گریٹر بلیو سٹارلنگ: ایک خوب صورت اور ذہین پرندہ
افریقہ کے جنگلات، کھلے میدانوں اور سوانا میں ایک ایسا پرندہ بھی پایا جاتا ہے جو اپنی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ اپنی غیر معمولی ذہانت کے لیے بھی مشہور ہے۔ اسےGreater blue starling کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا ایک معروف انگریزی نام گریٹر بلیو ایئرڈ اسٹارلنگ بھی ہے۔ اس کا سائنسی نام Lamprotornis chalybaeus ہے۔ دھوپ میں اس کے جسم پر موجود نیلے، سبز اور فیروزی رنگ دھاتی چمک کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اس پرندے کی دلچسپی صرف اس کے خوب صورت پروں تک محدود نہیں؛ اس کا طرز زندگی قدرتی دنیا میں ذہانت اور موافقت کی ایک عمدہ مثال ہے۔
گریٹر بلیو اسٹارلنگ عموماً درمیانی جسامت کا ہوتا ہے، لیکن اس کا رنگ اسے دور سے بھی نمایاں کر دیتا ہے۔ اس کے پروں اور جسم پر نیلے اور سبزی مائل رنگوں کی ایسی چمک دکھائی دیتی ہے جو روشنی کے زاویے کے ساتھ بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ اسی دھاتی جھلک کی وجہ سے اسٹارلنگ خاندان کے بہت سے پرندے دیکھنے والوں کو غیر معمولی طور پر دل کش محسوس ہوتے ہیں۔

اس کی آنکھیں بھی نمایاں ہوتی ہیں اور مجموعی جسمانی ساخت اسے تیز رفتار پرواز اور درختوں کے درمیان حرکت کے لیے موزوں بناتی ہے۔ یہ پرندہ افریقہ کے مختلف حصوں میں پایا جاتا ہے اور مختلف ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے جنگلات کے کناروں، جھاڑیوں، کھلے میدانوں، سوانا اور ایسے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں درخت اور خوراک دونوں دستیاب ہوں۔
گریٹر بلیو اسٹارلنگ اکثر تنہا نہیں رہتا بلکہ دوسرے اسٹارلنگز کے ساتھ جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتا ہے۔ جھنڈ میں رہنے سے خوراک تلاش کرنا آسان ہوتا ہے اور کسی خطرے کی صورت میں کئی پرندے بیک وقت چوکس ہو سکتے ہیں۔ اس کی خوراک خاصی متنوع ہے۔ پھل اور بیج اس کی غذا کا اہم حصہ ہیں، جبکہ کیڑے مکوڑے اور دوسرے چھوٹے جاندار بھی اس کی خوراک میں شامل ہو سکتے ہیں۔ موسم اور دستیاب خوراک کے مطابق اس کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ یہی غذائی تنوع اسے مختلف ماحول میں زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔
گریٹر بلیو اسٹارلنگ سے متعلق سب سے دلچسپ بات اس کے آوازوں کی نقل کرنے والے رویّے سے وابستہ ہے۔ بعض حالات میں یہ شکاری پرندوں کی آوازوں یا ان سے متعلق خطرے کے اشاروں کی نقل کر سکتا ہے۔ یہ حربہ اس وقت خاص طور پر فائدہ مند ہو سکتا ہے جب کئی پرندے یا جانور ایک ہی علاقے میں خوراک کے لیے مقابلہ کر رہے ہوں۔ اگر کسی جانور کو اچانک شکاری پرندے کی آواز سنائی دے تو وہ خطرے کے اندیشے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ اس موقع پر اسٹارلنگ کو خوراک تک نسبتاً آسان رسائی مل سکتی ہے۔ یوں آواز صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ بعض حالات میں قدرتی دھوکے کی ایک حکمت عملی بھی بن جاتی ہے۔
خوراک حاصل کرنے کے لیے ہر جانور کو اپنی توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے، لیکن کچھ پرندے دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی تلاش کرتے ہیں۔ گریٹر بلیو اسٹارلنگ کے متعلق بھی ایسے رویّوں کا ذکر ملتا ہے جن میں یہ دوسرے جانوروں کو خوف زدہ یا منتشر کر کے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس طرح براہ راست لڑائی سے بچتے ہوئے صرف آواز یا رویّے کا استعمال اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مرتبہ اس کی نقل کامیاب ہوتی ہے؛ قدرتی ماحول میں دوسرے پرندے بھی مسلسل سیکھتے اور خطرات کو پہچانتے رہتے ہیں۔
اس پرندے کے دفاع سے متعلق سب سے حیران کن بات کیچلی یعنی سانپ کی اتری ہوئی کھال کا استعمال ہے۔ سانپ جب اپنی پرانی جلد اتارتا ہے تو گریٹر بلیو اسٹارلنگ ایسی کھال کو اپنے گھونسلے کے قریب استعمال کر تا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ممکنہ دشمن کو یہ تاثر دینا ہو تا ہے کہ یہاں سانپ موجود ہے۔ بہت سے چھوٹے جانور سانپ کو ایک خطرناک شکاری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ گھونسلے کے قریب سانپ کی کھال کسی بھی درانداز کو محتاط کرنے یا اسے وہاں سے دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ دھوکے کے ذریعے دفاع کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ پرندے کو خود حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ماحول میں موجود ایک چیز کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انڈے اور نومولود بچے کسی بھی پرندے کے لیے انتہائی نازک مرحلہ ہوتے ہیں۔ والدین کو ایک طرف خوراک تلاش کرنی ہوتی ہے اور دوسری طرف گھونسلے کو شکاریوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے میں چھپنے کی مناسب جگہ، درخت کا انتخاب اور اردگرد خطرے کی علامات کو پہچاننا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ گریٹر بلیو اسٹارلنگ کا دفاعی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ پرندوں کی بقا صرف جسمانی طاقت پر منحصر نہیں بلکہ ماحول کو سمجھنے اور دستیاب وسائل سے فائدہ اٹھانے پر بھی منحصر ہے۔
گریٹر بلیو اسٹارلنگ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت میں کامیابی ہمیشہ بڑے جسم یا طاقتور پنجوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ کبھی ایک آواز، کبھی مناسب وقت پر اختیار کیا گیا رویہ اور کبھی ماحول میں پڑی ہوئی ایک معمولی چیز بھی بقا میں اہم کردار ادا کر تی ہے۔ افریقہ کے وسیع قدرتی مناظر میں یہ خوب صورت اسٹارلنگ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پرندوں کی دنیا صرف رنگوں اور آوازوں کی دنیا نہیں، بلکہ حیرت انگیز حکمت عملیوں اور بقا کی مسلسل جدوجہد کی دنیا بھی ہے۔
(ابوالفارس محمود)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: موبائل فون کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے اثرات




