قُوْلُوْا اِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ(قولِ عائشہؓ کی سند پر ہونے والے اعتراضات کا جائزہ)(قسط اوّل)
دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول کہ قُوْلُوْا اِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اس امر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تو یقیناً جانو کہ اسلام ہی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان ہی نہیں ہے(حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:’’دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قُوْلُوْا اِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اس ا مر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تو یقیناً جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔‘‘(الحکم ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ۱۲)
نیز لکھا ہے: اس امر کا ذکر تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت نہیں ہو سکتا۔حضرت نے فرمایا یہی درست ہے کہ کوئی نبی صاحب شریعت نہیں ہو سکتا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا تھا کہ رسول کریمﷺ خاتم النبیین ہیں پر ایسا مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات بڑے علم اور فہم کی ہے اور وہ اصل حقیقت سے آگاہ تھیں کہ خدا تعالیٰ نے سلسلہ مکالمات اور مخاطبات کو تو بند نہیں کر دیا۔ البتہ کوئی شریعت آنحضرت کے بعد نہیں اور نہ کوئی شخص ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کی وساطت کے سوا ئے براہ راست خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے۔(بدر ۸ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ۴)
حضرت عائشہؓ کا یہ قول ختم نبوت کی بحث میں قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس لیے مخالفینِ سلسلہ سند کے لحاظ سے اس کی تضعیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ذیل میں خاکسار ان کے اعتراضات کا ایک مختصر جائزہ پیش کرے گا۔وباللّٰہ التوفیق۔وللّٰہ الامر من قبل و من بعد!!
اعتراض: حافظ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں :’’یہ روایت سخت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے‘‘۔(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات (۴۳؍۵)) اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ’’سیدہ عائشہؓ ۵۷ھ میں فوت ہوئیں اور جریر بن حازم ۱۷۰ھ میں فوت ہوئے۔ یعنی ۱۱۳ سال بعد، اور کسی دلیل سے جریر بن حازم رحمہ اللہ کا سیدہ عائشہؓ کے دور میں پیدا ہونا بھی ثابت نہیں‘‘۔(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات (۴۳؍۵))
جواب: یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ
۱۔ مصنف ابن ابی شیبۃ کےمخطوطہ ’’النسخۃ المحمودیۃ‘‘ میں یہ روایت جریر بن حازم عن محمد(ابن سیرین) عن عائشۃ درج ہے۔معاصر محقق محمد عوامۃ اس نسخہ کے بارے میں لکھتے ہیں ’’ وَكانَ مَقَرُّها في الْمَكْتَبَةِ المَحْمودِيَّةِ بِالمَدِينَةِ الْمُنَوَّرَةِ، وَهِيَ الآنَ في تُرْكِيّا، لَكِنْ ما يَزالُ عَلَيْها اسْمٌ: مَحْمُوْدِيَّةٌ (مقدمۃ مصنف ابن ابی شیبۃ (صفحہ:۲۸) ط: شرکۃ دار القبلۃ؛ مؤسسۃ علوم القرآن) یعنی یہ مخطوطہ مدینہ کے مکتبہ محمودیہ میں تھا اور اب یہ ترکی میں ہے لیکن اب بھی اس پر محمودیہ لکھا ہوا ہے۔ حضرت امام ابن سیرین ایک روایت کے مطابق ۳۱ھ میں پیدا ہوئے۔ (مثلاً دیکھیں: تاريخ دمشق لابن عساكر (۵۳؍ ۱۷۴) ط: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع) اور ایک روایت کے مطابق۱۱۰ھ میں فوت ہوئے۔(مثلاً دیکھیں: الطبقات الكبرىٰ (۷؍ ۱۵۴)ط: دارالكتب العلمية بيروت)پس اس روایت کو ’’سخت منقطع‘‘کہنا حافظ صاحب کی بڑی بھاری غلطی ہے۔ ذیل میں ہم اس مخطوطہ کا عکس پیش کرتےہیں:

۲۔ اس کا اعتراف ایک عرب عالم اپنے معاندانہ مضمون میں لکھتے ہیں:’’ أَخْرَجَهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُصَنَّفُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ لَمْ يُطْبَعْ مِنْهُ حَتَّى الآنَ إِلَّا خَمْسَةُ أَجْزَاءَ، لَا يُوجَدُ فِيهَا هَذَا الأَثَرُ، وَلَكِنْ عَلِمْنَا بَعْدَ مُرَاجَعَةِ المَخْطُوطَةِ الَّتِي هِيَ فِي مَكْتَبَةِ الحَرَمِ المَكِّيِّ هَذَا الأَثَرَ بِسَنَدِهِ، قَالَ الإِمَامُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي "المُصَنَّفِ” (صفحہ ١٠٢؍٢) مِنَ القِسْمِ الأَوَّلِ: بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يَقُولَ: لَا نَبِيَّ بَعْدَ النَّبِيِّﷺ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ ۔ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ۔ عَنْ عَائِشَةَ‘‘۔(مجلۃ الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ ربیع الآخر ۱۳۹۵ھ اپریل ۱۹۷۵م بعنوان من اضالیل القادیانیۃ) یعنی ابن ابي شيبة نے اس (اثر) کو روایت کیا ہے، اور مصنف ابی بکر ابن ابی شيبة کی اب تک صرف پانچ جلدیں ہی طبع ہوئی ہیں، جن میں یہ اثر موجود نہیں ہے۔
لیکن جب مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کی لائبریری میں موجود مخطوطہ کی تحقیق و مراجعت کی گئی، تو اس میں یہ اثر سند کے ساتھ ملا۔پھر وہ اس کی سند بیان کرتے ہیں: حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ حافظ عبید اللہ صاحب نے بھی اپنی معاندانہ کتاب میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ (مطالعہ قادیانیت صفحہ۹۹-۱۰۰) لہٰذا مصنف ابن ابی شیبۃ کے نئے شائع ہونے والے نسخوں میں یہ اصلاح کر لی گئی ہے۔ مثلاً دیکھیں مصنف ابن ابی شیبۃ ت محمد عوامۃ (۵۶۶؍۱۳)


اعتراض:حافظ عبیداللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اس سند میں بھی علت یہ ہے کہ محمد بن سیرین کا سماع حضرت عائشہؓ سے ثابت نہیں‘‘۔(مطالعہ قادیانیت صفحہ۱۰۰) اسی طرح مولوی رضوان عزیز صاحب لکھتے ہیں:’’محمد بن سیرین بھی باوجود معاصرت کے حضرت عائشہؓ سے نہ تو سماع کا شرف حاصل کرسکے اور نہ ملاقات۔ اس لیے یہ حدیث بھی اصولِ حدیث کی روشنی میں منقطع ٹھہرتی ہے‘‘۔(لولاک جنوری ۲۰۱۵ء صفحہ۱۹)
جواب: یہ اعتراض بوجوہ ِذیل غلط ہے:
۱۔ حضرت امام ابن سیرین کے حضرت عائشہؓ سے سماع کے واضح امکانات موجود ہیں۔اس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے:
(الف)امام ابن سیرین اختلاف روایات کے ساتھ ۲۱ھ (مثلاً دیکھیں: سير أعلام النبلاء ط الرسالة (۴؍ ۶۰۶) ط: مؤسسة الرسالة)،۳۱ھ (مثلاً دیکھیں: تاريخ دمشق لابن عساكر (۵۳؍ ۱۷۴) ط: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع) یا ۳۳ھ (مثلاً دیکھیں: التاريخ الكبير للبخاري (۱؍ ۳۵۱) ط: الناشر المتميز للطباعة والنشر والتوزيع، الرياض) میں پیدا ہوئے۔آپ کی وفات ۱۱۰ھ میں ہوئی (مثلاً دیکھیں : الطبقات الكبرىٰ (۷؍ ۱۵۴) ط: دار الكتب العلمية بيروت) حضرت عائشہؓ ۵۷ھ میں فوت ہوئیں۔(مثلاً دیکھیں: البداية والنهاية ط إحياء التراث (۸؍ ۱۰۱))اس کے ساتھ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ امام ابن سیرین کا حضرت ابو ہریرہؓ سے سماع نہ صرف ثابت ہے (مثلاً دیکھیں : تاريخ دمشق لابن عساكر (۵۳؍ ۱۷۲) ط: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)، بلکہ ان سے مروی اسانید ابو ہریرۃ سے مروی اصح الاسانید میں شامل ہوتی ہیں۔(مثلاً دیکھیں: تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي (۱؍ ۸۶) ط: مکتبۃ الکوثر) حضرت امام احمد بن حنبل یہ بھی تعیین کرتے ہیں کہ امام ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہؓ سے سماع مدینہ میں کیا۔چنانچہ امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے روایت کرتے ہیں :سَمِعت أبي يَقُول سمع مُحَمَّد بن سِيرِين من أبي هُرَيْرَة بِالْمَدِينَةِ (العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله (۱؍ ۲۴۰) ط: دار الخاني، الرياض)۔یہ تصریح بھی ملتی ہے کہ حضرت عائشہؓ کا جنازہ حضرت ابو ہریرہؓ نے پڑھایا تھا۔ (البداية والنهاية (۱۱؍ ۳۴۳) ط: دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان)۔
پس ان تمام قوی قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن سیرین کے حضرت ابو ہریرہؓ سے سماع کے وقت حضرت عائشہؓ مدینہ میں موجود تھیں اور ان سے ابن سیرین کا سماع نہایت قرین قیاس ہے۔ اسی مضبوط قرینے کا ذکر کرتے ہوئے معاصر محقق لکھتے ہیں:’’أَنَّ إِمْكَانِيَّةَ السَّمَاعِ مُتَوَفِّرَةٌ، فَقَدْ وُلِدَ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فِي قَوْلٍ، وَلِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُثْمَانَ فِي قَوْلٍ آخَرَ، وَأَيُّهُمَا كَانَ، فَإِنَّ إِمْكَانَ السَّمَاعِ مِنْهَا مُتَوَفِّرٌ لَهُ ‘‘(موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان ت حسين أسد (۱؍ ۲۱۰)ط: دار الثقافة العربية، دمشق)۔یعنی یقیناً سماع (سننے) کا امکان موجود ہے، کیونکہ ایک قول کے مطابق وہ (محمد بن سیرین) حضرت عمرؓ کی خلافت میں ابھی ۲ سال پڑے تھےپیدا ہوئے، اور دوسرے قول کے مطابق حضرت عثمان کی خلافت میں ابھی ۲ سال پڑے تھےپیدا ہوئے۔اور دونوں اقوال میں سے جو بھی درست ہو، تو بھی ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سماع کا امکان ان کے لیے موجود ہے۔


(ب) یہ بھی وضاحت ملتی ہے کہ سیرین نے اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر میں حضرت ابو ہریرہؓ سے تعلیم حاصل کرنے بھیجا تھا۔ (الطبقات الكبرىٰ ط العلمية (۷؍ ۱۵۵) ط: دار الكتب العلمية۔بيروت) اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں کہ بصرہ میں حدیث کی تحصیل بہت چھوٹی عمر میں شروع ہو جاتی تھی۔چنانچہ لکھا ہے:أَهْلُ الْبَصْرَةِ يَكْتُبُونَ لِعَشْرِ سِنِينَ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ لِعِشْرِينَ، وَأَهْلُ الشَّامِ لِثَلَاثِينَ۔(مثلاً دیکھیں: الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي (صفحہ۵۵) جمعية دائرة المعارف العثمانية ۔حيدرآباد، الدكن) یعنی اہل بصرہ ۱۰؍سال کی عمر میں احادیث لکھنا شروع کر دیتے تھے، اہل کوفہ ۲۰سال کی عمر میں اور اہل شام ۳۰؍سال کی عمر میں۔ امام ابن سیرین کی پیدائش کے سال کو مدنظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو یہ ۳۱ھ،۴۱ھ یا ۴۳ھ بنتے ہیں۔پس حضرت عائشہؓ سے سماع کے روشن امکانات موجود ہیں۔

(ج)مخالفین کا اپنی تائید میں ابو حاتم کا حوالہ پیش کرنا درست نہیں۔ائمہ کسی راوی کی عدم سماع کا اندازہ کس طرح کرتے تھے؟علامہ ابن رجب لکھتے ہیں:’’وَمِمَّا يَسْتَدِلُّ بِهِ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ مِنَ الأَئِمَّةِ عَلَى عَدَمِ السَّمَاعِ: الِاتِّصَالُ، أَنْ يَرْوِيَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ بَلْدَةٍ، لَمْ يُعْلَمْ أَنَّهُ دَخَلَ إِلَى بَلَدِهِ، وَلَا أَنَّ الشَّيْخَ قَدِمَ إِلَى بَلَدٍ كَانَ الرَّاوِي عَنْهُ فِيهِ‘‘(شرح علل الترمذي (۲؍ ۵۹۲) ط: مكتبة المنار۔ الزرقاء۔ الأردن) یعنی جن دلائل سے امام احمد اور دیگر ائمہ عدمِ سماع (حدیث سننے کے وقوع نہ ہونے) پر استدلال کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ سند متصل نہ ہو، یعنی کوئی راوی کسی ایسے شیخ سے روایت کرے جو اُس کے شہر کا نہ ہو، اور نہ یہ معلوم ہو کہ وہ شیخ راوی کے شہر میں آیا تھا، اور نہ یہ کہ راوی اُس شہر میں گیا تھا جہاں وہ شیخ مقیم تھا۔جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ امام ابن سیرین نے مدینہ میں حضرت ابو ہریرہؓ سے سماع کیا۔پس تفاوت بلدان کی علت موجود نہیں۔


(د) امام البخاری بھی امکان السماع کو تسلیم کرتے ہوئے روایت کو قبول کرتے ہیں۔چنانچہ عبد اللہ بن حارث نامی راوی حضرت عائشہؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں جبکہ ان کی ان سے سماع کی صراحت موجود نہیں۔البتہ امام بخاری لکھتے ہیں : وَعَبْدُ اللّٰهِ أَبُو الْوَلِيدِ رَوَى عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا نُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُمَا‘‘(التاريخ الأوسط (۱؍ ۱۸۷) ط: مکتبۃ المعارف الریاض) یعنی عبد اللہ نے حضرت عائشہ و ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے (معنعن) اور ہم اس کے ان دونوں سے سماع کا انکار نہیں کرتے۔نیز لکھتے ہیں:’’قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ: حَجَّ بِنَا أَبُو الوَلِيدِ، عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ الحَارِثِ، وَنَحْنُ وَلَدُ سِيرِينَ سَبْعَةٌ، فَمَرَّ بِنَا عَلَى المَدِينَةِ…‘‘(التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل (۶؍ ۷۴) ط: الناشر المتميز للطباعة والنشر والتوزيع، الرياض)یعنی امام ابن سیرین کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن حارث ہم سب بھائیوں کو لے کر حج کے لیے گئے اور پھر مدینہ گئے۔


امام بخاری کا اس قرینہ کو بیان کرنے کا مقصد کیا تھا؟ ایک معاصر محقق لکھتے ہیں:’’ وَمُقْتَضَى هَذَا النَّصِّ الصَّحِيحِ: أَنْ يَكُونَ عَبْدُاللّٰهِ بْنُ الحَارِثِ أَكْبَرَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَسَمَاعُ ابْنِ سِيرِينَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، بَلْ هُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ الثِّقَاتِ الثِّبَاتِ، وَيَدُلُّ قَوْلُ البُخَارِيِّ: "وَلَا نُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُمَا”، عَلَى أَنَّهُ يُقَوِّي احْتِمَالَ سَمَاعِ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ الحَارِثِ مِنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ۔ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا‘‘(موقف الإمامين البخاري ومسلم من اشتراط اللقيا والسماع في السند المعنعن بين المتعاصرين (صفحہ۴۸۲)) یعنی امام بخاری کی اس نص کا تقاضا ہے کہ عبد اللہ بن حارث، ابن سیرین سے عمر میں بڑے تھے اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ابن سیرین کا حضرت ابوہریرہؓ سے نہ صرف سماع ثابت ہے بلکہ آپ ان سے ثقہ ترین رواۃ میں شامل ہیں۔پس یہ قرائن اس احتمال کو قوی کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن الحارث نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ دونوں سے سماع کی ہو گی۔اب اسی تناظر میں اگر ہم ابن سیرین کے حضرت عائشہؓ سے سماع کے امکان کو دیکھیں تو وہ نہایت روشن ہیں۔حضرت عائشہؓ کی وفات حضرت ابو ہریرہؓ سے قبل ہوئی اور ابن سیرین کا مدینہ آنا بھی ثابت ہے۔پس ابن سیرین عن عائشۃ کے متعلق بھی ہم کہیں گے وَلَا نُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْھا!!

(ھ) بعض ائمہ نے امام ابن سیرین کی حضرت ابن عباسؓ سے سماع کا انکار کیا ہے۔معاصر محقق علامہ احمد شاکراس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وَهَذَا لَيْسَ بِتَعْلِيلٍ، وَلَا دَلِيلَ عَلَى الجَزْمِ بِهِ، فَابْنُ سِيرِينَ عَاصَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ طَوِيلًا، فَهُوَ عَلَى السَّمَاعِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ خِلَافُهُ، وَقَدْ صَحَّحَ الأَئِمَّةُ رِوَايَتَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔‘‘(مسند أحمد (۲؍ ۴۲۷) ط: دار الحديث – القاهرة) یعنی یہ کوئی علّت نہیں اور نہ ہی اس بات پر قطعی دلیل ہے، کیونکہ ابن سیرین نے عبداللہ بن عباسؓ کا طویل زمانہ پایا، لہٰذا ان سے سماع ثابت مانا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی واضح ثبوت نہ ہو۔ اور ائمہ حدیث نے ابن عباسؓ سے ابن سیرین کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔


(و) ایک راوی ابن شبرمۃ کے بارے میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ جب وہ کوفہ آئے امام ابن سیرین کوفہ میں موجود نہیں تھے۔ مگر پھر بھی ابن معین اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے حج کے موقع پر سماع کی ہو گی۔چنانچہ ان کے شاگرد روایت کرتے ہیں: ’’قُلتُ لِيَحْيَى: فَإِنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَرْوِي عَنْ ابْنِ سِيرِينَ؟ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ سِيرِينَ الْكُوفَةَ فِي وَقْتٍ لَمْ يَكُنْ ابْنُ شُبْرُمَةَ، وَلَكِنْ لَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي الْمَوْسِمِ۔ قَالَ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ۔‘‘(تاريخ دمشق لابن عساکر (۵۳؍ ۱۸۶) ط: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع) اسی طرح ابن سیرین کے متعلق یہ صراحت ملتی ہے: كانَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَأْتِي إِلَى الحَرَمَيْنِ لِلْحَجِّ وَالعُمْرَةِ، وَاسْتَفَادَ مِنْ زِيَارَتِهِ المُتَكَرِّرَةِ اسْتِفَادَةً كَبِيرَةً، لَقِيَ فِيهَا كَثِيرًا مِنْ عُلَمَاءِ الصَّحَابَةِ، وَأَخَذَ عَنْهُمْ۔(اقوال الامام محمد بن سیرین فی التفسیر جمعا ودراسۃ و موازنۃ صفحہ ۴۵) یعنی ابن سیرین حج و عمرہ کے لیے حرمین شریفین تشریف لایا کرتے تھے اور انہوں نے اس بار بار کی زیارت سے سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ ان زیارتوں کے دوران انہوں نے صحابہ کرامؓ کے بہت سے علماء سے ملاقات کی اور ان سے علم حاصل کیا۔
(ز)جو ائمہ یہ مانتے ہیں کہ ابن سیرین کی حضرت ابن عباسؓ سے سماع ثابت نہیں ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ جب وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں تو وہ نُبِّئْتُ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ امام احمد کہتے ہیں:’’ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْئًا،كُلَّهَايَقُولُ: نُبِّئْتُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ۔‘‘(العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله (۱؍ ۴۸۷) دار الخاني، الرياض)یعنی ابن سیرین نے ابن عباس سے سماع نہیں کیا جب کبھی وہ ان سے روایت کرتے ہیں وہ نُبِّئْتُ کا لفظ بولتے یعنی مجھے بتایا گیا۔جبکہ اس روایت میں نُبِّئْتُ کے الفاظ نہیں ہیں۔

(ح)تاریخ سے ہمیں اس بات کی وضاحت بھی ملتی ہے کہ امام ابن سیرین کے حضرت عائشہؓ سے خاندانی مراسم تھے۔ چنانچہ ابن سعد لکھتے ہیں: ’’اَخْبَرَنَا بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أبي أَنَّ أُمَّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ صَفِيَّةَ مَوْلاةَ أبي بَكْرِ بْنِ أبي قُحَافَةَ ‘‘ (الطبقات ابن سعد ۹؍۱۹۲ ط: مكتبة الخانجي، القاهرة – مصر)یعنی امام ابن سیرین کی والدہ صفیہ حضرت ابوبکرؓ کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔
۲۔ علماء کا یہ موقف ہے کہ سماع کے اثبات کے لیے صرف معاصرت کا ہونا ہی کافی ہے۔سماع کی صراحت ضروری نہیں۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ راوی مدلس نہ ہو۔ علامہ العلائی،امام مسلم کی شرط کا اختصار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’إِنَّهُ يَكْتَفِي بِمُجَرَّدِ إِمْكَانِ اللِّقَاءِ دُونَ ثُبُوتِ أَصْلِهِ، فَمَتَى كَانَ الرَّاوِي بَرِيئًا مِنْ تُهْمَةِ التَّدْلِيسِ، وَكَانَ لِقَاؤُهُ لِمَنْ رَوَى عَنْهُ بِالْعَنْعَنَةِ مُمْكِنًا مِنْ حَيْثُ السِّنِّ وَالْبَلَدِ، كَانَ الحَدِيثُ مُتَّصِلًا، وَإِنْ لَمْ يُؤْتَ بِأَنَّهُمَا اجْتَمَعَا قَطُّ۔ وَهَذَا قَوْلُ الإِمَامِ مُسْلِمٍ، وَالحَاكِمِ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ، وَالقَاضِي أَبِي بَكْرِ بْنِ البَاقِلَّانِي، وَالإِمَامِ أَبِي بَكْرٍ الصَّيْرَفِيِّ مِنْ أَصْحَابِنَا، وَقَدْ جَعَلَهُ مُسْلِمٌ – رَحِمَهُ اللّٰهُ – قَوْلَ كَافَّةِ أَهْلِ الحَدِيثِ۔
وَإِنَّ القَوْلَ بِاشْتِرَاطِ ثُبُوتِ اللِّقَاءِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ، بَلْ لَمْ يُسْبَقْ قَائِلُهُ إِلَيْهِ، وَبَالَغَ فِي رَدِّهِ، وَطَوَّلَ فِي الِاحْتِجَاجِ لِذَلِكَ فِي مُقَدِّمَةِ صَحِيحِهِ۔‘‘(جامع التحصيل صفحہ ۱۱۷ ط: عالم الكتب – بيروت) یعنی امام مسلم صرف ملاقات کے ممکن ہونے پر اکتفا کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ملاقات کا وقوع قطعی طور پر ثابت ہو۔پس جب راوی تدلیس کے الزام سے بری ہو، اور اس کی اُس شخص سے ملاقات (جس سے وہ ’عن‘ کہہ کر روایت کر رہا ہے) عمر اور شہر کے لحاظ سے ممکن ہو، تو حدیث متصل شمار کی جائے گی، اگرچہ یہ ثابت نہ ہو کہ وہ دونوں واقعی کبھی ملےتھے۔یہی قول امام مسلم، الحاکم ابو عبد الله، قاضی ابوبکر بن باقلانی، اور ہمارے اصحاب میں سے امام ابو بکر الصیرفی کا ہے۔بلکہ امام مسلمؒ نےاسے تمام اہلِ حدیث کا قول قرار دیا ہے۔اور یہ کہنا کہ ملاقات کا وقوع شرط ہے، ایک نیا (ایجاد کردہ) قول ہے، اس کے قائل سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کہا، بلکہ امام مسلمؒ نے اس قول کو شدت سے رد کیا ہے اور اپنی صحیح کے مقدمہ میں اس پر تفصیل سے دلائل قائم کیے ہیں۔
اس موقف کو بہت سے علماءنے بیان کیا ہے۔ذیل میں ہم چند حوالہ جات بطو ر مثال پیش کرتے ہیں:
(الف) علامہ ابن حزم لکھتےہیں: وَإِذَا عَلِمْنَا أَنَّ الرَّاوِيَ العَدْلَ قَدْ أَدْرَكَ مَنْ رَوَى عَنْهُ مِنَ العُدُولِ، فَهُوَ عَلَى اللِّقَاءِ وَالسَّمَاعِ، لِأَنَّ شَرْطَ العَدْلِ القَبُولُ، وَالقَبُولُ يُضَادُّ تَكْذِيبَهُ فِي أَنْ يُسْنِدَ إِلَى غَيْرِهِ مَا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، إِلَّا أَنْ يَقُومَ دَلِيلٌ عَلَى ذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِ۔وَسَوَاءٌ قَالَ: "حَدَّثَنَا”، أَوْ "أَنْبَأَنَا”، أَوْ قَالَ: "عَنْ فُلَانٍ”، أَوْ قَالَ: "قَالَ فُلَانٌ”؛ كُلُّ ذَلِكَ مَحْمُولٌ عَلَى السَّمَاعِ مِنْهُ۔ (الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم (۲؍ ۲۱) ت : احمد شاکر) یعنی جب ہمیں معلوم ہو کہ کوئی عادل راوی، کسی دوسرے عادل راوی سے روایت کرتا ہے جس کو اس نے پایا (یعنی وہ دونوں ہمعصر ہیں)، تو یہ روایت ملاقات اور سماع پر محمول ہوگی،کیونکہ عدالت کی شرط ہی یہ ہے کہ اُس کی بات کو قبول کیا جائے، اور قبول کرنا اس کے جھوٹا ہونے کے احتمال کے منافی ہےیعنی یہ گمان کرنا کہ اُس نے کسی سے ایسی بات منسوب کی جو اُس نے اُس سے سنی ہی نہ ہو ۔الّا یہ کہ اُس کے کسی فعل سے خلاف ثابت ہو جائے (کہ اُس نے ایسا کیا ہو)۔اور برابر ہے کہ وہ کہے: ’’حدّثنا‘‘، یا ’’أنبأنا‘‘، یا کہے: ’’عن فلان‘‘، یا کہے: ’’قال فلان‘‘ ان تمام صورتوں کو سماع پر محمول کیا جائے گا (یعنی یہ سمجھا جائے گا کہ اُس نے وہ روایت براہِ راست سنی ہے چاہے وہ کوئی بھی مذکورہ الفاظ استعمال کرے)۔


(ب)امام ابن کثیر لکھتے ہیں: والصَّحِيحُ الَّذِي عَلَيْهِ العَمَلُ: أَنَّهُ مُتَّصِلٌ مَحْمُولٌ عَلَى السَّمَاعِ، إِذَا تَعَاصَرُوا، مَعَ البَرَاءَةِ مِنْ وَصْمَةِ التَّدْلِيسِ۔ (الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث صفحہ ۴۹ ط: دارالکتب العلمیۃ)یعنی صحیح بات جس پر عمل ہے وہ یہ ہے کہ روایت کو متصل اور سماع پر محمول مانا جائے گا، اگر راوی اور مروی عنہ ہم عصر ہوں اور راوی تدلیس کے داغ سے بری ہو۔

(ج)علامہ ابن رجب لکھتے ہیں: وَكَثِيرٌ مِنَ العُلَمَاءِ المُتَأَخِّرِينَ عَلَى مَا قَالَهُ مُسْلِمٌ – رَحِمَهُ اللّٰهُ – مِنْ أَنَّ إِمْكَانَ اللِّقَاءِ كَافٍ فِي الِاتِّصَالِ مِنَ الثِّقَةِ غَيْرِ المُدَلِّسِ، وَهُوَ ظَاهِرُ كَلَامِ ابْنِ حِبَّانَ وَغَيْرِهِ۔(شرح علل الترمذي (۲؍ ۵۸۸) ط: مكتبة المنار – الزرقاء – الأردن)یعنی بہت سے متاخر علماء، امام مسلمؒ کا ہی موقف رکھتے ہیں کہ اگر راوی ثقہ ہو اور مدلس نہ ہو، تو محض ملاقات کا امکان اتصالِ سند کے لیے کافی ہے اور یہی بات ابن حبان وغیرہ کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
(د) علامہ ابن جماعۃ لکھتے ہیں: وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ فِي سَنَدِهِ: "فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ”، قَالَ بَعْضُ العُلَمَاءِ: هُوَ مُرْسَلٌ، وَالصَّحِيحُ الَّذِي عَلَيْهِ جَمَاهِيرُ العُلَمَاءِ وَالمُحَدِّثِينَ، وَالفُقَهَاءِ، وَالأُصُولِيِّينَ: أَنَّهُ مُتَّصِلٌ، إِذَا أَمْكَنَ لِقَاؤُهُمَا، مَعَ بَرَاءَتِهِمَا مِنَ التَّدْلِيسِ۔(المنهل الروي في مختصر علوم الحديث النبوي صفحہ ۴۸ ط:دارالفکر) یعنی وہ روایت جس کی سند میں کہا جائے: فلاں عن فلاں (یعنی عن عنہ کے ساتھ روایت کی گئی ہو)، تو بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ مرسل ہے۔
لیکن صحیح قول جس پر جمہور علماء، محدثین، فقہاء اور اصولیین کا عمل ہے یہ ہے کہ وہ روایت متصل شمار ہوگی، اگر دونوں (راوی اور مروی عنہ) کی ملاقات ممکن ہو، اور وہ دونوں تدلیس کے الزام سے بری ہوں۔
(ھ)علامہ البانی لکھتے ہیں: وَلَيْسَ ذَلِكَ بِشَرْطٍ عِنْدَ جُمْهُورِ المُحَدِّثِينَ، بَلْ يَكْفِي عِنْدَهُم مُجَرَّدُ إِمْكَانِ اللِّقَاءِ مَعَ أَمْنِ التَّدْلِيسِ، كَمَا هُوَ مَذْكُورٌ فِي "المُصْطَلَحِ”، وَشَرَحَهُ الإِمَامُ مُسْلِمٌ فِي مُقَدِّمَةِ صَحِيحِهِ (إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (۲؍ ۷۹) ط:المکتب الاسلامی)یعنی ملاقات کاوقوع پذیر ہونا جمہور محدثین کے نزدیک شرط نہیں،بلکہ ان کے نزدیک صرف ملاقات کا امکان اورتدلیس سے محفوظ ہونا کافی ہے،جیسا کہ اصولِ حدیث (’مصطلح‘) کی کتابوں میں بیان ہوا ہے اور امام مسلمؒ نے اسے اپنی صحیح کی مقدمہ میں وضاحت سے بیان کیا ہے۔نیز لکھتے ہیں: وَلَاسِيَّمَا مَعَ إِمْكَانِ السَّمَاعِ، وَالبَرَاءَةِ مِنَ التَّدْلِيسِ، فَإِنَّ هَذَا كَافٍ فِي الِاتِّصَالِ عِنْدَ مُسْلِمٍ وَالجُمْهُورِ، وَلَوْ لَمْ يُثْبَتِ السَّمَاعُ۔ (سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها (۵؍ ۲۷۷) ط: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض)یعنی خصوصاً جب سماع ممکن ہو، اور راوی تدلیس کے داغ سے بری ہو، تو یہی چیز روایت کے متصل ہونے کے لیے کافی ہے امام مسلمؒ اور جمہور محدثین کے نزدیک اگرچہ سماع کا صریح ثبوت موجود نہ ہو۔
(و) علامہ احمد شاکر لکھتے ہیں: وَإِنْ كَانَ الرَّاوِي غَيْرَ مُدَلِّسٍ، فَالصَّحِيحُ الرَّاجِحُ أَنَّهُ يُحْكَمُ لِرِوَايَتِهِ بِالِاتِّصَالِ، وَإِنْ لَمْ نَعْلَمْ أَنَّهُ لَقِيَ مَنْ رَوَى عَنْهُ، فَلَعَلَّهُ لَقِيَهُ وَلَمْ يُنْقَلْ إِلَيْنَا۔وَهَذَا هُوَ الَّذِي انْتَصَرَ لَهُ مُسْلِمُ بْنُ الحَجَّاجِ فِي "صَحِيحِهِ”، وَرَدَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ أَشَدَّ رَدٍّ وَأَقْوَاهُ۔ (ألفية السيوطي بشرح أحمد شاكر صفحہ۱۸ ط : المکتبۃ العلمیۃ)یعنی اور اگر راوی غیر مدلس ہو، تو راجح اور صحیح قول یہ ہے کہ اُس کی روایت کو متصل مانا جائے گا،اگرچہ ہمیں یہ علم نہ ہو کہ اُس نے جس سے روایت کی ہے، اُس سے ملاقات کی تھی یا نہیں ۔تو ممکن ہے کہ اُس نےملاقات کی ہو، لیکن وہ (خبر) ہم تک نہ پہنچی ہو۔اور یہی وہ موقف ہے جس کی امام مسلم بن حجاجؒ نے اپنی ’صحیح‘ میں بھرپور حمایت کی،اور مخالفین پر سخت اور مضبوط رد کیا ہے۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں امام البخاری کے نظریہ کا رد نہیں کیا بلکہ علی المدینی کے نظریہ کو رد کیا ہے۔چنانچہ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’وَشَنَّعَ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى مَنْ يَشْتَرِطُ مَعَ المُعَاصَرَةِ اللِّقَاءَ، حَتَّى قِيلَ: إِنَّهُ يُرِيدُ البُخَارِيَّ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَلِيَّ بْنَ المَدِينِيِّ، فَإِنَّهُ يَشْتَرِطُ ذَلِكَ فِي أَصْلِ صِحَّةِ الحَدِيثِ، وَأَمَّا البُخَارِيُّ فَإِنَّهُ لَا يَشْتَرِطُهُ فِي أَصْلِ الصِّحَّةِ، وَلَكِنِ الْتَزَمَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ "الصَّحِيح”‘‘ (الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث صفحہ ۴۹ ط: دارالکتب العلمیۃ) یعنی امام مسلمؒ نے اپنی (صحیح کی) خطبہ میں اُن لوگوں پر سخت تنقید کی جنہوں نے ’معاصرت‘ کے ساتھ ’لقاء‘ کو بھی شرط قرار دیا،حتیٰ کہ بعض نے کہا کہ وہ امام بخاریؒ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں،مگر ظاہر یہ ہے کہ اُن کا اشارہ علی بن مدینی کی طرف ہے،کیونکہ وہ ملاقات کو حدیث کی صحت کی بنیاد میں شرط قرار دیتے تھے۔جبکہ امام البخاری نے شرط لقاء کو صحت ِروایت کے لیے لازمی قرار نہیں دیا اگرچہ انہوں نے اپنی صحیح میں اس کا التزام کیا ہے۔

علامہ البقاعی اپنے شیخ ابن حجر کے متعلق لکھتے ہیں:’’سُئِلَ شَيْخُنَا عَنِ الَّذِي بَحَثَ مُسْلِمٌ مَعَهُ، مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ۔ ‘‘ (النكت الوفية بما في شرح الألفية (۱؍ ۳۷۷) ط: مکتبۃ الرشد) یعنی ہم نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ امام مسلمؒ نے جس کے ساتھ (مقدمہ میں) علمی بحث کی، وہ کون تھا؟تو انہوں نے فرمایا: علی بن مدینی۔
۳۔ علماء کے کلام میں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں انہوں نے محض امکان سماع کے باعث روایت کو متصل قرار دیا ہے۔چنانچہ ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
(الف) علی المدینی کہتے ہیں:’’ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحَدُ العَشَرَةِ، أَحَدُ الفُقَهَاءِ، وَهُوَ قَدِيمٌ، لَقِيَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ، وَلَا أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ مُعَطَّلٍ‘‘ (تاريخ دمشق لابن عساكر (۲۴؍ ۱۵۹) ط: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)یعنی ابو بکر بن عبد الرحمٰن، جو کہ دس (مشہور فقہاء مدینہ) میں سے ایک ہیں،اور فقہاء میں سے ہیں، بڑی عمر کے تھے،انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو پایا ہے اور میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ انہوں نے صفوان بن معطل سے سنا ہو۔
(ب) امام مسلم اپنے مقدمہ میں تابعین کی ایک لمبی فہرست درج کرتے ہیں جن کی صحابہ سے روایات کو متصل مانا جاتا ہے مگر ان کی صحابہ سے سماع کی صراحت موجود نہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:’’وَأَسْنَدَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، وَهُوَ مِمَّنْ أَدْرَكَ الجَاهِلِيَّةَ، وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ رَجُلًا، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ خَبَرَيْنِ…فَكُلُّ هَؤُلَاءِ التَّابِعِينَ الَّذِينَ نَصَبْنَا رِوَايَتَهُمْ عَنِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ، لَمْ يُحْفَظْ عَنْهُمْ سَمَاعٌ عَلِمْنَاهُ مِنْهُمْ فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا، وَلَا أَنَّهُمْ لَقُوهُمْ فِي نَفْسِ خَبَرٍ بِعَيْنِهِ، وَهِيَ أَسَانِيدُ عِنْدَ ذَوِي المَعْرِفَةِ بِالأَخْبَارِ وَالرِّوَايَاتِ مِنْ صِحَاحِ الأَسَانِيدِ، لَا نَعْلَمُهُمْ وَهَّنُوا مِنْهَا شَيْئًا قَطُّ، وَلَا الْتَمَسُوا فِيهَا سَمَاعَ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، إِذِ السَّمَاعُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُمْكِنٌ مِنْ صَاحِبِهِ، غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ، لِكَوْنِهِمْ جَمِيعًا كَانُوا فِي العَصْرِ الَّذِي اتَّفَقُوا فِيهِ‘‘ (صحيح مسلم (۱؍ ۲۷-۲۸) ط: دار الطباعة العامرة – تركي)یعنی ابو عمرو شیبانی، جو کہ جاہلیت کے زمانے کو پا چکے تھے، اور نبی ﷺ کے زمانے میں بالغ (عاقل مرد) تھے،اور ابو معمر عبد الله بن سخبرہ،دونوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی دو روایات بیان کیں…تو ان تمام تابعین کی جن کی روایت ہم نے اُن صحابہ سے بیان کی ہے جن کے نام لیے گئے،ہمیں ان سے کسی خاص روایت میں نہ تو براہِ راست سماع کا علم حاصل ہوا،نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی مخصوص خبر میں ان صحابہ سے ملاقات کی تھی۔اس کے باوجود یہ تمام اسناد اہلِ خبر و روایت کے نزدیک صحیح الاسناد شمار ہوتی ہیں ۔ہمیں معلوم نہیں کہ کبھی ان اسناد کو ضعیف قرار دیا گیا ہو،اور نہ ہی محدثین نے ان اسناد میں سماع کے اثبات کا مطالبہ کیا،کیونکہ ہر ایک کے لیے اس کے شیخ سے سماع ممکن تھا اور ناممکن یا مستبعد نہیں تھا،کیونکہ یہ سب لوگ اسی دور میں زندہ تھے جس میں ان کا اتصال ممکن تھا۔



(ج) علامہ العلائی لکھتے ہیں:’’ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: حَدِيثُهُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا مُرْسَلٌ۔قُلْتُ: قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، فَكَيْفَ يَكُونُ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلًا، وَهُوَ مَعَهُ بِالمَدِينَةِ‘‘۔(جامع التحصيل في أحكام المراسيل (صفحہ: ۱۶۸) ط: عالم الكتب – بيروت) یعنی حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف کے بارے میں ابو زرعہ کہتے ہیں: اُن کی حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے روایات مرسل ہیں۔علامہ العلائی کہتے ہیں: انہوں نے اپنے والد اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے سنا ہے،تو پھر حضرت علیؓ سے روایت مرسل کیسے ہو سکتی ہے،حالانکہ وہ (حمید) مدینہ میں حضرت علیؓ کے ساتھ ہی موجود تھے؟
(د) اسی طرح الشعبی کے حضرت علیؓ سے سماع کے امکان پر بحث کرتے ہوئے علامہ السبکی لکھتے ہیں:’’ وَهَذَا الإِسْنَادُ لَا يَرْتَابُ فِي صِحَّتِهِ وَاتِّصَالِهِ إِلَّا مِنْ جِهَةِ سَمَاعِ الشَّعْبِيِّ مِنْ عَلِيٍّ، وَلَا شَكَّ أَنَّهُ أَدْرَكَهُ، وَأَدْرَكَ خَلَائِقَ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَإِنَّ مَوْلِدَهُ – عَلَى مَا ذَكَرَهُ ابْنُ مَنْجُوَيْهِ – لِسِتِّ سِنِينَ خَلَتْ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَيَكُونُ – عِنْدَ وَفَاةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ – عُمْرُهُ عِشْرِينَ سَنَةً۔وَأَكْثَرُ الأَقْوَالِ فِي وَفَاتِهِ (أَعْنِي الشَّعْبِيَّ) تَدُلُّ عَلَى هَذَا؛ فَإِنَّهُ قِيلَ: إِنَّهُ تُوُفِّيَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَمِئَةٍ، وَعُمْرُهُ اثْنَتَانِ وَثَمَانُونَ سَنَةً، وَقِيلَ فِيهِ أَقْوَالٌ أُخْرَى، وَمِنْ جُمْلَتِهَا: أَنَّهُ تُوُفِّيَ سَنَةَ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ وَمِئَةٍ، وَعُمْرُهُ سَبْعٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً۔وَعَلَى هَذَا يَكُونُ أَدْرَكَ مِنْ حَيَاةِ عَلِيٍّ عَشْرَ سِنِينَ، وَالمَشْهُورُ الأَوَّلُ، وَعَلَى كُلِّ قَوْلٍ فَالإِدْرَاكُ مُحَقَّقٌ، وَكَذَا إِمْكَانُ السَّمَاعِ، فَإِنَّهُ كُوفِيٌّ، وَعَلِيٌّ كَانَ بِالكُوفَةِ، فَلَا مَانِعَ مِنْ لِقَائِهِ وَالسَّمَاعِ مِنْهُ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ عَلِيٍّ مَعْرُوفَةٌ‘‘۔(السيف المسلول على من سب الرسول (صفحہ: ۳۳۱) ط : دار الفتح (عمان – الأردن)) یعنی یہ سند اپنی صحت اور اتصال میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رکھتی،سوائے اس پہلو سے کہ کیا شعبی نے حضرت علیؓ سے سماع کیا تھا یا نہیں؟لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شعبی نے حضرت علیؓ کو پایا اور صحابۂ کرام کی ایک بڑی جماعت کو بھی پایا۔کیونکہ جیسا کہ ابن منجُویہ نے ذکر کیا شعبی کی پیدائش حضرت عمر بن خطابؓ کی خلافت کے چھٹے سال ہوئی تھی،تو جب حضرت علیؓ کی وفات ہوئی، اُس وقت شعبی کی عمر بیس سال تھی۔شعبی کی وفات کے بارے میں جو اقوال ہیں، وہ بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں:چنانچہ کہا گیا کہ اُن کا انتقال سن۱۰۲ ہجری میں ہوا،اور اُن کی عمر اُس وقت بیاسی (۸۲) سال تھی۔جبکہ دیگر اقوال کے مطابق ان کا انتقال ۱۰۶ یا ۱۰۷ ہجری میں ہوا،اور اس وقت ان کی عمر ستتر (۷۷) سال تھی۔ان اقوال کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی زندگی کے کم از کم دس سال پائے،اگرچہ زیادہ مشہور قول پہلا ہی ہے (یعنی ان کی عمر بیس سال تھی جب حضرت علیؓ کی وفات ہوئی)۔اور ہر صورت میں زمانہ کا پانا یقینی ہے،اور اسی طرح سماع کا امکان بھی موجود ہے،کیونکہ شعبی کوفی تھے اور حضرت علیؓ بھی کوفہ میں مقیم تھے،اس لیے ملاقات اور سماع میں کوئی رکاوٹ نہیں۔اور شعبی کی حضرت علیؓ سے روایت معروف و مشہور ہے۔
۴۔ علماء نے بعض رواۃ کی عدم سماع کی صراحت کے باوجود قرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے سند کو متصل قرار دیا ہے۔ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
(الف) بعض ائمہ نے قیس بن ابی حازم کی کچھ صحابہ سے عدم سماع کا ذکر کیا ہے۔علامہ العلائی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’قُلْتُ: فِي هَذَا القَوْلِ نَظَرٌ، فَإِنَّ قَيْسًا لَمْ يَكُنْ مُدَلِّسًا، وَقَدْ وَرَدَ المَدِينَةَ عَقِبَ وَفَاةِ النَّبِيِّ ﷺ، وَالصَّحَابَةُ بِهَا مُجْتَمِعُونَ، فَإِذَا رَوَى عَنْ أَحَدٍ، فَالوَاضِحُ سَمَاعُهُ مِنْهُ ‘‘(جامع التحصيل (صفحہ: ۲۵۷) ط: عالم الكتب – بيروت) یعنی علامہ علائی کہتے ہیں کہ اس قول میں اختلاف کی گنجائش ہے،کیونکہ قیس ابن أبي حازم مدلس نہیں تھے اور وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے فوراً بعد مدینہ آئے،جب کہ صحابہ کرامؓ اس وقت مدینہ میں جمع تھے،لہٰذا اگر وہ کسی سے روایت کریں،تو ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے براہِ راست ہی ان سے سنا ہوگا۔
(ب)اسی طرح بعض ائمہ نے حضرت عائشہؓ سے عراک بن المالک کی عدم سماع کی صراحت کی ہے۔ (مثلاً دیکھیں: زاد المعاد في هدي خير العباد (۲؍ ۳۵۱))۔علامہ الزیلعی لکھتے ہیں:’’ وَقَدْ ذَكَرُوا سَمَاعَ عِرَاكٍ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يُنْكِرُوهُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ تُوُفِّيَ هُوَ وَعَائِشَةُ فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَا يَبْعُدُ سَمَاعُهُ عَنْ عَائِشَةَ، مَعَ كَوْنِهِمَا فِي بَلْدَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَعَلَّ هَذَا هُوَ الَّذِي أَوْجَبَ لِمُسْلِمٍ أَنْ أَخْرَجَ فِي "صَحِيحِهِ” حَدِيثَ عِرَاكٍ عَنْ عَائِشَةَ، مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عَائِشَةَ ‘‘(نصب الراية (۲؍ ۱۰۷)ط: مؤسسة الريان للطباعة والنشر – بيروت -لبنان؍ دار القبلة للثقافة الإسلامية- جدة – السعودية) یعنی بعض علماء نے عراک کا ابوہریرہؓ سے سماع ذکر کیا ہے اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا،جبکہ ابو ہریرہؓ اور عائشہؓ کا انتقال ایک ہی سال میں ہوا،اس لیے عائشہؓ سے سماع بھی بعید نہیں،خصوصاً اس حال میں کہ دونوں ایک ہی شہر (مدینہ) میں موجود تھے۔اور شاید یہی وجہ تھی کہ امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں یزید بن أبي زیاد، مولیٰ ابن عباس کے ذریعےعراک عن عائشہؓ کی روایت کو درج کیا۔


علامہ الرشید العطار اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’وَحَدِيثُهُ عَنْ رَجُلٍ عَنْهَا لَا يَدُلُّ عَلَى عَدَمِ سَمَاعِهِ بِالكُلِّيَّةِ مِنْهَا، لَا سِيَّمَا وَقَدْ جَمَعَهُمَا بَلَدٌ وَاحِدٌ وَعَصْرٌ وَاحِدٌ، وَهَذَا وَمِثْلُهُ مَحْمُولٌ عَلَى السَّمَاعِ عِنْدَ مُسْلِمٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ، حَتَّى يَقُومَ الدَّلِيلُ عَلَى خِلَافِهِ، كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ فِي مُقَدِّمَةِ كِتَابِهِ۔فَسَمَاعُ عِرَاكٍ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا جَائِزٌ مُمْكِنٌ، وَقَدْ ثَبَتَ سَمَاعُهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ‘‘ (غرر الفوائد المجموعة(صفحہ:۲۵۷-۲۵۶) ط:دارالکتب العلمیۃ) یعنی عراک کی (عائشہؓ سے) ایک واسطہ سے روایت یہ ثابت نہیں کرتی کہ انہوں نے بالکل ان سے سماع نہیں کیا خاص طور پر جب کہ وہ دونوں ایک ہی شہر اور ایک ہی زمانے میں موجود تھے۔ایسے مواقع پر اور ان جیسے معاملات میں امام مسلم رحمہ اللہ کے نزدیک روایت کو سماع پر محمول کیا جاتا ہے،جب تک کہ اس کے خلاف کوئی واضح ثبوت نہ ہو جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب (صحیح مسلم) کی مقدمہ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔لہٰذا عراک کا حضرت عائشہؓ سے سماع جائز اور ممکن ہےاور ان کا ابوہریرہؓ اور دیگر صحابہؓ سے سماع تو پہلے سے ہی ثابت ہے۔
(ج) اسی طرح مسروق کا حضرت معاذ بن جبلؓ سے سماع ثابت نہیں۔(مثلاً دیکھیں: المحلى بالآثار (۴؍ ۱۰۰)) مگر ابن القطان لکھتے ہیں:’’ وَلَمْ أَقُلْ بَعْدُ: إِنَّ مَسْرُوقًا سَمِعَ مِنْ مُعَاذٍ، وَإِنَّمَا أَقُولُ: إِنَّهُ يَجِبُ عَلَى أُصُولِهِمْ أَنْ يُحْكَمَ لِحَدِيثِهِ عَنْ مُعَاذٍ، بِحُكْمِ حَدِيثِ المُتَعَاصِرَيْنِ الَّذَيْنِ لَمْ يُعْلَمِ انْتِفَاءُ اللِّقَاءِ بَيْنَهُمَا، فَإِنَّ الحُكْمَ فِيهِ أَنْ يُحْكَمَ لَهُ بِالِاتِّصَالِ، وَهُوَ الَّذِي لَهُ عِنْدَ الجُمْهُورِ ‘‘(بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام (۲؍۵۷۶۔۵۷۵) ط: دار طيبة – الرياض ) یعنی میں نے یہ نہیں کہا کہ مسروق نے معاذؓ سے (براہِ راست) سنا ہے،بلکہ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ محدثین کے اصولوں کے مطابق اس کی حضرت معاذؓ سے روایت کومعاصرراویوں کی روایت کے حکم پر پرکھنا چاہیے۔جن کے درمیان ملاقات نہ ہونے کا علم نہ ہو۔کیونکہ اس حالت میں جمہور کے نزدیک روایت کومتصل ہی سمجھا جاتا ہے۔
(د) علامہ الرشید العطار ایک مقام پر لکھتے ہیں:’’ وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ الحُفَّاظِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ هَذَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔
قُلْتُ: وَذَكَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ العُلَمَاءِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ هَذَا حِجَازِيٌّ، وَأَنَّهُ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ۔فَسَمَاعُهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَائِزٌ مُمْكِنٌ، لِأَنَّهُمَا مُتَعَاصِرَانِ، وَيَجْمَعُهُمَا قُطْرٌ وَاحِدٌ۔فَعَلَى مَذْهَبِ مُسْلِمٍ، تُحْمَلُ رِوَايَتُهُ عَنْهُ عَلَى السَّمَاعِ، إِلَّا أَنْ يَقُومَ دَلِيلٌ بَيِّنٌ عَلَى خِلَافِهِ ‘‘(غرر الفوائد المجموعة (صفحہ:-۲۵۸ ۲۵۹)ط:دارالکتب العلمیۃ) یعنی بعض حفاظ نے ذکر کیا ہے کہ محمد بن قیس نے ابو ہریرہؓ سے سماع نہیں کیا۔میں کہتا ہوں: بہت سے علماء نے یہ ذکر کیا ہے کہ محمد بن قیس حجازی تھےاور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سنا ہے،تو ان کا ابو ہریرہؓ سے سماع جائز اور ممکن ہےکیونکہ دونوں ہم عصر تھےاور ایک ہی علاقے (حجاز) میں رہتے تھے۔پس امام مسلمؒ کے اصول کے مطابق ان کی ابو ہریرہؓ سے روایت کو سماع پر محمول کیا جائے گاجب تک کہ خلاف میں کوئی واضح دلیل قائم نہ ہو۔
(ھ)امام ابن تیمیۃ ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے امام البخاری کا قول ’’لَا يُعْرَفُ لِسَلَمَةَ سَمَاعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا لِيَعْقُوبَ سَمَاعٌ مِنْ أَبِيهِ ‘‘(السنن الكبرى – البيهقي (۱؍ ۷۲ ط العلمية) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’إِنَّ البُخَارِيَّ أَشَارَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ السَّمَاعُ فِي رِجَالِهِ، وَهَذَا غَيْرُ وَاجِبٍ فِي العَمَلِ، بَلِ العَنْعَنَةُ مَعَ إِمْكَانِ اللِّقَاءِ، مَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ مُدَلِّسٌ‘‘ (شرح العمدة (۱؍۱۴۴)ط: دار عطاءات العلم (الرياض))یعنی امام بخاریؒ نے ابوہریرہؓ کی ایک حدیث میں یہ اشارہ دیا ہے کہ اس (سند) کے راویوں میں سے کسی کے لیے سماع ثابت نہیں۔مگر (یاد رہے کہ) یہ عمل کے لیے ضروری شرط نہیں۔بلکہ اگر راوی مدلس نہ ہواور ملاقات ممکن ہوتو عنعنہ والی روایت پر عمل کیا جا سکتا ہے،چاہے سماع کا صریح ثبوت نہ ہو۔
(و)امام البیہقی لکھتے ہیں:’’عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ لَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ‘‘۔(السنن الكبرى للبيهقي (۱؍ ۱۷۷)ط: العلمیۃ)یعنی علی بن رباح کا حضرت ابن مسعودؓ سے سماع ثابت نہیں ہے۔علامہ ابن الترکمانی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ثُمَّ قَالَ: (لَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ)۔قُلْتُ: قَدَّمْنَا أَنَّ مُسْلِمًا أَنْكَرَ فِي ثُبُوتِ الِاتِّصَالِ اشْتِرَاطَ السَّمَاعِ، وَادَّعَى اتِّفَاقَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ يَكْفِي إِمْكَانُ اللِّقَاءِ وَالسَّمَاعِ۔وَعَلَى هَذَا، وُلِدَ (عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ) سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَكَذَا ذَكَرَ أَبُو سَعِيدٍ بْنُ يُونُسَ،فَسَمَاعُهُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ مُمْكِنٌ بِلَا شَكٍّ،لِأَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ تُوُفِّيَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، وَقِيلَ: سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ‘‘۔(الجوهر النقي على سنن البيهقي (۱؍ ۱۱۰) ط:دارالفکر) یعنی پھر کہا گیا (یعنی امام بیہقی نےکہا): ’’علی بن رباح کا حضرت ابن مسعودؓ سے سماع ثابت نہیں ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں: ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ امام مسلمؒ نےحدیث کے اتصال کے لیے سماع کی شرط کو رد کیااور دعویٰ کیا کہ اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ ملاقات اور سماع کا امکان کافی ہے۔اور اسی بنیاد پر،علی بن رباح کی پیدائش ۱۵ ہجری میں ہوئی جیسا کہ ابو سعید بن یونس نے بھی ذکر کیا ہے۔تو اس اعتبار سے ان کا ابن مسعودؓ سے سماع یقینی طور پر ممکن ہے،کیونکہ ابن مسعودؓ کی وفات ۳۲ھ یا ۳۳ھ میں ہوئی۔


(ز) ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے علامہ الرشید العطار لکھتے ہیں:’’ وأورده أبو عُمَرِ بنِ عبدِ البَرِّ النَّمَريُّ الحافظُ في تَمهيده في ترجمة العَلَاءِ بنِ عبدِ الرَّحمٰن، وقال عقبَه ما هذا نَصُّه: "اسمُ أبي الجَوْزاء: أَوْسُ بنُ عبدِ اللّٰهِ الرَّبَعيُّ،لم يَسمَعْ من عائشةَ، وحديثُه عنها مُرْسَلٌ”۔وأورده أيضًا في كتابِه المسمّى بـالإنصاف،وقال عقبَه: "رِجالُ إِسْنادِ هذا الحديثِ ثِقاتٌ كُلُّهُم، لا يُخْتَلَفُ في ذلك،إلا أنَّهُم يقولون: إنَّ أبا الجَوْزاء لا يُعْرَفُ له سَمَاعٌ من عائشةَ، وحديثُه عنها إِرْسَالٌ”۔قال شيخُنا الحافِظُ أبو الحُسَين يحيى بن علي – أسعده اللّٰه –:وإدراكُ أبي الجَوْزاء هذا لعائشةَ – رضي اللّٰه عنها – معلومٌ لا يُخْتَلَفُ فيه،وسَماعُه منها جائزٌ مُمْكِنٌ، لكونِهِما جميعًا كانا في عَصْرٍ واحدٍ،وهذا ومِثْلُه مَحْمُولٌ على السَّمَاعِ عند مسلمٍ رحمه الله كما نَصَّ عليه في مُقدّمةِ كِتابِه الصحيح۔‘‘(غرر الفوائد المجموعة (صفحہ: -۳۳۷-۳۳۸) ط:دارالکتب العلمیۃ)یعنی ابن عبدالبر نے اسے اپنی کتاب التمهيد میں،علاء بن عبد الرحمٰن کے ترجمے کے آخر میں نقل کیا ہے: ابوالجوزاء کا پورا نام اوس بن عبد الله ربَعی ہے،انہوں نے حضرت عائشہؓ سے حدیث براہِ راست نہیں سنی،لہٰذا ان کی روایت مرسل ہے۔’’اسی کو انہوں نے اپنی دوسری کتاب الإنصاف میں بھی ذکر کیااور اس پر تبصرہ کیا:اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں سوائے اس کے کہ ابو الجوزاء کا حضرت عائشہؓ سے سماع معروف نہیں،اس لیے ان کی روایت کو مرسل کہا جاتا ہے۔‘‘ہمارے شیخ حافظ ابوالحسين یحییٰ بن علی – اللہ انہیں سعادت دے – نے کہا:ابوالجوزاء کا حضرت عائشہؓ کا دور پانااور معاصر ہونا یہ بات ثابت اور متفق علیہ ہے اور ان کا حضرت عائشہؓ سے سماع ممکن و جائز ہے،کیونکہ دونوں ایک ہی دور میں تھے۔پس یہ اور اسی طرح کی روایات امام مسلمؒ کے نزدیک سماع پر محمول ہوتی ہیں،جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح کی مقدمہ میں واضح کیا ہے۔
(ح) علامہ ثناء اللہ صاحب پانی پتی لکھتے ہیں:’’ عن إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عن عَائِشَةَ۔فَإِنْ قِيلَ: قَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يُعْرَفُ لإِبْرَاهِيمَ سَمَاعٌ عَنْ عَائِشَةَ،وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّﷺ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ،قُلْتُ: إِمْكَانُ السَّمَاعِ يَكْفِي لِصِحَّةِ الْحَدِيثِ، لَا مَعْرِفَةُ السَّمَاعِ،وَعَلَى أَنَّ الْمُرْسَلَ عِنْدَنَا حُجَّةٌ، وَإِبْرَاهِيمُ تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ۔‘‘ (التفسير المظهري (۲؍ ۱۱۴-۱۱۵) ط:دارالکتب العلمیۃ) یعنی ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔اگر یہ کہا جائے: امام ترمذیؒ نے کہا ہے کہ ابراہیم کا حضرت عائشہؓ سے سماع معروف نہیں نیز یہ کہ اس باب میں نبی ﷺ سے کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں۔تو میں کہتا ہوں:حدیث کے صحیح ہونے کے لیے ’’سماع کا امکان‘‘ کافی ہوتا ہے، نہ کہ ’’سماع کا ثابت ہونا‘‘ ضروری ہے۔پھر یہ بھی ہے کہ مرسل حدیث ہمارے نزدیک حجت ہے،اور ابراہیم تابعی اور ثقہ ہیں۔



(ط) علامہ الزیلعی ایک راوی مَحمُود بِن مُحَمّد الحَدّاد پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ فَإِذَا كَانَ سِنُّهُ سِنَّ النَّخَعِيّ، فَمَا الْمَانِعُ مِنْ سَمَاعِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ، مَعَ الِاتِّفَاقِ عَلَى سَمَاعِ النَّخَعِيّ مِنْهُ؟!‘‘ (نصب الراية (۱؍ ۳۹۵) ط: مؤسسة الريان للطباعة والنشر – بيروت -لبنان؍ دار القبلة للثقافة الإسلامية- جدة – السعودية) یعنی جبکہ مذکورہ راوی ابراہیم النخعی کا ہم عمر ہے تو کوئی مانع نہیں کہ اس نے علقمۃ سے سماع نہ کی ہو کیونکہ ابراہیم النخعی نے اس سے سماع کی ہوئی ہے۔


(ی) علامہ البانی ایک راوی سے عدم سماع کی علت دُور کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’وأما الثَّالِثَةُ فَلَيْسَتْ بِعِلَّةٍ إِلَّا عِنْدَ البُخَارِيِّ، بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ المَعْرُوفِ، وَهُوَ اشْتِرَاطُ مَعْرِفَةِ اللِّقَاءِ،وَلَيْسَ ذَلِكَ بِشَرْطٍ عِنْدَ جُمْهُورِ المُحَدِّثِينَ،بَلْ يَكْفِي عِنْدَهُمْ مُجَرَّدُ إِمْكَانِ اللِّقَاءِ، مَعَ أَمْنِ التَّدْلِيسِ،كَمَا هُوَ مَذْكُورٌ فِي "المُصْطَلَحِ”، وَشَرَحَهُ الإِمَامُ مُسْلِمٌ فِي مُقَدِّمَةِ صَحِيحِهِ۔وَهَذَا مُتَوَفِّرٌ هُنَا،فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ لَمْ يُعْرَفْ بِتَدْلِيسٍ،ثُمَّ هُوَ قَدْ عَاصَرَ أَبَا الزِّنَادِ، وَأَدْرَكَهُ زَمَانًا طَوِيلًا،فَإِنَّهُ مَاتَ سَنَةَ (۱۴۵)، وَلَهُ مِنَ العُمْرِ (۵۳)،وَشَيْخُهُ أَبُو الزِّنَادِ مَاتَ سَنَةَ (۱۳۰)،فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ لَا رَيْبَ فِيهِ‘‘ (إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (۲؍ ۷۹) ط:المکتب الاسلامی) یعنی جہاں تک تیسری بات کا تعلق ہے تو وہ صرف امام بخاریؒ کے نزدیک علّت ہے،اور وہ بھی ان کے معروف اصول کی بنیاد پر،جس میں وہ راوی اور شیخ کے درمیان ملاقات کے علم کی شرط لگاتے ہیں۔ (امام بخاری کے مذہب کے بارے میں پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔ناقل)مگر یہ شرط جمہور محدثین کے نزدیک ضروری نہیں،بلکہ ان کے نزدیک صرف امکانِ ملاقات اور راوی کا مدلس نہ ہونا کافی ہے،جیسا کہ علمِ مصطلح میں ذکر ہوا ہے،اور امام مسلمؒ نے اس کی وضاحت اپنی صحیح مسلم کی مقدمہ میں کی ہے۔اور یہ شرطیں یہاں پوری ہو رہی ہیں،کیونکہ محمد بن عبد الله کے بارے میں تدلیس معروف نہیں،اور وہ ابو الزناد کے ہم عصر بھی تھے،اور کافی طویل وقت تک ان کو پایا۔کیونکہ محمد بن عبد الله ۱۴۵ھ میں فوت ہوئے اور ان کی عمر ۵۳ سال تھی،جبکہ ابو الزناد ۱۳۰ھ میں فوت ہوئے۔لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔


مذکور ہ بالا ۱۰ مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ راوی کے اپنے شیخ سے عدم سماع کی صراحت کے باوجود تین امور کی موجودگی اس کی روایت کو قابلِ قبول بناتی ہے!
۱۔ راوی کا مدلس نہ ہونا۔
۲۔ معاصر ہونا۔
۳۔ امکان لقاء ہونا۔
یہ تمام شرائط امام ابن سیرین میں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ امام ابن سیرین کے متعلق امام الحوینی لکھتے ہیں:’’ وَابْنُ سِيرِينَ كَانَ بَرِيئًا مِنَ التَّدْلِيسِ۔‘‘(النافلة في الأحاديث الضعيفة والباطلة (صفحہ:۲۸)ط: دار الصحابة للتراث) یعنی ابن سیرین تدلیس سے بری تھے۔پس معاصرت،امکان لقاء اور عدم تدلیس،گویا تمام شرائط امام ابن سیرین میں پوری ہوتی ہیں۔ثابت ہوا کہ ابن سیرین عن عائشۃ متصل ہے۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
نوٹ:اس مضمون میں مذکور اکثر حوالہ جات کے اصل عکس درج ذیل لنک پر موجود ہیں اورپی ڈی ایف میں ملاحظہ کیےجاسکتےہیں:
٭…٭…٭




