حاصل مطالعہ
خدا کے غضب کے معنی
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ قرآن شریف کی رو سے خدا کے غضب کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ انسان کی طرح اپنی حالت میں ایک مکروہ تغیر پیدا کر کے خشم ناک ہو جاتا ہے کیونکہ انسان تو غضب کے وقت میں ایک رنج میں پڑ جاتا ہے اور اپنی حالت میں ایک دکھ محسوس کرتا ہے اور اس کا سرور جاتا رہتا ہے مگر خدا ہمیشہ سرور میں ہے اُس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا بلکہ اس کے غضب کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ پاک اور قدوس ہے اس ليے نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے بندے ہو کر ناپاکی کی راہیں اختیار کریں اور تقاضا فرماتا ہے کہ ناپا کی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاوے پس جو شخص ناپا کی پر اصرار کرتا ہے آخر کا روہ خدائے قدوس اپنے فیض کو جو مدار حیات اور راحت اور آرام ہے اس سے منقطع کر لیتا ہے اور یہی حالت اُس نافرمان کے ليے موجب عذاب ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک باغ ہے جو ایک نہر کے پانی سے سرسبز اور شاداب ہوتا تھا اور جب باغ والوں نے نہر کے مالک کی اطاعت چھوڑ دی تو مالک نہر نے اس باغ کو اپنے نہر کے پانی سے محروم کر دیا اور بند لگا دیا تب باغ خشک ہو گیا۔‘‘(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳؍صفحہ ۶۳)
نماز کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کا ایک پُرزور ارشاد
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ نمازاپنی تمام قیود اور پابندیوں کے ساتھ ایک انتہا درجہ کی خوبصورت چیز ہے۔ مگر جب ہم اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے اس کو چھانٹتے چلے جائیں تو وہ بے فائدہ اور لغو چیز بن جاتی ہے اور ایسی نماز کبھی بابرکت نہیں ہو سکتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرمایا کرتے تھے کہ لوگ نماز اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح مرغ ٹھونگے مار کر دانے چگتا ہے۔ ایسی نماز یقیناً کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ بعض دفعہ ایسی نماز لعنت کا موجب بن جاتی ہے۔ ‘‘ (الفضل ۲۰؍مئی ۱۹۳۹ء جلد ۲۷ نمبر ۱۱۵ صفحہ ۴ )
مجھے زندہ کرنے کے ليے بھیجا گیا ہے
حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورؑ سیر سے واپس آرہے تھے۔ ہم حضور کے ہمراہ تھے۔ ایک شخص کو حضور کا منتظر پایا۔ وہ بے تحاشا حضور کی طرف دوڑا اور حضور کے قدم پکڑ نا چاہے۔ حضور نے اسے پکڑا اور سیدھا کھڑا کر کے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ میری زندگی موت سے بدتر ہے۔ آپ دعا کریں کہ مجھے اس زندگی سے نجات مل جائے۔ حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ کہ خدا نے تو مجھے زندہ کرنے کے ليے بھیجا ہے۔ مارنے کے ليے نہیں۔ میں آپ کی صحت کے ليے دعا کروں گا۔ وہ شخص مرگی کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کے بعد وہ بیس دن قادیان میں ٹھہرا رہا لیکن اس پر مرض کا حملہ نہیں ہوا۔ پھر وہ بیعت کر کے گیا۔ بعد ازاں دو سال تک کبھی نہ کبھی اس سے ملنے کا اتفاق ہوتارہا۔ اور وہ یہی بتا تا تھا کہ اس کے بعد مجھ پر اس مرض کا حملہ نہیں ہوا۔(اصحاب احمد جلد ۱۰؍صفحہ ۲۴۸ )
ایمان بالغیب
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ الہام، عقل، علم اور سچائی ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:’’ ضرورت اس بات کی ہے کہ لفظ ’’غیب ‘‘ کا وسیع تر مفہوم معلوم کیا جائے۔ اولاً واضح رہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ ممکن ہے کچھ اشیاء پردۂ غیب میں موجود ہوں اور بعد میں کسی وقت انسانی تحقیق یا الہام الٰہی کے سبب سے عالم غیب سے عالم شہود میں آجائیں۔ غیب کا لفظ اپنے وسیع تر معنوں میں ان تمام اشیاء کےليے استعمال ہوتا ہے جو بصارت یا سماعت کی رسائی سے باہر ہیں۔ اسی طرح اس میں وہ سب اشیاء بھی شامل ہیں جو حواس خمسہ کی حدود سے باہر ہوں۔ اس پہلو سے ہم ’’غیب‘‘ سے مراد وہ عالم بھی لے سکتے ہیں جو انسان کے حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں۔ اس زمرہ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہوں بلکہ ان کا انسانی پہنچ سے باہر رہنا ایک محدود مدت کےليے ہوتا ہے۔‘‘(الہام، عقل، علم اور سچائی۔ صفحہ نمبر ۲۳۶ )
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک دلچسپ بات۔ آپ کے الفاظ میں
’’جب میں نوجوان تھا تو میرے بہت سے خواب تھے۔ کبھی میں کچھ بننا چاہتا تھا، کبھی کسی اَور چیز کی طرف توجہ چلی جاتی تھی۔ بالآخر کیونکہ میرا شوق زراعت کی طرف تھا تو اس میں ایک ڈگری حاصل کر لی اور پھر جماعت کی خاطر اپنی زندگی وقف کر دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی۔ بہر حال یہ جو وقف زندگی کی خواہش تھی یہ بچپن سے میرے دل میں تھی جو اللہ کے فضل سے پوری ہوگئی۔ ‘‘(بحوالہ الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍مئی ۲۰۲۶ء )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہجرت ِمدینہ




