الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں ۔
حضرت مولوی عبدالسلام صاحبؓ
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 30نومبر اور یکم دسمبر 2011ء میں مکرم عبدالسمیع خاں صاحب ریٹائرڈ ہیڈماسٹر کے قلم سے اُن کے دادا حضرت مولوی عبدالسلام صاحبؓ کا تفصیلی ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
حضرت مولوی عبدالسلام صاحب کاٹھگڑھی کی پیدائش1883ء میں پشاور میں ہوئی جہاں آپ کے والد محترم محمد حسین خان صاحب ملازمت کرتے تھے۔ وہ فرقہ اہلحدیث سے تعلق رکھتے تھے۔
جس وقت حضرت عبدالسلام صاحب لاہور میں زیرتعلیم تھے تو انہی دنوں حضرت مسیح موعودؑ سفر لاہور اور جہلم پر تشریف لے گئے۔ سلسلہ کی کتب پہلے سے آپ کے زیرمطالعہ تھیں ۔ اس سفر میں آپ نے حضرت اقدسؑ سے ملاقات کی اور کچھ دنوں بعد حاضر ہو کر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اس کا علم آپؓ کے والد صاحب کو ہوا تو وہ سخت برہم ہوئے اور آپ کا خرچ بند کر دیا۔ چنانچہ آپؓ اپنی تعلیم کو نامکمل چھوڑ کر قادیان آگئے۔ بعد میں باقی خاندان (بشمول آپؓ کے والد محترم) نے بھی احمدیت قبول کرلی۔ بلکہ کاٹھگڑھ کے امام مسجد بھی جو قبل ازیں سلسلہ کے اشد مخالف تھے آپؓ کی تبلیغ سے صحابہؓ میں شامل ہوگئے۔
حضرت عبدالسلام صاحبؓ کو دعوت الی اللہ کا جنون تھا۔ آپؓ کاٹھگڑھ کے امیر جماعت تھے اور ضلع ہوشیار پور میں تبلیغ کے نائب مہتمم بھی تھے۔اکثر مرکز سے مبلغین بلوایا کرتے۔ کاٹھگڑھ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر شہر روپڑؔ تھا جہاں 60 فیصدآبادی مسلمان تھی مگر احمدی کوئی نہیں تھا۔ آپؓ اکثر وہاں تبلیغ کے لئے جاتے لیکن وہاں کے لوگ آپؓ پر پتھر پھینکتے، گالیاں دیتے اور جلسۂ عام نہ ہونے دیتے۔ تاہم آپؓ نے استقلال سے کام لیا اور روپڑ ضلع انبالہ میں بہت کامیاب مناظرے کئے۔ لیکچرز کے لئے کمیٹی کی اجازت نہ ملتی تو کوئی کوٹھی کرایہ پر لے کر وہاں لیکچر کرواتے اور اشیائے خورونوش کاٹھگڑھ سے اپنے ہمراہ لے جاتے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں روپڑؔ میں پچاس ساٹھ افراد پر مشتمل جماعت قائم ہوگئی۔ یہی کیفیت کئی قریبی علاقوں میں دیکھنے میں آتی۔
آپؓ ایک علم دوست انسان تھے۔ خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مختلف جگہوں پر سکول کھلوائے۔ کاٹھگڑھ میں سکول آپ کی زمین پر واقع تھا۔ آپؓ نے اس کی حالت درست کروائی اور اس کو مڈل تک ترقی دی۔ باوجود انتہائی تنگی کے زمانہ کے آپ اپنی جیب سے تعلیم اور سکول کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے۔ اس خرچ کے نتیجہ میں آپ بہت مقروض بھی ہو گئے۔
3مارچ 1924ء کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے کاٹھگڑھ میں تشریف لاکر تعلیم الاسلام مڈل سکول کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور دعا کروائی۔
حضرت مولوی عبدالسلام صاحب نے بالغان کے لئے بھی ایک سکول جاری کیا ہوا تھا۔ اسی طرح ایک پرائمری نائٹ سکول بھی کھولا ہوا تھا۔ دونوں سکولوں میں خواتین بھی تعلیم حاصل کیا کرتی تھیں ۔ غریب طلباء کو کتابیں مفت مہیا کرتے تھے۔ ایک بورڈنگ ہائوس بھی قائم کیا تھا جہاں قریبی دیہات کے بچے رہائش پذیر ہو کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہ سلسلہ آپؓ کی وفات کے بعد آپؓ کی اولاد نے جاری رکھا۔
رپورٹ مجلس مشاورت1928ء میں لکھا ہے: ‘‘کاٹھگڑھ کا سکول خدا کے فضل سے جاری ہے اور باوجود سخت درجہ مالی تنگی کے مقامی جماعت اسے چلا رہی ہے۔ دراصل یہ سکول زیادہ تر چوہدری عبدالسلام صاحب کی محنت، توجہ اور مساعی کا نتیجہ ہے۔ چوہدری صاحب موصوف ہر قسم کی تنگی برداشت کرکے اس سکول کو چلا رہے ہیں اور افسوس ہے کہ مالی تنگی کی وجہ سے مرکزی محکمہ ابھی تک اس مدرسہ کی کوئی مالی امداد نہیں کر سکا۔ … نیز کاٹھگڑھ میں نائٹ سکول بھی ہے۔‘‘
حضرت چودھری عبدالسلام صاحبؓ کی خدمات میں اپنی زمین پر ہی ایک زنانہ مسجد کی بنیاد رکھنا بھی شامل ہے۔ نیز احمدیہ مسجد ٹیلے پر واقع ہونے کی وجہ سے وہاں پانی کی بہت تنگی تھی۔ وہاں کنواں بنوانے کا کام بھی آپؓ نے شروع کروایا جو آپؓ کی وفات کے بعد مکمل ہوا۔
جن دنوں آگرہ متھرا کے علاقہ میں آریہ ملکانوں کو شدھ کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو آپؓ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی تحریک پر لبّیک کہتے ہوئے پانچ ماہ تک تبلیغی کام کیا۔ آپؓ کو ہندو مذہب سے کافی واقفیت تھی اور ہندی اور سنسکرت بھی جانتے تھے۔ آپؓ وہاں بھی ملکانوں کے بچوں کو پڑھاتے رہے۔ آپؓ پشتو بھی جانتے تھے۔
بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تحریک شدھی کے خلاف جہاد کے لئے ممبران وفد ثانی کے لئے جن 20؍احباب کے اسماء منتخب فرمائے ان میں آپؓ کانام دوسرے نمبر پر درج ہے۔ نیز حضورؓ نے فرمایا: بھائی عبدالرحیم صاحب آگرہ تک وفد کے امیر ہوں گے اور وہاں جاکر چودھری صاحب کے سپرد کردیں گے۔
آپؓ اکثر غرباء کو عمدہ کھانا کھلایا کرتے تھے اور اُن کے لئے نفیس بستر بچھاتے۔ فرمایا کرتے کہ کبھی غریبوں کو بھی عمدہ بستر پر سلانا چاہئے۔ امیروں کے نزدیک عمدہ کھانوں اور اعلیٰ بستروں کی قدر نہیں ہوتی۔ اصل ثواب تو غریبوں کی خاطر مدارات کرنے کا ہے۔
آپؓ گرمیوں کے دنوں میں جب کبھی ہوشیار پور اور جالندھر جاتے تو کافی برف لاتے اور یتیموں اور غریبوں میں تھوڑی تھوڑی تقسیم کرتے۔
آپؓ کے پاس غریب اور یتیم کثرت سے آتے اور آپ ان کے گزارہ کی کوئی نہ کوئی صورت نکال دیتے۔
ہندو مذہب میں گائے کی قربانی کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا آپؑ کے گائوں میں کوئی مذبح نہیں ہوتا تھا اور بقرعید کے موقع پرجانوروں کو ذبح کرنے کے لئے روپڑؔ جانا پڑتا تھا۔ 1920ء کی بقر عید کے موقع پر گائوں کے ہندو اکٹھے ہو کر قربا نی کے لئے لی جانی والی گائیں چھین کر لے گئے اور فساد ہو گیا۔ بعد میں پولیس نے موقع پر پہنچ کر بیچ بچاؤ کرایا۔ پولیس نے ان گائیوں کو کاٹھگڑھ میں ہی دوسرے دن ذبح کرایا۔ چنانچہ اس دن سے ہمارے گائوں میں ہی گائیں ذبح ہونے لگیں اور آپؑ نے ایک رجسٹر بنالیا جس میں گائے ذبح کرنے کے متعلق تفصیلات درج کرتے۔ گائوں کے نمبردار اس بات پر بہت خفا ہوتے۔ ایک مرتبہ تھانیدار نے اس بارہ میں جواب طلبی کی تو آپؑ نے بتایا کہ ہم قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے اور چاردیواری کے اندر ذبح کرتے ہیں ۔ پھر تھانیدار کو اپنا ریکارڈ دکھایا اور بتایا کہ ذبح بقر کی تمام رپورٹیں حکام بالا کو بھیجی جاتی رہی ہیں ۔ چنانچہ آپ کی رپورٹوں کا یہ اثر ہوا کہ کاٹھگڑھ میں ذبح بقر کا دائمی حق قرار دے دیا گیا۔
1929ء یا 1930ء میں آپؑ کے علاقہ میں اتنا ٹڈّی دَل آ گیا کہ افسروں کو اس کی تلفی کے لئے خاص کوشش کرنا پڑی۔ آپؑ نے بھی اس حوالہ سے خاص خدمت کی توفیق پائی۔
آپؑ بدرسوم مٹانے میں کثرت سے کوشاں رہتے تھے۔ میرے والد اور چچا کی شادی پر آنے والے احمدیوں نے جاتے وقت آپؑ کو نیوتا دینا چاہا تو آپؑ نے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں تو ایسی رسوم کو توڑنا چاہتا ہوں ۔
آپؑ ایسی شادیوں میں شامل نہ ہوا کرتے تھے جن میں باجا، ڈھول، ناچ گانا یا کسی اور قسم کا تماشا ہو۔ احمدی ہونے سے قبل بھی آپؑ لغویات سے اجتناب کرتے تھے۔
آپؓ کے زمانہ میں بیوہ کا نکاح کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ آپؓ احادیث مبارکہ کے مطابق نکاح بیوگان کے لئے کوشش کرتے، بیوگان کے ورثاء کو خطوط لکھتے اور قادیان سے مربی منگوا کر اس موضوع پر جلسے کراتے۔ آپ کی تحریک سے کئی بیوگان کے نکاح بھی ہوئے۔
وسط دسمبر 1908ء میں آپؓ کے دو منزلہ نئے مکان کے افتتاح کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحبؓ اور حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ کاٹھگڑھ تشریف لائے۔
آپ خدمت دین میں ہمہ تن مصروف تھے اور روپڑؔ کے تبلیغی دورہ سے واپس آ رہے تھے کہ پائوں میں کانٹا لگ گیا۔ یہ زخم اتنا بڑھ گیا کہ بالآخر تقدیر مبرم کے سامنے ہار ماننا پڑی اور 19؍ اکتوبر 1931ء کو 48سال کی عمرمیں وفات پاگئے۔ نعش قادیان لائی گئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جنازہ پڑھایا۔ بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔
حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے حضرت چودھری عبدالسلام صاحبؓ کی وفات پر لکھا کہ الفضل میں آپؓ کی تبلیغی کار گزاری کی دو سطریں پڑھ چکا تھا کہ خبر ملی ہے کہ چوہدری صاحب موصوف فوت ہوگئے ہیں ۔ اس اچانک غمناک خبر کا صدمہ میرے دل پر نہایت گہرا ہوا اور میرے آنسو پھوٹ پڑے بوجہ اس تعلق کے جو چوہدری صاحب مرحوم نے دعوت الی اللہ میں کمال اخلاص اور پیدل سفر کی تکلیف برداشت کرکے نظارت ہذا کے ساتھ پیدا کیا تھا۔ بلاریب مَیں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ مرحوم کو فکر اور اہتمام اس نظارت کے کارکنوں کے کسی طرح بھی کم نہ تھا بلکہ ان کا جوش کچھ اَور بڑھا ہوا تھا۔ پرسوں مجھے اطلاع دیتے ہیں کہ ان کا پاؤں زخمی ہو گیا ہے اور اب وہ لاچار بستر پر پڑے ہیں تین ماہ کے لئے رخصت دی جائے۔ فلاں صاحب ان کے قائم مقام ہوں گے۔ مگر یہ علم نہ تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہو رہے ہیں ۔ کیا کاٹھگڑھ کی زمین میں ان کا کوئی جانشین میدانِ تبلیغ میں کھڑا نہ ہو گا! وہ میرے بازو تھے جو نہ معلوم کب ملے۔
حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری بیان کرتے ہیں : ‘‘مکرم جناب چوہدری عبدالسلام صاحب ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس حیات مستعار کو کبھی اپنا نہیں سمجھا۔ بلکہ خداتعالیٰ کی امانت سمجھ کر ہمیشہ برمحل خرچ کرتے رہے۔ چوہدری صاحب موصوف دو آنبہ جالندھر کی ان چند ہستیوں میں سے ایک تھے جو اس علاقہ میں احمدیت کے مستقبل کی شاندار عمارت کے معمار تھے۔ مَیں ان کو اپنے بچپن سے جانتا ہوں وہ ایک فرشتہ سیرت انسان تھے۔ خدا نے علم، سمجھ اور فراست بھی بہت اچھی عطا کی تھی۔ اس لئے اخلاص اور علم نے مل کر ایک خوبصورت شکل اختیار کرلی تھی۔ وہ بہت ہی منکسرالمزاج واقع ہوئے تھے۔ اگر میں یہ کہوں کہ وہ بہت سے مخلصین سے بھی آگے تھے تو اس میں ذرّہ بھر بھی مبالغہ نہیں ۔ ان کی مومنانہ سادگی اور انکسار کو دیکھ کر ناواقف آدمی بھی خیال نہ کر سکتا تھا کہ آپ راجپوت ہیں ۔ کبر،انانیت اور بڑائی کا احساس تک نہ تھا۔ اپنی قوم میں سے بعض خلاف شرع رواجات کے دور کرنے میں نہایت مردانگی سے تکالیف کا مقابلہ کیا۔ خداتعالیٰ ان کو بہترین جزا دے…‘‘۔
‘‘رئیس آف سٹروعہ‘‘ کے عنوان سے حضرت غلام قادر خاں صاحبؓ نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ‘‘حضرت مولوی عبدالسلام صاحب حضرت مسیح موعود کے پرانے خدام میں سے تھے۔ اس علاقہ میں اور کاٹھگڑھ میں جو خدمت آپ نے سرانجام دی ہمیشہ یاد رہے گی۔ آپ کی ہمدردی کا دائرہ ہر خاص و عام کے لئے وسیع تھا۔ ایک شفاخانہ اسی غرض کے لئے کھولا ہوا تھا۔ آپ کی زندگی ایک مسافر کی مانند درویشانہ تھی۔ آپ نے اس تھوڑی سی زندگی میں عظیم الشان کام کیا۔ جو بعد میں آنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔…
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے مضمون نگار کے ایک خط کے جواب میں رقم فرمایا: ‘‘… آپ کے دادا صاحب کی تحریر بھی مجھے یادہے اور صورت بھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے پاس ان کے خط کثرت سے آتے تھے دعا کے لئے۔ اور میں آپ کی ڈاک چونکہ اکثر پاس بیٹھے دیکھا کرتی تھی تو بار بار دیکھنے کی وجہ سے یاد رہ گیا۔…‘‘
محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم سابق امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی لکھتے ہیں : ‘‘مجھے 1929ء یا 1930ء کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ حضرت مولوی عبدالسلام صاحب مرحوم جو ایک بڑے صاحب رسوخ اور اچھی حیثیت کے زمیندار تھے اور ہندو مذہب سے بڑے واقف اور اپنے مذہب سے نہ صرف واقف بلکہ عامل بزرگ تھے انہیں جب میرے متعلق علم ہوا تو اپنے ایک مقدمہ میں پیروی کے لئے مجھے ہوشیارپور لے گئے۔ حالانکہ پہلے ایک اچھا وکیل مقرر کیا ہوا تھا۔ مرحوم کے مدّنظر صرف یہ تھا کہ ایک احمدی وکیل کا تعارف ہو جائے۔ مرحوم اپنے ظاہری لباس سے اس درجہ بے نیاز تھے کہ راستہ میں ایک جگہ کانٹوں سے الجھ کر ان کی شلوار پھٹ گئی تو کیکر کے کانٹوں سے عارضی طور پر اسے جوڑ لیا اس بات سے بالکل بے پرواہ کہ لوگ کیاکہیں گے کام پر چل پڑے‘‘۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ جب کبھی کاٹھگڑھ کا ذکر آتا تو دادا جان حضرت چوہدری عبدالسلام صاحب کا ذکر ضرور کرتے۔ 1954ء میں سکول میں جماعت دہم کی الوداعی تقریب میں جب میرا تعارف حضورؓ سے کروایا گیا کہ یہ چوہدری عبدالرحیم خان صاحب کاٹھگڑھی کے بیٹے ہیں ۔ تو حضورؓ نے فرمایا کہ اس کے دادا چودھری عبدالسلام صاحبؓ میرے کلاس فیلو تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے پاس اکثر خلافت کے منصب پر متمکن ہونے سے قبل پڑھا کرتے تھے۔
اسی طرح خطبہ جمعہ فرمودہ 7نومبر1957ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ایک واقعہ کے ضمن میں فرماتے ہیں : ‘‘مجھے یاد ہے کہ میں ابھی بچہ ہی تھا کہ کاٹھگڑھ ضلع ہوشیار پور کے ایک دوست عبدالسلام صاحب میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے وہ کاٹھگڑھ واپس گئے تو انہوں نے ایک پرائمری سکول بنایا بعد میں وہ مڈل ہو گیا۔ ان کے دو بیٹے اس وقت ربوہ میں ملازم ہیں ۔…‘‘
آپؓ کی وفات پر آپؓ کے کئی شاگردوں نے آپؓ کا ذکرخیر اپنے مضامین اور خطوط میں نہایت احترام سے کیا۔ محترم حکیم دین محمد صاحب نے آپؓ کی یاد میں جو نظم کہی اس میں سے انتخاب درج ذیل ہے:
سُوئے جنت چل دیئے جب چوہدری عبدالسلام
خود فرشتوں نے بتایا ان کو جنت کا مقام
پاک نفس و پاک خُلق، پاک خصلت، پاک خُو
تھے مجسّم خُلقِ احمد چوہدری عبدالسلام
سادگی کا عمر بھر ہی وہ درس دیتے رہے
قائل پیہم عمل تھے چوہدری عبدالسلام
وقتِ مہدیؑ جس نے پایا وہ منور ہو گیا
صحبتِ حضرتؑ سے کندن ہو گئے عبدالسلام
فخر قوم راجپوتاں معنوی انداز میں
خدمتِ ملّت سے آخر بن گئے عبدالسلام
…٭…٭…٭…
کیتوایکواڈور کی پہلی احمدی خاتون
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 21؍جنوری 2011ء میں مکرم محبوب الرحمن شفیق صاحب مبلغ سلسلہ کے قلم سے محترمہ Silvia Soledad Gaete صاحبہ کا ذکرخیر شائع ہوا ہے جنہیں ایکواڈور (جنوبی امریکہ) کی پہلی احمدی خاتون ہونے کا شرف حاصل تھا۔
محترمہ Silvia Soledad Gaete صاحبہ 31؍اکتوبر 2010ء کو بعمر 52 سال بوجہ کینسر وفات پاگئیں ۔ آپ اپنی فیملی میں اکیلی احمدی تھیں ۔ آپ کے والدین اور تین بھائی کیتھولک عیسائی ہیں ۔ آپ کے پہلے خاوند کا تعلق کولمبیا سے تھا جو ایک حادثہ میں فوت ہوگئے۔ اُن سے آپ کی ایک بیٹی محترمہ Erica ہیں جو عیسائی ہیں ۔ تاہم آپ کی دو نواسیاں بھی ہیں جن میں سے ایک مسلمان ہیں اور اُس بچی کو بچپن سے ہی آ پ نے نماز وغیرہ سکھادی تھی۔ آپ کی دوسری شادی ایک عراقی مسلمان کرد کے ساتھ ہوئی۔
جب کینیڈا سے مکرم خالد مجید ملک صاحب ایکواڈور تشریف لائے تو مرحومہ سپینش ترجمان کے طور پر اُن کے ساتھ رہیں ۔ اس طرح آپ کو جماعت کا تعارف ہونا شروع ہوا۔ محترم خالد صاحب نے واپسی سے قبل آپ کو بھی سپینش زبان میں طبع شدہ بیعت فارم دیا جسے پڑھنے کے فوراً بعد آپ نے قبول کرلیا۔ پھر خود بھی اپنی دوستوں میں دعوت الی اللہ شروع کردی اور تین بیعتیں کروائیں ۔
جولائی 2009ء میں احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ نے باقاعدہ برقع پہن کر پردہ کرنا بھی شروع کردیا۔ آپ نہایت خوش اخلاق تھیں اور دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتی تھیں ۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہتیں ۔ کئی لوگوں نے دھوکہ دے کر آپ سے رقم حاصل کی۔ اس بات پر بہت دکھ کا اظہار کرتیں کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کئی ہزار ڈالرز کی مقروض بھی ہوگئی تھیں ۔ جب بھی کسی جماعتی کام کے لئے آپ کی ضرورت پڑتی تو اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے مدد کرتیں ۔ آپ ایکواڈور میں جماعت کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صدر بھی تھیں ۔ مشن ہاؤس کی صفائی کا خیال رکھتیں اور اپنی طرف سے عام استعمال کا سامان پردے اور ٹی وی وغیرہ مشن کے لئے بطور تحفہ پیش کرتی رہتیں ۔
آپ بیماری کا علم ہونے پر علاج سے بہت ڈرتی تھیں ۔ علاج کے لئے رقم بھی نہیں تھی۔ مرحومہ کے علاج کے لئے جماعت نے ایک ہزار ڈالر بھی دیئے۔ تاہم بیماری اتنی بڑھ گئی تھی کہ بہت جلد آپ کی وفات ہوگئی۔ وفات سے تین ماہ قبل آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کی دادی جان آپ کو ساتھ لے جانے کے لئے آئی ہیں ۔ آپ نے کہا کہ مَیں ابھی نہیں جانا چاہتی۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بیٹی مَیں اب کچھ نہیں کرسکتی۔
مرحومہ کا جنازہ احمدیوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کے دو گروہوں نے بھی ادا کیا جبکہ مرحومہ کے عیسائی والدین نے بھی اپنے طریق کے مطابق رسوم ادا کیں ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور آپ کی اسلام کے لئے خدمات کو قبول فرمائے۔
…٭…٭…٭…
محترم خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 18جون 2011ء میں اخبار ‘‘الفضل‘‘ کے ایک سابق ایڈیٹر محترم خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے جو ‘‘تاریخ احمدیت‘‘ (مرتبہ محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب) سے منقول ہے۔
محترم خواجہ غلام نبی بلانوی صاحب دسمبر 1894ء میں پیدا ہوئے۔ 1911ء میں آپ نے ورنیکلر مڈل کا امتحان پاس کیا اور اسی سال 11 جون کو قادیان تشریف لے گئے۔ قادیان میں آپ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کی عمر چھوٹی تھی، تعلیم کم تھی اور قادیان میں کوئی عزیز رشتہ دار بھی نہیں تھا۔ لیکن آپ گھبرائے نہیں بلکہ بعض بزرگوں سے تعلیم اور مضمون نویسی کا کام سیکھنے لگے جن میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ اور حضرت مصلح موعودؓ بھی شامل تھے۔
سب سے پہلے محترم خواجہ صاحب کو دفتر تشحیذ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ پھر آپ کے مضامین مختلف رسالوں میں شائع ہونے شروع ہوئے۔ خلافت ثانیہ کے آغاز میں آپ کو دفتر الفضل میں چٹیں بنانے پر لگادیا گیا۔ چند روز بعد آپ کی ڈیوٹی حضرت مصلح موعودؓ کے درس کے نوٹس لینے پر لگادی گئی۔ آپ کے نوٹس دیکھنے پر حضورؓ نے ارشاد فرمایا کہ آئندہ مفصل درس قرآن کریم لکھا کریں ۔ چنانچہ آپ کا یہ کام اخبار الفضل میں شائع ہونے لگا۔ اسی دوران آپ نے ‘‘حقائق القرآن‘‘ کے نام سے سورۃ نور کے نوٹس کتابی صورت میں شائع کئے۔ حضورؓ کا خطبہ جمعہ اور تقاریر لکھنے کا کام بھی آپ کے ذمہ رہا اور آپ کے نام کی حضورؓ نے بارہا تعریف فرمائی۔
اس کے بعد حضورؓنے آپ کی طرف خاص توجہ دی اور الفضل کی ادارت کے حوالہ سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنے آپ کو اس اہم ذمہ داری کے قابل بنانے کے لئے تحریری ہدایات بھی دیں ۔
اس کے بعد جلد ہی آپ ادارۂ الفضل کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ جولائی 1916ء میں اخبار الفضل کی ادارت کی ذمہ داری پوری طرح آپ کو سونپ دی گئی۔ اور قریباً تیس سال تک نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ یہ فریضہ سرانجام دے کر 1946ء میں آپ ریٹائر ہوگئے۔
18؍اپریل 1956ء کو آپ کی وفات ہوئی تو اگلے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کی خدمات اور ذہانت کے ساتھ کام سیکھنے اور سرانجام دینے کی تعریف فرمائی اور حضورؓ کے خطبات و تقاریر کو محفوظ کرنے سے متعلق اُن کی خدمات کا ذکر کرکے فرمایا کہ اُن کا جماعت پر ایک بہت بڑا احسان ہے اور جماعت اُن کے لئے جتنی بھی دعائیں کرے اس کے وہ مستحق ہیں ۔
محترم خواجہ صاحب کی تصانیف میں آپ کی خودنوشت سوانح حیات سمیت پانچ کتب شامل ہیں ۔
آپ نے دو شادیاں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں بیویوں سے 9 بیٹوں اور 6 بیٹیوں سے نوازا۔
…٭…٭…٭…
مکرم پیر افتخار احمد تاج صاحب
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 7؍مارچ 2011ء میں مکرم ماسٹر احمد علی صاحب کے قلم سے محترم پیر افتخار احمد تاج صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
گولیکی ضلع گجرات میں قریشی ہاشمی نسل کا ایک قبیلہ آباد ہے جو اپنے نام کے ساتھ پیر کا سابقہ لگاتے ہیں ۔ انہی میں سے ایک علم دوست فرد محترم پیر سلطان احمد صاحب نے احمدیت قبول کی۔ اُن کے بیٹے محترم پیر محمد اکبر سقراط صاحب بہت فدائی احمدی تھے جن کے ہاں محترم پیر افتخار احمد تاج صاحب پیدا ہوئے۔ یہ خاندان ددھیال اور ننھیال دونوں طرف سے علماء سے بھرا ہوا تھا۔
محترم پیر افتخار احمد تاج صاحب کے والد ضلع اٹک کے سکولوں میں بطور ہیڈماسٹر متعین تھے جب آپ نے کنجاہ سے میٹرک پاس کیا۔ بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے گھر کی تمام ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آپڑی اور آپ باقاعدہ طور پر مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے تاہم ایک سکول کی ملازمت حاصل کرکے پرائیویٹ طور پر آپ نے پہلے F.Sc. اور پھر B.A. کرلیا۔ پھر B.Ed. کرکے مستقل ٹیچر مقرر ہوگئے۔ پھر ترقی کرتے کرتے ہیڈماسٹر بن گئے۔ طلباء اور عملہ میں آپ بہت ہردلعزیز استاد رہے۔ محکمہ کی طرف سے خوشنودی کا ایوارڈ بھی ملا۔ اگرچہ آپ نے احمدیت کو کبھی نہیں چھپایا اور اللہ تعالیٰ نے بدخواہوں سے ہمیشہ آپ کی حفاظت کی۔ ہومیوپیتھی طریق علاج میں بھی دلچسپی رکھتے تھے اور مریضوں کا مفت علاج کرتے۔ باوجود بہت علمی شخصیت اور گزیٹڈ افسر ہونے کے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ گلی میں اپنے گھر کے باہر سے نالی صاف کرنا شروع کرتے تو پانچ چھ گھروں تک صفائی کردیتے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ربوہ میں رہائش اختیار کرلی اور یہیں 30 اپریل 2010ء کو وفات پائی۔
…٭…٭…٭…
جان جوشو کیٹلر
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 12مئی 2011ء میں اردو زبان کی پہلی مطبوعہ کتاب کے مصنف جان جوشو کیٹلر کا تعارف شائع ہوا ہے۔
یورپ میں فارسی رسم الخط کی کتب شائع کرنے کا سلسلہ 1639ء میں شروع ہوچکا تھا لیکن اردو کی طباعت کا آغاز جنوری 1743ء میں ہوا جب جان جوشو کیٹلر کی کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام ہے: ‘‘ہندوستانی اور فارسی زبان سیکھنے کے لئے ہدایات اور سبق، فعلوں کے مختلف صیغوں کی گردانیں ، ہندوستان کے ناپ تول کے پیمانوں سے متعلق الفاظ اور ان کے ولندیزی متبادل اور مسلمانوں کے مختلف ناموں کے معنی‘‘۔
اس کتاب میں چند اردو الفاظ ٹائپ میں اور بیشتر الفاظ رومن رسم الخط میں ولندیزی زبان کے تلفظ کے مطابق دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد ہندوستانی زبان کے قواعد بھی بیان کئے گئے ہیں اور مثالوں کے ساتھ گرائمر کے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
جان جوشو کیٹلر جرمنی کے شہر Elbing میں 25 دسمبر 1659ء کو پیدا ہوا۔ مختلف جگہوں پر ملازمتیں کرتا ہوا 1682ء میں ایمسٹرڈم (ہالینڈ) پہنچا جہاں اُس نے ڈَچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس ملازمت کے سلسلہ میں وہ ہندوستان آگیا اور ترقی کرتے کرتے 1700ء میں آگرہ کی فیکٹری کا اور پھر 1710ء میں سورت کی فیکٹری کا ڈائریکٹر مقرر ہوا۔ 1711ء میں حکومت ہالینڈ نے اُسے ہندوستان میں اپنا سفیر مقرر کیا اور وہ شاہ عالم، بہادر شاہ اور جہانداد شاہ کے درباروں سے وابستہ رہا۔ 1715ء میں اُسے شاہ ایران کے دربار میں سفیر مقرر کیا گیا۔ 12مئی 1718ء کو اُس نے بندرعباس (ایران) میں وفات پائی اور وہیں دفن کیا گیا۔
مذکورہ کتاب اُس نے لکھنؤ میں قیام کے دوران 1698ء میں مکمل کی تھی۔ اس کا قلمی نسخہ دی ہیگ (ہالینڈ) میں محفوظ ہے۔
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 18جون 2011ء میں محترم حافظ سخاوت علی صاحب شاہجہانپوری کی ایک نظم ایک پرانے شمارہ سے منقول ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں :
کیوں ہمیں ‘‘الفضل‘‘ سے اتنی محبت ہو گئی
کیا نہاں اس میں کسی دلبر کی صورت ہو گئی
جب یہ آیا سامنے ایمان تازہ ہو گیا
روح کو فرحت ملی دل کو مسرّت ہو گئی
کفر کو اور شرک کو پامال اس نے کر دیا
منہدم کفّار کی ساری عمارت ہو گئی
دوست اس کی قدر سمجھیں اس کو منگوائیں ضرور
حیف ہے صد حیف ہے، جو پست ہمّت ہو گئی
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 18جون 2011ء میں مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کی درج ذیل مختصر نظم شائع ہوئی ہے:
ہم شاخیں درختِ وجود کی ہیں سر پر ہے خلافت کا سایہ
افسوس ہے ان کی حالت پر جو تپتی دھوپ میں جلتے ہیں
ہم بندھ گئے ایسے رشتے میں جو سب رشتوں سے پیارا ہے
دنیا میں جہاں بھی احمدی ہیں سب اپنے اپنے لگتے ہیں
وہ لطف جو ایم ٹی اے میں ہے دنیا کے کسی چینل میں نہیں
اخبار ہے اِک الفضل کہ جس میں خیر کی خبریں پڑھتے ہیں
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 18جون 2011ء میں اخبار الفضل کے حوالہ سے مکرم طاہر محمود احمد صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں :
حروفِ جانفزا ‘‘الفضل‘‘ کے نظروں سے ٹکرائیں
گل و گلزار بن کر یوں مرے سینہ کو مہکائیں
دریچہ ہے کہ جس سے آگہی کی کرنیں آتی ہیں
دیارِ جسم و جاں میں خوب آکر جگمگاتی ہیں
سدا رشد و ہدایت کے لئے قطبی ستارا ہے
جو اِس کو پاکے بھی بھٹکا تو وہ قسمت کا مارا ہے
مضامیں سلسلہ در سلسلہ بھی اس میں چھپتے ہیں
شجر علم و ہنر کے صورتِ شمشاد بڑھتے ہیں
رپورٹیں رُوح پرور آقا کی جب اِس میں چھپتی ہیں
پھواریں دل پہ خوشیوں کی نہاں رِم جھم برستی ہیں




