کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

ارشادات عالیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام

اپنے اندر قو ّت جاذبہ پید اکرو اور قو ّتِ جاذبہ اُس وقت پیدا ہوگی جب تم صادق مومن بنوگے۔

جو شخص اپنا نشوونما نہیں کرتا وہ تو اپنے کنبہ کو بھی درست نہیں کر سکتا۔پس قوّتِ روحانی پیدا کرو۔دیکھو نبی،رسول سب ایک ایک ہو کر ہی آئے ہیں مگر وہ صادق اور جاذب تھے۔

 تم اپنی تبدیلی کے واسطے تین باتیں یاد رکھو: (1) نفسِ امّارہ کے مقابل پر تدابیر اور جدّوجہد سے کام لو۔ (2) دعائوں سے کام لو۔ (3) سست اور کاہل نہ بنو اور تھکو نہیں۔

’’ اپنے اندر قوّت جاذبہ پید اکرو اور قوّتِ جاذبہ اُس وقت پیدا ہوگی جب تم صادق مومن بنوگے اور اگر تم صادق نہیں تو تمہاری نصیحت ایسی ہے جیسے پر نالہ کا پانی موجب فساد ہوتا ہے۔ پس صادق کے واسطے ورزش کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے ایک پہلوان کے سامنے تمہاری کیا ہستی ہے کہ مقابلہ کرسکو۔ اگر چہ وہ بھی تمہارے جیسا آدمی تھا۔ جسمانی نشوونما میں اس نے ترقی کی اور ورزش کر کے یہ طاقت حاصل کی۔پس تم روحانی قویٰ میں ورزش کرکے روحانی پہلوان یعنی صادق مومن بنو۔ جو شخص اپنا نشوونما نہیں کرتا وہ تو اپنے کنبہ کو بھی درست نہیں کر سکتا۔ پس قوّتِ روحانی پیدا کرو۔ دیکھو نبی،رسول سب ایک ایک ہو کر ہی آئے ہیں مگر وہ صادق اور جاذب تھے۔ مال کی غریبی او رکمزوری جدا چیز ہے۔ روحانی قوّت ہونی چاہیے۔ ہاں کشش میں بھی وہی سعادت مند ہوتے ہیں جن کو کچھ مناسبت ہوتی ہے۔ مثلاً انجن سرد ہے تو فائدہ نہیں دے سکتا۔ اگر خوب گرم ہے تو سو گاڑی بھی لے جاوے گا۔ پس گرم اور پُرتاثیر مومن بنو۔ اس ہماری جماعت کے واسطے خدا کا وعدہ ہے کہ دنیا میں پھیلے گی۔پھر اگر طاقت والے اور اس کے پھیلانے والے اَور لوگ ہوں گے تو تم نے کیا حاصل کیا؟

اب سوال یہ ہوگا کہ طاقت کس طرح پید اہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صادق اور پکّا بندہ بن جاوے تاکہ کسی زلزلہ سے برگشتہ اور مُنہ پھیرنے والا نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ سارے ہی باخدا اور عاقل تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے بڑھ کر ایسے وفادار تھے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے آپ کو سانپوں اور درندوں اور خاردار کانٹوں والا جنگل اس کے درندے، حیوانات انسانی شکل میں دکھلائے گئے۔ پھر ملک بھی ایسا اس کے سپرد کیا کہ جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شریر النفس نہ تھا۔ پھر آئے ایسے وقت پر کہ تمام مُردہ اور فساد کی جڑھ تھے۔ جیسے فرمایا:  ظَھَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) اور گئے ایسے وقت پر کہ فرمایا:  اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (المائدہ:4) الآیتہ :  اِذَا جَآئَ نَصْرُاﷲِ وَالْفَتْحُ (النصر:2)۔ اس کو معجزہ کہتے ہیں۔ اور اس سے معلوم ہوتاہے کہ کتنی محبت الٰہی اور قوّت جاذبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر تھی۔پس خد اتعالیٰ کے خاص بندوں اور غیروں میں اتنا فرق ہوتاہے کہ قوّتِ ایمانی اور استقامت ایسی ہو کہ کسی رکاوٹ شدید سے باز نہ رہے۔اس صفت سے جس کو جتنا حصہ ملا ہے اتنا ہی وہ برکت کا موجب ہوگا۔

میرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تبدیلی کے واسطے تین باتیں یاد رکھو:

(1) نفسِ امّارہ کے مقابل پر تدابیر اور جدّوجہد سے کام لو۔ (2) دعائوں سے کام لو۔ (3) سست اور کاہل نہ بنو اور تھکو نہیں۔

ہماری جماعت بھی اگر بیج کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جو ردّی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں۔ پس تقویٰ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔ اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ پروا بھی نہ کرو۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ  ؑ کو کافر کہا تھا۔ ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ میں اُس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متّبع ایمان لائے ہیں۔ ایسے لوگ یاد رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی نا سمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے،مگر اس کے اس فعل کو کوئی برا نہیں سمجھتا۔

پس یاد رکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سود مند نہیں۔ جب کوئی شخص شدّت پیاس سے مرنے کے قریب ہو جاوے یا شدّت بھوک سے مرنے تک پہنچ جاوے تو کیا اس وقت ایک قطرہ پانی یا ایک دانہ کھانے کا اس کو موت سے بچالے گا؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح اس بدن کو بچانے کے واسطے کافی خوراک اور کافی پانی بہم پہنچانے کے سوائے مفر نہیں۔ اسی طرح پورے جہنم سے تھوڑی سی نیکی سے تم بھی بچ نہیں سکتے۔ پس اس دھوکہ میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے۔ ہدایت بھی ایک موت ہے۔ جو شخص یہ موت اپنے اُوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے اور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطے فرمایا :  یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ (المائدۃ:106) یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔اپنے امراض کو دُور کرو۔ دوسروں کا فکر مت کرو۔ ہاں رات کو اپنے آپ کو درست کرو اور دن کو دوسروں کوبھی ہدایت کر دیا کرو۔ خداتعالیٰ تمہیں بخشے اور تمہارے گناہوں سے تمہیں مخلصی دے اور تمہاری کمزوریوں کو تم سے دور کرے اور اعمال صالحہ اور نیکی میں ترقی کرنے کی توفیق دیوے۔آمین۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 181-179۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button