنا چاہئے کہ آپ نے کس طرح بچانا ہے اور کون کونسے نئے طریقے اختیار کرنے ہیں۔
٭… لیف لیٹس کی تقسیم کے حوالہ سے بات ہونے پر حضور انور نے فرمایا کہ مَیں نے جامعہ یوکے اور جرمنی سے فارغ التحصیل ہونے والے مربیان سپین بھیجے تھے اور ان کو ایک ماہ دیا تھا۔ انہوں نے اس عرصہ میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد لیف لیٹس تقسیم کئے ہیں۔ وہاں لوگوں سے رابطے کئے ہیں اور اُن سے بات چیت کی ہے۔ بڑا اچھا فیڈبیک بھی ملا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ کو یہ تأثر قائم کرنا ہوگا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اپنا ٹارگٹ بڑا رکھیں۔ ایک دن میں دس ہزار لیف لیٹس کی تقسیم کا ٹارگٹ ٹھیک ہے۔
مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ ڈنمارک کی حضور انور کے ساتھ یہ میٹنگ دو بج کر دس منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر ممبران نے حضور انور کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں میں تشریف لاکر نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
بعد ازاں پروگرام کے مطابق ساڑھے چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ ہال میں تشریف لائے جہاں حضور انور کے ساتھ اطفال اور ناصرات کی علیحدہ علیحدہ کلاس کا پروگرام تھا۔
………………………
اطفال الاحمدیہ ڈنمارک کی حضور انور کے ساتھ کلاس
پہلے اطفال، بچوں کی کلاس شروع ہوئی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم سائم احمد نے کی اور اس کا اردو ترجمہ عزیزم محمد انصر محمود نے پیش کیا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ نے صرف اردو ترجمہ رکھا ہے ان بچوں کو اس کی کیا سمجھ آئی ہوگی۔ ان کو سمجھانے کے لئے ڈینش ترجمہ ہونا چاہئے تھا۔ ان کو تو پتہ نہیں لگتا کہ آیات کے کیا معانی ہیں۔ کیا چیز ہے؟
اس کے بعد عزیزم شیان مہدی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث پیش کی:
حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور آگ سے دُور کردے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کر۔ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا۔ نماز پڑھ۔ زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر یعنی رشتہ داروں کے ساتھ پیار و محبت سے رہ۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ نے قرآن کریم کی تلاوت کردی ہے۔ حدیث پڑھ دی ہے۔ اس کی آپ کو کیا سمجھ آئی ہے۔
قرآن کریم کی آیت میں توکّل کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنا کیا ہوتا ہے؟ حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر توکّل یہ ہے کہ وہی ہے جو سب کچھ دینے والا ہے۔ صرف اُسی پر انحصار کرنا ہے۔ خدا کو ہر چیز کی حفاظت کرنے والا جاننا ہے۔ تم پڑھائی کرو، محنت کرو، پوری محنت کرلو پھر خدا پر توکّل کرلو کہ وہ تمہیں بہتر طور پر پرچہ حل کرنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو۔ بجائے لوگوں سے امید رکھنے کے ہر چیز کی امید خداتعالیٰ سے رکھو۔
حضور انور نے فرمایاکہ یہ بتاؤ کہ شرک کیا ہوتا ہے؟
فرمایا کہ شرک کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقابل پر کسی اَور کو خدا سمجھنا، صرف اُسی سے مانگنا اور اُسی کی عبادت کرنا۔ کافر لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اس طرح وہ شرک کرتے تھے۔ خدا کے مقابل پر اپنے بُت بنارکھے تھے۔ خانہ کعبہ میں بُت رکھے ہوئے تھے۔ ان کی پوجا کرتے تھے۔ اس طرح وہ شرک کرتے تھے۔
زکوٰۃ کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا تاکہ وہ مال کو پاک و صاف کردے اور پھر تمہارے لئے تمہارے اموال کو بڑھائے۔
قرآن کریم میں ہے کہ نماز پڑھا کرو۔ زکوٰۃ دیا کرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرو، چیرٹی میں دو، چندوں میں دو، لوگوں کی ہمدردی کے لئے خرچ کرو۔ دین کی خدمت کے لئے خرچ کرو۔ صدقات دو۔ یہ بات زکوٰۃ کے زمرہ میں شامل ہوتی ہیں۔
پھر زکوٰۃ اسلام میں ایک خاص قسم کا چندہ ہے اور اس کا ایک معیار ہے۔ وہ لوگ جو ایک سال تک ایک معیّن رقم بینک میں جمع رکھتے ہیں تو ایک سال بعد اس رقم کا کچھ حصہ خداتعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔
پھر سونے پر زکوٰۃ ہے، چاندی پر زکوٰۃ ہے۔ ان دونوں کا ایک معین نصاب ہے۔ سال گزرنے کے بعد اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ان چیزوں پر زکوٰۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مقرر ہے۔ اسی طرح بعض اور چیزیں بھی ہیں جن پر زکوٰۃ ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ صلہ رحمی کیا ہوتی ہے۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ آپس میں رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا۔ آپس میں مل جُل کر رہنا، محبت اور پیار سے رہنا۔ اگر تم آپس میں اپنے کزنوں سے لڑائی کرتے رہتے ہو تو یہ صلہ رحمی نہیں ہے۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ تم آپس میں بھائی، کزن ، رشتہ دار سارے ایک دوسرے کا خیال رکھو۔
بعدازاں عزیزم مغیث احمد نے ملفوظات سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا:
’’نماز خداکا حق ہے اسے خوب ادا کرو۔ اگر ساراگھر غارت ہوتاہے تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔ وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اورکہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔ نماز ہرگز خدا کے غضب کاذریعہ نہیں ہے۔ جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود زہرہے۔جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کونماز کامزانہیں آتا۔ یہ دین کو درست کرتی ہے۔ اخلاق کو درست کرتی ہے۔دنیا کو درست کرتی ہے۔ نماز کامزا دنیا کے ہر مزے پرغالب ہے۔ لذاتِ جسمانی کے لئے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کانتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں۔ اوریہ مفت کابہشت ہے جو اسے ملتاہے۔ قرآن شریف میں دو جنتوں کاذکر ہے ایک ان میںسے دنیا کی جنت ہے اوروہ نماز کی لذّت ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم)
اس کے بعد عزیزم فراز احمد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کامنظوم کلام
کبھی نصرت نہیں ملتی درِ مولیٰ سے گندوں کو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
خوش الحانی سے پیش کیا۔
بعد ازاں عزیزم مدثر احمد نے ملک ڈنمارک کے حوالہ سے ایک معلوماتی مضمون پیش کیا۔ اس کے بعد عزیزم شمائق احمد نے ’’مسجد نصرت جہاں‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
عزیزم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ’’مسجد کے افتتاح کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ 20 جولائی 1967ء کو بذریعہ ٹرین کوپن ہیگن تشریف لائے‘‘۔
اس پر حضور انور نے فرمایا : یہ ذکر نہیں ہے کہ بذریعہ ٹرین کہاں سے آئے تھے؟ اس پر حضور انور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمبرگ (جرمنی) سے بذریعہ ٹرین ڈنمارک تشریف لائے تھے۔ جرمنی سے ڈنمارک آتے ہوئے راستہ میں سمندر ہے اور ٹرین مکمل طور پر فیری (بحری جہاز) میں بورڈ ہوتی ہے اور پھر دوسری جانب پورٹ پر باہر نکلتے ہوئے اپنے ٹریک پر آجاتی ہے۔
اس کے بعد ’’مسجد نصرت جہاں‘‘ کے سنگ بنیاد کے موقع کی ویڈیو دکھائی گئی۔ اس میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو سنگ بنیاد رکھتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ سنگ بنیاد 6؍مئی 1966ء کو رکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس کے بعد عزیزم شیراز احمد نے پنجابی زبان میں ایک استقبالیہ نظم پیش کی۔
بچوں کے ساتھ مجلس سوال و جواب
بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بچوں کو سوالات کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
٭ایک طفل نے سوال کیا کہ جب ہم اپنی نماز پڑھ رہے ہوں اور ابھی مکمل نہ کی ہو اور نماز کا ایک حصہ باقی رہتا ہو۔ اس دوران امام باجماعت نماز شروع کروادے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ فرض نماز زیادہ اہم ہے۔ جب تم سنتیں پڑھ رہے ہو اور دوسری طرف فرض نماز شروع ہوجائے تو پھر سنّتیں چھوڑ کر فرض نماز میں شامل ہوجاؤ۔ اور یہ سنّتیں بعد میں ادا کرلو۔
حضور انور نے فرمایا کہ امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا زیادہ ضروری ہے اور زیادہ برکت اور ثواب کا باعث ہے۔اور اس میں اتحاد اور وحدت ہوتی ہے اور یہ حکم بھی ہے کہ ایک امام کے پیچھے چلو۔
حضور انور نے فرمایا کہ فرض ایک ایسی چیز ہے جو تم نے ضرور کرنی ہے۔ اگر امام نماز پڑھا رہا ہے تو پھر تم نے سنتیں، نوافل وغیرہ چھوڑ کر امام کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ فرض نمازوں کی ادائیگی اپنے وقت پر ضروری ہے اور جہاں تک سنتیں ہیںیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر دکھائیں اور ان کو ادا کرنے کی تاکید کی لیکن ان کو آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے جب کہ سنتیں ادا کرنے کی خاطر فرض نماز کو آگے پیچھے نہیں کیا جاسکتا۔
حضور انور نے فرمایا کہ فرض نماز اگر مسجد میں باجماعت ہورہی ہے تو آپ نے ہر حال میں امام کے پیچھے ادا کرنی ہے۔ باقی سب چیزیں پیچھے ہوجائیں گی۔ ایک امام کے پیچھے چل کر وحدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ثواب بھی کئی گنا بڑھادیا ہے کہ تم ایک ہوگئے تو برکت پڑے گی۔ جب تم نماز باجماعت پڑھتے ہو تو ایک دوسرے کا روحانی مقام ہوتا ہے اس کا بھی ایک دوسرے پر اثر ہو رہا ہوتا ہے۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ ٹوپی کیوں پہنتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتو سر ڈھانکا کرو۔ یہ ایک ادب کا نشان ہے۔ اب جو انگریز ہیں وہ کہتے ہیں کہ ادب کا نشان یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو جو ہیٹ پہنا ہوتا ہے اُسے اتار کر جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے دوسرے کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ تو انہوں نے اس طرح اپنی روایت بنائی ہوئی ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ایک بہت بڑا مقام جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا ہے وہ حج ہے۔ اس وقت انسان خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ بھول جاتا ہے اور ہر چیز سے بے نیاز ہوکر خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ جب تم حج کر رہے ہوتے ہو تو ٹوپی بھی اتار دیتے ہو اور بال بھی کٹوا دیتے ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جس میں حاضر ہونے والا اپنے انتہائی عشق کا اظہار کرتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہم جو ٹوپی پہنتے ہیں تو ادب کے لئے اور دوسرے کی عزّت افزائی کے لئے پہنتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ بعض دوسری عرب مسلمان قومیں ایسی بھی ہیں جو ٹوپی کے بغیر نمازیں پڑھتی ہیں۔ اگر تمہیں بھی کسی وقت ٹوپی میسّر نہ ہو تو بغیر ٹوپی کے نماز پڑھ سکتے ہو۔ لیکن کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ٹوپی کے ساتھ ہو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور کو کیا محسوس ہوتا تھا جب حضور کو علم ہوا کہ خلیفہ بننا ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ مَیں کئی دفعہ آپ لوگوں کی کلاسز میں بتاچکا ہوں۔ MTA والے بھی دکھاتے رہتے ہیں۔ ویڈیو دیکھ لیا کرو۔ بہت مشکل اور بہت بڑی ذمّہ داری ہوتی ہے اس لئے بہت بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور انور مختلف ممالک کے سفر کرتے ہیں۔ کیا حضور کے پاس چھٹی والا دن نہیں ہوتا؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ چھٹی کوئی نہیں ہوتی۔ ہفتہ میں ساتوں دن کام کرتا ہوں۔ کام کے دوران جو تھوڑا بہت وقت کبھی کبھار مل جاتا ہے بس وہی چھٹی ہوتی ہے۔ چوتھے پانچویں مہینے کے بعد چند گھنٹے یا ایک آدھ دن مل جاتا ہے۔ آپ لوگ جو Weekend پر چھٹیاں مناتے ہو مَیں نہیں مناتا۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ مسلمان حج پر کیوں جاتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ ارکان اسلام پانچ ہیں: کلمہ طیّبہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج۔ یہ پانچ بنیادی چیزیں ہیں۔ حج بھی ایک عبادت ہے لیکن ہر ایک کے لئے فرض نہیں ہے۔ صرف ان کے لئے فرض ہے جن کے پاس سفر کے اخراجات ہوں، راستہ کا امن ہو اور حج کے لئے کوئی روک نہ ہو، اگر زندگی میں ایک دفعہ کرلیا جائے تو کافی ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا پہلا گھر ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کی تعمیر کے لئے آسمان سے Meteor گرے ہوں۔ مختلف سیاروں سے پتھر ٹوٹ کے ایک جگہ گرے ہوں اور پھر ان سے شروع میں بنا ہو۔ پھر ایک زمانہ آیا کہ یہ ختم ہوگیا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس کو اس کی پہلی بنیادوں پر دوبارہ بنایا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دوبارہ گرگیا۔ چنانچہ آپؐ کے زمانے میں دوبارہ اپنی پہلی بنیادوں پر تعمیر ہوا۔ حجر اسود رکھنے کے لئے جھگڑا پیدا ہوگیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا۔ آپؐ نے چادر بچھائی اور سرداروں کو کہا کہ چاروں طرف سے کپڑے کے چاروں کونوں کو پکڑو۔ چنانچہ آپؐ نے حجر اسود اٹھاکر اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ تو ایک لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی تو اس کا بنیادی کام اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کروایا۔
حضور انور نے فرمایا: پس حج ایک عبادت ہے جس طرح باقی عبادتیں ہیں۔ لیکن یہ اُس طرح ہر ایک کے لئے ضروری نہیں ہے جس طرح نماز ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔
حضور انور نے فرمایا: حج کی عبادت میں مختلف طریقے ہیں جس میں طواف کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کو یاد کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ اظہار کرتے ہو کہ ہم کوئی چیز نہیں ہیں۔ لبّیک لبّیک کہتے ہو۔ تو یہ بھی ایک عبادت ہے جو کرتے ہیں۔ یہ لازمی عبادت نہیں ہے بلکہ بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر تمہارے پاس پیسے ہوں، خرچہ ہو، صحت اچھی ہو اور رستے کا کسی قسم کا خطرہ اور روک نہ ہو، مثلاً احمدیوں کو حکومت کھلے طور پر وہاں جانے نہیں دیتی لیکن پھر بھی احمدی حج کرنے جاتے ہیں۔ اگر یہ ساری چیزیں ایسی ہوں اور شرائط پوری ہورہی ہوں اور کوئی روک نہ ہو تو پھر تمہیں حج کرنا چاہئے۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور کی پسندیدہ نظم کونسی ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ساری نظمیں اچھی ہوتی ہیں۔ ہر نظم میں کوئی نہ کوئی اس کا چوٹی کا شعر ہوتا ہے جو بہت زیادہ کھینچنے والا ہوتا ہے۔
٭ ایک بچے نے سوال کیا کہ روزہ رکھنے کے لئے کتنے سال کا ہونا چاہئے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے کسی کی بھی عمر پورے روزے رکھنے والی نہیں۔ لیکن عادت ڈالنے کے لئے ایک آدھ رکھنا ہے تو اپنی خوشی سے رکھ لو۔ اگر صحت اچھی ہے، موٹے تازے ہیں تو پھر عادت کے طور پر لمبا روزہ بھی رکھ سکتے ہیں لیکن جو دُبلے پتلے ہیں وہ نہ رکھیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو سٹوڈنٹ ہیں۔ ان پر پڑھائی کا بھی بوجھ ہوتا ہے۔ ان دنوں امتحان بھی ہو رہے ہوتے ہیں اس لئے تم میں سے کسی کی بھی عمر ایسی نہیں کہ روزہ رکھو۔ لیکن تم جب سترہ اٹھارہ سال کے ہو جاتے ہو اور جوان ہو جاتے ہو اس وقت روزہ رکھ لینا چاہئے لیکن اس سے پہلے روزہ رکھنے کے لئے عادت ڈالنی چاہئے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے کسی جگہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پہلاروزہ اس وقت رکھوایا تھا جب مَیں گیارہ بارہ سال کا تھا۔ اُس سے پہلے نہیں رکھنے دیا۔ پھر اس کے بعد پندرہ سولہ سترہ سال تک بیچ بیچ میں کچھ روزے رکھتا تھا تو اٹھارہ سال کی عمر میں، مَیں نے سارے روزے رکھنے شروع کئے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو لوگ چار پانچ سال کی عمر میں بچوں کو زبردستی روزے رکھوادیتے ہیں گرمیوں میں خاص طور پر وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ ایک دفعہ پاکستان میں اخبار میں آیا تھا کہ پانچ چھ سال کے بچے کو گرمیوں میں روزہ رکھوا دیا۔ بچے کو پیاس لگی۔ پانی کی طرف دوڑتا تھا۔ اس کو کمرے میں بند کردیا۔ پھر جب شام کے وقت روزہ کھولنا تھا۔ افطاری کرنی تھی اس کے دوستوں کو بلایا کہ دعوت ہے ہمارے گھر میں پہلا روزہ ہمارے بچے نے رکھا ہے۔ جب دروازہ کھولا تو بچہ مرا ہوا تھا۔ پیاس سے مر گیا تو یہ ظلم ہے۔ جب برداشت کرنے کی عمر ہو تو تب روزہ رکھنا چاہئے۔
٭ایک طفل نے یہ سوال کیا کہ ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا : اس لئے پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور اتنی چیزیں دیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو ربّ العالمین مانتے ہیں۔ اس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری پرورش کی، اچھے ماں باپ دیئے جو ہمارا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے پڑھنے کے مواقع پیدا کئے۔ ہمارے لئے کھانے کے مواقع پیدا کئے۔ اور بہت ساری چیزیں ہیں۔ کوئی غریب ہے تو وہ بھی اپنے حالات میں خوش ہے۔ امیر ہے تو وہ بھی خوش ہے۔ تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے ہم نماز پڑھتے ہیں۔ تو پھر اس سے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے مَیں اور بھی انعامات دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے کہ تم میری عبادت کرو بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم لوگوں کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ میری عبادت کرو۔
حضور انور نے فرمایا کہ کھاتے پیتے تو جانور بھی ہیں اور دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اس لئے تمہارا کام یہ نہیں بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم اپنے دماغ کو استعمال کرو اور اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے بنو اور شکرگزاری کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کی عبادت کرو بلکہ سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ اس کی عبادت کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں نوازے اور انعام دے۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ پانی بیٹھ کے کیوں پینا ہوتا ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ بیٹھ کر پی لو تو اچھی بات ہے، بیٹھ کر پینا سنت ہے۔ بیٹھ کر تسلّی سے پینا چاہئے۔ جلدی جلدی میں کام نہیں کرنا چاہئے۔ اگر مجبوری ہے تو کھڑے ہوکر بھی پی سکتے ہو۔ گناہ نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر گلاس کے ساتھ چین(Chain) لگی ہوتی ہے تو کھڑے ہوکر پینا پڑتا ہے۔ اگر گلاس وغیرہ نہیں ہے تو پھر جھک کر پینا پڑتا ہے تو ان حالتوں میں پی لیا کرو۔ لیکن احتیاط اور تسلّی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پیو اور شکر ادا کرکے پیو۔ اچھے اخلاق یہی ہیں کہ بیٹھ کر پیو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ قاعدہ کیوں پڑھنا ہوتا ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ قاعدہ اس لئے پڑھو کہ تمہیں قرآن کریم پڑھنا آجائے۔ تم سکول میں جاتے ہو تو سیدھے تیسری کلاس میں تو نہیں چلے جاتے۔ پہلے تم نرسری میں جاتے ہو، پریپ میں جاتے ہو، پہلی کلاس میں جاتے ہو، پھر دوسری میں جاتے ہو، تیسری میں جاتے ہو۔ اسی طرح تم قاعدہ پڑھو۔ جب قاعدہ پڑھ لیتے ہو تو قرآن شریف پڑھتے ہو۔ پھر قرآن شریف کا ترجمہ پڑھو تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا کہا ہے۔ پھر جو کہا ہے اس پر عمل کرو اور باتیں مانو۔ قاعدہ قرآن شریف پڑھنے کے لئے ٹریننگ کے طور پر پڑھایا جاتا ہے تاکہ تم پڑھ، سیکھ لو پھر تمہیں اچھی طرح قرآن شریف پڑھنا آجائے تاکہ تم اچھی طرح اللہ تعالیٰ کی باتیں سمجھ سکو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور جوانی میں کونسی کھیل کھیلتے تھے؟
حضور انور نے فرمایا کہ مَیں کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیلتا رہا ہوں۔ بس یہ دو کھیلیں ہی کھیلتا رہا ہوں۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ جب ایک بندہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اُس کے آگے سے جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا یہ اس لئے کہ نماز پڑھنے والے کی توجہ نہ بٹ جائے اور یہ ادب کے لحاظ سے بھی ہے۔ اس لئے یہی حکم ہے کہ انتظار کرو یا پھر دو سجدوں کی جگہ سے فاصلہ دے کر گزرو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ کونسی عمر میں موبائل فون رکھ سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ جب تمہارے ماں باپ اجازت دیںا ور جب وہ فیصلہ کریں کہ تمہیں موبائل فون دینا ہے۔ بعض دفعہ بچے جب سکول جاتے ہیں، ساتویں آٹھویں کلاس میں بارہ تیرہ سال کی عمر میں بچوں کو فون دے دیتے ہیں۔ لیکن اگر تم نے آئی فون اور سمارٹ فون اور اس جیسی دوسری چیزیں رکھنی ہیں اور Apps دیکھنے کے لئے رکھنی ہیں تو تم غلط کاموں میں پڑ سکتے ہو۔ اس لئے ماں باپ تمہیں روکتے ہیں۔ اگر تم نے صرف رابطہ کرنا ہے تو پھر جو سادہ فون ہے وہ رکھ سکتے ہو۔ تم کوئی بزنس مین تو نہیں ہو، سٹوڈنٹ ہو۔ موبائل فون ہر وقت ہاتھ میں ہوگا تو اسی میں Apps تلاش کرتے رہو گے۔ فضول قسم کی Apps تمہیں مل جائیں گی۔ پھر پڑھائی کی طرف توجہ کم ہوجائے گی۔ بلکہ کہتے ہیں کہ جب سے یہ فون آئے ہیں جن میں Apps ہوتی ہیں اُس وقت سے ایکسیڈنٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ عورتیں مرد چلتے پھرتے، سڑک کراس کرتے ہوئے ہر وقت فون پر انگلیاں مارتے رہتے ہیں۔ ادھر سے کار آئی، ٹکّر لگی اور بندہ مر گیا۔ موبائل فون کی وجہ سے حادثات بھی زیادہ ہوگئے ہیں اور لوگ مرنے بھی زیادہ لگے ہیں۔ لیکن تمہاری ابھی کوئی ایسی عمر نہیں کہ تمہارے پاس اس قسم کے فون ہوں۔ ہاں پڑھائی کے لئے اگر ضرورت ہے تو گھر میں کمپیوٹر اپنے امّاں ابّا کی نگرانی میں رکھ لو۔ رابطہ کرنے کے لئے فون کی ضرورت ہے تو پھر سادہ فون رکھو جس میں Apps نہیں آتیں۔ باقی اگر تمہارے امّاں ابّا کو تم پر اعتبار ہے تو تم رکھ لو۔ لیکن تم احتیاط یہ کرو کہ فضول قسم کی Apps تلاش کرکے یا دوسرے پروگرام انٹرنیٹ سے نکال کے نہ دیکھو بلکہ اچھی اچھی باتیں دیکھو۔ مثلاً آجکل MTA، الاسلام ویب سائٹ آئی فون پر آتی ہیں۔ دین سیکھنا ہے تو پھر رکھو کوئی حرج نہیں ہے۔
٭ایک طفل نے سوال کیا کہ اسلام میں میوزک کی اجازت ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ اگر تم نے میوزک بجاکر ناچنا، کودنا ہے تو پھر اجازت نہیں ہے۔ ہاں ایک حد تک ڈرم (دف) بنانے کی اجازت ہے۔ شادی بیاہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی دف بجایا کرتے تھے اور خوشی کا اظہار ہوتا تھا اور لڑکیاں یہ خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔ تو تم شادی بیاہ میں دف بجاکے خوشی کا اظہار کرسکتے ہو۔ لیکن میوزک لگاکر پیانوں کلبوں میں جاکے میوزک سیکھو اور خاص طور پر وہاں جاکر مختلف قسم کے باجے بجاتے رہو اور پھر اس پر ناچو گاؤ یہ غلط ہے۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور انور سفید شیروانی کیوں نہیں پہنتے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے ازراہ شفقت فرمایا تم بہت ساری چیزیں میری پسند کی نہیں پہنتے تو پھر مَیں بھی اپنی پسند کی پہنتا ہوں۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ پانی تین سانسوں میں کیوں پینا ہوتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تم آرام سے پانی پیو۔ آہستہ آہستہ پیو۔ ایک دم جب تم پیتے ہو تو جس برتن میں پیتے ہو اس میں سانس نہیں لینا چاہئے۔ سانس لینے کے نتیجہ میں ناک سے جراثیم پانی کے اندر چلے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ویسے بھی ایک گھونٹ لو اور آہستہ آہستہ پیو۔ ایک دم پیو تو اُچھو بھی آ جاتا ہے۔ اس لئے آہستہ سے پیو۔ پانی ایک گھونٹ دو گھونٹ لو، گلے کو تَر کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ پھر دوسرا گھونٹ لو، پھر تیسرا گھونٹ لو۔ ویسے تو پانی جانور بھی پیتے ہیں۔ تو جانور اور انسان میں کوئی فرق تو ہونا چاہئے۔ بعض دفعہ جانور ایک ہی سانس میں لمبا پیتے رہتے ہیں اور پھر رُک جاتے ہیں۔ اُن میں بھی عقل ہے۔ وہ دو تین دفعہ پیتے ہیں۔ تو انسان کو تو عقل ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ صحت کے لئے بھی اچھا ہے کہ رُک رُک کر پیا جائے۔ بعض دفعہ بہت پیاس لگی ہوتی ہے اور گرمی سے اتنا گلا خشک ہو رہا ہوتا ہے کہ پانی آدمی پیتا ہے تو پیتا چلا جاتا ہے۔ اتنا زیادہ پی لیتا ہے کہ پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور آدمی بیمار ہو جاتا ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ آہستہ سے پانی پیو اور گلے کو تَر کرو۔ یہ آداب بھی ہیں اور پھر تمہاری صحت بھی اس سے اچھی رہتی ہے اور تمہیں بیمار ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوگا۔ پس پانی پیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور کو خطبہ تیار کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ بعض دفعہ دوگھنٹے لگتے ہیں اور بعض دفعہ پانچ چھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اگر حوالے زیادہ ہوں تو حوالے پڑھنے میں دو تین گھنٹے لگتے ہیں۔ پھر مَیں اپنے دفتر والوں کو دے دیتا ہوں کہ پرنٹ کرکے مجھے دے دیں۔ اگر خود تیار کرنے ہوں تو پھر دو تین گھنٹے اَور لگ جاتے ہیں۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ نیند اور موت میں کیا فرق ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ تم نیند کے بعد دنیا میں دوبارہ واپس آجاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کچھ کو مَیں نیند کی حالت سے واپس بھیج دیتا ہوں۔ دوبارہ زندگی دے کر واپس بھیج دیتا ہوں۔ اور جو موت ہے اُس سے تم اگلے جہان میں چلے جاتے ہو اس دنیا میں واپس نہیں آتے بلکہ دوسری دنیا میں چلے جاتے ہو۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ اگر ہمیں کوئی لوگ کہیں کہ ہم مسلمان نہیں ہیں تو پھر ہم نے اُن کو کیا جواب دینا ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ اُن سے پوچھو کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ جو کلمہ طیّبہ ’’لآاِلٰہَ الّااللّٰہ مُحمّد رسولُ اللّٰہ‘‘ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان ہے، خود ہمارا ذبیحہ کھا لیتا ہے، جو ہمارا کھانا کھاتا ہے، ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے وہ بھی مسلمان ہے۔ کلمہ طیّبہ پڑھنے والا مسلمان ہے۔ ہم تو ’’لآاِلٰہَ الّااللّٰہ مُحمّد رسولُ اللّٰہ‘‘ پڑھتے ہیں اس لئے ہم مسلمان ہیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ تم مسلمان نہیں ہو تو پھر ان سے پوچھا کہ مسلمان کون ہوتے ہیں؟ ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ جو کلمہ طیبہ پڑھ لے وہ مسلمان ہے۔ سادہ جواب یہی ہے۔ پس ہم مسلمان ہیں۔ ہم قرآن پڑھتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام کو آخری مذہب سمجھتے ہیں، قرآن کریم کو آخری کتاب سمجھتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی سمجھتے ہیں۔ کلمہ طیّبہ پڑھتے ہیں اس لئے مسلمان ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہمیں اس سے کیا کہ کوئی ہمیں کیا سمجھتا ہے۔ ہم نے جواب اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔ ان لوگوں کو نہیں دینا۔ بس پھر تم ان سے کہو کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو۔ ہمیں تمہیں سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کو جان دینی ہے۔ مرنے کے بعد کسی انسان کے پاس تو نہیں جانا۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ آپ نے یہ انگوٹھی کیوں پہنی ہوئی ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اس انگوٹھی کی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی انگوٹھی ہے اس لئے بھی پہنی ہوئی ہے کہ بڑی مبارک اور بابرکت انگوٹھی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے والد کی وفات پر یہ الہام ہوا تھا: ’’الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہٗ‘‘ کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس انگوٹھی کو بنے ہوئے اب ایک سو پینتیس، چھتیس سال ہوگئے ہیں۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ اسلام میں 73 فرقے کیوں ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اتنے فرقے تو دوسرے مذاہب کے بھی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ اتنے فرقے مسلمانوں میں ہوجائیں گے اور ان میں اکائی، وحدت نہیں رہے گی۔ جو 73 واں فرقہ ہوگا وہ صحیح راستہ پر ہوگا اور یہ فرقہ اس وقت بنے گا جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آئیں گے۔ تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔ اب سنیوں کے 30، 35 فرقے ہیں، شیعوں کے 34، 35 فرقے ہیں۔ مین (Main) فرقے تو صرف دو ہی ہیں سنّی اور شیعہ۔ پھر آگے ان دونوں کے فرقے ہیں۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ آخری زمانے میں اتنے فرقے ہوں گے اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام میں تفرقہ پیدا ہوجائے گا۔ لوگ ایک نہیں رہیں گے۔ وحدت اور اکائی نہیں رہے گی تو اس وقت امام مہدی کا ظہور ہوگا۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ احمدی حج کیوں نہیں کرسکتے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ مَیں نے ابھی بتایا تھا کہ احمدی حج پر جاتے ہیںا ور حج کرتے ہیں۔ حج کے لئے بعض شرائط ہیں۔ سفر کے لئے خرچ ہو، سفر کی سہولت میسّر ہو، صحت ہو اور راستہ کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ تمہیں حج کرنے سے روکا بھی نہ جائے۔ تو یہ سب حج کرنے والے کے لئے شرائط ہیں۔ اب احمدیوں کو ظاہری طور پر حج کرنے سے روکا جاتا ہے اس لئے احمدی کھلے طور پر اور یہ اظہار کرکے کہ ہم احمدی ہیں حج نہیں کرسکتے کیونکہ سعودی عرب کی حکومت پھر پابندیاں لگا دیتی ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود احمدی حج کرتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی حج کیا تھا اور بہت سارے احمدی حج کرتے ہیں۔ ہر سال حج پر کئی لوگ جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے روکوں کی وجہ سے اپنے آپ کو چھپا کے حج کرنا پڑتا ہے۔
٭ایک بچے نے سوال کیا کہ ہم اپنے دوستوں کو تبلیغ کس طرح کرسکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اپنے دوستوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھاؤ۔ ان کو یہ پتہ ہو کہ تم احمدی مسلمان ہو۔ خدا کو ایک ماننے والے ہو۔ قرآن کریم کو ماننے والے ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے ہو۔
احمدی مذہب تم کو اچھی باتیں سکھاتا ہے۔ تمہیں یہ اچھی باتیں قرآن کریم نے سکھائیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سکھائیں۔ جب تم دوسروں کو اچھی باتیں بتاؤگے، ان کو اچھی باتیں سکھاؤگے اور پھر خود نمونہ بنوگے تو لوگ تمہاری طرف توجہ کریں گے اور تمہاری باتیں اچھی لگیں گی تو مانیں گے۔ پس اپنے آپ کو اچھا کرکے دکھاؤ تو لوگ آپ کی طرف آئیں گے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اطفال کی یہ کلاس سات بج کر چالیس منٹ پر ختم ہوئی۔
(باقی آئندہ)




