امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار اللہ امریکہ مڈ ویسٹ ریجن کے وفدکی ملاقات
اپنی حالت بہتر کریں۔ اپنا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔ اپنا دینی علم بڑھائیں، قرآنِ کریم کا علم بڑھائیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے اور باقی جگہوں سے جماعتِ احمدیہ کے لٹریچر کا علم بڑھائیں، خُطبات خود بھی سُنا کریں ،اس سے علم بڑھائیں
مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصاراللہ امریکہ کےمِڈویسٹ ریجن سے تعلق رکھنے والے انصار کے اٹھائیس (۲۸) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔
ملاقات کے آغاز میں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک ناصر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ بعض اوقات زیرِ تبلیغ افراد جماعت کے ساتھ چند ملاقاتوں کے بعد ہی بیعت کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں، لیکن افسوس کہ بیعت کے بعد جماعت سے دُور ہو جاتے ہیں اس لیے کسی شخص کو بیعت کی دعوت کب دینی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ سوال ہے کہ اگر تو کوئی بیعت کرتے ہیں، بعض لوگ کسی رشتے کی خاطر، چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا ہو، تو وہ تو پھر جب تک ان کے تعلقات ٹھیک ہیں، وہ قائم رہتے ہیں۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں کہ تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود بڑے strong احمدی ہوتے ہیں اور ان کا بڑا مضبوط faith ہے۔ لیکن جو آپ کے پاس خود آتا ہے، آپ کے اخلاق کو دیکھ کر احمدی ہوتا ہے، اس کو پھر آپ کو اپنے ساتھ بہت زیادہ attach کرنا پڑے گا، کیونکہ سارے احمدی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض لوگوں کے نمونے دیکھ کے وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس لیے مَیں نے پچھلے خُطبوں میں بھی بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی، بہت سارے لوگ جو احمدی ہوتے تھے، آپ کے نمونے دیکھ کے ہوتے ہیں۔ اس لیے احمدیوں کو اپنا نمونہ دکھانا چاہیے۔ اگر وہ قائم ہے تو وہ مضبوط احمدی رہیں گے۔

پھر حضورِ انور نے نَومبائعین کی مسلسل تربیت، انہیں دینی لٹریچر فراہم کرنے، ایمان کو ذاتی تعلقات سے وابستہ نہ کرنے اور سوچ سمجھ کر بیعت کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پھر اس دوران میں ان کی تربیت کریں۔ تربیتِ نَومبائعین کا شعبہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ تربیت کریں۔ ان کو لٹریچر دیں۔ ان کو بتائیں کہ اپنے ایمان کو لوگوں کے تعلقات کے ساتھ نہ جوڑیں۔ آپ کو انہیں یہ بتانا پڑے گا کہ تم نے بیعت کی ہے، کسی دلیل پر بیعت کرنی چاہیے، پہلے سوچ لو۔
اسی طرح حضورِ انور نے بیعت سے قبل گہرے غوروفکر، مطالعے اور جماعت و احمدیت کی حقیقت کو سمجھنے، نیز اس راہ میں پیش آنے والی مخالفت کے لیے تیار رہنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سارے لوگ میرے پاس آتے ہیں۔ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ مَیں کہتا ہوں کہ تم نے سوچا ہے، پڑھ لیا، کل کو دَوڑ نہ جانا؟ اس لیے پہلے اچھی طرح سمجھو کہ جماعت کیا چیز ہے، احمدیت کیا چیز ہے اور کیوں تم بیعت کر رہے ہو؟ دنیا کی مخالفت کیوں لے رہے ہو؟
بعدازاں حضورِ انور نے بیعت کے لیے توحیدِ باری تعالیٰ، رسالت و ختم نبوت اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت و صداقت پر پختہ ایمان کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اور یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آخری رسول ہیں اور آپؐ کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود نے آنا تھا اور آئے ہیں۔ تب تو تم بیعت کرو۔ اگر ابھی تک تمہارا اس بات پر پکّا ایمان نہیں ہوا، تو پھر بہتر ہے کہ ابھی اور کچھ تھوڑا سا پڑھو۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے محض تعداد بڑھانے کی بجائے احمدیوں کے معیارِ ایمان کو ترجیح دینے کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی روشنی میں فرمایا کہ اس لیے جلد بازی میں صرف نمبر بڑھانے کے لیے احمدی نہ بنائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھے تعداد سے زیادہ کوالٹی چاہیے۔ اس لیے اس کی کوشش کیا کریں۔ یہ نہیں ہے کہ ہم نے اتنی بیعتیں کرا لیں۔
ایک شریکِ مجلس نے اس حوالے سے فکری تشویش پیش کی کہ آجکل سائنس اور فزکس کی تیز رفتار دریافتیں انسان کو دین کی بیان کردہ حقیقتوں سے دُور لے جا رہی ہیں، ایسے میں سائنس کی ان ایجادات کے سامنے ہم مذہب کی تعلیم کس طرح پیش کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے دونوں کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے دو مختلف مظاہر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ دین کیا ہے اور مذہب کیا ہے اور سائنس کیا ہے؟ دنیاوی علم کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے واضح طور پر فرمایا ہے کہ جو سائنس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہیں اور اللہ تعالیٰ کا جو علم ہے، اس کا عملی اظہار ہے۔ اور مذہب جو ہے اس کا روحانی اظہار ہے۔ اس لیے دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ یہ کہنا کہ جی! سائنس کی ایجادات ہو رہی ہیں، اس لیے یہ ہمیں دُور لے کے جا رہا ہے۔ سائنس اور مذہب کو علیحدہ کر ہی نہیں سکتے۔
پھر حضورِ انور نے ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات اور مذہب و سائنس کے موضوع پر ہونے والی گفتگو کا واقعہ بیان کرتے ہوئے دونوں کے باہمی تعلق کو مزید واضح فرمایا کہ ایک ڈاکٹر Clement تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں آیا۔ بڑا سائنٹسٹ تھا، میرا خیال ہے کہ astronomer تھا، قادیان آیا تھا۔ انڈیا کے دَورے پر تھا تو وہاں آپؑ کے پاس آیا۔ آپؑ نے اس کو اپنے پاس رکھا۔ کچھ بحثیں ہوتی رہیں۔ ساری باتیں ہوئیں کہ مذہب کیا ہے اور سائنس کیا ہے، تمہاری ایجادیں کیا ہیں؟ تو جب آپؑ نے اس کو سارا explain کیا، تو اس نے کہا کہ مذہب اور سائنس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپؑ نے کہا کہ بالکل فرق نہیں ہے، سائنس اس کا عملی اظہار ہے اور مذہب اس کا روحانی اظہار ہے۔ تو دونوں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ دماغ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں تمہیں دماغ دیتا ہوں، بڑا فرٹائل دماغ ہے، اس کو تم استعمال کرو اور نئی ایجادیں کرو۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ حضورِ انور نے جن ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب کا تذکرہ فرمایا ہے، ان کا مکمل نام پروفیسر کلیمنٹ لنڈلے ریگ (Clement Lindley Wragge) ہے، جو کہ ایک ممتاز انگریز ماہرِ موسمیات، ہیئت دان (ماہرِ فلکیات)، سیّاح اور لیکچرار تھے۔ وہ ۱۸۵۲ء میں انگلستان میں پیدا ہوئے اور ۱۹۲۲ء میں نیوزی لینڈ میں وفات پائی۔ عمومی طور پر ان کو پروفیسر کلیمنٹ ریگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
۱۹۰۷ء میں پروفیسر صاحب نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔ اس دوران انہیں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کی وساطت سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام پہنچا۔
یہ وہ خوش نصیب انسان ہیں کہ جنہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات سے کچھ روز قبل مع اہلیہ و بچہ حضورؑ سے دو تفصیلی ملاقاتوں کی سعادت حاصل ہوئی۔ پہلی ملاقات مورخہ ۱۲؍مئی ۱۹۰۸ء کو جبکہ دوسری ملاقات مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہوئی۔ملفوظات جلد دہم صفحات ۳۰۶ تا ۳۱۱ اور ۳۷۰ تا ۳۸۰ پر ان دو ملاقاتوں کی تفصیل ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔]
اسی طرح حضورِ انور نے مسلمان سائنسدانوں کی تاریخی علمی خدمات، یورپ کی سائنسی ترقی میں ان کے علمی ورثے کے کردار اور سائنس و مذہب کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے مطالعے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ مسلمان سائنسدان تھے، انہوں نے نئی نئی ایجادیں کی ہیں۔ انہی کی بنیاد پر آج میڈیسن میں بھی، فزکس میں بھی، astronomy میں بھی اور ہسٹری میں بھی اور anthropology میں بھی ہر چیز میں، یورپ نے مسلمانوں کے علم کو پڑھ کےاسےآگے بڑھایا۔ تو basic knowledge جو تھا وہ تو انہوں نے دیا ہے، اسی کے basis پر بہت ساری تھیوریاں، جو مسلمان سائنسدانوں کی ہیں ابھی بھی چلتی ہیں۔ اس لیے کہنا کہ یہ تیزی سے ترقی ہورہی ہے، تو ہم کیا کریں، پریشان ہو گئے ہو۔ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ یہ پریشانی اس لیے ہےکہ ہم پڑھتے نہیں۔ ہم پڑھیںاور سائنس کو مذہب کے مطابق apply کریں تو مذہب اور سائنس میں فرق ہی کوئی نہیں ہے۔
بعدازاں اسی تناظر میں حضورِ انور نے پریشان ہونے کی بجائے علم حاصل کرنے اور بچوں کو پڑھنے کی ترغیب دلانے، نیز ریویو آف ریلیجنز کے علمی و سائنسی پراجیکٹس کا ذکر کرتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ اس لیے بجائے پریشان ہونے کے بچوں کو کہو پڑھیں۔ اور آج کل جو ہمارے ریویو آف ریلیجنز نے سائنس کاڈپارٹمنٹ کھولا ہے، ان کو بتاتے ہیں کہ کیا کیا مسلمانوں کی ایجادیں تھیں، اور پھر یہ کہ یورپ نے اس کو کس طرح adopt کیا۔ کس طرح آگے further اس کے اُوپر base کرتے ہوئے experiments کیے اور کیا کیا ثبوت دیے۔ تو یہ تو چاہے فزکس ہو یا کوئی اور چیز ہو، اس کی basis تو وہیں سے ہیں، جو مسلمان سائنٹسٹ نے کی ہیں۔ اس لیے پریشان نہ ہوں، پڑھو اور لوگوں کو پڑھاؤ۔
مزید برآں حضورِ انور نے ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب کی قبولِ احمدیت، ان کے آخری وقت تک احمدی مسلمان رہنے اور نیوزی لینڈ میں ان کی قبر پر دعا کرنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کا ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا کہ ڈاکٹر Clement جو ہے، جب یہ بحث ہوئی تھی، تو احمدی ہو گیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی تھی۔ وہ نیوزی لینڈ میں دفن ہے۔ مَیں جب وہاں گیا ہوں، تو پھر مَیں نے تلاش کر کے کہ ایک تو اس کی قبر کہاں ہے، وہاں گیا۔ وہاں مَیں نے دعا بھی کی تھی۔ دوسرے اس کے پوتے اور پوتی کو تلاش کرکے، وہ احمدی تو نہیں، ان کا مَیں نے پھر پتا کروایا۔ ان سے کہا ملنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم ملنے آئیں گے، وہ دونوں مجھے ملنے بھی آئے اور پھر انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمارا دادا، نانا جو تھا، وہ احمدی مسلمان ہو گیا تھا اور آخر تک وہ یہی رہا، لیکن ہم نہیں ہیں اور ان کو پھر مَیں نے لٹریچر بھی دیا تھا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ جیسا کہ حضورِ انور نے تذکرہ فرمایا، پروفیسر کلیمنٹ صاحب کے نصیب میں ایک سعادت یہ بھی آئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دورۂ مشرقِ بعید ۲۰۰۶ء کے دوران نیوزی لینڈ میں پروفیسر صاحب کی قبر پر دعا کے لیے بھی تشریف لے گئے۔ نیز پروفیسر صاحب کے پوتے اور پوتی نے بھی حضورِ انور سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقاتوں کے حوالے سے پروفیسر صاحب کی ذات پر مرتّب ہونے والے نیک اثرات کی بابت حضورِ انور کا تبصرہ، نیز پروفیسر صاحب کی نسل سے ملاقات کے احوال کے لیے خُطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ مورخہ ۱۹؍ مئی ۲۰۰۶ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۹؍ جون ۲۰۰۶ء سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔]
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے سائل کی فکری تشویش کا ازالہ کرتے ہوئے ان الفاظ میں راہنمائی فرمائی کہ سائنس کا سوال آج کی بات نہیں ہے، آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے، بلکہ ہمیشہ سے چل رہا ہے۔
ایک ناصر نے اس حوالے سے عاجزانہ راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضورِ انور نے یوایس اے کی جماعت کو جو پیغام دیا ہے، اس میں یہ فرمایا ہے کہ ہر ایک احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تبلیغ کرے۔ اس ضمن میں انصار اپنی جماعتی خدمت کے سلسلے میں تبلیغ کو اپنی اعلیٰ ترین ترجیح کس طرح بنا سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے مؤثر تبلیغ کے لیے انصار کو اپنی ذاتی اصلاح، نمازوں کی پابندی، قرآنِ کریم اور جماعتی لٹریچر کے مطالعے کے ذریعے دینی علم میں اضافے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پہلی تو بات یہ ہے، جیسا کہ مَیں نے ان کو بتایا ہے، خود اپنا علم بڑھاؤ۔ increase your knowledge۔ بہت سارے انصار ہیں، جماعت ممبر بھی ہیں،جو پانچ نمازیں پُوری نہیں پڑھتے۔ کیونکہ مَیں پوچھتا ہوں تو مجھے پتا لگتا ہے کہ آج چار پڑھیں یا تین پڑھیں۔ basic چیز خود اپنی اصلاح ہے۔ پھر قرآنِ شریف پڑھنا، اس سے علم حاصل کرو۔ پھر جماعت کا لٹریچرپڑھو۔ اب تو بڑی آسانی ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ پر، الاسلام پر، سوشل میڈیا پر، جماعت کا بہت سارا لٹریچر availableہے۔ کتاب نہ بھی پڑھنی ہوتو اس سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے جو interest کا subjectہے، وہ لے کے، اس topicکو اسی پر پڑھا جا سکتا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں جب آپ پڑھیں گے، اپنا علم بڑھائیں گے، اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کریں گے، پھر تبلیغ کے اچھے نتائج بھی نکلیں گے اور فائدہ بھی ہو گا۔
پھر حضورِ انور نے تبلیغ کے عمومی اصول بیان کرتے ہوئے مختلف مذاہب و مکاتبِ فکر کے پیروکاروں کے مذہبی و فکری پسِ منظر کے مطابق تبلیغی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مَیں نے یہ کہا تھا۔ ایک اشارہ دیا تھا کہ یہ کرو، کس طرح کرو، according to your conditionsاس کو exploreکرنا آپ کا کام ہے کہ کس طرح آپ نے کرنا ہے۔ ایک مسلمان ہے، اس کو آپ نے تبلیغ اَور طرح کرنی ہے، جو ایک وہابی مسلمان ہے، ایک شیعہ مسلمان ہے، ایک بریلوی مسلمان ہے، ایک عیسائی ہے، ایک یہودی ہے، ایک ہندو ہے، ایک سکھ ہے، ہر ایک کے لیے اس کے مطابق کرنا پڑے گا۔ ایک atheist ہے، اب atheist کہہ دے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی تھے، So what، مجھے اس سے کیا؟ مَیں تو اللہ کو ہی نہیں مانتا۔ تو اس کو پہلے بتانا پڑے گا کہ اللہ ایک ہے، existence of Allahجب پتا لگے گی، پھر آگے مذہب کی بات چلے گی۔ اسی طرح سکھ کے ساتھ کیا ہو گا۔ اس کے لیے Introduction to the Study of the Holy Qur›an جو ہے، اس کے اگر آپ پہلے پچاس ساٹھ صفحے پڑھیں، اس میں مذہب کے بارے میں، کہ مختلف مذہب آئے، ان کا کیا فائدہ ہے، کیا کیا وہ لے کے آئے اور کیوں اسلام کی ضرورت ہے، اس میں سارا کچھ لکھا ہوا ہے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو تبلیغ کے لیے ان کے حسبِ ضرورت مخصوص جماعتی کُتب کے مطالعے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ سو! وہ [Introduction to the Study of the Holy Qur‘an]اور مسلمانوں کے لیے دعوة الامیر جو ہے، Invitation to Ahmadiyyat، یہ دو کتابیں ہیں۔ یہ انصار کو پڑھوائیں۔ تو مسلمانوں کو تبلیغ کے لیے اس سے مواد مل جائے گا۔ دوسروں کو تبلیغ کے لیے Introduction to the Study of the Holy Qur‘an سے مدد مل جائے گی۔ وہ پڑھیں۔
ایک ناصر نے اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ بعض سرکاری افسران اسلام کے خلاف نفرت بھرے تبصرے یا اقدامات کرتے ہیں، لیکن ان کا احمدیت سے کبھی تعارف نہیں ہوتا، کیا ہمیں ایسے افراد سے دُور رہنا چاہیے یا ان سے رابطہ کر کے حقیقی اسلام کا پیغام ان تک پہنچانا چاہیے؟ نیزہمیں کس مرحلے پر ان سے رابطہ ترک کر دینا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے اسلام کے عالمگیر تبلیغی مشن کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اور اسلام مخالف رویّے رکھنے والے افراد سے الگ تھلگ ہونے کے بجائے انہیں تبلیغ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے isolate تو بالکل نہیں ہونا۔ اگر isolate ہو جائیں تو تبلیغ کس طرح کریں گے؟ کس نے آپ کو کہا ہے کہ جو خلاف بولتا ہے اس کو تبلیغ نہ کرو؟
پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ اور مخالفینِ اسلام نیز اپنے مشرک رشتہ داروں کو مسلسل دعوتِ حق دینے کی تاریخی مثالیں پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی پچھلے دنوں میں مَیں نے مثال دی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلاف بولتے تھے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تبلیغ سے منع تو نہیں کیا تھا، یا جو مکّہ کے کفّار تھے، ان کو تبلیغ سے رُکے تو نہیں تھے۔ اپنے رشتے دار جو تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں یہی کہا ہے کہ تمہارے جو رشتے دار ہیں، ان کو تبلیغ کے لیے پہلے بلاؤ۔ وہ سارے بُت پرست ہی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بولتے تھے۔ آپؐ نے اکٹھا کیا، ان کی دعوت کی، ایک دفعہ کھانا کھا کے دَوڑ گئے۔ دوسری دفعہ پھر بُلایا، تبلیغ کی، پھر کھانا کھلایا۔ تو ان میں سے کئی لوگ مسلمان ہو گئے تھے۔سوائے ایک آدھ کے نہیں ہوئے تھے۔ وہ چار آدمی حضرت علیؓ، حضرت ابوبکرؓ وغیرہ ہی آپؐ کے ساتھ تھے، اور تو کوئی نہیں ساتھ تھا۔ تو تبلیغ تو کرنی ہے۔ یہ کہنا کہ hateful comments دیتے ہیںتو اس لیے تبلیغ نہ کرو غلط ہے۔
مخالفین کے رویّوں میں تبدیلی اور سخت ترین دشمنوں کے مخلص دوست بن جانے کے حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد اور قرآنی پیشگوئی بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ اسی لیے حضرت مصلح موعودؓ نے کہا ہے کہ
تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطراتِ محبّت ٹپکیں گے
کہ یہ لوگ ہیں، تم تبلیغ کرو۔ آج تو نفرت کر رہے ہیں، مگر یہی تمہارے محبّت کرنے والے ہوں گے۔ قرآنِ شریف میں بھی لکھا ہے کہ یہی لوگ ہیں: بَیۡنَكَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ۔ تمہارے اور ان کے درمیان عداوت جو ہے، دشمنی ہے، لیکن وہی لوگ تمہارے دوست بن جائیں گے۔ کیوں دوست بن جائیں گے؟ تبلیغ کرو گے، ان تک پہنچو گے، تو تبھی دوست ہوں گے۔تو یہ کہنا درست نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ ہر موقع کے لحاظ سے، ابھی جس طرح ان کو مَیں نے بتایاکہ ہر قوم کے لحاظ سے، ہر بندے کی personal جو سوچ ہے اس کے لحاظ سے تبلیغ کے نئے نئے رستے explore کرنے پڑیں گے۔ ہر ایک سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ہر ایک سے تعلق رکھنا ہے۔ ایک طرف نعرہ لگاتے ہیں کہ محبّت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں، دوسری طرف کہیں کہ ہم ان سے distance کر لیںتو پھر کیا فائدہ؟ پھر تبلیغ کس طرح ہو گی؟ سوال یہ ہے کہ بعض دشمنی بھی کریں گے، بعض بات بھی سُن لیں گے، ماریں کھاؤ۔ تو ماریں یونہی تو نہیں پڑیں گی، اگر کسی کو چھیڑو گے نہیں تو کوئی آپ کو کیوں مارے گا؟ مار تو اسی وقت پڑے گی کہ جب کوئی چھیڑے گا۔ تو بس پھر جرأت و ہمت کرو۔
ایک ناصر نے اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ ہم جماعت کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مختلف ذرائع سے جو کوششیں کرتے ہیں، ان میں عموماً عیسائیت یا غیر احمدی احباب کی طرف سے اُٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن آج کل الحاد اور خدا کے وجود سے انکار کا رجحان ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر ہمیں اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے طریقوں اور ترجیحات میں کیا تبدیلی لانی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے دہریت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو عصرِ حاضر کا ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے، روایتی مذہبی مباحث کی بجائے توحید کے قیام اور الحاد کے خلاف مؤثر جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کو مَیں کئی سالوں سے بتا رہا ہوں ، ان کی رپورٹوں میں بھی ذکر ہوتا ہو گا، اخبار میں بھی آ گیا ہے، میٹنگ میں بھی کہ اب یہ سوال نہیں رہا کہ عیسائیت کیا چیز ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ایسے گئے کہ نہیں گئے تھے یا انہوں نے آنا ہے کہ نہیں آنا۔ ختمِ نبوت کا کیا مسئلہ ہے ۔وہ تو مسلمانوں کے لیے ہے، عیسائیوں کے لیے نہیں۔ اصل چیز اب یہ ہے کہ دہریت پھیل رہی ہے۔ ابھی ابھی مَیں نے ان کو کہا۔ تو دہریت کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھا ہے کہ مَیں مسیح کے جو بُت تھے، اُن کو توڑنے تو آیا ہوں لیکن ساتھ دہریت بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔ آپؑ کے لٹریچر میں موجود ہے کہ دہریت کے خلاف بھی تم لوگوں کو بہت کچھ کرنا ہو گا۔ خدا کی طرف لے کے آؤ۔ توحید کی طرف لے کے آؤ۔ اس لیے شرائطِ بیعت میں بھی پہلی شرط یہ رکھی ہے کہ شرک نہیں کرنا۔ یہ اسی لیے ہے کہ توحید کو قائم کرنا ہے۔ آج کل مَیں نے جو شرائط کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، وہ اس لیے ہے کہ سمجھ آئے۔
پھر حضورِ انور نے دہریت سے خود کو محفوظ رکھنے اور باریک سے باریک درِ شرک سے بچنے کے لیے ذاتی اصلاح کی ضرورت واضح کرتے ہوئے، نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے اَدوار میں دہریت کے ردّ میں تحریر کی جانے والی کُتب اور ان کے مطالعے کی اہمیت بیان فرمائی کہ آپ کہتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے، مَیں نے اتنا بتا تو دیا ہے، ابھی جلسے کی تقریر میں مَیں نے بتایا ہے کہ کس طرح ہمیں کرنا چاہیے۔ خود اپنا نمونہ پہلے ہو۔ دہریت سے ہم نے کس طرح اپنے آپ کو ہٹانا ہے۔ باریک سے باریک شرک سے کس طرح اپنے آپ کو بچانا ہے۔ پھر جو خدا کی existence کا جن کو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نہیں ہے، ان کے لیے لینا ہے، یہ کوئی آج کا سوال تو نہیں ہے، یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی تھا، حضرت خلیفہ اوّلؓ کے زمانے میں بھی تھا، خلیفہ ثانیؓ کے زمانے میں بھی تھا۔ تبھی تو خلیفہ ثانیؓ نے دو کتابیں لکھی ہیں۔ ہستیٔ باری تعالیٰ کے دس دلائل اور ہستیٔ باری تعالیٰ۔ ایک پچیس چھبیس صفحہ کی کتاب ہے۔ ایک ذرا تقریباً سو صفحات کی کتاب ہے۔ پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کتاب لکھی، وہ اس لیے کہ دہریت کو ختم کیا جائے، بتایا جائے کہ خدا ہے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضورِ انور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی الله عنہ کی جس تصنیف کا حوالہ دیا ہے، وہ ’’ہمارا خدا‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔]
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نوجوانوں اور بچوں میں خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین پیدا کرنے کے لیے جماعت کی مستند کُتب کے مطالعے اور انہیں پڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، نیز ذہنی رجحانات کے مطابق تبلیغ و تربیت کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ تو آپ لوگوں کو لٹریچر پڑھنا چاہیے۔اس لیے مَیں نے ہمارا خدا کتاب کی انگریزی ٹرانسلیشن کروا کے کافی وسیع طور پر پھیلائی تھی اور کہا تھا کہ خدام اور انصار کو کہ بچوں کو پڑھائیں۔ اسی طرح ہستیٔ باری تعالیٰ کے دس دلائل جو ہیں، وہ ٹرانسلیشن ہو چکی ہوئی ہے، وہ پڑھانی چاہیے۔ مَیں نے پہلے ابھی بتایا ہے کہ تبلیغ کرنے کے لیے اور تربیت کرنے کے لیے ہر ایک کا دیکھنا پڑے گا کہ کس سوچ کا وہ بندہ ہے، کن خیالات کا بندہ ہے؟ جہاں خدا کو مانتا نہیں، وہاں تربیت میں بھی اور تبلیغ میں بھی دہریت کے متعلق باتیں کرنی پڑیں گی۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ایک ہلکا پھلکا سا سوال ہے۔ اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ شفقت تبصرہ فرمایا کہ پھلکا ہے، ہلکا بھی ہے، اچھا بتاؤ؟بعد ازاں انہوں نے عرض کیا کہ
مِلواکی (Milwaukee) کے ایک بھائی ابوبکر بن سعید صاحب، جن کا اصل تعلق ٹمالے (Tamale)، گھانا سے ہے، کے بقول گھانا کے آم دنیا میں سب سے لذیذ ہوتے ہیں۔ حضورِ انور چونکہ گھانا اور پاکستان، دونوں جگہ رہ چکے ہیں، اس لیے اس نازک مسئلے پر راہنمائی کی درخواست ہے۔
اس پُرمزاح سوال پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ نازک مسئلہ ہے۔ بہت نازک مسئلہ ہو گیا ہے۔ اُف توبہ! آم نہ کھائے تو مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ ہماری دین و دنیا بگڑ جائے گی۔
حضورِ انور کے اس برجستہ تبصرے پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔
حضورِ انور نے گھانا اور پاکستان کے آموں کی اقسام کا تقابل کرتے ہوئے، بالخصوص گھانا کے علاقے ایجورا (Ejura) میں پیدا ہونے والے آموں کی خصوصیات اور وہاں کے باغات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ گھانا کے آم تو جس طرح تمہارے tropical ملکوں کے آم ہوتے ہیں، اس طرح کے ہوتے ہیں، کدو قسم کے۔اچھے کوئی نہیں ہوتے۔ پاکستانی آموں میں بڑی مختلف ورائٹی ہے۔ پاکستانی آموں کی سَو سے زیادہ ورائٹیز ہیں۔ ہاں! ٹمالے اور گھانا کے دوسرے بڑے شہرKumasi کے درمیان ایک lake ہے، وہ Volta Lake کہلاتی ہے۔across the lake نارتھ ہے، ادھر ساؤتھ ہے۔ ساؤتھ میں ایک جگہ Ejura ہے، وہاں باغ بہت اچھی طرح لگتا ہے، اچھا علاقہ ہے۔ بڑے بڑے باغ ہیں، اس باغ میں آم جو ہوتے ہیں، وہ دَسَہری قسم کے آم ہیں۔ Keitt کی طرز سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ آم بہت اچھا ہے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ دَسَہری آم اپنی لمبوتری شکل، شیریں و خوشبودار ذائقے اور نرم، کم ریشےدار گودے کے لیے مشہور ہے، جبکہ کیٹ (Keitt) آم نسبتاً بڑی جسامت اور بیضوی شکل کا ہوتا ہے۔ اس کا گودا رسیلا اور کم ریشے دار ہوتا ہے، جبکہ اس کا چھلکا پکنے کے بعد بھی عموماً سبز رہتا ہے۔]
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ایجورا کے آموں کو پاکستانی آموں سے بہتر قرار دیتے ہوئے، اور ٹمالے کے شمالی علاقوں کے آموں کے بارے میں اپنے تجربے کی روشنی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے گفتگو کا اختتام ان الفاظ میں فرمایا کہ وہ واقعی پاکستانی آم سے اچھا ہے، باقی ٹمالے کے نارتھ کے آم جو ہیں، وہ تو کدو جیسے ہی آم ہوتے ہیں۔
ایک ناصر نے اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ امریکہ کی مختلف جگہوں سے مجلس انصار اللہ کے افراد کو حالیہ عرصے میں حضورِ انور سے ملاقات کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں حضورِ انور کی نظر میں مجلس انصار اللہ امریکہ کے موجودہ حالات کے بارے میں کیا مشاہدات ہیں اور انہیں کن اُمور پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بطور انصار اللہ اپنے فرائض بہتر رنگ میں ادا کرتے ہوئے توقعات پر پورا اُتر سکیں؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ سارے سوالوں کے جواب میں میری توقعات سامنے آگئیں۔ اپنی حالت بہتر کریں۔ اپنا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔ اپنا دینی علم بڑھائیں، قرآنِ کریم کا علم بڑھائیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے اور باقی جگہوں سے جماعتِ احمدیہ کے لٹریچر کا علم بڑھائیں، خُطبات خود بھی سنا کریں ،اس سے علم بڑھائیں۔
پھر حضورِ انور نے اگلی نسلوں کی دینی و اخلاقی تربیت کی بھاری ذمہ داری انصار اللہ پر عائد ہونے اور انہیں جماعت کی نیک نامی برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بچوں کو سمجھائیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اگلی نسل کو سنبھالنا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تبھی تو کہا تھا
ہم تو جس طرح بنے کام کیے جاتے ہیں
آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو
تو یہ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ سلسلہ بدنام نہ ہو، جو ابھی ساٹھ سال سے کم عمر کے انصار ہیں۔
اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے انصار اللہ کو فکرِ آخرت، ذاتی اصلاح اور نسلوں کی دینی و اخلاقی حفاظت کی اہمیت سمجھاتے ہوئے ایک پُرلطف واقعہ بیان فرمایا کہ اس لیے مَیں نے انصار اللہ میں اجتماع پر کہا تھا کہ اب انصار میں جا کے اگلے جہان کی فکر کرنی چاہیے، جب انسان کو فکر ہو، تو پھر اپنے عمل کا بھی اور اپنی نسلوں کو بچانے کا بھی خوف رہتا ہے۔ اس کے اُوپر ایک لطیفہ بھی ہو گیا۔ ایک اکتالیس سال کا ابھی انصار میں خادم شامل ہوا ہے۔ کہتا ہے کہ ابھی تو کل مَیں انصاراللہ میں شامل ہوا ہوں، چھ مہینے نہیں ہوئے، آج آپ نے مجھے اگلا جہان دکھا دیا ہے۔ تو میری تو پریشانی شروع ہو گئی۔ اسی لیے بعض معاملوں میں انسان کو پریشان رہنا چاہیے۔
ایک شریکِ مجلس نے تقدیر کے حوالے سے ایک سوال کے ساتھ راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ صحیح مسلم کی حدیث میں درج ہے کہ جب ایک انسان ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ایک فرشتے کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس کی تقدیر لکھے، جس میں اس کی عمر، اس کا رزق اور یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا یا بدکاروں میں سے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ان اُمور کو مقدّر کر دیا ہے تو پھر ہمیں ساری زندگی روحانی اور اخلاقی کمال حاصل کرنے کی جدوجہد کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے احادیث کو قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث کی روشنی میں سمجھنے کا اصول بیان کرتے ہوئے بنیادی راہنمائی عطا فرمائی کہ پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر حدیث جو ہے وہ صحیح بھی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے کہ بعض حدیثیں، چاہے وہ بخاری کی ہوں، بخاری کو بڑی اچھی مانتے ہیں، اگر وہ قرآنِ کریم کی آیتوں سے یا دوسری احادیث سے ٹکراتی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کو نصیحتیں فرمائیں۔
اس حدیث کے ایک ممکنہ مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے دورانِ حمل ماں کو بچے کے نیک و صالح ہونے کی دعا کرنے کی نصیحت اور اس دعا کے اثرات کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی جس کو نصیحت کی، اس نے جو بیان کر دی۔ ماں کو یہ نصیحت ہے کہ بچہ تمہارے پیٹ میں ہو تو تم اس کے لیے دعا کرو کہ نیک صالح ہو۔ قرآنِ شریف نے بھی یہ دعا سکھائی کہ یہ دعا کیا کرو کہ نیک صالح بچہ ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ نیک صالح بچہ ہو۔ اس لیے جب یہ دعا کر رہے ہوگے تو فرشتے بھی اس کے اُوپر اثر کر رہے ہوں گے۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچے کی فطرتِ سلیمہ کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث کی روشنی میں اس مضمون کو مزید کھول کر بیان فرمایا کہ وہ ان کے لیے یہ نہیں ہے کہ فرشتوں نے کوئی decide کر لیا، اللہ تعالیٰ نے کہ ضرور یہ بیٹا بد پیدا ہوگا یا نیک پیدا ہوگا، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث کے خلاف بات ہے۔ جس میں آپؐ نے فرمایا کہ ہر بچہ جو ہے وہ ایک نیک فطرت پہ پیدا ہوتا ہے، اس کی نیچر صحیح ہوتی ہے۔ پھر اس کے ماں باپ جو ہیں، اس کو یہودی بناتے ہیں یا عیسائی بناتے ہیں یا مسلمان بناتے ہیں یا دہریہ بناتے ہیں۔
مؤخر الذکر حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے پیدائش کے وقت بچے کی فطرت اور بعد ازاں اس کی شخصیت پر ماحول کے اثرات کی بابت روشنی ڈالی کہ It doesn‘t mean that کہ womb سے ہی وہ پیدا ہو کے عیسائی آیا تھا۔ عیسائی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، وہ بھی پہلے نیک مسلمان ہوتا ہے، یہودی ہوتا ہے وہ بھی مسلمان ہوتا ہے، ہندو مشرک کا بچہ بھی مسلمان ہوتا ہے۔ لیکن اس کو جو environment ہے، وہ اس کو بناتا ہے، یہ حدیث ہے۔ اس حدیث سے پھر یہی مطلب لیا جا سکتا ہے اگر یہ صحیح ہے کہ ماں کو دعا کرنی چاہیے۔
پھر اسی ضمن میں حضورِ انور نے حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کی دعا اور اس کی قبولیت کی مثال پیش کرتے ہوئے انسان کے اعمال کو پہلے سے قطعی طور پر مقدّر قرار دینے کے تصوّر کی نفی فرمائی اور دعا و نیک اعمال کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ انہوں نے یہی دعا کی تھی کہ بچہ پیدا ہو، نیک صالح ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور بتا دیا کہ ہاں یہ نیک ہوگا۔ بیٹی پیدا ہوئی۔ عمران کی بیوی کے ہاں بیٹی مریم پیدا ہوئی، پھر ان کے آگے بچے پیدا ہوئے تھے، وہ نیک صالح اولاد ان کی چلی۔ لیکن یہ کہنا کہ predestined ہے کہ اس نے جہنّم میں جانا ہے، دوزخ میں جانا ہے، یہ غلط ہے۔ پھر عمل کیا ہوا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کیوں کہا کہ تم نیک عمل کرو تو تم جنّت میں چلے جاؤ گے؟ تو یہ بات سمجھنے والی ہے۔ اصل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی طرف تحریک کروائی ہوگی۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے کہ تم لوگ دعا کرو تاکہ فرشتے بھی تمہارا ساتھ دیں۔ جب تم دعا کرتے ہو، نیک دعا کرتے ہو، تو فرشتے بھی تمہاری دعا پر آمین کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ باقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی واضح حدیث ہے، جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہر بچہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، نیک فطرت پر اور ماں باپ یا اس کا ماحول اس کو خراب کر رہے ہوتے ہیں، جس طرف لے جانا چاہیں، لے جاتے ہیں۔ نیک بنا دیتے ہیں یا بد بنا دیتے ہیں۔
اسی طرح بچپن کی تربیت کے اثرات کو نمایاں کرنے کے لیے حضورِ انور نے ایک مشہور عبرت ناک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک مشہور واقعہ ہے، ایک شخص تھا، وہ بچپن سے ہی شرارتیں کرنے والا تھا۔ پھر اس کو چوری کی عادت پڑ گئی، پھر بڑے ڈاکے ڈالنے لگ گیا، پھر قتل کرنے لگ گیا۔ آخر پکڑا گیا، سزا ملنے لگی، اس نے قتل کیے تھے۔ تو جب پھانسی چڑھنے لگا، تو انہوں نے کہا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ بعض hang کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ آخری خواہش بتاؤ؟ تو اس نے کہا کہ میری ایک خواہش ہے کہ مَیں اپنی ماں کو ملنا چاہتا ہوں۔ ماں آئی۔ اس نے کہا کہ میری خواہش یہ ہے کہ ماں مجھے پیار کرے، زبان باہر نکالے، ماں کی زبان سے پیار کرنا چاہتا ہوں۔ ماں نے کہا کہ اچھی خواہش ہے، زبان نکالی، اس نے اتنی زور سے کاٹا کہ ماں کی زبان کٹ گئی اور آدھی ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ خبیث آدمی! تم اب مَرنے لگے ہو، اس وقت بھی تم نے یہ ظلم کر دیا ہے؟ کہنے لگا اس لیے کہ جب مَیں چھوٹا تھا تو میری ماں نے میری تربیت نہیں کی۔ اگر وہ بچپن سے میری تربیت کرتی اور میرے بُرے کاموں سے مجھے روکتی رہتی تو مجھے یہ جرأت پیدا نہ ہوتی کہ بڑے ہو کے میں اتنا بڑا criminal بن جاتا۔ تو یہ اس کی ماں کی تربیت ہے تو womb میں تو کوئی خراب نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک واقعہ ہے۔ بزرگوں کا ہی لکھا ہوا ہے۔
بعد ازاں حضورِ انور نے انسانی تخلیق کے حقیقی مقصد اور تقدیر کے تصوّر کے حوالے سے قرآنِ کریم کے واضح ارشاد کی روشنی میں راہنمائی عطا فرمائی کہ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ کہ ہم نے انسانوں اور جنّوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کا فیصلہ کر دیا ہے کہ یہی تمہاری destiny ہے کہ تم نے برباد ہو جانا ہے، تو پھر قرآنِ شریف میں یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ قرآنِ شریف جھوٹا تو نہیں ہو سکتا؟
مزید برآں حضورِ انور نے سوال میں پیش کی گئی حدیث کے درست مفہوم کی طرف دوبارہ توجہ دلاتے ہوئے واضح فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ اس کو سمجھنے میں غلطی ہے، اگر یہ صحیح ہے، تو اس کو اس طرح ہم لے سکتے ہیں کہ دعا کرنے کی طرف توجہ ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہاں! اللہ تعالیٰ نے کہا کہ زندگی کا یہ تمہارا مقصد ہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا، قرآنِ شریف میں ہی آگیا کہ مجھے تمہاری دعاؤں کی ضرورت نہیں ہے، تمہیں ضرورت ہے، اپنے آپ کو نیک بناؤ اور عبادت کرو تو تمہارا فائدہ ہوگا۔
اسی تناظر میں حضورِ انور نے سو قتل کرنے والے شخص کی توبہ اور نیکی کی طرف سفر کے نتیجے میں اس کی بخشش کی روایت بیان کرتے ہوئے تقدیر کے قطعی ہونے کے تصوّر کی نفی فرمائی کہ ایک شخص جس نے ننانوے قتل کر دیے تھے، آخر اس کو خیال آیا کہ مَیں بخشا نہیں جاؤں گا، تو کیا کروں؟ خیال آیا کہ چلو tryکرتے ہیں۔ کسی بزرگ کے پاس گیا، اس نے کہا کہ کوئی راستہ نہیں، فلاں جگہ جاؤ تو وہ بتائے گا۔ وہ فلاں بزرگ کے پاس گیا، اس نے کہا کہ کوئی راستہ نہیں، اس شخص نے کہا کہ جب کوئی راستہ نہیں تو پھر اس بزرگ کو بھی قتل کر دیا۔ اس نے کہا کہ سو پورے ہی ہو جائیں۔ پھر چل رہا تھا، اس کو وہاں پر کسی نے کہا کہ تم نے اس کو تو قتل کر دیا، سو قتل بھی تم نے کر دیے۔ اب جاؤ، ایک بزرگ ہے، اس کے پاس جاؤ۔ وہ تمہارے لیے بخشنے کا راستہ تمہیں بتا دے گا۔ اگر predestined ہوتا تو راستے نہ بتائے جاتے۔ یہ روایتوں میں آتا ہے۔ یہ بھی حدیثیں ہیں۔ وہ جا رہا تھا کہ راستے میں ہی فوت ہو گیا۔ اب جو مَر گیا، تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے آ گئے، جہنّم میں لے جانے والا فرشتہ بھی آگیا اور جنّت میں لے جانے والا فرشتہ بھی آگیا۔ ایک نے کہا کہ اس نے سو قتل کیا ہے، اس کو جہنّم میں لے کے جاؤں گا۔ دوسرے نے کہا کہ یہ نیکی کی طرف جا رہا تھا، تو اس کو جنّت میں لے کے جاؤں گا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ travel جہاں سے کر رہا ہے، وہ وہاں سے لے کے اس کا فاصلہ ناپیں۔ تو جب انہوں نے distance دیکھا، تو جس طرف وہ نیکی حاصل کرنے کے لیے جا رہا تھا، وہ فاصلہ تھوڑا تھا اور دوسرا حصّہ زیادہ طے کر لیا تھا۔ تو جنّت والا فرشتہ اس کو جنّت میں لے گیا۔ اگر یہ یہی predestined ہوتا کہ جی! اس نے جہنّم میں جانا ہے، تو سو قتل کرنے کے بعد جہنّم میں جاتا ہے۔ تو اس لیے یہ سوچنے والی باتیں ہوتی ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے انسان کو نیک اعمال کی پابندی، اللہ تعالیٰ کی مغفرت پر یقین اور تقدیر سے متعلق غلط فہمیوں سے بچنے کی تلقین فرماتے ہوئے عمل کی اہمیت پر زور دیا کہ اس لیے عمل کرو، عمل کا انسان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ عمل کرو، تو مَیں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے کیوں کہا ہے، قرآنِ شریف میں لکھا ہے کہ سوائے شرک کے باقی گناہ بخش دیتا ہوں۔ اور آخر وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی حدیث ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب جہنّم بالکل خالی ہو جائے گی، سارے جنّت میں چلے جائیں گے، تو یہ کہنا کہ ہم عمل نہ کریں اور ہم نے تو جنّت میں یا جہنّم میں جانا ہے، تو یہ غلط ہے۔ اس طرح کی حدیثوں سے misguide انسان ہوتا ہے کہ جن کو سمجھ نہیں سکتا۔
ایک حاضرِ مجلس نے دورانِ ملاقات عرض کیا کہ انہیں حال ہی میں تربیت کے حوالے سے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس پر حضورِ انور نے تربیت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے عملی تربیت پر توجہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے اعمال کی اہمیت اور انسان کے انجام پر ان کے اثرات کو واضح فرمایا کہ تربیت بنایا ہے، تو تربیت کی باتیں کرو، جو مَیں نے بتائی ہیں
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ تو اقبال کو بھی سمجھ آ گئی تھی، اس نے بھی یہ کہا تھا، عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی جہنّم بھی۔
گو اگلے حصّے سے مجھے اتفاق نہیں ہے
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے، نہ ناری ہے
اس لیے نہیں اتفاق کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ نیک فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصاویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے بطور تبرک قلم کا تحفہ حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
٭…٭…٭



