از افاضاتِ خلفائے احمدیت

اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اُس نے انبیاء اور بزرگان کے حق میں دکھائے تھے تو ان کے واقعات کو باربار دہراؤ

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۵؍جون۱۹۵۱ء بمقام ربوہ)

قرآن کریم ایک طرف تو حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان کر کے اُن سے اپنی محبت کے تعلّقات کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تم بھی انہیں دُہراؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں محسوس ہو جائے کہ خداتعالیٰ نے جس طرح حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور دیگر انبیاء کو چھوڑا نہیں اُسی طرح وہ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔

دنیا میں کسی عزیز یاباپ کو یاد رکھنے کا یہی طریق ہوتا ہے کہ اُسے باربار یاد کیا جائے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے

گاہے گاہے بازخواں ایں قصّہ ٔپارینہ را

اگر کسی کو یاد رکھنا ہو تو پرانا قصہ کبھی کبھی دُہرا لینا چاہیے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام، حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ حضرت داؤد، حضرت عیسیٰ علیھم السَّلامُ اور دوسرے نبیوں کا ذکر کرتا ہے۔ اور بعض نبیوں کا باربار ذکر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ یورپین مصنفین نے اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم میں تکرار پایا جاتا ہے جس سے ہمارا دل اُچاٹ ہو جاتا ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اِس تکرار کی وجہ سے ان کا دِل اُچاٹ ہو جاتا ہو گا لیکن جہاں تک دل کا تعلق ہے اس تکرار سے دل اُچاٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص باہر سے آتا ہے اور ہمیں خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے تو اِس سے طبیعت گھبرائے گی نہیں۔ لیکن اگر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔ پھر تیسری بار کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا تو دوسری دفعہ تو شاید ہم برداشت کر لیں لیکن تیسری بار ہم زچ ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے سامنے ایک ماں اپنے بچہ کو اپنے ساتھ چمٹاتی ہے اور کہتی ہے میری جان، میری جان۔ وہ ایک دفعہ کہتی ہے، دوسری بار کہتی ہے، تیسری بار کہتی ہے، چوتھی بار کہتی ہے بلکہ سویںدفعہ بھی اگر وہ اسے دہراتی ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں تنگ آ گیا ہوں چھوڑو اِس قصہ کو۔ پھر مصافحہ ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے ایک شخص ہم سے مصافحہ کرتا ہے پھر ہاتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اگر دوسری دفعہ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے تو ہماری طبیعت گھبرا جاتی ہے۔ پھر اگر وہ تیسری دفعہ ہاتھ بڑھاتا ہے تو طبیعت اَور گھبرا جاتی ہے کیونکہ اُس کے ہمارے ساتھ ماں جیسے تعلّقات نہیں۔ لیکن ماں اپنے بچہ کو چُومنا شروع کرتی ہے اور بعض دفعہ اِتنا چُومتی ہے کہ اُس کا چہرہ لال ہو جاتا ہے۔ ہم مصافحہ کرنے والے کو زچ ہو کر یہ کہیں گے کہ چھوڑو بھی اِس بات کو۔ لیکن ماں کو یہ بات نہیں کہتے اور نہ ماں سے محبت کے جذبات رکھنے والا اور اُس کی پیار کی باتوں کو سننے والا اِس بات پر کسی اعتراض کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

پس جہاں تک عقل کا سوال ہے قرآن کریم میں یہ بات دیکھ کر طبیعت زچ ہو گی کہ سلیمان کے ساتھ یوں واقعہ پیش آیا، داؤدؑ کے ساتھ یوں ہوا۔ پھر دس صفحے آگے چل کر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ یوں ہوا، موسیٰؑ کے ساتھ یوں ہوا، عیسیٰؑ کے ساتھ یوں ہوا۔ ایک دو دفعہ تو انسان اِس بات کو برداشت کر لیتا ہے لیکن پندرہ سولہ صفحات کے بعد پھر یہ لکھا ہوتا ہے کہ موسیٰؑ کے ساتھ یوں ہوا، داؤدؑ کے ساتھ یوں ہوا، سلیمانؑ نے یہ یہ قربانیاں کیں، عیسیٰؑ نے یہ یہ قربانیاں کیں، لوگوں نے فلاںفلاں نبی کے ساتھ یوں کیا۔ غرض جو شخص عقلی طور پر قرآن کریم کو دیکھتا ہے لیکن اُس کی عادت نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ ہر جگہ ایک نئی غرض کے لیے ہر واقعہ بتایا گیا ہے وہ ظاہر پر نظر کر کے کہتا ہے اِس میں تکرار پائی جاتی ہے۔ لیکن

جو شخص قرآن کریم کو اِس خیال سے پڑھتا ہے کہ یہ کتاب اُس کی اصلاح اور اُس کے اندر خاص جذبات پیدا کرنے کے لیے آئی ہے (خواہ وہ ان باریکیوں کا عارف نہ ہو) وہ اسے بالکل اَور نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ قرآن کریم کو اُس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے جس نقطہ نگاہ سے بچہ ماں کو دیکھتا ہے اور اس کی پیاری باتوں کو سنتا ہے۔

خالی عقل سے دیکھنے والا جب ماں کو دوچار دفعہ دیکھتا ہے اور اُسے جانی جانی کہتے سنتا ہے تو وہ تنگ آ جاتا ہے۔ لیکن بچہ کو جب ماں دس بیس دفعہ اپنے ساتھ چمٹا کر چھوڑ دیتی ہے تو اُس کا پھول سا چہرہ مُرجھا جاتا ہے۔ وہ سہماسہما پھرتا ہے کہ اُس کی ماں اُس سے کیوں خفا ہو گئی ہے۔ غرض وہی چیز جو ایک شخص کو تنگ کرنے کا موجب ہے دوسرے کے لیے وہ ایسی ہے جیسے باغ کے لیے پانی۔ ماں جب اپنے بچہ کو جانی جانی کہتی ہے تو وہ اُکتا نہیں جاتا۔ جب ماں جانی جانی کہتی ہے تو بچہ کا دل بڑھتا ہے، اس کے قوٰی مضبوط ہوتے ہیں، اُس کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اُس کے اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں حالانکہ یہی چیز ایک منطقی اور عقلی طور پر دیکھنے والے کو شاق گزرتی ہے۔ گویا جو چیز ایک شخص کے لیے بکواس ہے وہی دوسرے کے لیے پانی اور خون ہے۔ جو شخص قرآن کریم کو اِس خیال سے پڑھتا ہے کہ وہ اُس کے اندر نئے جذبات پیدا کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ روحانی باپ ہے، روحانی ماں ہے جو اپنے بچہ کے ساتھ گہرے تعلقات کا اظہار کر رہا ہے وہ اِس بات پر گھبرائے گا نہیں کہ قرآن کریم حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیھم السلام اور دیگر نبیوں کا باربار ذکر کیوں کرتا ہے بلکہ وہ کہے گا کہ اگر وہ ان کا بیس دفعہ اَور ذکر کر دیتا تو بہتر ہوتا۔ ماں بچہ کو باربار چومتی اور جانی جانی کہتی ہے۔ ایک منطقی یہ کہے گا کہ وہ کیوں ایسا کرتی ہے؟ لیکن بچہ ماں کے چھوڑ دینے پر سہماسہما پھرے گا کہ شاید اُس کی ماں اُس پر ناراض ہو گئی ہے۔ دونوں کے نقطہ نگاہ کا فرق ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰعلیھم السلام اور دیگر نبیوں کا باربار ذکر کرتا ہے تو وہ اپنے اُس تعلق کو جو اُسے اپنے بندوں سے ہے ظاہر کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔

پھر

اِس میں ہمیں سبق دیا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ محبت کے تعلّقات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا باربار ذکر کیا جائے۔

قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم آپس میں محبت کے تعلقات بڑھانا چاہتے ہو تو یوں کرو۔ حوّا نے بھی اپنے بچہ سے اِسی طرح پیار کیا ہو گا۔ حوّاآخر ایک عورت ہی تھی۔ وہ سقراط نہیں تھی، افلاطون نہیں تھی یا آجکل کے فلسفیوں ہیکل اور برکلے کی طرح نہ تھی کہ وہ اپنے بچہ کے ساتھ باربار پیار نہ کرتی۔ حوّا کے جذبات وہی تھے جو آجکل ایک گنوار سے گنوار عورت کے اندر پائے جاتے ہیں۔ وہ اگر اپنے بچہ کو چومنا شروع کر تی ہے تو ختم کرنے میں نہیں آتی۔ اسی طرح حوّا کرتی ہو گی۔ آجکل جس طرح ایک ماں ’’میں واری‘‘ ’’میں قربان‘‘ کرتی چلی جاتی ہے اِسی طرح حوّا کرتی ہو گی۔ لیکن جب حوّا ایسا کرتی تھی تو اس کے دو مفہوم تھے یا جب آجکل ایک ماں ایسا کرتی ہے تو فطرت بچہ کے اندر دو باتیں پیدا کروانا چاہتی ہے۔

اوّل وہ اپنے بچہ پر یہ اثر ڈالنا چاہتی ہے کہ تُو لاوارث نہیں تجھ پر جان دینے والا اور اپنا آپ قربان کرنے والا ایک اور وجود پاس بیٹھا ہے۔ تُو بیشک معصوم ہے، کمزور ہے، تُو چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاتا ہے لیکن اَور وجود ایسا پاس موجود ہے جو تیری حفاظت کرے گا اور تجھے بچائے گا۔ دوسرے فطرت ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ تُو جب بڑا ہو گا تو تیرے بھی بچے ہوں گے۔ اُن کی محبت حاصل کرنے اور ان کے حوصلے درست کرنے کے لیے تمہیں بھی یہی کچھ کرنا ہو گا۔

یہی حال قرآن کا ہے۔ قرآن کریم ایک طرف تو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان کر کے اُن سے اپنی محبت کے تعلّقات کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف

وہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تم بھی انہیں دُہراؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں محسوس ہو جائے کہ خداتعالیٰ نے جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام اور دیگر انبیاء کو چھوڑا نہیں اُسی طرح وہ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔

انبیائے بنی اسرائیل کی کتابوں میں وعظ بھی ہوتا ہے اور الہام بھی ہوتے ہیں۔ تورات بھی ساری کی ساری الہام نہیں۔ اس میں سے اکثر حصہ وعظ ہے۔ اِس میں یہی آتا ہے کہ خداتعالیٰ نے ابراہیم کے ساتھ یوں کیا، موسیٰ کے ساتھ یوں کیا، داؤد کے ساتھ یوں کیا تمہارے ساتھ بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ اُس نے حضرت اسحاق علیہ السّلام کے ساتھ یوں کیا، اس نے حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کے ساتھ یوں کیا وہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ انہوں نے اِس سے سبق سیکھا اور خداتعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلّقات کو ظاہر کیا تھا۔ تم بھی اِس سے سبق حاصل کرو اورخداتعالیٰ کی محبت کو بڑھاؤ۔

میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت طبعی سبقوں کی طرف کم توجہ کرتی ہے اور دنیوی فلسفیوں کی طرف زیادہ توجہ رکھتی ہے۔ ہماری جماعت کے کتنے واعظ ہیں جن کے وعظوں میں اِس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ خداتعالیٰ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیھم السلام کی طرح تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ کتنے واعظ ہیں جو اِن واقعات کو بیان کر کے یہ بتاتے ہوں کہ وہ خدا جس نے فلاں موقع پر نشان دکھائے اب بھی تمہارے حق میں اپنے محبت بھرے تعلّقات کا اظہار کرے گا۔ دُور نہ جاؤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات اور نشانات کے دہرانے سے بھی ایمان بڑھتا ہے۔ جس طرح باربار کے یاد کرنے سے ایک چہرہ سامنے آ جاتا ہے اِسی طرح ان نشانات اور معجزات کے پڑھنے سے ایک ایماندار کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔ بھول جاؤ مخالفت کو۔ کیونکہ

تمہارا بھی وہی خدا ہے جو حضرت یعقوب علیہ السّلام کا خدا تھا، جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا خدا تھا، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تھا یا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خدا تھا اور درمیان میں جو دوسرے بزرگ گزرے ہیں اُن کا خدا تھا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اس نے ان نبیوں اور بزرگوں کے حق میں دکھائے تھے تو اِن واقعات کو باربار دہراؤ۔

گاہے گاہے بازخواں ایں قصۂ پارینہ را

قرآن کریم نے ہمیں یہ سبق دیا ہے۔ اگر ایک دفعہ بات کرنا کافی ہوتی تو وہ ان واقعات کو باربار نہ دہراتا۔ وہ تو اِن واقعات کو اِتنا دہراتا ہے کہ یورپین مصنفین کا قرآن کریم پر سب سے بڑا یہ اعتراض ہے کہ اِس میں تکرار پایا جاتا ہے۔ بے شک انہیں قرآن کریم پر یہ اعتراض ہونا چاہیے کیونکہ وہ غیر ہیں۔ غیر جب ماں کو بچہ کے ساتھ پیار کرتے دیکھتا ہے، اُس کے پیار کی باتوں کو سنتا ہے تو کہتا ہے ایک دفعہ ہو گیا یہ کیا باربار ایک ہی بات کو دہرایا جاتا ہے۔ آخر کوئی حساب بھی ہو۔ لیکن ماں اُسے اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتی جس نقطہ نگاہ سے اُسے غیر دیکھتا ہے۔

تمہیں بھی قرآن کریم کو غیر کے نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اُسی طرح دیکھنا چاہیے جس طرح بچہ ماں کی پیاربھری باتوں کو سنتا ہے اور اس کی محبت کو محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ماں جب بچہ سے پیار کرتی ہے تو فطرت اُسے سبق دیتی ہے کہ بڑے ہو کر تمہیں بھی اپنے بچوں کی محبت حاصل کرنے اور ان کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے ایسا کرنا ہو گا۔

اسی طرح

تمہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے اندر بھی ایمان اُسی وقت پیدا ہو گا جب تم اِن واقعات کو دہرانے لگ جاؤ گے، تم اپنی مجلسوں اور اپنے گھروں میں باربار بیان کرو کہ جو خدا حضرت اسحاق علیہ السّلام، حضرت موسیٰ علیہ السّلام، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور دیگر انبیاء کا تھا وہی خدا تمہارا ہے۔ جس طرح خدا نے اپنے ان پیارے بندوں کو نہیں چھوڑا تھا تم بھی اگر اُس کے ساتھ ویسے تعلّقات پیدا کر لو گے تو وہ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔

جب تمہاری مجلسوں اور تمہارے گھروں میں اِس بات کا چرچا شروع ہو جائے گا تو ہر بچہ کے اندر یہ یقین پیدا ہو گا کہ ہمارے خدا نے یوں کہا ہے۔

پس اِن باتوں کو باربار دہراؤ، عورتیں، علماء، واعظ، اساتذہ اور مصنف سب اِن باتوں کو دہرائیں۔ باربار ان باتوں کو ذہن میں لائیں اور لوگوں کے سامنے بیان کریں تا وہ حقیقت کہ جس سے زیادہ رحمت کسی فرد پر ہو نہیں سکتی دلوں میں گھر کرجائے۔ اور رات دن یہ بات تمہارے سامنے رہے کہ ایک زندہ خدا ایک ہاتھ میں تلوار برہنہ لیے اور ایک ہاتھ میں رحمت کا پانی لیے تمہارے سر پر کھڑا ہے۔ مخالفت کرنے والا اُس کی تلوار کو گردن پر لے لیتا ہے اور اُس سے محبت کرنے والا اُس کی رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

(خطبات محمود جلد۳۲ صفحہ۹۸تا۱۰۲)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: انسان کی قلیل زندگی اور عظیم الشان ذمہ داری

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button