پریس ریلیز (Press Release)

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الم انگیزداستان (قسط نمبر 189)

(’عبد الرحمان‘)

{ 2015ء میں سامنے آنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب}

سال 2015ء اور احمدیوں پر مظالم

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکزی دفتر نظارت امورِ عامہ نے سال 2015ء کے اختتام پر پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے اکثر مندرجات ہماری گزشتہ رپورٹس میں شاملِ اشاعت ہو چکے ہیں ۔ اس رپورٹ کے ساتھ جاری کی جانے والی پریس ریلیز قارئین کے استفادہ کے لئے ذیل میں پیش کی جاتی ہے:

‘‘پریس ریلیز

2015ء۔ احمدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ مزید بڑھ گیا۔

= احمدیوں پر منظم قاتلانہ حملے کئے گئے۔ محض عقیدہ کے اختلاف کی بنا پراحمدیوں کو قتل کئے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔

=بلدیاتی انتخابات میں امتیازی انتخابی فہرست بنا کر احمدیوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا

=جہلم میں قرآن پاک کی توہین کا بے بنیاد الزام عائد کر کے فیکٹری اور احمدیوں کے گھروں کوجلا دیا گیا۔

=ایسا شر انگیز لٹریچر کھلے عام شائع کر کے تقسیم کیا جارہا ہے جس میں احمدیوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ سے لے کر قتل تک کی ترغیب دی جارہی ہے۔

=سرکاری انتظامیہ کی اس ضمن میں معنی خیز خاموشی کا حکومتی سرپرستی کے سوا کیا مطلب ہے؟؟؟

=پنجاب حکومت نے متعصب متحدہ علماء بورڈ کی بلاجواز سفارش پر جماعت احمدیہ کے جملہ لٹریچر کو ممنوع قرار دیا۔

=2015ء میں اردو پریس کی طرف سے بے بنیاد اور اشتعال انگیزخبروں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔

=دوران سال 1570سے زائد خبریں اور 334 سے زائد مضامین مخالفانہ پراپیگنڈے کے طور پر شائع کئے گئے۔

چناب نگرربوہ ( پ ر)جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے گذشتہ روزجماعت احمدیہ کے خلاف2015کے دوران ہونے والے ظلم و ستم پر مبنی سالانہ رپورٹ پریس کوجاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال احمدیوں کے خلاف جاری نفرت و تشدد کی لہر میں نمایاں اضافہ ہوا۔وہ سلسلہ جو جماعت احمدیہ پرمظالم اور ایذا رسانی کا طویل عرصے سے جاری ہے اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معاندین کے ہاتھوں میں مسلسل کھیل رہے ہیں ۔

٭ترجمان نے کہا کہ 20نومبر کو جہلم میں قرآن پاک کی توہین کا بے بنیاد الزام عائد کر کے ایک احمدی مالک کی فیکٹری پاکستان چپ بورڈ پر منظم حملہ کیا گیا اور فیکٹری اور احمدیوں کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔اس حملہ میں احمدیوں کی جانیں بمشکل بچائی جا سکیں ۔اگلے روز کالا گجراں ضلع جہلم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں جماعت احمدیہ کی عبادتگاہ پر حملہ کرکے اندر موجود سامان کو گلی میں رکھ کر آ گ لگا دی گئی۔

 سال2015ء کے دوران متحدہ علماء بورڈ کی سفارش پر حکومت پنجاب نے جماعت احمدیہ کے کثیر لٹریچر کو ممنوع قرار دے دیا۔ جبکہ ایسی کوئی نشاندہی حکومت نہیں کر سکی کہ اس میں کونسا مواد شر انگیز ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں نفرت انگیز مواد کی موجودگی بعید از قیاس ہے کہ جماعت احمدیہ کا تو ماٹو ہی ــ ‘‘محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘‘ ہے۔اس وقت عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ احمدیوں کے لئے بھی اپنے لٹریچر تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20کی واضح خلاف ورزی ہے۔

٭ترجمان نے احمدیوں سے امتیازی سلوک کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ایک بار پھر مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کرتے ہوئے صرف احمدیوں کے لئے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی اور احمدیوں کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ان انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں ۔ اس حوالے سے جماعت احمدیہ کے موقف کو اشتہار کی صورت میں عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی لیکن اخبارات نے اس اشتہار کو قیمتاً شائع کرنے سے انکار کر دیا۔

٭ترجمان نے کہاکہ احمدیوں کے حوالے سے کی گئی امتیازی قانون سازی کو آڑ بنا کرحکومت نے انتہا پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 1984 کے امتیازی قوانین بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہیں اور آئین پاکستان نیز قائداعظمؒکے تصور پاکستان کی روح کے منافی ہیں ، لہذا ان قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور لاکھوں پاکستانی احمدیوں کے انسانی حقوق بحال کئے جائیں جو بحیثیت پاکستانی ان کا حق ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق 1984ء کے بد نام زمانہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے جاری ہونے کے بعد سے اب تک احمدیوں کو سیاسی،سماجی اور قانونی طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے جو ایک معاشرے کے افراد کے یکساں اور مساوی بنیادی حق کی نفی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان ا متیازی قوانین کے جاری ہونے کے بعد سے 31 دسمبر 2015ء تک248 احمدی عقیدہ کے اختلاف پر قتل کئے جاچکے ہیں ۔ جبکہ 323احمدیوں پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔ 27 عبادتگاہوں کومسمارکیا گیا جبکہ 32کو انتظامیہ نے سیل کر دیا۔ 16 عبادتگاہوں پرمخالفین نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا۔39 افراد کی تدفین کے بعد قبر کھود ڈالی گئی اور 65 احمدیوں کی مشترکہ قبرستان میں تدفین نہیں ہونے دی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ احمدیوں کی زندگیاں تو پہلے بھی محفوظ نہیں تھیں اب دنیا سے گزرنے والے احمدی بھی معاندین اور انتظامیہ کی مشق ستم کا نشانہ بن رہے ہیں اور اس سال 2احمدیوں کو محض عقیدہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

٭ترجمان نے کہا کہ ملک میں عموماً اور پنجاب اور سندھ میں خصوصاًایسا شر انگیز لٹریچر کھلے عام شائع کر کے تقسیم کیا جارہا ہے جس میں احمدیوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ سے لے کر قتل تک کی ترغیب دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں متعدد ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔۔ سرکاری انتظامیہ کی اس ضمن میں معنی خیز خاموشی کا حکومتی سرپرستی کے سوا کیا مطلب ہے؟؟؟

٭ترجمان جماعت احمدیہ کے مطابق سال 2015ء کے دوران بھی ربوہ میں ،جہاں 95% احمدی آباد ہیں احمدیوں کو کسی قسم کے مذہبی اجتماع یا جلسہ کی اجازت نہ دی گئی۔ یہاں تک کہ احمدیوں کو کھیلوں کے پروگرام کھلے عام منعقد کرنے کی آزادی نہیں ۔جب کہ معاندین کو کھلے عام اجازت دی گئی کہ وہ ربوہ سے باہر کے افراد کو ربوہ میں جمع کر کے جب چاہیں ، جہاں چاہیں ، جلسہ کریں اور ربوہ میں جلوس نکالیں ۔ چنانچہ احمدی مخالف تنظیموں نے ربوہ میں آکر جلسے کئے جن میں احمدی اکابرین کو غلیظ گالیاں دی گئیں اور حاضرین کو اکسایا کہ وہ احمدیوں کو قتل کریں ۔ ایسے عناصر کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

٭ترجمان جماعت احمدیہ نے تعلیمی میدان میں احمدیوں کے ساتھ کی جانے والے نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ70کی دہائی میں حکومت وقت نے تعلیمی ادارے بھی قومیالئے تھے جن میں جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔ ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی کے نفاذکے بعد جماعت نے سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق خطیر رقم سرکاری خزانے میں اپنے تعلیمی اداروں کی واپسی کے لئے جمع کرائی۔ مگرحکومت نے آج تک جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے واپس نہیں کئے جبکہ اسی پالیسی کے تحت متعدد تعلیمی ادارے ان کے اصل مالکان کو واپس ہو چکے ہیں ۔ عقیدے کے اختلاف کو بنیاد بنا کر صرف احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کب تک جاری رہے گا؟

٭ترجمان نے کہا کہ آج فرقہ واریت، قتل و غارتگری اور انتشار اپنے عروج پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بھیانک صورتحال کے نکتہ آغاز پر غور کیا جائے،جب ریاست نے مذہب میں مداخلت کی ا ور امتیازی قوانین بنائے۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں امن و امان کی بگڑتی صورتحال مذہبی معاملات میں ریاست کی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔ آج حالات میں بہتری لانے کے لئے لازم ہے کہ ایسے امتیازی قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے جن کے نفاذ نے پاکستان کا تشخص تباہ کر دیا ہے۔

ترجمان جماعت احمدیہ نے پاکستان کے انصاف پسند حلقوں سے کہا ہے کہ وہ حکومت پر زوردیں کہ وہ مذہبی تعصبات کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کرے تاکہ وطن میں فرقہ واریت اور تعصب کا خاتمہ ہوسکے اور ہمارا پیار ا پاکستان حقیقی ترقی اور امن وسلامتی کی راہوں پر گامزن ہوسکے۔‘‘

 (باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button