مَصَالِحُ الْعَرَب

مَصَالِحُ الْعَرَب( قسط نمبر400)

(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)

مکرم احمد درویش صاحب

مکرم احمد درویش صاحب کا تعلق سیریاکے شہر حلب سے ہے جہاں ان کا احمدیت سے تعارف ان کے بھائی کے ذریعہ سے ان ایام میںہوا جن میں سیریا کے حالات ابھی خراب ہورہے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد یہ ہجرت کر کے ترکی چلے گئے جہاں انہیں دو سال قبل بیعت کرنے کی توفیق ملی۔

وہ اپنے احمدیت کی طرف سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

دینی جوش اور اُس کے زوال کا سبب

میرا تعلق ایک متدیّن اور معتدل گھرانے سے ہے۔ مَیں شروع سے ہی صوم وصلوٰۃ کا پابند اور باقاعدگی سے اعتکاف بیٹھنے کا عادی تھا۔ہمارے ملک میں لازمی فوجی ٹریننگ کے دوران عمومی طورپر نمازوں او رعبادات کے بجا لانے پر پابندی ہوتی ہے لیکن مَیں اس ٹریننگ کے دوران بھی نماز فجر مسجد میں جا کر ادا کرتا تھا۔ چھاؤنی سے نکلتے وقت مجھ سے پوچھا جاتا تھا تو مَیں برملا کہہ دیتا تھا کہ میں نمازِ فجر کی ادائیگی کے لئے جارہا ہوں، او رخدا کا فضل ہے کہ مجھے کسی نے کبھی نہیں روکا۔

لازمی فوجی ٹریننگ ختم کرنے کے بعد2004 ء میں جب میںنے عملی زندگی میں قدم رکھاتو ایسا وقت گزارا جسے زندگی کا بد ترین وقت کہا جاسکتا ہے ۔ اس عرصہ میںمیرا اہل دین اور علماء سے پالا پڑا اور فہم ِ دین کے دعویدار علمائے اسلام کہلانے والوں میں جب میں نے بے شمار غلطیوں کے علاوہ جھوٹ بھی دیکھا تو میرا دل نہ صرف ایسے علماء سے بیزار ہوگیا بلکہ نمازوں کی پابندی کا خیال اور عبادتوں کے لئے جوش بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔

زندگی میں بھونچال آگیا!

چار سال تک میں اسی حالت کا شکار رہا جس کے بعد میری زندگی میں ایک بھونچال سا آیا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ ہوا یوں کہ 2008ء میں میرے بھائی نے احمدیت قبول کرلی۔اس عرصہ میں دین سے دوری کے باوجود مجھے بھائی کے اقدام پر بشدت اعتراض تھا۔اور باوجود اس کے کہ دین سے میری اس دُوری کا سبب علمائِ دین کا غیر اسلامی رویّہ تھا پھر بھی میں انہی مولویوں کے جماعت پر کئے گئے اعتراضات کی بناء پراپنے بھائی کی مخالفت میں سرگرم تھا۔

مولوی اسی بات کو اچھالتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اس لئے ان کے بعد کسی کا نبی ہونے کا دعویٰ کیونکر درست ہوسکتا ہے ؟ خصوصًا اس لئے بھی یہ بات قابلِ قبول نہ تھی کیونکہ اس مدعی کا تعلق کسی عرب ملک کی بجائے ہندوستان سے تھا۔چنانچہ مَیں ایسے اعتراضات کے ذریعہ اپنے بھائی سے خوب بحث کرتا اوراکثر اس سے الجھ جاتا۔ بالآخر بات یہاں تک پہنچی کہ ہماری بول چال بند ہوگئی اورمیری سخت زبانی اوربد گوئی کے باعث میرے بھائی نے مجھ سے کنارہ کرلیا۔

عقل ومنطق اور علم ودانش کے منافی

بھائی کی کنارہ کشی کے باوجود میرے اعتراضات کا سلسلہ بند نہ ہوا یہاں تک کہ 2011ئمیں شام کے حالات خراب ہونے شروع ہوگئے اور میں نے شامی حکومت کے مخالف گروہ میں شامل ہو کر حکومت کو گرانے کی سازشوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس دوران مجھے شامی معاشرہ میں پائی جانے والی تمام دینی جماعتوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔مجھے تکفیری جماعتوں کا بھی پتہ چلا اور جہادی تنظیموں سے بھی میرا تعارف ہوا۔سلفی طرز فکر کو بھی پرکھا اور لادینی تحریکات سے منسوب ہونے والوں کو بھی قریب سے دیکھا۔ہم سب کا ہدف ایک تھا یعنی شامی حکومت کو گرانا۔ اس عرصہ میں مجھے مختلف طرز فکر کی حامل ان جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور مختلف دینی امور اور عقائد کے بارہ میں تبادلۂ خیال کرنے کی توفیق ملی۔کچھ عرصہ کے بحث ومباحثہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ان میں سے ہر فرقہ دوسرے کی تکفیر کرتا ہے اور ہرفرقہ کے عقائد میں بعض ایسی باتیں بھی شامل ہیں جو عقل ومنطق کے خلاف اور علم ودانش کے منافی ہیں۔یہ صورتحال دیکھ کر میرے رہے سہے دینی جوش پر بھی پانی پھر گیا۔

خود آپ اپنے دام میں صیادآگیا

حالات کی خرابی کے باعث ہم اہل خاندان حلب شہر کے مضافاتی علاقے میں منتقل ہو گئے اور اکٹھے مل کررہنے لگے۔ ایسے میں مجھے اپنے بھائی کے ساتھ دوبارہ دینی امور کے بارہ میں بحث کرنے کا موقع مل گیا۔ مختلف دینی جماعتوں سے بات چیت کے بعد میرے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوچکے تھے اور مذکورہ بالا دینی جماعتوں کے جوابات سے میں مطمئن نہ تھا۔ میں نے سوچا کہ میں انہی امور کے بارہ میں اپنے بھائی سے بھی سوال کرتا ہوں اور پھر دیگر جماعتوں کی طرح جب وہ بھی غیر منطقی اور غیر معقول سا جواب دے گا تو میں اس سے استہزاء اور تمسخر کر کے اسے جماعت سے برگشتہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن میں جب بھی اس سے کسی امرکے بارہ میں سوال کرتا تو اس کا جواب مجھے حیران کر دیتا اور میں دل میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ دراصل اس مسئلہ کا یہی معقول جواب ہے اوریہی درست رائے ہے۔چنانچہ اپنے بھائی کا جواب سن کر باوجود کوشش کے بھی میں اس کی مخالفت نہ کرسکتا تھا۔میرا دل کہتا تھا کہ یہی صحیح اسلامی تعلیم کا عکاس جواب ہے لیکن شدتِ مخالفت کی وجہ سے اس بات کوچھپانے پر مجبور ہو جاتا اور بظاہر اپنے بھائی کی مخالفت پر ہی قائم رہتا۔

آگ کے دریا میں کودنے کا فیصلہ

ہماری گفتگو چلتے چلتے وفات مسیح ؑکے موضوع تک آ پہنچی۔ اس موضوع کے بارہ میں قاطع دلائل نے میرے ذہن میں پلنے والے اوہام کو یکسر مٹا کر رکھ دیا۔حق کے دلائل کے ہتھوڑے نے ایک ہی وار میں میرے کبر کے بت کا سرپھوڑ کے رکھ دیا اور میں اپنے سابقہ عقائد کی تاثیر سے آزاد ہوکر سنجیدگی سے احمدیت کے بارہ میں سوچنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنے بھائی سے جماعت کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔میں نے اس سے جماعت احمدیہ کی بعض کتب کے بارہ میں پوچھا ۔اس نے کہا کہ تمام کتابیں اسی گھر میں ہیں جسے ہم بمباری کے خوف سے چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے مَیں نے حزن ویاس کی تصویر بن کر خود سے کہا کہ وائے حسرت! خدا خدا کر کے اگر ہدایت کی طرف قدم بھی اٹھا تو راستے میں آگ وبارود کے دریا حائل ہو گئے۔ لیکن حق جب دل میں راسخ ہوجاتا ہے تو ایک کمزور انسان کو بھی اتنی قوت عطا کردیتا ہے کہ وہ ایک تو کیا آگ کے کئی دریا پاٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ میری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی چنانچہ میں نے بھی اس وقت بمباری، دہشتگردی اور کشت وخون سے بھرپورعلاقے میں واپس جا کر اپنے بھائی کے گھرسے احمدیت کے بارہ میں کتب لانے کا فیصلہ کر لیا۔میرا یہ فیصلہ جان پر کھیل جانے کے مترادف تھا لیکن الحمد للہ کہ میں اس خطرناک سفر پر نکلا اور بانیلِ مرام واپس آگیا۔

قبول احمدیت کا فیصلہ اور تبدیلی

واپس آکر مَیں نے ان کتب کا مطالعہ شروع کیایہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہو گئی ہے اور انہوں نے اب اس دنیا میں واپس نہیں آنا۔ پھر جب میں نے حضرت مسیح موعود ؑکی مختلف موضوعات پر تحریرات کے مجموعہ ’’الخزائن الدفینۃ‘‘ کا مطالعہ کیا تومیں دل سے احمدی ہو گیا اور اپنے بھائی کو بھی اس کے بارہ میں بتادیا۔لیکن خانہ جنگی کی صورتحال میں میری بیعت ارسال نہ کی جاسکی۔

اس مرحلہ تک میں بے نمازی ہی تھا لیکن بیعت کے فیصلے کے ساتھ ہی میں نے باقاعدگی کے ساتھ نماز کی ادائیگی شروع کردی۔

میں قبل ازیں توسیرین گورنمنٹ کے خلاف گروپس کے ساتھ مل کر حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف تھا لیکن قبول احمدیت کے فیصلہ کے بعد جب میں نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے اس بارہ میں خطبات سنے تو فورًا حکومت مخالف سرگرمیوں کو ترک کر دیا۔

مخالفت کا سامنا اور استقامت

اس کے بعد میرا بھائی تو حالات کی خرابی کے باعث ہجرت کر کے ترکی پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور میں ارضِ فتنہ میں محصور ہو کررہ گیا۔میں تو ایک عرصہ سے نماز کو بھی ترک کر چکا تھا اورکبھی بھی میرا کوئی رشتہ دار مجھے نماز کی ترغیب دلانے نہ آیا۔لیکن اب جبکہ میں نے قبول احمدیت کے فیصلہ کے بعد باقاعدگی سے نماز ادا کرنی شروع کی تو میرے رشتہ دار مسجد میں جاکر نماز جمعہ کی ادائیگی کے بارہ میں مجھ پر دباؤ ڈالنے لگے۔ الحمد للہ کہ مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور میں نے ان کے دباؤ میں آکرکسی غیر احمدی کے پیچھے نماز ادا نہ کی۔

میرے والد صاحب میری بیعت پر سخت نالاں ہوئے اورایک دن شدید غصہ کی حالت میں یہ بھی کہہ دیا کہ: ’’جاؤ دفع ہوجاؤ، خدا مجھے تمہارا منہ نہ دکھائے اور کبھی تمہیں لوٹا کے میرے پاس نہ لائے۔‘‘ والد صاحب کی زبانی ایسا جملہ سن کر برداشت کرنا میرے لئے بہت مشکل تھا، لیکن ایمان کے بالمقابل اس کی کوئی وقعت نہ تھی، اور بفضلہ تعالیٰ میں اس کے جذباتی اثر سے محفوظ رہا۔

بیعت اور رؤیا

ایک سال کے بعدمیرے بھائی نے مجھ سے کہا کہ ترکی آجاؤ، یہاں ہم مل کررہیں گے۔چنانچہ میں بھی ہجرت کر کے ترکی پہنچ گیا اوروہاں جا کر پہلا کام یہ کیا کہ بیعت فارم پر کر کے حضور انور کی خدمت میں ارسا ل کردیا۔

بیعت کا جواب ابھی نہیں آیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھاحضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سفید لباس میں ملبوس ہیں اور ہمارے گھر پر تشریف لا کر ہمارے ساتھ ناشتہ تناول فرماتے ہیں۔

دو روز کے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ حضور انور نے کمال شفقت فرماتے ہوئے ترکی میں شام کے احمدی مہاجرین کا حال دریافت فرمانے کے لئے مکرم محمد شریف عودہ صاحب کو بھیجا ہے۔اور ہمیں بتایا گیا کہ وہ آج ہمارے گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی کیونکہ خلیفۂ وقت کا نمائندہ ہمارے گھر میں آرہا تھا۔اور ا ن کے آنے سے جزوی طور پر میرا خواب بھی پورا ہوگیا ۔ گو خلیفۂ وقت سے تو ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے نمائندے سے مل کر اوراس کی زبانی خلیفۂ وقت کی باتیں سن کر ہماری خلافت سے محبت مزید بڑھ گئی اور خلیفہ ٔ وقت کے عالی مقام کا پہلے سے بڑھ کر عرفان حاصل ہوا۔

قبولیت بیعت کا خط اور میری حالت

پھر ایک روز حضور انو رکی طرف سے قبول بیعت کا خط بھی مل گیا۔اس خط کی سطو رکے مطالعہ کے وقت کی لذت ناقابل بیان ہے۔ ایک ایک لفظ محبت کی داستان سنارہا تھا، میں پڑھتا جارہا تھا اور عقیدت سے میرا سر جھکتا جارہا تھا اور فرط محبت سے آ نکھیں صحنِ عارض میں اشکوں کے موتی سجا کر پیش کرتی جا رہی تھیں۔

سیریا کے حالات میں جب قدم قدم پر صدمات کا سامنا کرنا پڑتاتھا تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ کس کس صدمہ پر کس قدر رویا جائے۔ایسے حالات کی سختی نے مجھ میں بہت زیادہ قوت ِبرداشت پیدا کر دی تھی۔لیکن حضور انور کا خط پڑھ کر میرا دل بہت نرم ہوگیا جس کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ سے اسیر اشکوں کو رہائی مل گئی اور وہ فرط خوشی سے مژگاں سے چھلانگیں لگاتے ہوئے سر رخسار آنے لگے۔ کئی دیکھنے والوں کے لئے یہ حالت بہت عجیب تھی کیونکہ انہوں نے مجھے کبھی روتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔

اس کے بعد عبادتوں کی لذت بھی بڑھ گئی اورخلافت سے تعلق مزید مضبوط ہوگیا۔ اس نعمت پر جتنا شکر کیا جائے کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مسیح الزمان کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی جن کے ذریعہ سے ہمیں صحیح اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملی۔فالحمد للہ علی ذالک۔

بچوں کو خلافت سے محبت کی تعلیم

مکرم محمد شریف صاحب اس خاندان سے ملنے کے بعد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اس طور سے کی ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے شروع سے ہی انہیں خلافت کی محبت گویا گھٹی میں پلا دی ہے ۔ ان کی ایک 4سالہ بیٹی ’’سارہ‘‘ آئی ا ور اپنے والد صاحب سے کہنے لگی کہ انکل شریف مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس کے والد نے پوچھا : کیوں؟ تو کہنے لگی کہ اس لئے کہ یہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔

تھوڑی دیر کے بعد ان کا 6سالہ بیٹا آیا اور میرے کان میں کہنے لگا کہ انکل آپ جا کر حضرت امیر المومنین سے کہنا کہ ہمارے پاس بھی تشریف لائیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محبت کو ہمیشہ بڑھاتا رہے اور ایسی محبت کرنے والی نسلیں پیدا فرماتا رہے۔ آمین۔

………………

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button