حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تحریک جدید کی مالی قربانی کے چند ایمان افروز واقعات

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍نومبر۲۰۲۵ء)

اسی طرح کینیاسے معلم کی اہلیہ لکھتی ہیں ان کے پہلے بچے کی ولادت متوقع تھی بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں جس کی وجہ سے بہت فکر مند تھیں۔ ڈاکٹر فکر مندی کا اظہار کر رہے تھے۔کہتی ہیں میں نے اپنے حالات، ساری باتیں خاوند کو بھی بتائیں کہ مجھے اس نے پریشان کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور اللہ ہی ہمارا آخری سہارا ہے۔اور فوری ہم جو قربانی کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ آجکل تحریک جدید کا سال ختم ہونے والا ہے تو اپنا بقایا چندہ جو تحریک جدید کا ہے اس میں ادا کر دو اور اللہ پہ معاملہ چھوڑ دو۔ اللہ فضل کرے گا۔ عجیب ایمان کی حالت ہے ان لوگوں کی۔ کہتی ہیں مَیں نے ایسا ہی کیا۔ چند دن بعد انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام تشریف لائے ہیں۔ آپ نے سیاہ رنگ کا کوٹ پہنا ہوا ہے۔ سر پر پگڑی ہے اور ہاتھ میں سوٹی بھی تھی۔ آپ نے اس خاتون کو فرمایا کہ تم فکر نہ کرو۔ بچے کی پیدائش بخیر و عافیت ہو گی مگر تمہارے پہلو سے ہو گی۔ چنانچہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی لیکن بذریعہ آپریشن ہوئی جو پیٹ کے ایک طرف سے کیا گیا اور کسی قسم کی کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ بہرحال وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ان کی قربانی کی وجہ سے ہوا اور اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی ورنہ کہتی ہیں کہ امید کے ایام میں جب بچہ پیدا ہونے والا تھا ڈاکٹروں نے بہت سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

یوں اللہ تعالیٰ دور دراز کے علاقوں کےاحمدیوں کو بھی اس طرح بتا کر ان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی صداقت کی تائید بھی فرما دیتا ہے۔

گنی کناکری کے مبلغ انچارج صاحب نے لکھا ہے کہ میں خلیفة المسیح کے خطبات میں سے ایمان افروز واقعات سنا رہا تھا اور توجہ دلائی کہ چندوں میں قربانی کرنی چاہیے ،آگے بڑھنا چاہیے اور اسی طرح سب کو تحریک جدید کا سال ختم ہونے کی وجہ سے ان کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بجٹ پورا نہیں ہو رہا اس کو پورا کرنا ہے۔ اسی شام ایک شخص مشن ہاؤس آیا اور بتایا کہ یہ لفافہ محمد الحسن کوبی صاحب نے بھیجا ہے جب لفافہ کھولا گیا تو اس میں تین سو یورو موجود تھے جو کہ مقامی کرنسی میں تقریباً تین ملین فرانک بنتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اس پر انہوں نے کوبی صاحب کو فون کرکے دریافت کیا کہ لفافہ آپ نے بھیجا ہے؟ اور وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ خطبہ جمعہ میں آپ سے یہ سنا تھا کہ ٹارگٹ پورا نہیں ہوا تو جمعہ کے بعد جب میں اپنے آفس پہنچا ہوں تو میرے دراز میں یہی رقم پڑی تھی اور ساتھ اخراجات کی ایک لمبی لسٹ بھی موجود تھی جو اس رقم سے ادا ہونے تھے۔ میں نے اخراجات کی لسٹ کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور یہ رقم آپ کو تحریک جدید کے چندے میں شامل کرنے کے لیے بھجوا رہا ہوں۔ موصوف اپنا تحریک جدید کا چندہ پہلے بھی ادا کر چکے تھے اور ایک اچھی رقم ادا کر چکے تھے۔

تو افریقہ میں بسنے والوں کے بھی عجیب اور حیرت انگیز قربانی کے واقعات ہیں۔یقیناً یہ باتیں ان کے دلوں میں ایمان کی کیفیت پیدا کرتی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے ورنہ انسان کا تو یہ کام نہیں ہے۔ ان کو یہ تجربات ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس طرح بڑھا کے دیتا ہے تبھی تو وہ پھر قربانیاں کر رہے ہوتے ہیں۔

واقعات تو بہت سارے ہیں جو سارے بیان کرنے مشکل ہیں۔کچھ تو میں نے جو چنے ہیں وہ بھی نہیں بیان کر سکتا بہرحال چند ایک کر دیتا ہوں۔

تحریک جدید بھارت کے انسپکٹر تلنگانہ کے ایک شخص کے بارے میں لکھتے ہیں جو کہ حیدرآباد کے ایک جگہ کے ہیں۔ ان کا وعدہ سات ہزار روپے کا تھا مگر ملازمت ختم ہونے کی وجہ سے وہ ادائیگی نہیں کر سکے۔ اگلے سال کے لیے انہوں نے دس ہزار کا وعدہ لکھوا دیا۔ ان سے کہا گیا گذشتہ سال کا وعدہ تو آپ نے پورا نہیں کیا آئندہ کے لیے بڑھا کر وعدہ کر رہے ہیں؟ تو موصوف نے جواب دیا کہ مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کا انتظام فرمائے گا کیونکہ میں اللہ کی خاطر دے رہا ہوں۔ چنانچہ چند روز میں ہی انہیں پہلے سے بہتر ملازمت مل گئی اور انہوں نے گذشتہ دو سالوں کا بھی چندہ ادا کیا اور نئے مالی سال میں اپنا وعدہ بھی سات ہزار کی بجائے اب بیس ہزار پیش کر دیا اور اس کی ادائیگی بھی کردی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے حسن ظن کو نوازا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تحریک جدید کی مالی قربانی کے چند ایمان افروز واقعات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button