حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط دوم۔ آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
حضرت مسیح موعودؑ نے آکر یہ سب کچھ بتایا اورتوحید کو پورے طور پر بیان کیا۔ جو کام مولوی اتنے عرصے سے نہ کر سکے۔ اسے مسیح موعودؑ نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر دکھایا اور یقیناً وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ یہ سب کچھ نظر آسکتا ہے۔ بشرطیکہ کوئی آنکھ کھولے اوراس کے دیکھنے کی کوشش کرے
[گذشتہ سے پیوستہ] شرک کے معنی ہی مفہوم کو واضح کر رہے ہیں۔ شرک کے معنی ہیں کہ کسی چیز میں دو مساوی ہوں۔ اب غور کرو خدا بھی رزق دیتا ہے اور ہم بھی۔ لیکن جس قسم کا رزق خدا تعالیٰ دیتا ہے۔ اس میں ہم خدا کے شریک نہیں۔ کیونکہ جو کچھ ہم کسی کو دیتے ہیں۔ یہ تو خدا ہی نے ہمیں دیا اور ہم اسی میں سے دیتے ہیں۔ اس لیے ہماری اور اس کی اس رزق دینے میں کوئی شرکت نہیں رہتی۔ دیکھو اگر ہم کسی کو کچھ دیتے ہیں۔ تو وہ ہمارا شریک نہیں بن جاتا۔ کیونکہ ہم عطیہ کے طورپر دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اسے اپنا شریک بنا لیتے ہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ تو بہت سے ملیں گے جو دوسرے کو کوئی چیز دے دیتے ہیں لیکن ایسا کوئی نہیں ملے گا جو بطور شریک کسی کو اپنے ساتھ شامل کرے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو کوئی چیز سالم کی سالم دے دے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی چیز میں اپنا شریک بنالے۔ مثلاً ایک شخص اپنے نوکر کو ایک مکان پورے کا پورا تو دے دے گا۔ لیکن یہ ہرگز نہیں کرے گا۔ کہ اسے کہے فلاں مکان میں تو میرا شریک بن جا۔ جس طرح اس پر میرے حقوق ہیں اسی طرح تیرے بھی ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔ اس بات کو قرآن کریم نے بیان بھی کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ نحل میں آتا ہے۔ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نوکروں کو اس قدر مال دے دیتے ہیں کہ وہ فیہ سواء ان کے برابر ہوجاتے ہیں۔ مگر ایسا کوئی نہیں ملے گا جو نوکر کو اپنے مال میں شریک کرے۔ پس خدا بھی بطورعطیہ کے ہمیں دیتا ہے۔ نہ کہ اپنا شریک بنا کر۔ پس یہ تو ایک شخص کر سکتا ہے کہ اپنا کوئی مکان یا اپنی زمین کا کچھ حصہ کسی کے حوالے کر دے۔ لیکن یہ نہیں کرسکتا کہ اپنے حقوق میں شریک بنائے۔ ایک کروڑ پتی ایک روپے میں بھی کسی کو شریک نہیں بنائے گا۔ وہ دس ہزار روپیہ دے دینا آسان سمجھے گا۔ مگر ایک روپیہ میں کسی کو شریک کرنا اس کے لیے مشکل ہو گا۔ پس اس آیت کا یہ منشاء نہیں کہ کسی غیر کو اپنے مال میں شریک بنا لیا جاتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بیان کرنا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو کسی کو اپنے مال میں مساوی شریک بنالے۔ پس جب کوئی انسان ایسا نہیں کرتا۔ تو
خدا کی ذات کے متعلق یہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس نے بعض صفات کو ظلی اورانعکاسی طور پر بندوں کو دے کر اپنا شریک بنا لیا ہے۔
جس طرح ایک انسان کسی دوسرے انسان کو کچھ دیتا ہے تو وہ گویا اس کا مظہر ہو جاتا ہے کیونکہ اس دی ہوئی چیز کے ذریعے جو کچھ بھی اس سے ظاہر ہو گا۔ وہ در حقیقت اس شخص کا ہو گا۔ جس نے اسے کچھ دیا اوراس قابل بنایا۔ اسی طرح بندوں میں اگر بعض وہی باتیں پائی جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ میں ہیں۔ تو اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ بندے بھی خدا ہوگئے۔ بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ خدا کی صفات کے مظہر ہوگئے اوراگرغور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو پیدا ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ بعض صفات میں اللہ تعالیٰ کا مظہر بنے۔ پس
ان صفات کو بندوں میں پیدا تو کیا گیا لیکن ایک حد تک۔ اوران کی حد بندی کر دی۔
مگربعض نادان ان صفات کو ایک بندہ میں دیکھ کر شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان صفات کو انسان میں داخل کرنے کی یہ غرض ہے کہ وہ خدا کا مظہر بنے۔ کیونکہ بغیران کے وہ مظہر ہو ہی نہیں سکتا۔ بینائی ہے۔ شنوائی ہے۔ گویائی ہے۔ علم ہے اور اورایسی باتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے انسان میں اپنا مظہر بنانے کے لیے رکھیں اور پھر یہ باتیں بعد میں بھی پیدا نہیں ہوئیں۔ بلکہ یہ پہلے دے کر انسان کو بھیجا ہے اور جس حد تک یہ انسان میں رکھی ہیں۔ اس سے بڑھ بھی نہیں سکتیں۔
اب اس تعریف کے ماتحت دیکھو۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح بھی مردے زندہ کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے مردے زندہ کرنا ہمارا کام ہے۔ باوجود اس کے اگر کوئی ایسا کرتا ہے۔ وہ شرک کرتا ہے۔ اسی طرح کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کرتے تھے۔ کیونکہ اس کے متعلق بھی خدا فرماتا ہے کہ پیدا کرنا ہمارا کام ہے۔ پس اگر توحید کی یہ تعریف مسلمانوں کے ذہن میں ہوتی تو پھر وہ کس طرح یہ کہہ سکتے تھے کہ کوئی انسان بھی مردے زندہ کر سکتا ہے۔ یا کوئی انسان پرندے بنا سکتا ہے۔ مگر
یہ سب توحید اور شرک کی حقیقی تعریف نہ سمجھنے کا نتیجہ ہوا۔ کہ لوگ ایسے ایسے شرکوں میں پھنس گئے کہ باوجود بتانے کے بھی وہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ بھی کوئی شرک کی قسم ہے۔
غرض
وہ قوتیں جو خدا تعالیٰ بندوں کو دیتا ہے اور وہ طاقتیں جو اس کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں۔ وہ موہبت ہوتی ہیں۔ اورعطیہ کے طریق پر ہوتی ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ اس لیے بندوں کو دیتا ہے۔ تا اس کی صفات کا اظہار ہواوراس طور پر بندے میں ان صفات کا ہونا شرک نہیں۔
مثلاً کسی کے پاس ہزار روپیہ ہے۔ اگر وہ کسی کو سو روپیہ دے دے تو حرج نہیں۔ کیونکہ اس طرح دینا خدا تعالیٰ نے انسان کے اختیار میں رکھا ہے۔ مگر کسی کو بیٹا دینا یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے۔ میں بیٹا دے سکتا ہوں۔ تو وہ مشرک ہوگا۔ کیونکہ انسان کو تو اتنا بھی علم نہیں ہوتا کہ یقینی طور پر کسی کے متعلق یہ کہہ سکے کہ اس کے ہاں بیٹا ہو گا یا بیٹی۔ پس روپیہ دینا خدا نے بندے کے اختیار میں رکھا ہے لیکن بیٹا دینا بندے کے اختیار میں نہیں رکھا۔ کیونکہ اس طرح خدا اور بندہ دونوں ایک کام میں مشترک ہو جاتے ہیں اور شرک لازم آتا ہے۔ پس ایسا شخص جو یہ کہے کہ میں بیٹا دے سکتا ہوں وہ مشرک ہے۔
پس سب سے بڑھ کر حربہ شرک کے برخلاف یہی ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا اوراگراسے پورے طور پر چلایا جائے۔ تو شرک کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اس زمانہ میں توحید اور شرک کا مضمون ایسا باریک ہو گیا ہے کہ باوجود سمجھانے کے بھی اکثر لوگ اسے نہیں سمجھ سکتے۔ اوراگراور بحث کرو۔ تو وہ اتنا فلسفیانہ ہو جاتا ہے کہ اور بھی بہت کم لوگ اسے سمجھ سکتے ہیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس مضمون کو بالکل صاف کر دیا اور بعض ایسے قوانین بیان فرمائے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتے۔
جیسا کہ
انبیاء کا کام ہے کہ دنیا میں بیج ڈال دیتے ہیں۔ آگے اسے بڑھانا اور پھل سنبھالنا بعد کے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔
ایک استاد صرف سبق پڑھاتا ہے۔ آگے یہ کام شاگرد کا ہوتا ہے کہ اسے یاد کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ اسی طرح
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تعلیم کا بیج بودیا اور توحید کی تخم ریزی کی۔ اب ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں
اورمیں نے دیکھا ہے کہ اس تعلیم پر چل کر مجھے ایسے لوگوں کے جواب کے لیے کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔ جو مشرکانہ عقائد رکھتے ہیں اوروہ تعلیم یہ ہے کہ جن کو تم خدا کا شریک سمجھتے ہو۔ ان کا اپنا دعویٰ پیش کرو کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ پھر ہم مان لیں گے۔ اگر کوئی آکے یہ کہے کہ کالی دیوی یوں کرتی ہے تو ہم کہیں گے۔ بہت اچھا ثابت کرو۔ اس کا اپنا دعویٰ اس کے متعلق یہ ہے۔ غرض کالی دیوی ہو یا سومنات – حضرت عیسیٰؑ ہوں یا امام حسینؓ۔ مشرک ان کی طرف جو باتیں منسوب کرتے ہیں۔ انہیں ہم ماننے کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ یہ دکھا دیں وہ خود ان باتوں کے مدعی ہوں۔
پھر یہ بات بھی ان کا رد کرتی ہے کہ ہم جسے اللہ مانتے ہیں۔ وہ تو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لیے دنیا میں نبی بھیجا کرتا ہے۔ اوراس وقت تک کئی نبی اس کی طرف سے آچکے ہیں۔ لیکن ان کو جنہیں تم خدا کے ساتھ شریک کرتے ہو کبھی نبی بھیجا ہے۔ خدا تو اپنے بھیجے ہوئے نبیوں کو الہام کرتا ہے۔ مگر دنیا کی تاریخ میں کہیں یہ نہیں دیکھنے میں آیا کہ کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں فلاں بت یا معبود کی طرف سے نبی ہوں اوروہ مجھے الہام کرتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جب ان کو طاقتیں دی گئیں تو وہ نبی نہیں بھیجتے۔ تاکہ دنیا کو ان کا پتہ لگے۔ پس یہ دعویٰ ہی دعویٰ ہے اور وہ بھی غلط۔ کہ کسی اورکو بھی ویسی ہی طاقتیں اور قدرتیں حاصل ہیں جیسی خدا تعالیٰ کو۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ گُر بتایا ہے۔ اس سے ایک انسان شرک سے بکلّی بچ جاتا ہے اور باتیں بھی ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے توحید کے متعلق بتائی ہیں اورجو سراسر مفید ہیں۔ ان کو انشاءاللہ تعالیٰ اگلے جمعہ میں بیان کروں گا۔ فی الحال میں اسی پر بس کرتا ہوں۔ پھراگر توفیق ملی تو اس آیت کے باقی مطالب پر انشاءاللہ تعالیٰ بحث کروں گا۔
اب غور کرنا چاہو، مولوی موجود تھے۔ عالم موجود تھے۔ پیر موجود تھے۔ مگر کچھ نہ کر سکے۔ مولوی سینکڑوں سالوں سے چلے آتے ہیں لیکن شرک کا مقابلہ کرنے سے وہ عاجز رہے اور یہی حال اب بھی ہے۔ اگراس زمانہ کے بگڑے ہوئے مولوی یہ کام کر سکتے تھے۔ تو تین چار سو سال سے توحید جو دھکے کھا رہی تھی۔ کیوں نہ اسے قائم کر سکے۔ ہر طرف سے توحید پر حملے ہو رہے تھے۔ عیسائی اورہندوؤں جیسی مشرک قومیں ان کے سامنے یہ کچھ کر رہی تھیں۔ اورہرطرز پرحملے کررہی تھیں۔ لیکن یہ دیکھتے تھے اور کچھ نہ کرتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ کچھ کر بھی نہ سکتے تھے۔ کیا ان باتوں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کی ضرورت تھی کہ کوئی اور شخص آئے۔ جو خدا سے الہام پا کر اس حقیقت کو بیان کرے۔ پس حضرت مسیح موعودؑ نے آکر یہ سب کچھ بتایا اورتوحید کو پورے طور پر بیان کیا۔ جو کام مولوی اتنے عرصہ سے نہ کر سکے۔ اسے مسیح موعودؑ نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر دکھایا اور یقیناً وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ یہ سب کچھ نظر آسکتا ہے۔ بشرطیکہ کوئی آنکھ کھولے اوراس کے دیکھنے کی کوشش کرے۔
خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم شرک سے بچیں اوراس توحید کے عامل ہوں جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوٰۃ والسلام لائے۔ اورجو آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن کریم نے بتائی اور آنحضرت ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کی۔ اور اس تعلیم پر چلنے کی ہمت عطا فرمائے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی۔ اوراس بات کی بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کو صحیح معنوں میں دنیا میں پھیلانے والے بنیں۔ (آمین)
(الفضل ۳ا؍اکتوبر ۱۹۲۵ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اوّل)




