اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
کالیا نوریا ضلع شیخوپورہ: ۲؍ستمبر کو پولیس نے مقامی مولوی اور دیگر شدت پسند عناصر کے دباؤ میں آکر توہین مذہب کا ایک مقدمہ درج کر کے مقامی احمدیہ مسجد اور اس سے ملحقہ مسجد کی ہی ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی احمدی نے پولیس کو شکایت درج کروائی کہ اس پر حملہ کر کے اس کو زخمی کیا گیا ہے۔ لیکن فریق مخالف نے مقامی مولوی کے ساتھ مل کر ایک من گھڑت کہانی بنائی کہ قرآن کا ایک نسخہ اور احمدیہ لٹریچر مقامی احمدی مسجد سے برآمد ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں پولیس نے پانچ ۵؍احمدیوں کے خلاف توہین کا مقدمہ درج کر کے مسجد اور اس سے ملحقہ مربی ہاؤس کو سیل کر دیا۔ بعد ازاں تمام پانچ احمدی احباب کو عبوری ضمانت مل گئی اور مسجد کو بھی کھول دیا گیا۔ لیکن پولیس نے تحریک لبیک کے شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر ایک احمدی کو باوجود عبوری ضمانت کے ان کے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارکر دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے ان کی ذاتی مسجد کے محراب کو مسمار کر دیا اور چھت اور کھڑکیوں کے کچھ حصوں کو توڑ کرانہیں ناقابل استعمال بنادیا۔ مسجد کو نقصان پہنچانے کی کارروائی باہومان اور کالیا میں ختم نبوت کانفرنس میں مقررین کی جانب سے جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی۔ اگرچہ بڑی تعداد میں پولیس اس موقع پر موجود تھی لیکن نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہ کی گئی۔
لویری والا ضلع گوجرانوالہ: ۴؍دسمبر کو محکمہ اوقاف کے اہلکاروں نے لویری والا ضلع گوجرانوالہ میں موجود احمدیہ مسجد کے محراب کو مسمار کردیا۔ یہ کارروائی بغیر کسی نوٹس کے اس وقت کی گئی جبکہ عدالت کے اندر اس معاملے کی سماعت جاری ہے۔ اس سے قبل جولائی میں تحریک لبیک وزیرآباد سے تعلق رکھنے والے پیر طیب نواز نے ایڈیشنل جج وزیرآباد کے سامنے اس ضمن میں ایک درخواست پیش کی تھی۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ مسجد میں مینارا ور محراب کی موجودگی امتناع احمدیت قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ اور ساتھ ہی اس نے ان کو مسمار کرنے اور مقامی احمدی قیادت کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔ اس نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ مقامی پولیس نے اس کی درخواست پر عمل درآمد سے گریز برتا ہے۔
عدالت نے فریقین کو طلب کیا اور معاملہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ معاملات پر غورو خوض کرنے کے بعد پولیس نے اپنی ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں انہوں نے طیب نواز کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے مینار و محراب غیر قانونی ہیں۔ عدالت نے بھی اس رپورٹ کو تسلیم کر لیا اور مینار و محراب مسمار کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اکتوبر میں عدالت نے از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیا کیونکہ مسجد کے مینار ومحراب مسمار کرنے کے وقت جائزہ مکمل نہیں کیاگیا تھا۔
اس معاملے کی سماعت ابھی جاری تھی لیکن محکمہ اوقاف کے اہلکاروں نے اس بات کا علم ہونے کے باوجود مسجد کے مینار اور محراب کو مسمار کر دیا۔ مینار اور محراب مسمار رکرنے کی کارروائی ۲۰؍منٹ تک جاری رہی اور اس کے متعلق کسی قسم کا کوئی بھی نوٹس نہیں دیا گیا۔
قبرستانوں پر حملے
زندگی گزارنےا ور اپنی ثقافتی شناخت ظاہر کرنے کا حق متوازن چلتے ہیں اور انہیں کسی بھی صورت ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ طبعی اور حیاتیاتی تباہی کسی بھی گروہ کی شناخت، اس کی زندگی اور ان حالات جن میں وہ زندگی گزار رہا ہو، کے ساتھ منسلک ہیں۔ (جج انٹونیوکنساڈو)
فاروق آباد ضلع شیخوپورہ: ماہ جنوری میں فاروق آباد ضلع شیخوپورہ کی احمدیہ جماعت کو سخت تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا جب علاقے میں موجود احمدی قبروں کی بے حرمتی کی گئی اور احمدیوں کے گھروں کے باہر مذہب سے متعلق نفرت انگیز باتیں لکھی گئیں۔
ان واقعات کا آغاز ۱۸؍جنوری کی رات کو ہوا جب بہت سے احمدی گھروں کے باہر نفرت انگیز عبارتیں لکھ دی گئیں۔ افراد جماعت نے اس بابت پولیس کو رپورٹ کی تو پولیس نے احمدیوں کو ایک انتباہ کے متعلق بتایا جس کے مطابق اس نفرت انگیز تحریری مہم کے پیچھے مقامی تحریک لبیک کا راہنما راشد کمبوہ تھا۔ ساتھ ہی اس انتباہ میں اس خدشہ کا بھی ذکر کیا گیا کہ تحریک لبیک کی جانب سے ضلع بھر میں احمدیہ مساجد، قبرستانوں اور احمدیوں کے گھروں پر حملہ کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اور ساتھ ہی احمدیوں پر جان لیوا حملوں کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان خدشات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کو عمل میں نہ لایا گیا۔ مقامی میونسپل کمیٹی کے کارکنان کی جانب سے ان تحریروں کو مٹایا گیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انہی جگہوں پر وہی تحریریں دوبارہ لکھ دی گئیں۔ ۳ روز بعد ۲۱؍جنوری کو رات کے وقت فاروق آباد کے احمدیہ قبرستان میں کچھ نامعلوم افراد داخل ہوئے اور ۷؍احمدیہ قبروں کو نقصان پہنچایا۔ حملہ آوروں نے قبروں کے کتبوں کو مسمار کر دیا اور باقی پر سیاہی پھیر دی۔ افراد جماعت نے اس وقوعہ سے متعلق پولیس کو آگاہ کیا جس پر پولیس نے اس حملہ کے متعلق ایک مقدمہ درج کر لیا۔ اس وقوعہ کے بعد انہی حملہ آورں نے دوبارہ قبرستان میں موجود مزید ۳۳؍قبروں کی بے حرمتی کی۔ اس طرح ایک ہفتے کے اندر ۴۰؍احمدی قبروں کو نقصان پہنچا کران کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا گیا۔
اس حملے کے بعد مقامی جماعت احمدیہ کے عہدیداران ایڈیشنل ڈی پی او شیخوپورہ کو ملے اور اس حملے کی تمام تفصیلات سےڈی پی او کو آگاہ کیا۔ ساتھ ہی اسے تصاویر کی شکل میں قبروں کی بے حرمتی اور نفرت انگیز تحریرات کے تمام تر ثبوت فراہم کرتے ہوئے احمدیوں کے جان ومال کے تحفظ اور اس حملے میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ ڈی پی او نے پولیس کی سیکیورٹی برانچ کو اس معاملے کی چھان بین کا کہا لیکن پولیس اس معاملے میں لیت و لعل کا شکار رہتے ہوئے کسی بھی کارروائی سے گریزاں رہی۔ مزید کئی جگہوں پر انتظامیہ نے نفرت انگیز تحریروں پر صرف سفیدی پھیر دی لیکن علاقے کے اندر احمدیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا عندیہ نہ دیا۔
لاڑکانہ: مقامی مرکز صحت میں علاج کے دوران ۳۱؍دسمبر ۲۰۲۴ء کو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ چانڈیوکی وفات ہو گئی۔ دوران علاج جمعیت علماءاسلام سے تعلق رکھنے والے ایک سٹاف ممبر نے ان کی احمدی شناخت ظاہر کردی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر نشر کر دی گئیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ اس شخص کو کسی مسلم قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ ان مطالبات کے بعد بڑھنے والی شورش کے نتیجے میں چانڈیو ہاؤس لاڑکانہ کے باہر پولیس کی نفری کو تعینات کرنا پڑا۔ پولیس نے کہا کہ ان کی تعیناتی کا مقصد صورتحال پر نظر رکھنا اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ ساتھ ہی شدت پسند عناصر جو احمدیوں کی مخالفت کے لیے مشہور ہیں وہ بار بار اس علاقے کا دورہ کرتے رہے۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ان کے اہل خانہ نے کسی مسجد یا عوامی جگہ کی بجائے ان کی نماز جنازہ گھر میں ہی ادا کی۔ جب ان کے اہل خانہ نے ان کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں منتقل کرنے کی کوشش کی تو انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ اگر ان کی تدفین عمل میں لائی گئی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور ہم آپ کے تحفظ کی کوئی یقین دہانی نہیں کروا سکتے۔ حالات کی سنگینی اور عدم تحفط کے خطرات کے باعث عبداللہ کے خاندان کو ان کی تدفین کسی اور مقام پر کرنا پڑی۔




