چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۵)
۳۲۔ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال
کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال
ابھی کم عمر ہی تھا کہ اس کے دل میں دین کے بارے میں خیال آنے لگے۔
۳۳۔اسی جستجو میں وہ رہتا مدام
کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام
جستجو justajoo: تلاش، کھوج Quest, search
وہ ہمیشہ اِس کھوج میں رہتا کہ کس طریق پر عمل کرکے وہ تمام ترسچائی کو حاصل کرلے
۳۴۔اُسے وید کی راہ نہ آئی پسند
کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند
وید waid: ہندوؤں کی مذہبی کتاب۔ Vedas, the religious book of Hindus
اسے حق کو پانے کے لیے وید کی بتائی ہوئی راہیں پسند نہ آئیں کیونکہ اس میں اس نے بہت سی غلط اور جھوٹی باتیں شامل دیکھیں۔
۳۵۔جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے
لگا ہونے دل اُس کا اوپر تلے
سڑے اور گلے sare aur gale: Rancid and rotten
اوپر تلے ہونا oopar tale honaa: الجھنا، سوچ میں پڑنا Distressed, quiver and quaver
جب دیکھا کہ وید کی تعلیمات ناقص ہو کرگل سڑ چکی ہیں تو حق کو تلاش کرنے والے کا دل تذبذب میں پڑ گیا۔
۳۶۔کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام
ضلالت کی تعلیم ناپاک کام
ضلالت zalaalat: تاریکی، گمراہی، Darkness، خطا، قصور، کجروی deviation from the right path, misguidance, going astray
وہ سوچنے لگے یہ کیسے پاک خدا کا کلام ہوسکتا ہے اس میں تو ناپاک باتیں ہیں گمراہی کی تعلیم ہے۔
۳۷۔ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم
مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم
رنج و الم raNj o alam: ناامیدی، مایوسی، غم، رنج Despair, frustration, grief, agony, anxiety, hopelessness
اسے یہ دیکھ کر بہت صدمہ اور مایوسی ہوئی کہ جس حق کی تلاش تھی اُس کی طرف یہ مذہبی کتاب راہنمائی نہیں کررہی۔حقیقی معبود کا پتا نہیں دے رہی۔ وہ اس غم اور فکر کا اظہار کسی سے نہیں کرتا تھا مگر کھوج جاری تھی۔
۳۸۔وہ رہتا تھا اس غم سے ہر دم اداس
زباں بند تھی دل میں سَو سَو ہراس
ہراس heraas: خوف ، خدشہ Apprehensions
حقیقی معبود کو پانے کی شدید طلب اسے بے چین اور اداس رکھتی۔ وہ کسی سے کچھ کہتا نہیں تھا۔ مگر دل میں کئی طرح کے خدشات آتے۔
۳۹۔یہی فکر کھاتا اسے صبح و شام
نہ تھا کوئی ہمراز نے ہمکلام
ہم راز ham raaz: راز داں Confidant, secret holder, friend
نَے ہم کلام ne kam kalaam: نہ کوئی بات کرنے والا No social contact ،no person to talk to
وہ صبح شام ایک ہی غم میں گھلتا رہتا۔ کوئی اُس سے بات کرنے والا۔اس کے دل کا حال جاننے والا نہیں تھا۔اس کا غم بانٹنے والا نہیں تھا۔
۴۰۔کبھی باپ کی جبکہ پڑتی نظر
وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر
پسر pesar: بیٹا Son
جب کبھی ان کے والد ان کو اس غمزدہ حالت میں دیکھتے تو کہتے ، اے میرے پیارے بیٹے!
۴۱۔میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے
وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے
پامال paamaal: پائمال، روندا ہوا، پاؤں میں مسلا ہوا، خراب ، برباد Defeated, trampled upon, devastated ruined
میں حیران ہوں کہ تیرا یہ کیا حال ہوگیا ہے۔ تجھے کون سا غم ہے جس سے تو اس حالت کو پہنچ گیا ہے۔
۴۲۔نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے
کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے
سبب sabab: وجہ Reason
نہ وہ پہلے سی شکل رہی نہ وہ رنگ رُوپ رہا حلیہ ہی بدل گیا ہے۔ تم مجھ سے بات کرسکتے ہو مجھے بتاؤ کہ تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے جس کی وجہ سے اس قدر پریشانی ہے۔
۴۳۔مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال
کہ کیوں غم میں رہتا ہے اےمیرے لال
پیارے بیٹے ! مجھے اپنا حال سچ سچ اور تفصیل سے بتاؤ۔ مجھے بتاؤ کہ کس چیز کا غم تمہیں اندر ہی اندرکھا رہا ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۴)




