تحریک جدید کی مالی قربانی کے چند ایمان افروز واقعات
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۸؍نومبر۲۰۲۴ء)
قادیان کے وکیل المال لکھتے ہیں کہ کیرالہ کے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے بڑے بُرے حالات تھے۔ کوئی کام نہیں مل رہا تھا۔ آخر میں نے سوچا کہ اَور تو کچھ نہیں، کپڑے کا کام شروع کرتا ہوں اور فٹ پاتھ پر ہی ایک میز لگا کر کام شروع کر دیا اور چندے کی ادائیگی باقاعدہ شروع کر دی۔ باقاعدہ حساب کر کے چندہ دیتے تھے۔ جو بھی آمد ہوتی تھی اس میں اللہ کے فضل سے بڑی برکت پڑی اور کہتے ہیں اب میں بڑی بڑی رقمیں چندے میں دیتا ہوں۔ کاروبار بھی دو تین سال میں وسیع ہو گیا۔ جہاں دوسرے لوگوں کے کاروبار متاثر ہو جاتے ہیں حالات کی وجہ سے لیکن ان کے کام میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا رہا اور متاثر نہیں ہوئے۔
یہ ہیں چندہ دینے کی برکات۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بھی کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں برکت ڈال دیتا ہے اور ہم کام کرتے ہیں ہماری برکت اتنی نہیں پڑتی۔ اگر نیک نیت ہو تو اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچاتا چلا جاتا ہے۔ پس احمدی کو یہی فائدہ ہے کہ قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرتاہے اور ساتھ پھر جو دعائیں ہیں وہ قبول کرتا ہے اور اس کی برکات پھر ظاہر ہوتی ہیں۔ تو ان کی بھی یہ قربانی ہے۔ یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر جو میں نے قربانی کی، چندہ باقاعدگی سے دیتا تھا اس کا نتیجہ ہےکہ میرے کاروبار میں برکت پڑی۔ دوسرے لوگوں کے معاشی حالات بگڑ رہے تھے حالات کی وجہ سے لیکن کہتے ہیں مجھے تو فائدہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اب ان کی اپنی بڑی بڑی دکانیں ہیں۔ کہاں فٹ پاتھ پر ایک ٹھیلہ لگایا ہوتا تھا، میز رکھی ہوتی تھی، اَب دکانیں ہیں بڑی بڑی اور شوروم بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب وہ لاکھوں میں چندہ ادا کرتے ہیں۔ اسی سال انہوں نے تحریک جدید میں بھی دس لاکھ روپیہ ادا کیا۔
…اسی طرح سیریا کے ایک صاحب ہیں علی صاحب، کہتے ہیں مَیں نَومبائع ہوں۔ تحریکِ جدید کا پہلا وعدہ کیا۔ اپنے حالات کے لحاظ سے بڑا وعدہ لکھوا دیا۔ پھر دل میں کہا کہ رمضان سے پہلے میں یہ رقم جمع کروں گا۔ نوکری کرتا تھا، کوئی کانٹریکٹ وغیرہ نہیں تھا۔ سادہ سا کام تھا کارٹون وغیرہ کی ڈبنگ کر کے کام کیا کرتے تھے۔ تو کہتے ہیں مجھے پریشانی ہوئی کہ کس طرح میں یہ وعدہ پورا کروں گا تو بہرحال اسی سوچ میں ایک دن یہ مینیجر کے پاس گئے، اسے سلام کیا۔ مینیجر کہتے ہیں فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا اس نے ہاتھ ہلا کر مجھے جواب دیا کہ بعد میں بات کرتے ہیں۔ کہتے ہیں میں جا کے کینٹین میں بیٹھ گیا تو وہاں اس کمپنی کا جو فنانس افسر تھا میرے پاس آیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا اور اس نے کہا کہ مینیجر نے کہا ہے کہ تمہیں اتنی رقم دے دوں۔ تنخواہ کا گوشوارہ ابھی تیار نہیں ہوا لیکن مینیجر نے خود ہی میرے کام کا اندازہ کر کے مجھے اتنی رقم دے دی اور وہ اتنی رقم تھی جس سے میں تحریکِ جدید کا چندہ ادا کر سکوں۔ اور اس نے یہ بھی مجھے کہا کہ کسی اَور کو نہیں بتانا یہ رقم صرف تمہیں مل رہی ہے۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مدد کرتا ہے۔
کیلگری میں ایک طالبہ ہے اس نے اپنے ایمان میں مضبوطی کا ذکر اس طرح بیان کیا۔ کہتی ہے مجھے ہر کوئی کہتا تھا کہ پڑھائی کے دوران جاب ملنی مشکل ہے۔ میں نے بہت دعا کی اور تحریکِ جدید کے صف اول کے جو چندہ دینے والے تھے ان میں شامل ہونے کے لیے لکھ دیا جو ایک ہزار یا اس سے زائد ڈالر کا وعدہ ہے۔ کہتی ہیں کہ چندہ دینے کی برکت سے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ تین دن میں جاب مل گئی اور میرا ایک سمسٹر بھی ضائع نہیں ہوا اور مجھے پیسے بھی مل گئے اور لوگ اس بات پر حیران تھے۔
بعض غریب ملک ہیں افریقہ کے۔ گنی کناکری ہے، وہاں کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ وہاں ایک جگہ کے صدر جماعت عبداللہ کمارا صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد باقاعدگی سے چندہ ادا کرنا شروع کر دیا اور اس سال کہتے ہیں کُل جو ہمارا وعدہ تھا اس میں چالیس ہزار فرانک کی کمی تھی۔ تو جب مقامی معلم وصولی کے بعد واپس جانے لگے تو اس نوٹ کے ساتھ جانے لگے کہ اتنی کمی ہے تو کہتے ہیں مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ میں اپنے گھر آیا تو میں نے جو اپنے اخراجات کے لیے رقم رکھی ہوئی تھی وہ ادا کر دی۔ کہتے ہیں کہ اگلے دن ہی مجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح return کیا کہ ایک شخص کا مجھے فون آیا۔ اس نے بتایا کہ فلاں وقت میں نے تم سے کام کروایا تھا اور میں اجرت دیے بغیر چلا گیا تھااور میں بڑی معذرت چاہتا ہوں اس کے لیے۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو؟ کیا لینا ہے؟ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ اس وقت تم نے جواجرت نہیں دی تھی اتنے سالوں کے بعد تو پھر اب یہ ہے کہ میں نے ایک موٹر سائیکل خریدنی ہے اور گھر کی تعمیر کروا رہا ہوں اس کو مکمل کروانا ہے اس کے لیے مجھے رقم چاہیے۔ اس نے مجھے فوری طور پر ادا کر دیے کہ یہ تمہاری اجرت ہے حالانکہ کہتے ہیں مجھے پتہ ہے یہ میری اجرت سے بہت بڑھ کر تھا۔ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح کئی گنا بڑھ کر مجھے اپنے فضل سےنوازا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ چندے کی برکت ہے۔
سینٹرل افریقن ریپبلک کے مبلغ انچارج کہتے ہیں: عیسیٰ صاحب نے مجھے بتایا کہ میری زندگی میں بہت سے مسائل تھے۔ گھر کے حالات بھی خراب تھے۔ سوچ رہا تھا کہ جماعت سے قرض کی درخواست کروں۔ ایک دن چندہ تحریکِ جدید اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے حوالے سے تقریر سنی کہ جو اللہ کی خاطر ایک دھیلا دیتا ہے اللہ تعالیٰ دس گنا بڑھا کر واپس کرتا ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا مَیں بھی یہ تجربہ کر لیتا ہوں۔ اسی روز سے چندے کی ادائیگی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کا ایسا کرنا ہوا کہ ترکی کے ایک تاجر نے جو ڈائمنڈ کا کاروبار کرتا تھا مجھے اپنی کمپنی میں لے لیا اور میرے حالات دن بدن بہتر ہونا شروع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب میں نے اپنا گھر بھی تعمیر کر لیا ہے، سواری بھی، نیا موٹر سائیکل خرید لیا ہے۔ پہلے میرے پاس موٹر سائیکل ٹھیک کرانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ اب پھر یہی نہیں کہ غریب ملکوں کی بات ہے۔ جو ایمان کے مضبوط لوگ ہیں ان کی بات ہے بلکہ جو ایمان کے مضبوط لوگ ہیں وہ ہر جگہ یہ نظارے دیکھتے ہیں۔ جو نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں وہ نظارے دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ نظارے دکھا کر چاہے وہ امیر ملکوں میں رہنے والے ہیں یا غریب ملکوں میں رہنے والے ہیں ان کے دین کو تقویت دینے کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ ان کے ایمان کو مضبوط فرماتا ہے۔
امریکہ کے ایک سیکرٹری تحریک جدید ہیں انہوں نے لکھا کہ ڈیلس جماعت کے خادم کالج میں ہیں۔ والدین سے لنچ کے لیے پیسے ملتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس نوجوان نے سوچا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔ ہر روز باہر سے کھانا کھا سکتا ہوں یہ رقم کسی اَور کام کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ تو سوچنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ تحریکِ جدید میں شامل ہو جاؤں۔ چنانچہ انہوں نے وہ رقم تحریک جدید میں دے دی اور خود معمولی سے سیریل وغیرہ لے کر اپنا پیٹ بھر لیا۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا فضل ایسا ہوا کہ میرے امتحانات کے نتائج بہت اچھے آئے اور مجھے زندگی میں بھی سکون آ گیا اور میں نے جس دن سے کم خوراک کھانا شروع کی مجھے ویسے بھی اپنی طبیعت میں ایک سکون محسوس ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو بڑھانا ہوتا ہے جس کے ایمان کو بڑھائے اور میں سمجھتا ہوں میری زندگی کا یہ سب سے بہترین فیصلہ تھا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کی طرف توجہ پید اکی۔
پھر بیلجیم ہے۔ کسی نے اپنی قربانی کے بارے میں لکھا۔ ایک خاتون ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ میں ملازمت کی تلاش میں تھی۔ کئی جگہ میں نے درخواستیں دیں۔ ہر جگہ درخواستیں رد ہو جاتی تھیں، تجربہ نہیں تھا۔ یہ کہا جاتا تھا کہ تمہیں تجربہ نہیں ہے۔ کہتی ہیں مالی سال تحریکِ جدید کا ختم ہو رہا تھا۔ ذہن میں آیا کہ اگرچہ میں اپنا وعدہ تو ادا کر چکی ہوں لیکن اللہ کی خاطر اَور قربانی کروں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ فضل کر دے اور میری جو مشکلات ہیں ان سے مجھے نکال دے۔ کہتی ہیں اس کے بعد میں نے چندے میں اضافہ کر دیا اور کچھ زائدرقم دے دی۔ ابھی چند دن گزرے تھے کہ دو جگہوں سے جاب کی آفر آ گئی اور وہیں انہیں جاب مل گئی جہاں ان کی دلی تمنا تھی اور گھر سے بھی چند منٹ کے فاصلے پر یہ جگہ تھی۔ تو کہتی ہیں کہ میرے لیے تو یہ قدرت کا ایک نشان تھا۔ اس طرح کے بےشمار واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے دکھاتا رہتا ہے اور اس کے بعد پھر جب دوسروں کو بھی پتہ لگتا ہے تو اس کو دیکھ کر ان میں بھی قربانی کی روح پیدا ہوتی ہے۔
بعض لوگ جماعت میں ایسے بھی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، ارشاد ہے کہ سِرًّا قربانی کرنے والے ہیں۔ ایسے ہیں جو چھپ کےقربانی کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس کا کسی کو پتہ نہ لگے بلکہ بعض اس طرح کے ہیں کہ ایک جگہ سے ایک سیکرٹری مال نے لکھا اور وہاں کے مربی صاحب نے بھی لکھا کہ میں نے مشن ہاؤس کے سامنے جماعت کا لیٹرباکس کھولا تو اس میں ایک لفافہ پڑا ہوا تھا۔ اس میں ایک ہزار یورو تھا اور لکھا تھا تحریکِ جدید کا چندہ ہے اور نام پتہ کچھ نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: تحریک جدید کی مالی قربانی کے چند ایمان افروز واقعات




