دادی جان کا آنگن

سچ کا انعام اور جھوٹ کی سزا

دادی جان: السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ

وعلیکم السلام ورحمة اللہ و برکاتہ۔ سب بچے یک زبان ہو کر بولے۔

دادی جان: میں کچھ تلاش کر رہی تھی تو الفضل انٹرنیشنل کا یہ ایک شمارہ ملا تھا۔ اس میں ایک کہانی ملی ہے۔ میں نے آج کے لیے سنبھال لی۔

محمود: دادی جان یہ کہانی کس بارے میں ہے؟

دادی جان: یہ کہانی دراصل ایک حدیث میں بیان ہوئی تھی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا تھا۔

گڑیا: دادی جان جلدی سے سنا دیں پھر!

دادی جان: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 16؍مارچ 2007ء میں یہ قصہ بیان فرمایاتھا۔ حضور انور فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی تھے۔ ایک کوڑھی، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آزمائش کے لیے اُن کے پاس انسانی شکل میں ایک فرشتہ بھیجا۔

محمود: کوڑھی کون ہوتا ہے؟

دادی جان: کوڑھی سے مراد وہ شخص ہے جسے کوڑھ کا مرض ہو جائے۔ کوڑھ ایک متعدی بیماری ہے جس میں جِلد اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں کہ پہلے وہ کوڑھی کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد، میری وہ بدصورتی جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔ اس فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس کی بیماری جاتی رہی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے تھے اور خوبصورت رنگ اس کو مل گیا۔ پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے اونٹ یا گائے کا نام لیا۔ اسے اعلیٰ درجہ کی دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں دے دی گئیں۔ فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں برکت دے۔

احمد: یعنی اس کی ساری خواہشات پوری ہوگئیں؟

دادی جان: جی ہاں۔ پھر وہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا کون سی چیز تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت بال اور گنجے پن کی بیماری چلی جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔ فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور خوبصورت بال اس کے اُگ آئے۔ پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا گائیں۔ فرشتے نے اس کو گابھن گائیں دے دیں یعنی ایسی گائیں جو بچے دینے والی تھیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے۔

محمود: اور اندھے نے کیا مانگا؟

دادی جان : جی جی میں پڑھتی ہوں محمود میاں! پھر وہ اندھے کے پاس گیا اور کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا مَیں چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ میری نظر کو لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نظر واپس دے دی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا بکریاں۔ چنانچہ خوب بچے دینے والی بکریاں اسے دے دی گئیں۔ پس ان تینوں کے پاس اونٹ گائے اور بکریاں خوب پھلی پھولیں۔ جس نے اونٹ مانگے تھے اس کے ہاں اونٹوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اسی طرح گائیوں کے گلوں اور بکریوں کے ریوڑوں سے وادیاں بھر گئیں۔

گڑیا: تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سب کی خواہشات پوری کر دیں!

دادی جان : جی ہاں۔ لیکن اصل کہانی تو اب شروع ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کوئی انعام دیتا ہے تو پھر آزماتا بھی ہے ناں!

احمد: تو کیا ان سب کا یہ امتحان تھا؟

دادی جان: میں آگے سناتی ہوں۔ آپ خود سمجھ لیں۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ مدت کے بعد فرشتہ کوڑھی کے پاس خاص غریبانہ شکل و صورت میں آیا اور کہا مَیں غریب آدمی ہوں میرے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ خداتعالیٰ کی مدد کے سوا آج میرا کوئی وسیلہ نہیں جس سے مَیں منزل مقصود تک پہنچ سکوں۔ مَیں اس خداتعالیٰ کا واسطہ دے کر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھ کو خوبصورت رنگ دیا ہے، ملائم جلد دی ہے اور بے شمار مال غنیمت دیا ہے۔ اس پر اس نے کہا مجھ پر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔ مَیں ہر ایک کو کس طرح دے سکتا ہوں۔ انسان نما فرشتے نے کہا۔ توُ وہی کوڑھی غریب اور محتاج نہیں ہے جس سے لوگوں کو گھن آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور مال دیا۔ اس پر وہ بولا تم کیسی باتیں کرتے ہو۔ مال تو مجھے آباءو اجداد سے ورثے میں ملا ہے یعنی میں خاندانی امیر ہوں۔ اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔

محمود: تو اس کو جھوٹ بولنے پر سزا ملی؟

دادی جان: جی ہاں جھوٹ بولنے پر بھی اور غریب کی خدمت نہ کرنے پر بھی۔ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور اس کو بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا۔ اس نے بھی وہی جواب دیا جوپہلے نے دیا تھا۔ اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ ان دونوں کا حال اس جھوٹ کی وجہ سے اور حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ویسا ہی ہو گیا۔

محمود: اس کو بھی جھوٹ کی سزا ملی۔

دادی جان: بالکل۔ پھر وہ فرشتہ اسی ہیئت اور صورت میں اندھے کے پاس آیا اور اسے مخاطب کرکے کہا۔ مَیں غریب مسافر ہوں سفر کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا منزل مقصود تک پہنچنے کا کوئی وسیلہ نہیں پاتا۔ تجھ سے مَیں اس خدا کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں جس نے تجھے نظر واپس دے دی اور تجھے مال ودولت سے نوازا۔ اس آدمی نے کہا بے شک میں اندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دیا ہے جتنا چاہو اس مال میں سے لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔ سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔ خداتعالیٰ کی قسم آج جو کچھ بھی تم لواس میں سے مَیں کسی قسم کی تکلیف اور تنگی محسوس نہیں کروں گا۔ اس پر اس انسان نما فرشتے نے کہا اپنا مال اپنے پاس رکھو یہ تو تمہاری آزمائش تھی۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے خوش ہے اور تیرے دوسرے ساتھیوں سے ناراض ہے۔ تُو اس کی رحمت کا مستحق ہے اور وہ اس کے غضب کے مورد بن گئے۔

گڑیا: یعنی اس نے سچ بولا اور انعام حاصل کیا۔

احمد: حضور انور ایدہ اللہ نے کیا سبق بیان فرمایا ہے؟

دادی جان: حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کایہ غضب ان لوگوں پر اس دنیا میں نازل ہو گیا اور جس نے نیکی کی تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اجر عطا فرمایا۔

محمود: ان شاء اللہ ہم بھی ہمیشہ سچ بولیں گے۔

دادی جان: ان شاء اللہ ۔ اب سونے کا وقت ہوگیا ہے۔ دعا پڑھ کے سو جائیں۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button