مَصَالِحُ الْعَرَب (قسط نمبر405)
(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات، گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)
مکرم رضوان محمد اسماعیل صاحب
مکرم رضوان محمد اسماعیل صاحب کا تعلق سیریا سے ہے جہاں ان کی پیدائش 1962میں ہوئی۔ پھر انہیں 2008ء میں مع اہل وعیال بیعت کرنے کی توفیق ملی۔وہ احمدیت کی طرف اپنے سفرکا مختصراحوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
زیارت رسولؐ
میرا جماعت احمدیہ کی طرف سفر اس جماعت سے تعارف سے بہت سال پہلے اس وقت شروع ہو گیا تھاجب مَیں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے پاس دیکھا ۔آپ کے گرد بے شمار عرب جمع تھے اور آپ سے یہ معجزہ دکھانے کا مطالبہ کررہے تھے کہ آپ پہاڑ کو اٹھا کردوسری جانب رکھ دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی خاص قدرت اور نصرت سے ایسا کر دکھایا۔ پھر جب ان عربوں نے یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جہاد کی طرف بلایا، لیکن انہو ںنے عذر کرنا شروع کردیا ۔یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا کہ کیا یہ وہ نام نہاد عرب ہیں جنہوں نے سب کچھ دیکھ کر بھی آپؐ کی آواز پر لبّیک نہیں کہا۔ اسی پر یہ رؤیا ختم ہوگیا اور مَیں اس کی تعبیر ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگ گیا۔ مجھے اس کی کوئی مناسب تعبیر تو نہ ملی تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود یہ رؤیا میرے ذہن میں تازہ رہا۔ مَیں نے تعبیر جاننے کی غرض سے بعض لوگوں کو یہ رؤیا سنایا تو انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح زیارت ناممکن امر ہے اس لئے لگتا یہی ہے کہ تم نے یہ رؤیا اپنی طرف سے ہی گھڑ لیا ہے۔
مَیں جس مسجد میں نماز کے لئے جایا کرتا تھا وہاںکچھ عرصہ کے بعدایک نیاخطیب آیا جو نہایت متکبر اور مغرور تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ دینی علوم کے حصول میں سب سے آگے نکل گیا ہے ۔ چنانچہ وہ اپنے ہر مخالف پراپنی علمیت جتلانے کی غرض سے تابڑ توڑ حملے کرتا۔ مَیں کچھ عرصہ تک تو ناگواری سے اس کی بات سنتا رہا تا آنکہ میری برداشت جواب دینے لگی۔ چنانچہ مَیں اس کے خطبات میں مذکور بعض قابل اعتراض امور کا قرآن وسنت کی روشنی میں ردّ لکھ کراسے بھیجنے لگ گیا۔میرے کسی ردّ سے مشتعل ہو کر اس نے تکفیر کا دیرینہ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مجھے کافر اور ملّت سے خارج قرار دے دیا۔نیز اپنے فتویٰٔ تکفیر کے ساتھ میری مسجد بدری کے احکام بھی صادر فرما دیئے۔
مجھے اپنی تکفیر اور مسجد بدری کے فیصلے نے بہت رنجیدہ کردیا۔ چند روز کے بعد اشک شوئی اور دلجوئی کے طور پر رؤیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مسجد میں دیکھا جس سے مجھے نکالا گیا تھا۔ آپ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مسجد میں مجھے دو اشخاص کے علاوہ اورکوئی نہیں دیکھ سکتا؛ ایک تم ہو اور ایک وہ معمرشخص۔ یہ کہہ کر آپؐ نے مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے ایک سادہ سے ضعیف العمر شخص کی طرف اشارہ کیا ۔
اس بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل مختلف تھی۔ اورمجھے احمدیت سے تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ دوسرے رؤیا میں مَیں نے جس شخصیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر دیکھا تھا وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مشابہ تھی۔
’’إِنَّہٗ الْمَہْدِی‘‘کے اقرار تک کا سفر
مجھے تو جماعت احمدیہ کے بارہ میں کوئی علم نہ تھا اور نہ ہی میں نے اس کا نام تک سنا تھا۔ ایک روز مختلف چینلز دیکھتے ہوئے مَیں ایم ٹی اے پر رُک گیا ۔ اس وقت اس پر پروگرام الحوار المباشر لگا ہوا تھا اور مرحوم مصطفی ثابت صاحب حضرت امام مہدی ومسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بات کررہے تھے۔ میں تو مسیح او رمہدی کی علیحدہ علیحدہ شخصیات کا قائل تھا۔ اس لئے میرے لئے یہ بات بڑی مضحکہ خیز تھی کہ کوئی ایک شخص ان دونوں کا مصداق ہونے کا دعویدار ہے۔ چنانچہ مَیں نے ہنستے ہوئے کہا کہ مسیح موعو د اور امام مہدی؟ اور وہ بھی ہندوستان سے؟!! لیکن کچھ دیریہ پروگرام دیکھنے کے بعد مَیں نے مصطفی ثابت صاحب کے بارہ میں کہا کہ بظاہر تو یہ شخص پڑھا لکھا لگتا ہے پھریہ ایک ایسے شخص پرکیونکر ایمان لے آیا جو عربی نہیں بلکہ ہندوستان کا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف وہ مسیح موعود ہے بلکہ امام مہدی بھی ہے۔یہ سوچ کرمحض حقیقت سے آگاہی کے طور پرمَیں نے ایم ٹی اے کو مزید دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اس چینل کے جتنے بھی پروگرام دیکھے ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کا خاص اثر تھا۔ یہ کسی عام انسان کا کلام نہیں ہوسکتا تھا۔ دوماہ تک ایم ٹی اے دیکھنے کے بعد مجھے اس چینل سے خاص قلبی اورروحانی لگاؤ ہوگیا۔
پھر ایک روز پروگرام الحوار المباشر دیکھنے کے بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سن رہا تھا کہ مجھے اپنا رؤیا یاد آگیا جس میں مَیں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مختلف شکل میں دیکھا تھا۔ اب ایم ٹی اے دیکھنے کے بعد یہ کھلا تھا کہ دراصل وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شخصیت تھی جسے میں نے رؤیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں دیکھا تھا۔یہ دیکھتے ہی آن کی آن میں قبول حق کی ساری کڑیاں مل گئیں اور مجھے اپنے جذبات پر قابونہ رہا۔ میں نے وارفتگی کے عالم میں اپنے گھر میں بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے دوڑنا شروع کردیا کہ ’’ إِنَّہٗ الْمَہْدِیّ! إِنَّہٗ الْمَہْدِیّ‘‘ ۔ مجھے ایمان کے نشے میں یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں ہوا میں اڑا جارہا ہوں جبکہ میرے گھر والے سمجھ رہے تھے کہ مجھ پر کسی جن کا سایہ ہوگیا ہے۔ اس لئے مَیں ایسی باتیں کررہا ہوں۔لیکن الحمد للہ کہ بعد میں میرے سمجھانے پر سب کو بات سمجھ آگئی اور الحمد للہ میرے پورے خاندان نے میرے ساتھ بیعت کرلی۔
شام کے موجودہ حالات کے پیش نظر رضوان محمد اسماعیل صاحب ہجرت کر کے ترکی آگئے اور یہاں سے انہوںنے اپنی ایک بیٹی کی شادی قادیان کے ایک وقف نو بچے سے کر دی۔ اوراب ان کی یہ بیٹی قادیان میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔
٭٭٭٭٭
مکرم محمود ابن محمد شوّا صاحب
مکرم محمود شوّا صاحب کا تعلق بھی سیریا سے ہے جس کے شہر حلب میں ان کی پیدائش 1972ء میں ہوئی اور پھر انہیں 2011ء میں بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ وہ اپنی بیعت تک کے سفر کا احوال کچھ یوں لکھتے ہیں :
صوفیوں کی مجالس ذکر میں
میرے والد صاحب صوفیوں کے رفاعی قادری مسلک کے پیروکار تھے۔ میں 80ء کی دہائی میںاپنے والد صاحب کے ساتھ صوفیوں کی مخصوص مجالسِ ذکر میں جایا کرتا تھا ۔ شروع شروع میں تو مَیں اسے عبادت ہی سمجھتا تھا ۔ پھر جب عمر تھوڑی زیادہ ہوئی تو ارد گرد کے ماحول کی بھی سمجھ آنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ صوفیوں کی مجالس ذکر میں شامل ہونے والے مولوی حضرات ان مجالس کے بعد بکثرت ایک دوسرے کی غیبت کرتے تھے۔یہ دیکھا تو ایسے لوگوں کے ساتھ کی جانے والی عبادت کی قبولیت سے میرا ایمان اٹھ گیا اورمیرا دل اس غیبت زدہ نمونہ سے باغی ہو گیا۔ چنانچہ جوانی کی عمر کو پہنچ کر 90ء کی دہائی میں مَیں ان مولویوں کی مجالسِ ذکر سے کلیۃً منقطع ہو گیا۔
سلسلہ نقشبندیہ کی بیعت
اس کے بعد میرا تعارف اپنے ایک دُور کے رشتہ دار سے ہوا جس نے مجھے ایک مشہور مولوی شیخ محمد ابن عز الدین غزنوی کے بارہ میں بتاتے ہوئے ان کی اور ان کے اتباع کی نیکی تقویٰ کی داستانیں سنائیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ ان کے سلسلہ کا نام سلسلۂ نقشبندیہ ہے جس میں اس شیخ کی بیعت کی جاتی ہے۔بیعت اور روحانیت کی باتیں سن کر میرا دل ان کی طرف کھنچنے لگا اورباوجود دُوری کے میںبہت جلد اس شیخ کی مجلس میں جا پہنچا۔ تقریبًاایک سال تک ان کی مجالس میں بیٹھنے اور ان کے دروس میں حاضری کے بعدمَیں نے اپنے اندر کسی قسم کی روحانی ترقی محسوس نہ کی۔ تاہم ان کے ساتھ رہ کر میں نے آخری زمانے میں امّت مسلمہ میں ظہور امام مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر بہت سنا اور یہ کہ امّت مسلمہ کی اصلاح اور ترقی ان دوجودوں کے زمانۂ ظہور سے وابستہ ہے ۔
امام مہدی اور روحانیت کی تلاش
نقشبندیوںسے علیحدگی کے بعد 2000ء میںمیرے ایک دوست نے بتایا کہ اس کی اہلیہ کا ایک قریبی رشتہ دار نہایت پارسا انسان ہے۔ اس نے تاریخ میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے لیکن علم تفسیر قرآن اور سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث نبویہ کے فہم میں اسے خاص درک حاصل ہے۔ میرے اس دوست نے اس ’پارسا‘ انسان کے بارہ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شاید یہی شخص امام مہدی ہو۔اس نے اس پارسا شخص کی اس قدر تعریف کی کہ امام مہدی کو دیکھنے کا خواہشمند اور روحانیت کا متلاشی میرا دل اس شخص کی جانب مائل ہوتا چلا گیایہاں تک کہ میں نے کہا کہ مجھے اس کے پاس لے چلو۔ میرے اصرار پر وہ مجھے اس کے پاس لے گیا۔ اس سے تعارف ہوا تو تین سال تک مَیں اس کی شاگردی میں رہا۔ اس دوران قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی بعض ایسی تفاسیر سنیںجو نئی اور دل موہ لینے والی تھیں۔شروع شروع میں تو میں اس کے سب سے مخلص شاگردوں میں شامل ہوگیاتھا، لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہمیں اس شخص کی بعض بری عادتوں اور قبیح حرکات کا علم ہونا شروع ہوا تو میں آہستہ آہستہ اس سے علیحدہ ہوگیا۔
احمدیت سے تعارف
اس مذکورہ شخص کے شاگردوں میں محمد سلیم کردی نامی ایک شخص بھی تھا جس سے میری دوستی ہوگئی تھی۔ 2011ء میں محمد سلیم کردی صاحب میرے گھر تشریف لائے اور مجھ سے کہاکہ مَیں تمہارے پاس ایسی خبر لایا ہوں جس کے تم عرصہ دراز سے متلاشی ہو ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ایم ٹی اے اور حضرت مسیح موعود وامام مہدی علیہ السلام کے بارہ میں بتایا۔انہوں نے کچھ عرصہ سے یہ چینل دیکھ کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کرلی تھی۔ انہوں نے مجھے تفصیلا آپؑ کے دعویٰ،آپ کی صداقت کے دلائل اور آپ کے معجزات کے بارہ میں بتایا۔ مَیں یہ بات سن کربہت خوش ہوا اورسلیم صاحب سے پوچھاکہ ان لوگوں سے رابطہ کیسے ہو سکتا ہے۔سلیم صاحب نے کہا کہ تم یہ چینل دیکھتے رہو اور پھراس دعویدار کی صداقت کے بارہ میں استخارہ کر کے مجھے بتانا۔
استخارہ اور راہنمائی
مَیں کچھ عرصہ ایم ٹی اے دیکھتا رہا جو میرے لئے روحانی چشمہ ثابت ہوا۔ میرے لئے تو ہر بات واضح تھی لہٰذا میں نے اگلا قدم اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا اور استخارہ کیا توخواب میں دیکھا کہ میں حرم مکی میں کھڑے ہو کر کعبہ شریف کا طواف کرنے والوں کو دیکھ رہا ہوں۔اس مختصر نظارہ کی میں نے یہ تعبیرکی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا ہے کہ یہ جماعت سچی ہے اور یہی حقیقی رنگ میں کعبہ کے طواف کا حق ادا کررہی ہے۔نیز اس میں میرے لئے یہ پیغام تھا کہ تم بہت قریب پہنچ چکے ہو اور اس جماعت کو طواف کرتے ہوئے دیکھ بھی رہے ہو لیکن بیعت نہ کرنے کی وجہ سے ان میں شامل نہیں ہو۔
بیعت
اب مجھے سلیم صاحب کا بشدت انتظار تھا۔ وہ دو ہفتے کے بعد آئے تو مَیں نے انہیں کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ ہماری ملاقات حلب میں جماعت کے صدر عبد القادر بن حسن عابدین سے ہوئی جنہوں نے مجھے شرائط بیعت پڑھ کرسنائیں اورپھر میں نے 25فروری 2011ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بیعت فارم پُر کرکے ارسال کردیا۔
بیعت کے بعد مجھے احمدیت میں وہ سب کچھ مل گیا جس کے لئے میں در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا تھا۔ حقیقی روحانیت اور قرآن کریم کے عمیق معانی سے تعارف ہوا اور امام الزمان سے جڑ کر تقرب الی اللہ کا احساس ہونے لگا۔
شام کے موجودہ مخصوص حالات کی وجہ سے مکرم محمود شوّا صاحب کو بھی اپنا ملک چھوڑنا پڑا اور وہ اس وقت ترکی میں مقیم ہیں۔
(باقی آئندہ)




