امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا میں قائم فلاحی ادارے انٹرنیشنل کرسچن وائس کے بانی و چیئرمین، فلاحی ادارےAid to the Church in Needکے شعبۂ صحافت و پبلک افیئرز کے سربراہ اور ایک پادری کی ملاقات
پاکستان میں آباد مسیحی برادری خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، تو آپ کو انہیں اُوپر لانے کی کوشش کرنی ہو گی، کم از کم پہلے انہیں خطِ غربت تک لے آئیں اور پھر ان کے حالات پہلے سے بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن اس کے لیے آپ کو گھریلو صنعتیں یا دیگر صنعتیں قائم کرنی ہوں گی تاکہ ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں
مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے تین مسیحی شخصیات کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا جو کہ مسیحیوں اور دیگر مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اُٹھاتی ہیں۔ ان شخصیات میں کینیڈا میں قائم فلاحی ادارے ’انٹرنیشنل کرسچن وائس‘ کے بانی اور چیئرمین پیٹر بھٹی صاحب، فلاحی ادارے’Aid to the Church in Need‘کے شعبہ صحافت و پبلک افیئرز کے سربراہ جان پونٹیفیکس (John Pontifex) صاحب اور پادری جاوید کالب صاحب شامل تھے۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں واقع حضورِ انور کے دفتر میں منعقد ہوئی۔
مکرم پیٹر بھٹی صاحب پاکستان کے پہلے مسیحی وفاقی وزیر شہباز بھٹی صاحب مرحوم کے بڑے بھائی ہیں جنہیں ۲۰۱۱ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ملاقات کے آغاز میں تینوں مہمانوں کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
گفتگو کے دوران حضورِ انور نے پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور اس کے حالات بہتر بنانے کے حوالے سے راہنمائی عطا فرمائی اور ملک میں مسیحیوں کی آبادی کے متعلق دریافت فرمایا۔
اس پرپیٹر بھٹی صاحب کی جانب سے جب پاکستان کی کُل آبادی میں مسیحیوں کا تناسب ڈیڑھ فیصد بیان کیا گیا، تو حضورِ انور نےمزید دریافت فرمایا کہ اس لحاظ سے ان کی تعداد تقریباً تین سے چار ملین بنتی ہے؟ جس پرانہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
پھر دوسرے مہمانِ گرامی جان پونٹیفیکس صاحب نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ وہ چار مرتبہ پاکستان کا دَورہ کر چکے ہیں اور ان کے خیال میں مسیحیوں کی زیادہ آبادی پنجاب کے علاقے میں ہے۔
اس پر حضورِ انور نے موصوف سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ پاکستان میں بھی کوئی پراجیکٹ چلا رہے ہیں؟ ان کے اثبات میں جواب دینے پر حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ کوئی تعلیمی پراجیکٹ ہے یا کوئی اَور؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ تعلیمی بھی ہے اور کمیونٹی کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے بھی ہے۔
اس پر حضورِ انور نے تجویز فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ کمیونٹی کی ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کوپاکستان میں کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینا چاہیے۔ نیز استفسار فرمایا کہ کیا آپ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں؟
جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ ہم نے یوں کوئی منصوبہ شروع تو نہیں کیا۔
حضورِ انور کی جانب سے دوبارہ کاٹیج انڈسٹری کی نشاندہی پر مہمان نے عرض کیا کہ اس کے منصوبوں کا آغاز ہم نے دیگر ممالک میں کیا ہے اور ہم تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ آپ کو پاکستان میں بھی اس کا آغاز کرنا چاہیے اور اگر آپ کو سرمایہ کاروں کی ضرورت ہو، تو آپ جناب پیٹر صاحب اور دیگر احباب سے تعاون کی درخواست کر سکتے ہیں۔
مہمان نے اپنے ادارے کی مزید مساعی کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم لوگوں کو ٹیچر بننے کی ٹریننگ بھی دیتے ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ لیکن انہیں بنیادی سرمایہ فراہم کرنے کی ضرورت بھی ہے۔
پھر حضورِ انور نے پیٹر بھٹی صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ تو آپ اپنی کرسچن کمیونٹی کو وہاں آرگنائز کریں۔ چار ملین بڑی تعداد ہوتی ہے۔ آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم تھوڑے بھی ہیں تو کر لیتے ہیں۔
اس پر پیٹر بھٹی صاحب نے جماعت احمدیہ کی تنظیمی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے عرض کیا کہ آپ تو انتظامی اُمور اور تنظیم سازی میں پوری دنیا میں اوّل نمبر پر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں اپنی کمیونٹی کو درپیش بنیادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے تنظیمی حوالے سے دو بنیادی مسائل ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہماری برادری کے زیادہ تر لوگ غربت کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے تبصرہ فرمایا کہ even below poverty level ہے۔ اس کو بھی develop کریں۔
پھر پونٹیفیکس صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ پاکستان میں آباد مسیحی برادری خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، تو آپ کو انہیں اُوپر لانے کی کوشش کرنی ہو گی، کم از کم پہلے انہیں خطِ غربت تک لے آئیں اور پھر ان کے حالات پہلے سے بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے لیے آپ کو گھریلو صنعتیں یا دیگر صنعتیں قائم کرنی ہوں گی تاکہ ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
جس پر انہوں نے اس تجویز کی حمایت میں عرض کیا کہ یہ اَمر بہت اہم ہے۔
ملاقات کے اختتام پر معزز مہمانوں کو حضورِ انور کے ساتھ ازراہِ شفقت تصویر بنوانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
مزید برآں مہمانانِ گرامی پیٹر بھٹی صاحب اور جان پونٹیفیکس صاحب نے حضورِ انور سے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات اور قلبی جذبات کا اظہار بھی کیا۔
سب سے پہلے معروف مسیحی راہنما پیٹر بھٹی صاحب نے حضورِ انور کی شفقت اور عاجزی و انکساری نیز مسیحی کمیونٹی کی ترقی کے حوالے سے حاصل ہونے والی بصیرت افروز راہنمائی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں بیان کیا کہ میری حضورِ انور کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی۔ مجھے بہت اچھا لگا۔ وہ بہت دوستانہ مزاج کے مالک ہیں۔ ان میں جو عاجزی اور انکساری مَیں نے دیکھی، اس نے ہمیں بہت زیادہ متاثر کیا، وہ مجھے ایسے محسوس ہوئے کہ جیسے میرے والد ہوں، میرے بھائی ہوں۔
ہم نے ایک اچھے ماحول میں گفتگو کی۔ ہماری بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ہم نے پاکستان میں توہینِ مذہب کے واقعات اور متاثرہ افراد کے تحفّظ کے حوالے سے گفتگو کی کہ ہم اس صورتِ حال پر کس طرح قابو پا سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس حوالے سے بہت اچھی تجاویز تھیں جن پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ہمیں اپنی کمیونٹی کے حالات بہتر بنانے اور اسے ترقی دینے کی نصیحت فرمائی۔ اگرچہ ہم پہلے سے اس بات سے آگاہ ہیں، لیکن ان کا اس اَمر پر خاص طور پر زور دینا میرے لیے بہت مؤثر ثابت ہوا، اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمیں اس بات پر توجہ مرکوز کرنی ہے کہ اپنی کمیونٹی کو کس طرح ترغیب دینی ہے اور کس طرح اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
اسی طرح فلاحی ادارے ’Aid to the Church in Need‘ کے شعبۂ صحافت و پبلک افیئرز کے سربراہ جان پونٹیفیکس صاحب نے بھی حضورِ انور کی شفقت اور بصیرت افروز نصائح سے متاثر ہو کر اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ میرے لیے یہ نہایت اعزاز اور سعادت کی بات تھی کہ مجھے حضورِ انور سے ملاقات اور ایسے اُمور پر گفتگو کا موقع ملا جو آپ کے دل کے بھی بہت قریب ہیں اور ہمارے دل کے بھی۔ ان اُمور میں بالخصوص مذہبی آزادی کے لیے جدوجہد ظلم و ستم کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت اور اس حقیقت کا اِدراک شامل ہے کہ اتحاد ہی ہماری قوّت ہے۔
ہمارے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ ہمیں حضورِ انور سے ملاقات کا موقع ملا اور آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت نیز مذہبی آزادی کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر تبادلۂ خیال ہوا۔
حضورِ انور نے بالخصوص تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تعلیم ہی وہ واحد مؤثر ذریعہ ہے کہ جس کے ذریعے ایک پسماندہ شدید غربت کا شکار اور ایک فرسودہ نظام میں جکڑی ہوئی کمیونٹی غربت کے چنگل سے نکل سکتی ہے۔ نیز نصیحت فرمائی کہ ہمیں اپنی کمیونٹی کی تعلیمی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
٭…٭…٭



