خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…ایران میں انٹرنیٹ بندش کے باعث شہریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بلیک آؤٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے دوبارہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران، مشہد اور اصفہان میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی عوام سے احتجاج کی اپیل کی تھی۔
٭…ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں تہران میں بعض غیرفوجی اہداف پر حملوں پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اس سے قبل ٹرمپ ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکہ اس کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے نزدیک تائیوان چین کا حصہ ہےتاہم وہ تائیوان کے خلاف کسی ممکنہ چینی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرے گا اور کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ مکمل طور پر چینی صدر پر منحصر ہے۔ انہوں نے امریکہ اور روس کے نیواسٹارٹ جوہری معاہدے کے بارے میں کہا کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیا جائے، تاہم مستقبل کے کسی نئے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔
٭…فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ امریکہ بتدریج اپنے اتحادیوں سے دُور ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں تعینات فرانسیسی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں بڑی طاقتیں عالمی نظام کو اپنے مفادات کے تحت تقسیم کررہی ہیں۔ امریکہ بےفکری کے ساتھ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو عالمی استحکام کے لیے تشویشناک ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ ڈنمارک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا۔
٭…٭…٭




