آسٹریلیا (رپورٹس)

مجلس انصاراللہ نیوزی لینڈ کے تینتیسویں سالانہ اجتماع ۲۰۲۵ء کا بابرکت انعقاد

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس انصار اللہ نیوزی لینڈ کا تینتیسواں سالانہ اجتماع مورخہ ۸ و ۹؍نومبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ و اتوار نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا جس میں ملک بھر کی تمام ۹ مجالس نے بھرپور رنگ میں حصہ لیا۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع ’’محمد ﷺ–اخلاق حسنہ کے پیکر‘‘ تھا۔ اجتماع کے دوران نماز تہجد اور پنجوقتہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی، تلقین عمل کے اجلاس، دینی، روحانی اور تربیتی موضوعات پر تقاریر، نیز علمی اور ورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے جن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو اختتامی اجلاس میں انعامات دیے گئے۔

تیاری اجتماع:اجتماع کی تاریخوں اور مقام کے تعین کے بعد منتظمین کی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے عملی تیاری کا آغاز کر دیا۔ کمیٹی کے آن لائن اجلاس مکرم محمد اقبال صاحب ناظم اعلیٰ اجتماع کی صدارت میں باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے۔ قائد تعلیم مکرم انوار احمد صاحب کی جانب سے ماہ مئی میں ہی تعلیمی مقابلہ جات کا نصاب پرنٹ کر کے تمام مجالس میں تقسیم کر دیا گیا تھا تاکہ انصار بھرپور انداز میں تیاری کر سکیں۔ ماہ ستمبر اور اکتوبر میں ریجنل اجتماعات بھی منعقد ہوئے تا کہ جیتنے والے انصار نیشنل اجتماع میں بہتر تیاری کے ساتھ حصہ لے سکیں۔

۶؍نومبر کی شام مکرم محمد یسٰین چودھری صاحب صدر مجلس انصار اللہ نیوزی لینڈ نے انتظامات کا معائنہ کیا اور پروگرام و کھیلوں کے تسلی بخش انتظامات پر خوشنودی کا اظہار کیا۔

اجتماع کا پہلا روز:مورخہ ۸؍نومبر بروز ہفتہ اجتماع کا پہلا روز تھا۔ بیرونی مجالس سے آئے ہوئے انصار ایک روز قبل ہی آکلینڈ پہنچ چکے تھے جن کے لیے مسجد بیت المقیت سے منسلک منیر ہال میں رات کو قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ صبح ساڑھے نو بجے انصار اجتماع میں آنا شروع ہوئے۔ رجسٹریشن ٹیم نے اس بار پہلی مرتبہ QR کوڈ سکین کر کے رجسٹریشن کا نظام متعارف کروایا۔

نو بج کر ۵۰؍منٹ پر تقریب پرچم کشائی منعقد ہوئی جس میں مکرم ڈاکٹر ندیم احمد صاحب نے قومی پرچم اور مکرم محمد یسٰین چودھری صاحب نے انصار اللہ کا پرچم لہرایا اور دعا کروائی۔ افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم صدر مجلس انصار اللہ نے انصار اللہ کا عہد دہرایا۔ ایک نظم کے بعد صدر مجلس نے اپنی تقریر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پچھلے سال کے پیغام کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا جس میں انصار اللہ کی ذمہ داریوں، نمونہ اعمال، تربیتی کردار اور نوجوان نسل کے لیے حقیقی مشعل راہ بننے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ نیز آپ نے انصار کو اجتماع سے زیادہ سے زیادہ برکات سمیٹنے اور مقابلوں میں حصہ لینے کی تلقین کی۔ بعد ازاں نصف گھنٹہ کے لیے چائے کا وقفہ ہوا۔

علمی مقابلہ جات: ۱۱؍بجے حُسنِ قراءت، حفظ ِقرآن، نظم اور اذان کے مقابلہ جات کا آغاز ہوا جو ایک گھنٹہ جاری رہے۔ ۱۲؍بجے کوئز پروگرام شروع ہوا جس میں ہر مجلس کی تین رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔ کوئز میں ایک سخت مقابلے کے بعد مجلس مانو ریوا (Manurewa) فاتح قرار پائی۔

تربیتی اجلاس:ایک بجے تربیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں اجتماع کے مرکزی موضوع پر گروپ ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا کہ کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے کہ آنحضورﷺ کے اخلاق سب سے بہترین ہیں۔ بعد ازاں نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں اور دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔

اس کے بعد تین بجے تیار شدہ اور فی البدیہہ تقاریر کے مقابلے ہوئے۔

ورزشی مقابلہ جات:شام پانچ بجے پارک میں ورزشی مقابلے کروائے گئے۔ اس کے بعد مزیدار بار بی کیو پیش کیا گیا۔ شام ساڑھے سات بجے پارک سے واپسی ہوئی۔ ساڑھے آٹھ بجے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی گئیں۔ اس کے بعد بیرونی مجالس کو آکلینڈ کی سیر کروائی گئی اور ایک خوبصورت مقام پر آئس کریم کھلائی گئی۔ رات گیارہ بجے واپسی ہوئی اور انصار اپنی قیام گاہوں کی طرف روانہ ہوئے۔

اجتماع کا دوسرا روز (اتوار ۹ نومبر):نماز تہجد اور فجر کے بعد ہلکی سیر کا انتظام تھا۔ صبح ۸ بجے ناشتہ کے بعد ۱۰؍بجے قریبی پارک میں ورزشی مقابلوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ پہلا مقابلہ والی بال کا تھا جو سخت مقابلے کے بعد ویلنگٹن مجلس نے جیت لیا۔ اس کے بعد ٹیبل ٹینس کا مقابلہ ہوا جسے مجلس مانوریوا نے جیتا۔

اختتامی تقریب:اختتامی تقریب میں مکرم بشیر احمد خان صاحب نیشنل صدر جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کو صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد انصار اللہ نے کھڑے ہو کر اپنا عہد دہرایا۔ نظم کے بعد صدر مجلس نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی جس کے بعد علمی و ورزشی مقابلہ جات جیتنے والوں میں مکرم نیشنل صدر صاحب نے انعامات تقسیم کیے۔ اپنی تقریر میں آپ نے نظم و ضبط کا اعلیٰ نمونہ پیش کرنے پر مجلس انصار اللہ کو مبارک باد دی اور انعام یافتہ انصار کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد ازاں آپ نے چند نصائح کیں اور اجتماعی دعا پر اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔ الحمدللہ

اجتماع پر حاضری ۱۷۰؍ کے قریب تھی۔

(رپورٹ:مبارک احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ تنزانیہ کے وفد کی صدر مملکت تنزانیہ کی تقریب حلف برداری میں شرکت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button