حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصاراللہ امریکہ کی دو مجالس ہیوسٹن اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے انصار کے ایک وفد کی ملاقات

اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں وسعت پیدا کریں۔ لوگوں کو محض مذہب یا اسلام کے بارے میں نہ بتائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کی تلقین بھی کریں۔ یہ بنیادی اَمر ہے، کیونکہ آج کل لوگ ہستیٔ باری تعالیٰ کے حوالے سے بے پرواہ ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنا چاہیے۔

مورخہ ١٨؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امامِ جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصاراللہ امریکہ کی دو مجالس ہیوسٹن اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے انصار کے ایک تینتیس(٣٣) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

ملاقات کے آغاز میں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔

بعدازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو دربارِ خلافت میں مختلف نوعیت کے متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ گذشتہ چند سال میں حضورِ انور نے اپنے خطباتِ جمعہ میں جن صحابہؓ کی زندگیوں کا ذکرِ خیر فرمایا ہے، کیا کوئی ایک ایسے صحابیؓ ہیں جو حضور کی نظر میں نمایاں حیثیت رکھتے ہوں، اور کس وجہ سے؟

اس پر حضورِ انور نے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت اور بلند مقام کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں ان کی پیروی کی اہمیت واضح فرمائی کہ مَیں کس طرح کر سکتا ہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں فرمایا ہے کہ میرے صحابہؓ جو ہیں، ستاروں کی مانند ہیں، جس کی تم پیروی کرو، اسی سے سبق حاصل کرو گے۔ تو مَیں کون ہوتا ہوں judge کرنے والا کہ کون اچھا ہے اور کون بُرا ہے؟

پھر حضورِ انور نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ہیں اور اپنے اپنے وقت میں انہوں نے اپنے کام کیے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بقول، جس کے پیچھے چلو گے، اسی سے تم کوئی نہ کوئی سبق حاصل کرو گے۔

صفِ اوّل کے ایک ناصر نے حضورِ انور کی خدمت میں عرض کیا کہ پیارے حضور! مَیں نے اَواخر عمر میں احمدیت قبول کی اور اب سُننے میں مشکل پیش آتی ہے اور یادداشت بھی کمزور ہو گئی ہے، نیز بڑھاپے سے منسلک مسئلے مسائل بھی ہیں، جس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کُتب سے معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی کہ ان چیلنجز کے ہوتے ہوئے مَیں جماعت کی بہترین خدمت کیسے کر سکتا ہوں؟

اس پر حضورِ انور نے جماعتی لٹریچر کے مطالعے، بنیادی دینی کُتب سے استفادہ اور اہم دینی امور کو بار بار پڑھ کر سمجھنے کے حوالے سے عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ اس میں یہی ہے کہ آپ پڑھیں۔ جو لٹریچر جماعت کا ہے، اسے پڑھیں اور بعض چیزیں ہیں کہ ان کو بار بار پڑھیں۔ اگر جماعت کا تعارف ہے، تو مذہب کی کیوں ضرورت ہے، اس کے لیے Introduction to the Study of the Holy Qur‘an، اُردو میں دیباچہ تفسیر القرآن، اس کو پڑھیں اور اس سے آپ کو پتا لگ جائے گا کہ مذہب کی کیوں ضرورت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کیا ہے؟ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا سمجھتے ہیں؟ آپؐ کا مقام کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ یہ ساری باتیں اس میں آجاتی ہیں۔

پھر حضورِ انور نے مطالعے سے حاصل ہونے والے علم کو اپنی زندگی میں اپنانے اور اپنی استعداد کے مطابق علم حاصل کرتے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ تو basic چیز آپ کو آ جائے گی۔ باقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں پڑھتے رہیں۔ ساری چیزیں تو ہضم نہیں کر سکتے، سیکھ نہیں سکتے، کچھ نہ کچھ تو سمجھ آ جائے گی۔ تو جتنی آ جاتی ہے، اتنی سمجھ لیں، یہی آپ کے لیے کافی ہے۔ اور اس کو، جو بھی آپ سمجھیں، اس کو اپنی زندگی پر apply کریں، تو آپ کو یاد رہیں گی۔

ایک سائل نے دریافت کیا کہ حضورِ انور کی تیسری عالمی جنگ کے خدشات پر انتباہ کی روشنی میں ہمیں بطورِ احمدی کیا کرنا چاہیے تاکہ جنگ کے بعد ہم دنیا کی ازسرِنو تعمیر کرنے نیز انسانیت کی اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنے میں ایک معنی خیز کردار ادا کر سکیں؟

اس پر حضورِ انور نے سائل سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ میرے خُطبات سنتے ہیں؟

سائل کے اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ اور لوگوں کے ساتھ میری کلاسز یا ملاقاتیں؟

سائل کے دوبارہ اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے تبلیغی سرگرمیوں کو وسعت دینے، دینی معلومات میں اضافہ کرنے اور لوگوں کو ہستیٔ باری تعالیٰ سے روشناس کروانے کی بنیادی حکمتِ عملی کی بابت توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ مَیں کافی عرصہ سے بتا رہا ہوں کہ ہمارا کیسا رویہ ہونا چاہیے۔ ہمیں کس طرح اپنی دینی معلومات میں بہتری لانی چاہیے اور ہمیں کس طرح اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کو کس طرح اسلام اور احمدیت یعنی حقیقی پیغام کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور اس طرح ہمیں لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کو نہیں مانتے، اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتے، تو پھر تم اپنے انجام سے بے خبر رہو گے۔

پھر جنگ کے بعد کی دنیا میں تبلیغی پیغام کی اہمیت اور انسانوں کو اپنے خالق کی پہچان کروانے کی ضرورت اُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نے مزید ارشاد فرمایا کہ لہٰذا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اگر تم اپنے آپ کو اس جہان میں اور اگلے جہان میں بھی بچانا چاہتے ہو تو اپنے خالق کو پہچاننے کی کوشش کرو اور یوں آپ کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ کم از کم جب جنگ ختم ہو جائے گی، وہ لوگ جو بچ جائیں گے، وہ جانتے ہوں گے کہ کچھ ایسے لوگ تھے، جو ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں اور اب اپنی باقی کی زندگی گزارنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ لہٰذا اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں وسعت پیدا کریں۔ لوگوں کو محض مذہب یا اسلام کے بارے میں نہ بتائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کی تلقین بھی کریں۔ یہ بنیادی اَمر ہے، کیونکہ آج کل لوگ ہستیٔ باری تعالیٰ کے حوالے سے بے پرواہ ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنا چاہیے۔

ایک ناصر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ پیارے حضور! میرا سوال انویسٹمنٹ پراپرٹیز کے لیے قرضے لینے اور ان قرضوں پر سود ادا کرنے پر ہے۔ مَیں بہت سے ایسے احمدیوں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے کمرشل پراپرٹیز پر قرضے لیے ہوئے ہیں اور وہ ماہانہ سود دے رہے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ کیا کمرشل قرضے لے کر ان پر سود دینا جائز ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سود کی حرمت کے شرعی حکم کی قطعیت اور اس کے اطلاق کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سود کسی صورت میں ہو حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں کہہ دیا کہ سود حرام ہے تو حرام ہے۔ چاہے وہ آپ ہوں یا احمدی ہوں۔ بہت سارے احمدی لے لیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شرعی حکم جو ہے، وہ ختم ہو گیا اور احمدیوں کی شریعت قائم ہو گئی۔ شریعت تو وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری تھی۔ شریعت تو وہی ہے جو قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے۔ شریعت تو وہی ہے جس کی تفصیل اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بیان فرمائی۔ اور سود سود ہے۔ آپ میرے منہ سے کیا کہلوانا چاہتے ہیں کہ سود حرام ہے یا حلال ہے؟ سود حرام ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے، مَیں کیوں کہوں حلال ہے؟

پھر موجودہ بینکنگ نظام اور قدیم زمانے کے سود کی نوعیت میں فرق، نیز اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیان فرمودہ راہنمائی کی وضاحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ باقی ہاں ایک بات ہے کہ جو بینکنگ کا نظام ہے، اس میں یہ دیکھنے والا ہے کہ سود کس حدّ تک کام کر رہا ہے، کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مجلس میں یہ بھی فیصلہ ہے کہ آجکل جو بینکنگ کا نظام ہے وہ اتنا زیر و زبر ہو گیا ہے، اُوپر نیچے ہو گیا ہے کہ اس کے لیے نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ اس کو دیکھنا ہوگا۔ پُرانے زمانے کا سود جو تھا کہ ایک آدمی نے کسی سے پیسے لیے، وہ جو پیسے دینے والا تھا، رقم دینے والا تھا، وہ کہتا تھا کہ اچھا اتنے عرصہ میں واپس کرو گے تو اتنے پرسنٹ بڑھا کر دو گے، سال بعد کرو گے تو سو پرسنٹ بڑھا دو گے، تو وہ جو سود تھا وہ وقت کے ساتھ ساتھ multiply ہو جاتا تھا اور وہ ایک ایسا نظام تھا کہ ساری عمر ختم ہی نہیں ہو سکتا تھا۔

[حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جس ارشاد کا حوالہ دیا، اس کی مکمل تفصیل قارئین کی معلومات کے لیے پیشِ خدمت ہے:

ظہر کے وقت ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم نورالدین صاحب نے ایک مسئلہ حضرت اقدسؑ سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں۔جن کے پاس بیس بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے، ایک سکھ ہے، وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کی اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضے میں رکھیں، لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے، اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں۔ اور جو روپیہ آوے وہ امانت رہے۔ سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سو روپیہ ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔ یہ اس غرض سے یہاں فتویٰ دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو ان کو سال کے بعد ملے گا، اگر سود نہ ہو، تو شراکت کر لی جاوے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ’’چونکہ انہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صَرف کریں گے، اس لیے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے، دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جوان کو وہ دیتا ہے، سود نہیں ہے، اور مَیں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔ سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے، جو مفت، بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں ) لیا جاتا ہے۔ اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہو گئے ہیں، کُل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصّہ سود کا موجود ہے، اس لیے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘ (فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ مسئلہ نمبر ۲۶۶، صفحہ ۲۰۵) ]

پھر قدیم زمانے میں سود کے نتیجے میں قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی مثال اور موجودہ بینکنگ نظام میں قرض کی ادائیگی اور پراپرٹی کی ملکیت سے متعلق صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے مزید ارشاد فرمایا کہ تبھی ایک امریکن اکانومسٹ نے ایشین لوگوں کے بارے میں اور تھرڈ ورلڈ countries کے بارے میں، خاص طور پر زمینداروں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ پیدا بھی قرض کے اندر ہوتے ہیں، زندگی بھی قرض میں گزارتے ہیں اور مرتے بھی قرض میں ہیں۔ تو ان تینوں حالتوں میں وہ قرض میں ڈوبے ہوتے ہیں اور قرض اس لیے ہوتا ہے کہ سود multiply ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن آجکل کا جو سود ہے، وہ ایسا ہے کہ آپ نے بینک سے لیا یا مکانوں کے لیے لیا تو جتنا جتنا آپ لوگ pay off کرتے جاتے ہیں وہ آپ کا کلیئر ہوتا جاتا ہے اور پراپرٹی آپ کے نام آتی جاتی ہے۔ اور وہ اس صورت میں اس طرح ہی ہے کہ جس طرح ایک late payment کریں تو زیادہ پیسے دیں اور اگر جلدی کیش پیمنٹ کریں تو سستی قیمت میں مل جاتی ہے۔ یہ تو بزنس ہے۔ تو اس میں یہ دیکھنے والی باتیں ہیں۔ لیکن جس کا نام دینے والے نے سود رکھا ہے، وہ سود ہے، اس کے لیے سوچ سمجھ کے قدم اُٹھانا چاہیے۔

ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور سے ایسی نصیحت یا حکم کے بارے میں دریافت فرمایا کہ جس پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی مثبت رنگ میں تبدیل ہو جائے۔

اس پر حضورِ انور نے زندگی میں مثبت تبدیلی لانے اور مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے کام ٹھیک کرتا ہے۔ کہیں بھی مشکل ہو، تو دو نفل پڑھو، سجدہ کرو، رو کے دعا کرو اور وہی چیز آپ کے کام آئے گی۔ یہی ایک چیز ہے کہ جس کو پکڑیں گے، تو کامیاب ہو جائیں گے، نہیں تو اور بہت ساری روکیں ہیں اور مشکلیں آ سکتی ہیں۔

ایک سائل نے اس حوالے سے راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی کہ آجکل کئی نوجوانوں اور بالغ لوگوں میں اچھے یا بامقصد کام کرنے کی ترغیب پیدا نہیں ہوتی۔ کیا یہ آجکل کی تہذیب اور معاشرے کی وجہ سے ہے یا لوگ بدل رہے ہیں؟ ہم بطور ایک جماعت خود بھی اور اپنی اولادوں کو بھی اس پر قابو پانے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

اس اہم سوال کے جواب میں حضورِ انور نے محنت، مقابلے اور بلند مقاصد کے حصول کی کوشش کو ہر دَور کی حقیقت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ کون سا وقت تھا کہ جب لوگ struggle نہیں کرتے تھے؟ ہر زمانے میں لوگ یہی کرتے ہیں، اپنے جو higher goals ہیں، ان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ وہی آپ کا مطلب ہے۔ تو صرف اس زمانے میں تو کچھ چیلنج نہیں ہے، یہ تو ہر زمانے میں تھا، ہر زمانے میں یہی ہوتا تھا کہ ہم کس طرح excel کریں۔ competition ہوتا ہے اور competition جب سے انسان بنا ہے اس وقت سے ہو رہا ہے۔ یہ کمپٹیشن ہی ہے کہ جس نے کسی ایک کو لیڈر بنا دیا اور کسی کو اس سے کم بنا دیا یا کسی کو عوام میں سے بنا دیا۔ ان میں سے بھی یہ competition ہی تھا کہ جس نے علم حاصل کیا۔

پھر اسلام کے ابتدائی دَور میں علمی ترقی، تعلیم و تحقیق کے فروغ اور مسلمانوں کے علمی عروج کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِ انور نے مزید ارشاد فرمایا کہ آج کی کیا بات ہے، اس زمانے میں جب اسلام دنیا میں پھیل رہا تھا، یہ competition ہی تھا کہ جس نے تعلیم کی طرف توجہ دلائی اور اسلام کی تعلیم نے توجہ دلائی۔ اس لیے اسلام میں بہت سارے سائنٹسٹ پیدا ہوئے، بہت سارے سکالر پیدا ہوئے، بہت سارے ہسٹورین پیدا ہوئے اور انہی کے آج کل references چلتے ہیں۔ تو inventions تو بہت ساری مسلمانوں نے کی ہیں۔ جب یہ یورپ اندھا تھا، اس وقت اسلام اُوپر چڑھا ہوا تھا، بہت ساری تعلیمی باتیں کرتا تھا۔ ان کی لائبریریاں بہت بڑی بڑی تھیں۔ سپین میں بہت بڑی لائبریریاں تھیں۔

اسی تاریخی تناظر میں مسلمانوں کی علمی ترقی اور یورپ کے اُس وقت کے حالات میں فرق کو ایک مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ یہاں کے بادشاہ کو ایک مسلمان نے گھڑی بھیجی، جو اس وقت زمانے میں گھڑی تھی، clock کو کہتے ہیں، ہم clock کو repair کرتے ہیں۔ تو وہ یوں کر کے اس وقت اس زمانے میں ایک چڑیا باہر نکلتی تھی اور یا کوئی جانور نکلتا تھا، ہُو کر کے بولتا تھا، تو وہ بادشاہ کو پہنچی تو اتنا زیادہ وہ خوفزدہ تھا کہ وہ سمجھا کہ مجھے اس نے جادو کر دیا ہے یا ہو جائے گا۔ اس لیے اس نے فوراً اس گھڑی کو تحفے کو زمین میں دبا دیا۔ عقل تو ان کی اتنی تھی۔ تو آج کل آپ کہتے ہیں کہ یہ یورپ ترقی کر رہا ہے۔

اس کے بعد مغربی کلچر اور اسلامی تعلیم کے فرق کو سمجھنے، علم کو محض کلچر سے الگ پہچاننے اور بچوں کی صحیح فکری تربیت کرنے کے حوالے سے حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ یورپ ان چیزوں سے سیکھ کے ترقی کر رہا ہے کہ جو مسلمانوں نے دیں اور ہم بھول گئے ہیں۔ آج کل کے بچوں میں اگر یہاں ترقی کی طرف توجہ ہے، تو اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپ ترقی یافتہ ہے، اس لیے ہم نے ترقی کرنی ہے اور پڑھائی کرنی ہے اور اپنا علم بڑھانا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ تو وہ اس کو کلچر کا حصّہ سمجھنے لگ گئے ہیں، حالانکہ کلچر نہیں ہے، علم ہے۔ مذہب اور کلچر میں فرق ہے۔ ابھی مَیں نے بتایا، مثال دی ہے، Introduction to the Study of the Holy Quran کتاب کا مَیں نے بتایا تھا۔ اس کے جو پہلے چالیس پچاس صفحے ہیں، اس کو اگر آپ پڑھیں، پڑھے لکھے آدمی لگ رہے ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں، تو اس کو پڑھیں، تو اس میں چالیس پچاس صفحوں میں پتا لگ جائے گا کہ کلچر اور مذہب میں difference کیا ہے؟ اس سے آپ کو اس کی بیک گراؤنڈ سمجھ آ جائے گی اور پھر آپ اپنے بچوں کو بتا سکیں گے کہ یہ مذہب ہے اور یہ کلچر ہے اور تم ترقی کر رہے ہو، تو اچھی بات ہے، لیکن آج کل کی ترقی کو ان کا کلچر سمجھ کے یہ ترقی کی وجہ نہ سمجھو بلکہ مذہب نے ہمیں بہت پہلے ہی یہ سکھا دیا تھا۔

مزید برآں علم حاصل کرنے کی اسلامی تعلیم، چینی تہذیب کے طویل علمی و تجرباتی پسِ منظر اور مغرب سے مرعوب ہوئے بغیر مختلف قوموں کے تجربات کو سمجھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آج سے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔ اس میں ایک تو یہ ہے کہ لمبا سفر، دوسرے یہ ہے کہ جو چینی کلچر اور چینی civilisation وہ بہت پُرانا ہے۔ اس سے بہت بڑے ان کے تجربے ہیں۔ آپ امریکہ سے آئے ہیں، سائنٹسٹ کا ڈاکٹروں کا امریکن وفد ایک گیا، خاص طور پر آج جیسے تھے، انہوں نے چائنا کو کہا کہ یہ experience اس طرح کرنا چاہیے، تو چینی ڈاکٹروں نے کہا کہ نہیں! ہمارا تجربہ یہ ہے۔ تو امریکن ڈاکٹروں نے کہا کہ ہمارا دو سو سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم دو سو سال کی بات کرتے ہو، ہمارا چار ہزار سال کا تجربہ ہے، تو یونہی ویسٹ کی باتیں سن کے impress نہ ہو جایا کریں یا بچوں کو بتائیں کہ یونہی نہ impress ہوا کرو۔

اسی سلسلے میں مغربی معاشرے کی اخلاقی صورتِ حال، جدید ایجادات بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرات اور دوسروں کی پیروی میں اعتدال اختیار کرنے کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ جو اسلام کی تعلیم ہے، اس کو دیکھو اور وہ یہی کہتی ہے کہ علم حاصل کرو، پڑھو اور ترقی کرو اور یہ کلچر جو ہے، یہ تمہیں صرف تعلیم کی طرف نہیں لے جا رہا، بلکہ اس کلچر میں تو تمہاری بُرائیاں بہت زیادہ پیدا ہو گئی ہیں۔ ان بُرائیوں کی لسٹ بنائیں کہ کتنی زیادہ ہیں، تو پھر دیکھیں ترقی کیا ہے۔ کیا morally بہت اچھے ہو گئے ہیں، نیچے ہی جا رہے ہیں۔ اور پھر جو نئی نئی ایجادیں کر رہے ہیں، ان میں AI یا فلاں فلاں جو ہیں، ان سے کیا ہوا ہے؟ اب اسی کو، جو ان کے فاؤنڈر تھے، وہی وارننگ دینے لگ گئے ہیں کہ یہ خطرناک ہو جائے گی۔ تو ہر بات میں ان کے پیچھے نہیں ہم نے چل پڑنا۔ تو یہ اپنے بچوں کو بھی بتائیں اور خود بھی دیکھیں۔

جواب کے آخر میں حقیقی ترقی کے اسلامی تصور، نیکیوں میں آگے بڑھنے، دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے اور پوری قوم کی اجتماعی بہتری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ ہاں! ترقی کرنی ہے، وہ ہمارا اسلام بھی کہتا ہے کہ ترقی کرو، فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِقرآنِ شریف میں بھی آیا ہے کہ یہاں نیکیوں میں ترقی کرو اور ہر کام میں ترقی کرو، اچھے کاموں میں ترقی کرو۔ تمہارے قدم آگے بڑھنے چاہئیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خود نہ بڑھو بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلو۔ جب اللہ تعالیٰ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِکہتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے ایک step اُوپر کیا ہے، تو صرف اپنے آپ کو اُوپر نہ لے کر جاؤ بلکہ پیچھے جو آنے والے ہیں، ان کو بھی اپنے ساتھ کھڑے کر کے تو ایک step اپنی سیڑھی کے اُوپر لے کے آؤ۔ تو اس طرح پوری قوم ترقی کرے گی۔ تو ہم نے قوموں کی ترقی کرنی ہے۔ قوموں کو سنوارنا ہے۔ صرف ایک محدود کلچر کے اندر نہیں رہنا۔ بڑا وسیع مضمون ہے۔

اسی دوران حضورِ انور نے سائل سے استفسار فرمایا کہ آپ سائیکاٹرسٹ ہیں؟

اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ بس اس کو آپ اس طرح سارے بچوں کو بتائیں تو ٹھیک ہو جائے گا۔

ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ پیارے حضور! ہم اس بات کا اِدراک کیسے کر سکتے ہیں کہ ایک ایسی زندگی جو بظاہر کامیاب نظر آتی ہے اور ایک ایسی زندگی جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی نظر میں کامیاب ہے، ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سائل سے استفسار فرمایا کہ آپ کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی نظر میں کیا کامیاب زندگی ہے؟

جس پر سائل نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کو پانا، اس تک پہنچنا۔

پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقیقی مقاصد، عبادت کے اعلیٰ معیار کے حصول اور حقوق العباد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں کیا بتایا ہے کہ مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، تو اس کا مطلب کامیاب زندگی کا پہلا قدم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ اگر آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر رہے ہیں، اس کے بارے میں پیچھے مَیں نے کئی خُطبات دیے ہیں، ایک سلسلہ دے رہا ہوں، اس میں عبادت کا بھی آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عبادت کے کس طرح کے معیار تھے، اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اور صحابہؓ کو کیا نصیحت کرتے تھے، مختلف موقعوں پر بتاتا رہتا ہوں۔ تو یہ آپ نے دیکھنا ہو گا کہ ہمیں یہ پانے کے لیے عبادت کے کیا معیار حاصل کرنے ہیں؟ اس کے بعد حقوق العباد، اللہ کے بندوں کے حق کیا ہیں، وہ بھی ضروری ہے۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے دو بنیادی مقاصد اور ان کی روشنی میں حقیقی کامیاب زندگی کا معیار بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں دو مقصد لے کر آیا ہوں، تو دو مقصد لانے کا مقصد یہی تھا کہ وہ کامیاب زندگی انسان گزارے کہ جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہتر ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ایک اللہ تعالیٰ کا حقّ ادا کرو، ایک اس کے بندے کا حقّ ادا کرو۔ تو اگر یہ دونوں آپ حقّ ادا کر رہے ہیں تو آپ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور کامیابی کی زندگی گزارنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن اگر آپ خود غرض ہیں اور اپنی خواہشات کو ہی پُورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسروں کو نہیں دیکھ رہے، تو کامیاب زندگی نہیں ہے۔ فرق ہے۔ پتا لگ جائے گا۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصاویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’السّلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے پَریری (Prairies) ریجن کے اراکین مجلس عاملہ و قائدین مجالس کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button